القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. طالبان کا اپنے اراکین کی جانب سے انتقامی کارروائیوں اور مظالم کی تحقیقات کا اعادہ, طالبان: نئی حکومت کا فریم ورک جلد پیش کیا جائے گا

    روئٹرز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    طالبان کے ایک عہدیدار نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ طالبان اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے اور وہ طالبان اراکین کی جانب سے کی جانے والی انتقامی کارروائیوں اور مظالم کی رپورٹس کی تحقیقات کریں گے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے مزید کہا کہ طالبان نے آئندہ چند ہفتوں کے اندر افغانستان پر حکمرانی کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    طالبان عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ’طالبان کے قانونی، مذہبی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین اگلے چند ہفتوں میں ایک نیا حکومتی فریم ورک پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    طالبان نے افغانستان پر قبضے کے بعد سے ایک اعتدال پسند تاثر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

    تب سے کچھ افغانوں اور بین الاقوامی امدادی اور وکالت گروپوں کے مطابق احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی جا رہی ہے، اور ایسے لوگوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے جو حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں، طالبان پر تنقید کرتے تھے یا امریکیوں کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    طالبان عہدیدار نے کہا کہ ہم نے عام شہریوں کے خلاف مظالم اور جرائم کے کچھ واقعات کے متعلق سنا ہے ’اگر طالبان (ارکان) امن و امان کے لیے یہ مسائل پیدا کر رہے ہیں تو ان کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’ہم شہریوں میں گھبراہٹ، تناؤ اور اضطراب کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان جوابدہ نہیں ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔‘

    طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی ہے اور اس وقت انتہائی سخت گیر پالیسیوں پر عمل پیرا رہے تھے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد القاعدہ کو پناہ دینے پر طالبان کو 2001 میں امریکی قیادت والی افواج نے بے دخل کر دیا تھا۔

    حکومت اور امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد نے طالبان کے مسلح بندوق برداروں کی جانب سے گھر گھر تلاشی کے دوران ان سے چھپنے کی خوفناک کہانیاں سنائیں ہیں۔

  2. طالبان نے کابل کے ہوائی اڈے پر جانے والے کچھ امریکیوں کو مارا پیٹا

    امریکی روزنامہ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کانگریس کے ارکان کے ایک گروپ کو بتایا کہ طالبان فورسز نے کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھاگنے کی کوشش کرنے والے امریکیوں کو مارا پیٹا ہے۔

    پولیٹیکو کا کہنا ہے کہ لائیڈ آسٹن نے جمعہ کو ایوان نمائندگان کے متعدد ارکان کو دی گئی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی۔

    دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ان کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی شہریوں کو ائیرپورٹ کے باہر طالبان کی چوکیوں کو گزرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

    طالبان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    بائیڈن نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی شہریوں اور مقامی اتحادیوں کا کابل ایئرپورٹ سے انخلا اگست کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ انخلا کا آپریشن جاری رکھا جائے گا جب تک کہ ان سب کو نکال نہیں لیا جاتا۔

  3. ’طالبان کے ہاتھوں اغوا کیے جانے سے موت بہتر ہے‘

  4. کابل ایئرپورٹ سے خوفزدہ افغانوں کا انخلا جاری

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے چھٹے روز بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔۔۔ ویڈیو: فرقان الہی

  5. طالبان کی افغانستان میں فتح پوری اسلامی امت کی فتح ہے: تحریکِ طالبان پاکستان

    afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اپنے رہنماؤں، افغان جہادیوں اور مجاہدین کو مبارکباد دی ہے۔

    یہ بیان تحریک طالبان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود (ابو منصور عاصم) کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔

    بیان کی ابتدا قرآن کی ایک آیت سے کی گئی ہے، قرآن کی ایک آیت کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد لکھا گیا ہے، ’یہ ایک حقیقت ہے کہ شریعت کے دائرے میں اسلامی حکمرانی کا نفاذ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ان چیلنجز میں کامیاب ہونا بھی اللہ کی رحمت سے ہے۔‘

    اس کے بعد بیان میں طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ، سراج الدین حقانی، مولوی محمد یعقوب اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر کو مبارکباد دی گئی۔

    تحریک طالبان پاکستان نے اس فتح کو ’پوری اسلامی امت کی فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل اس پر منحصر ہے۔

  6. طالبان کے ترجمان کی ملا عبدالغنی برادر کی کابل آمد کی تصدیق

    عبدالغنی برادر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل میں طالبان کے ترجمان احمد اللہ وثیق نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر، گروپ کے نائب رہنما اور قطر میں گروپ کے سیاسی دفتر کے سربراہ، افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے ہیں۔

    برادر ملا عبدالغنی طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے تین دن بعد گذشتہ منگل کو جنوبی قندھار پہنچے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق مسٹر بردار نے ایک فوجی طیارے میں دوحہ سے قندھار کے لیے اڑان بھری۔

    اگرچہ افغانستان کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان قیادت میں سے کس کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ یہ بھی اعلان نہیں کیا گیا کہ طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کب کابل واپس آئیں گے۔

  7. طالبان کابل سے ہزاروں افراد کے منظم انخلا کا احترام کریں: نیٹو وزرا خارجہ

    بی بی سی

    نیٹو کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کی موجودہ مشکل صورتحال کے بارے میں ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی مستقبل کی حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے افغانستان کی تمام امداد معطل کی جا رہی ہے۔

    نیٹو کے وزرا نے افغانستان کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسی جامع حکومت کے لیے کام کریں جس میں خواتین اور اقلیتیں شامل ہوں اور یہ کہ افغانستان کو دوبارہ کبھی بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔

    بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کو کابل چھوڑنے کی اجازت دیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے ’ہم افغانستان میں اقتدار میں رہنے والوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ملک سے نکلنے والے افراد کے محفوظ اور منظم انخلا کا احترام کریں اور انھیں سہولت فراہم کریں۔‘

    نیٹو کا کہنا ہے کہ ’ہمارا فوری کام اپنے شہریوں اور ان لوگوں کو جو خطرے میں ہیں اور خاص طور پر ان لوگوں کو نکالنا ہے جنھوں نے ہماری مدد کی ہے۔‘

    ’یہ وہ وقت ہے جب ہزاروں لوگ کابل ائیرپورٹ پر جمع ہو چکے ہیں اور وہاں سے نکلنے کے منتظر ہیں۔‘

  8. کیا پنجشیر وادی طالبان کی پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گی؟

  9. کابل: جیٹ طیاروں کی نیچی پروازیں، ایئرپورٹ کی دیوار پھلانگنے پر مجبور خواتین اور فائرنگ سن کر روتے بچے

  10. طالبان کی کابل ائیرپورٹ پر لوگوں کو ملک چھوڑنے سے روکنے سے متعلق خبروں کی تردید

    طالبان کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے جنگجو کابل ائیرپورٹ پر لوگوں کو ملک چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔

    طالبان عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو روئٹرز کو بتایا ’ہم صرف ایسے لوگوں کو واپس بھیج رہے ہیں جن کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں اور وہ صرف کابل ائیرپورٹ کے گیٹ پر افراتفری پھیلا رہے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ کابل کے ہوائی اڈے کے اطراف میں ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجوؤں کے گشت کرنے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ علاقے میں گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  11. طالبان کے ساتھ امریکیوں کو ایئرپورٹ کی رسائی دینے کا معاہدہ ہے، جو بائیڈن

    صدر بائیڈن سے سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کابل میں مزید فوجی بھیجے گا تاکہ ایئرپورٹ نہ پہنچ پانے والے امریکیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے؟

    اس پر صدر نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ’ہمارا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اب تک امریکی پاسپورٹ رکھنے والے ہر شخص کو ایئرپورٹ تک جانے دیا گیا ہے۔

  12. ’امریکہ کی ساکھ پر کوئی سوال اٹھتے نہیں دیکھا‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے طالبان کو بتا دیا ہے کہ اگر اُنھوں نے انخلا کے آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کی جانب سے ’فوری اور بھرپور ردِعمل‘ آئے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صدر بائیڈن نے کہا: ’گذشتہ ہفتہ نہایت دل شکن رہا ہے۔‘

    ’ہم نے بدحواس لوگوں کو انتہائی بے تابی کے عالم میں دیکھا ہے۔ یہ سب قابلِ فہم ہے۔ وہ خوف زدہ ہیں، وہ اداس ہیں۔ وہ غیر یقینی کے شکار ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ پانچ ہزار امریکی سپاہی اب بھی کابل ایئرپورٹ پر ہیں اور آئندہ کچھ گھنٹوں میں مزید ایک ہزار سپاہیوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کے طالبان کے قبضے میں جانے سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

    اس پر اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے امریکہ کے اتحادیوں کی جانب سے ’ہماری ساکھ پر کوئی سوال نہیں‘ دیکھا۔ ’میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔‘

  13. صدر جو بائیڈن: بڑی تعداد میں امریکیوں اور افغانوں کو نکال رہے ہیں

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سات عالمی طاقتوں جی سیون کا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا جس میں افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    صدر جو بائیڈن تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ اُنھوں نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کا امکان انتہائی کم ہے،

    تاہم طالبان نے امریکی افواج کے مکمل انخلا سے قبل ہی پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔

    ایسی صورتحال میں مختلف مغربی ممالک بشمول امریکہ تیزی سے اپنے شہریوں اور اُن کے افغان ساتھیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکیوں اور افغانوں کو بڑے پیمانے پر افغانستان سے نکالا جا رہا ہے تاہم یہ ایک پرخطر آپریشن ہے اور وہ حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ 14 اگست سے لے کر اب تک 13 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کا طالبان سے قریبی رابطہ ہے تاکہ امریکہ سے منسلک افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے دیا جائے۔

  14. افغانستان کا وہ علاقہ جہاں اب بھی طالبان نہیں پہنچے ہیں

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    افغانستان کی ایک علاقہ ایسا بھی ہے جو اب تک طالبان کی دسترس سے دور ہے۔

    یہ وادی پنجشیر کا علاقہ ہے جو شمال مشرقی افغانستان میں واقع ہے۔ پنجشیر میں مزاحمت کی تاریخ طویل رہی ہے۔

    اس کے مشہور ملٹری کمانڈر احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ کے دوران اور پھر طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا دفاع کیا یہاں تک کہ 2001 میں اُن کی ہلاکت نہیں ہو گئی۔

    کم از کم دو سابق افغان عہدیداران بشمول احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود پنجشیر میں موجود ہیں۔ مگر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پنجشیر اب طالبان کے بھرپور حملے میں محفوظ نہیں رہ پائے گا۔

    افغان اُمور کے ماہر سوربون یونیورسٹی پیرس کے جائلز ڈورونسورو نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس وقت مزاحمت صرف لفظی ہے کیونکہ طالبان نے پنجشیر میں داخل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘

    سوئیڈن میں مقیم محقق عبدالسید نے اے ایف پی کو بتایا: ’طالبان نے پنجشیر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ مسعود کے بیٹے دو ماہ سے زیادہ عرصے تک مزاحمت کر سکیں گے۔ اس وقت اُن کے پاس کوئی مضبوط حمایت موجود نہیں ہے۔‘

  15. بورس جانسن: طالبان کے ساتھ کام کرنا ضروری ہوا تو کریں گے

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    وزیرِ اعظم برطانیہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو برطانیہ طالبان کے ساتھ مل کر بھی کام کرے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے اس موقع پر اپنے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کا دفاع بھی کیا جو افغان صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر تنقید کی زد میں ہیں۔

    بورس جانسن نے میڈیا کو بتایا: ’میں اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان کا حل تلاش کرنے کے لیے ہماری سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہیں گی، جس میں ضرورت پڑنے پر طالبان کے ساتھ کام کرنا بھی ہے۔‘

    اس سے قبل بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ وہ طالبان کو اُن کے الفاظ نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھیں گے۔

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں اب بھی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب پر اعتماد ہے تو اُنھوں نے کہا: بالکل

    واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل سر نک کارٹر بھی طالبان کے لیے بظاہر نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔

    بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ طالبان اب بدل گئے ہوں۔

  16. افغانستان کی ہزارہ برادری خوف میں مبتلا

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    افغانستان میں ہزارہ برادری تیسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ یہ لوگ اکثریتی طور پر شیعہ مسلمان ہیں اور انھیں عمومی طور پر سنی طالبان کے ہاتھوں تفریق اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اب ان میں سے بہت سے لوگوں کو وہی دور واپس آنے کا خدشہ ہے۔ جمعے کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ جولائی کے مہینے میں طالبان جنگجوؤں نے غزنی صوبے میں کئی ہزارہ افراد کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

    غزنی میں رہنے والے علی (فرضی نام) نے کہا کہ طالبان در در جا کر اُن لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں جو پچھلی حکومت یا افغان پولیس کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

    علی نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اور میرے گھر والے باہر نہیں جا رہے کیونکہ ہم محفوظ نہیں محسوس کر رہے۔ میرے دوستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، طالبان نے میرے ایک دوست پر تشدد کیا۔‘

    فاطمہ (فرضی نام) کابل میں ایک سماجی کارکن ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اپنی برادری اور دیگر نسلی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خوف محسوس ہو رہا ہے۔

  17. بریکنگ, دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلّط نہیں کرنی چاہیے، ولادیمیر پوتن

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کو کہا ہے کہ دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلّط نہیں کرنی چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ ماسکو میں جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

    صدر پوتن نے اُمید کا اظہار کیا کہ طالبان اپنے وعدے پورے کریں گے اور یہ اہم ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان سے نکل کر خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکا جائے۔

    ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ’باہر سے بیٹھ کر اجنبی اقدار مسلّط کرنے اور اُن ممالک کے لیے اجنبی ماڈل کی جمہوریت تیار کرنے کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کو رکنا چاہیے جس میں تاریخی، قومی اور مذہبی روایات کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔‘

    ’ہم افغانستان کو جانتے ہیں، ہم اُن لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور ہم نے سیکھا ہے کہ یہ ملک کیسے کام کرتا ہے، اور اس کی روایات کے برعکس سیاسی اور سماجی نظام اس پر نافذ کرنا کتنا نقصاندہ ہو سکتا ہے۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا: ’ایسے کوئی بھی سیاسی اور سماجی تجربے ماضی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور اس سے صرف ریاستوں کی بربادی اور اُن کے اپنے سیاسی اور سماجی نظام کی تباہی ہوئی ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ طالبان نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور سفارتکاروں کی سلامتی کی یقین دہانی کروائی ہے اور اُنھیں اُمید ہے کہ اس سب پر عمل ہوگا۔

    سوویت یونین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ روس اور افغانستان کا تعلق نہایت پیچیدہ اور تلخ رہا ہے۔ سنہ 1978 میں سرد جنگ کے دوران افغانستان میں کمیونسٹ بغاوت ہوئی اور اس انقلاب کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو کچلنے کے لیے سوویت یونین نے اگلے ہی سال افغانستان پر حملہ کر دیا۔

    سوویت فورسز نے مجاہدین کہلانے والے مقامی جنگجوؤں کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ ان جنگجوؤں کو پاکستان اور امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ سوویت افغان جنگ 10 سال تک جاری رہی اور افغانستان کے لیے نہایت ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔

    دس لاکھ کے قریب افغان مارے گئے۔ جنگ کے بعد مجاہدین میں آپسی لڑائیوں کے بعد طالبان ابھر کر سامنے آئے۔

    سنہ 1992 میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مختلف ملکوں میں بٹ گیا۔ عام خیال یہی ہے کہ افغانستان کی جنگ نے براہِ راست سوویت یونین کے ٹوٹنے میں کردار ادا کیا۔

  18. جامعہ حفصہ پر امارتِ اسلامیہ کے پرچم حکام نے اتروا دیے, سحر بلوچ، بی بی سی

    لال مسجد

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@ghulamabbasshah

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی سیون تھری میں لال مسجد سے منسلک جامعہ سیدہ حفصہ پر لہرایا گیا اماراتِ اسلامیہ افغانستان کا پرچم اسلام آباد انتظامیہ نے اتروا دیا ہے۔

    جامعہ حفصہ پر 19 اگست کی صبح اماراتِ اسلامیہ کے چار سے پانچ پرچم لگائے گئے تھے۔ لال مسجد شہدا فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق، پرچم لگنے کے کچھ دیر بعد اسلام آباد کی انتظامیہ کے افسران بمع ڈپٹی کمشنر جامعہ حفصہ مذاکرات کرنے پہنچے اور ’درخواست‘ کی کہ یہ جھنڈے ہٹا دیے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اطلاع ملنے پر اسلام آباد پولیس و ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے جھنڈا اتروا دیا ہے۔

    لال مسجد میں مبینہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے خلاف سنہ 2007 میں فوجی آپریشن کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ ایک روز پہلے پشاور کے علاقے حیات آباد میں افغانستان کا پرچم لہرانے پر نو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

    پولیس کے مطابق کارروائی میں حیات آباد فیز تھری سے نو افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ افغانستان کے دو پرچم بھی ضبط کر لیے گئے لیکن اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی مسجد پر طالبان کا جھنڈا لہرانے پر تاحال نہ کوئی پرچہ کاٹا گیا ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    لال مسجد کے ترجمان ہارون غازی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز نے جمعے کو فتحِ مبین کے نام سے کانفرنس رکھی گئی تھی اور اس کی تیاری کے لیے پرچم لگائے گئے تھے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد افغان طالبان سے یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ تاہم اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کانفرنس سیکیورٹی محاصرے کے باعث نہیں ہو سکی۔

  19. ’کرکٹ کو طالبان سے خطرہ نہیں، ٹیم میں جوش موجود ہے‘

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ حامد شنواری نے کہا ہے کہ اُن کی ٹیم ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کی تیاری کر رہی ہے جو دو ہفتے بعد سری لنکا میں ہونی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ افغان قومی ٹیم کابل میں اپنی پریکٹس دوبارہ شروع کر کے ’پرجوش‘ محسوس کر رہی ہے۔ اُنھوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ میں ماحول بہت پرجوش ہے اور جیسے ہی فلائٹ آپریشن بحال ہوتا ہے تو ٹیم کو سری لنکا بھیج دیا جائے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ حکام سے رابطے میں ہیں۔

    حامد شنواری نے مزید کہا کہ کرکٹ کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’کرکٹ طالبان کی پچھلی حکومت میں بھی مسئلہ نہیں تھا اور اس مرتبہ بھی نہیں ہوگا۔

    مجھے نہیں یاد کہ طالبان نے کبھی کرکٹ کے معاملے پر کوئی مسائل پیدا کیے ہوں۔‘ شنواری نے کہا کہ وہ اس وقت ویمنز کرکٹ پر تبصرہ نہیں کر سکتے مگر آئندہ چند ہفتوں میں اس حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    اس کے علاوہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے 10 ستمبر سے کابل میں اپنی ٹی 20 لیگ کے آغاز کا اعلان بھی کیا ہے۔ ’ہم افغانستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں۔

    ہمارے انڈین اور پاکستانی کرکٹ بورڈز کے ساتھ زبردست تعلقات ہیں اور ہم بین الاقوامی کرکٹ برادری کا حصہ ہیں۔‘

  20. افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ترکی کی ضرورت ہے: سہیل شاہین

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    طالبان نے کہا ہے کہ اُنھیں افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    طالبان ترجمان سہیل شاہین نے ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔

    ہم افغانستان کی تعمیرِ نو کریں گے اور ہر علاقے کو نئے سرے سے استوار کریں گے۔ ہمیں اس معاملے میں ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ترکی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ یہ ایک باعزت اور مضبوط عالمی ملک ہے اور اسلامی برادری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ترکی اور افغانستان کے تعلقات کا موازنہ کسی اور ملک سے نہیں کیا جا سکتا۔‘

    اس سے قبل سہیل شاہین ایک اور ترک حکومت نواز نیوز چینل پر ترکی کو ایک ’برادر اسلامی ملک‘ قرار دے چکے ہیں۔ کابل پر قبضے کے صرف ایک دن بعد سولہ اگست کو اس گفتگو میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    جمعے کو ترک صدر رجب طیب اردوگان نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی طالبان سے بات کر سکتا ہے۔

    ’اگر ضرورت پڑی تو ہم طالبان سے بات کر سکتے ہیں۔ ہمارا دروازہ جب بھی بجایا گیا، ہم دروازہ کھولیں گے۔‘