القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. افغانستان کے ہم جنس پرست: 'مجھے دیکھتے ہی مار دیا جائے گا'

  2. بریکنگ, القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا افغانستان میں کوئی وجود نہیں ہے اور طالبان کا ان کی تحریک کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے سعودی عرب کے الحدیث ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں موجود نہیںہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تحریک کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت جاری ہے۔

  3. افغانستان کی صورتحال پر امریکی صدر بائیڈن کا عوام سے خطاب متوقع

    BIDEN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن کا افغانستان کی صورتحال اور امریکی فوجیوں کے انخلا پر جاری تنقید کے بارے میں اتوار کی دوپہر کو عوام سے خطاب متوقع ہے۔

    کابل میں پھنسے امریکی شہریوں کو نکالنے کے لیے جاری امریکی آپریشن کے بارے میں وہ متوقع طور پر سہہ پہر چار بجے عوام سے خطاب کریں گے۔

    جمعے کو انھوں نے افغانستان سے ہر امریکی شہری اور اہل افغان شہری جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں کو واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

    امریکی صدر بائیڈن اس وقت ایک سیاسی دباؤ میں ہیں کیونکہ پولز کے مطابق ایک تہائی امریکیوں کے خیال میں انھوں نے افغانستان کی صورتحال اور وہاں سے انخلا کو مناسب طریقے سے سنبھالا نہیں ہے۔

    این بی سی کے ایک پول کے مطابق صرف 25 فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ انھوں نے افغانستان سے انخلا کو بہتر طریقے سے انجام دیا ہے جبکہ ساٹھ فیصد اس سے متفق نہیں ہیں۔

    اسی طرح سی بی ایس کے ایک پول کے مطابق 74 فیصد شہریوں کی رائے میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا بہت ہی برے طریقے سے کیا گیا ہے۔

    تاہم امریکی صدر کو یہ تسلی ہے کہ تقریباً ساٹھ فیصد امریکی عوام افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کو درست اقدام قرار دیتی ہے۔

  4. کابل ایئرپورٹ کی تازہ صورتحال

    کابل ائیرپورٹ پر صورتحال قدرے پرسکون ہو گئی ہے، تصاویر میں ائیرپورٹ کے بیرونی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ طالبان ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں اور لوگوں کو قطاروں میں لگنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔

    حالیہ دنوں میں افراتفری کے عالم میں اور بے چینی سے پروازوں کے حصول کی کوشش میں کم از کم 20 افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  5. ’افغانستان کو دوبارہ دہشت گردوں کو پناہ نہیں دینی چاہیے‘: او آئی سی

    اسلامی ممالک کے اتحاد کی تنظیم او آئی سی کا کہنا ہے ’افغانستان کو دوبارہ کبھی دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘

    57 اسلامی ممالک کے اتحاد او آئی سی نے یہ بیان ایک ہنگامی اجلاس کے بعد دیا ہے۔

    سعودی عرب میں قائم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چند ماہ میں اپنے سفیر کابل بھیجے گی تاکہ ملک میں امن، استحکام اور قومی مفاہمت کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔

    افغان شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے او آئی سی نے افغانستان کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو ختم کریں اور فوری طور پر افغانستان میں امن قائم کریں۔

    او آئی سی نے عالمی برادری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ملک کے اندرونی حالات سے بالاتر ہو کر اس کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے اپنا تعاون اور کردار جاری رکھیں۔‘

  6. افغانستان کی ملکہ ثریا جو اپنے دور سے آگے کی خاتون تھیں

  7. پیوٹن: عسکریت پسند افغانستان سے بذریعہ وسطی ایشیا پناہ گزینوں کے روپ میں روس میں داخل ہو سکتے ہیں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے وسطی ایشیا میں افغانستان سے عسکریت پنسدوں کے بطورِ پناہ گزین داخل ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    حکمراں یونائیٹڈ روس پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں پیوٹن نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان سے نکلنے والے افراد کے امریکہ اور یورپ کے ویزوں کی پروسیسنگ جاری ہے مگر وہ روس کے پڑوسی ممالک سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دے دیں۔

    امریکہ مبینہ طور پر کچھ ممالک کے ساتھ افغان پناہ گزینوں کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

    روس سابق سوویت وسطی ایشیائی ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی اجازت دیتا ہے اور پیوٹن نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ عسکریت پسند پناہ گزینوں کے روپ میں روس میں داخل ہو سکتے ہیں۔

  8. امریکہ افغانستان سے نکال لیے گئے لوگوں کی منتقلی کے لیے کمرشل طیاروں کا استعمال کرے گا

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہreuters

    امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے نکالے گئے لوگوں کی منتقلی میں مدد کے لیے 18 کمرشل طیارے استعمال کیے جائیں گے۔

    تقریباً دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ امریکہ کے سیکریٹری دفاع نے اس ہنگامی منصوبے پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے جس کے تحت پینٹاگون افغانستان سے نکال لیے گئے لوگوں کی منتقلی کے لیے کمرشل اور سویلین طیارے استعمال کرے گا۔

    پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے ’سول ریزرو ایئر فلیٹ‘ پروگرام کے پہلے مرحلے کو فعال کیا ہے تاکہ امریکی شہریوں اور اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

    اس ایمرجنسی پلان کی تشکیل کی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے کہ اس پر عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے۔

    محکمہ دفاع نے بتایا ہے کہ یہ پروازیں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ ان لوگوں کا انخلا کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی جو افغانستان چھوڑنے کے بعد دوسرے ممالک میں محفوظ مقامات یا اڈوں پر عارضی طور پر امریکہ جانے والی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ طیارے کابل سے لوگوں کو متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک میں لے جانے کے لیے پرواز کریں گے۔

    پینٹاگون کے مطابق کمرشل ایئر لائنز کے 18 طیارے جیسے امریکن ایئرلائنز، اٹلس ایئر اور ڈیلٹا ایئر لائنز پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔

    پینٹاگون کے مطابق کمرشل ریزرو طیاروں کے استعمال کا ہنگامی منصوبہ پہلی بار 1991 میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم / شیلڈ کے دوران اور دوسری بار فروری 2002 اور جون 2003 کے درمیان آپریشن عراقی لبریشن کے دوران لاگو کیا گیا۔

  9. کابل ائیر پورٹ سے نکلنے والے ہزاروں افغان پناہ گزین آخر کہاں جائیں گے؟

    گعتgett

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہم نے ہزاروں افغانوں کی تصاویر دیکھی ہیں جو کابل ہوائی اڈے کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کل کتنے لوگ ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پہلے ہی 22 لاکھ پناہ گزین پڑوسی ممالک میں رہ رہے ہیں جبکہ کئی سالوں سے جاری تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں 35 لاکھ ملک کے اندر بے گھر ہیں۔

    حالیہ دنوں میں کئی ہزار افغانوں کے پاکستان میں داخل ہونے اور چند سو تاجکستان اور ازبکستان آنے کی اطلاعات ہیں، حالانکہ اب زمینی سرحدوں پر کنٹرول طالبان کا ہے۔

    ایران نے پناہ گزینوں کی آمد کے پیش نظر ہنگامی خیمے لگائے ہیں۔

    epa

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اگرچہ کئی یورپی ممالک نے پناہ گزینوں کو لینے کی پیشکش کی ہے تاہم وہ 2015 جیسے پناہ گزینوں کے بحران سے بچنے کے خواہشمند ہیں۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. ’میرے نہیں پوری قوم کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے‘

    ’مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔‘

    اشرف غنی کی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ انھیں صدر غنی سے ایسے ملک چھوڑ جانے کی توقع نہیں تھی۔

    دیکھیے بی بی سی کے ساتھ ان کی خصوصی گفتگو۔

  11. مغربی ممالک انخلا کے ڈراموں سے افغانستان میں ’خوف و ہراس‘ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں: طالبان کا الزام

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک سینئر طالبان عہدیدار نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ طالبان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد افغانستان میں ’خوف و ہراس‘ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اتوار کو خطاب کرتے ہوئے عامر خان متقی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت افراتفری کا واحد مقام کابل ایئر پورٹ ہے جہاں لوگوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ ’انخلا کا ڈرامہ‘ رچا کر اپنی شکست چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    متقی نے طالبان کی صفوں میں ممکنہ عدم اطمینان پر بھی بات کی اورکہا کہ تحریک کے طویل مدتی مفاد اور افغانستان میں اس کے کردار کو مدِنظر رکھتے ہوئے کچھ فیصلے کیے جاتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ طالبان ’تمام دھڑوں‘ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کی حکومت پر معاہدہ ہو سکے۔

  12. بریکنگ, اب تک کابل ائیرپورٹ اور اس کے اردگرد کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں: نیٹو عہدیدار

    US Marine Corps/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہUS Marine Corps/Reuters

    نیٹو کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رؤٹرز کو بتایا کہ گذشتہ اتوار کو طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک ائیر پورٹ اور اس کے ارد گرد کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نام نے ظاہر کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا ’کابل ایئرپورٹ کے باہر کا بحران افسوسناک ہے۔ ہماری توجہ تمام غیر ملکیوں کو جلد از جلد ملک سے باہر نکالنے پر مرکوز ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہماری فورسز نےطالبان کے ساتھ کسی بھی جھڑپ سے بچنے کے لیےکابل ائیر پورٹ کے بیرونی علاقوں سے سخت فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    برطانوی وزارت دفاع نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایئرپورٹ کے باہر سات افغان شہری مارے گئے ہیں، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    برطانوی نائب وزیر دفاع نے اعلان کیا تھا کہ انخلا کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔

  13. برطانوی وزارت دفاع کا کابل سے لوگوں کو نکالنے کے لیے آپریشن تیز کرنے کا اعلان

    Ministry of Defence

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence

    برطانوی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کے انخلا کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور انھوں نے 1700 برطانوی اور افغان شہریوں کو راتوں رات کابل سے نکال لیا ہے۔

    برطانوی نائب وزیر دفاع جیمز ہپی نے اعلان کیا کہ انخلا کے عمل میں بہتری آئی ہے۔

    آج صبح برطانوی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر افراتفری میں سات افغان شہری مارے گئے۔

    لیکن ہپی کا کہنا ہے کہ اب طالبان افواج نے ہوائی اڈے کے مضافات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. جلال آباد میں مظاہرے کے دوران فائرنگ

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کے جھنڈے کے خلاف مظاہرے کے دوران فائرنگ کی گئی جس سے مظاہرین منتشر ہو گئے۔

    اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

  15. بریکنگ, ’طالبان سے مذاکرات پر راضی ہیں مگر آخری آدمی تک دفاع کریں گے‘ احمد شاہ مسعود

    ahmadmassoud1

    ،تصویر کا ذریعہ@ahmadmassoud1

    شمالی افعانستان میں طالبان کے خلاف برسرِ پیکار گروپ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات پر راضی ہیں تاہم لمبے عرصے تک مزاحمت کے لیے بھی تیار ہیں۔

    قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور سیاستدان احمد مسعود نے کابل کے شمال مشرق میں واقع پنجشیر وادی میں تقریباً 9000 جنگجوؤں کو جمع کر لیا ہے۔

    ایک علیحدہ انٹرویو میں احمد مسعود نے لندن کے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاسی مذاکرات کے ذریعے طالبان کے ساتھ ایک جامع حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن جو چیز ہمیں ناقابل قبول ہے وہ انتہا پسندی کی خصوصیات والی افغان حکومت کی تشکیل ہے، جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بنے گی۔‘

    اس سے قبل بی بی سی فارسی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ’ہم پنجشیر کا مسئلہ طاقت یا مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔‘

    afp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  16. روس، چین اور ایران افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے: ٹونی بلیئر

    afp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر شدید تنقید کی ہے۔

    انھوں نے اسے غیر ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحادی افواج کے انخلا سے جہادی گروپوں کی ہمت بڑھے گی۔

    ان[وں نے یہ بھی کہا کہ روس، چین اور ایران صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    ٹونی بلیئر نے اتحادی افواج کے انخلا کو افسوسناک، خطرناک اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

    بیس سال پہلے ٹونی بلیئر کی وزارت عظمیٰ کے دوران برطانیہ نے اپنی فوج افغانستان بھیجی تھی۔

    دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بائیڈن انتظامیہ کے کابل سے فوج واپس بلانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

    الاباما میں ایک ریلی میں سابق صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’اب تک کی سب سے بڑی فوجی شکست‘ قرار دیا۔

    لیکن ٹرمپ نے صدارت کے دوران طالبان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کا نتیجہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  17. کیا پنجشیر وادی طالبان کی پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گی؟

    REZ DEGHATI

    ،تصویر کا ذریعہREZ DEGHATI

    افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔

    کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔

    سنہ 2001 میں اپنی موت تک افغان رہنما احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ اور طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ یہ ملک کا واحد حصہ ہے جس کی طالبان کے کنٹرول سے باہر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں پر طالبان تیزی سے قبضہ کر چکے ہیں۔

    کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔

    ملک کے نائب صدر امراللہ صالح، جن کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کی جوڑ توڑ میں اہم کردار تھا اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود دونوں نے اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہے۔

    تو کیا پنجشیر طالبان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے؟مزید پڑھیے >>

  18. کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں اضافے سے ہلاک ہونے والے افراد کا آنکھوں دیکھا حال

    SecKermani

    دی انڈیپینڈینٹ اخبار کے دفاعی اور سکیورٹی کم سینگپوتا نے کہا ہے کہ انھوں نے سنیچر کو ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں لوگوں کو کچلے جانے کے بعد مرتے دیکھا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام براڈکاسٹنگ ہاؤس سے بات کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’گذشتہ روز آغاز میں ہجوم پرامن تھا لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس میں شدت آنے لگی۔ اس اچانک شدت کی وجہ دراصل لندن اور واشنگٹن میں موجود سیاست دانوں کے بیانات ہیں جو لوگ سن رہے ہیں اور وہ اس سے یہ اخذ کر رہے ہیں کہ غیرملکی حکومتیں اگلے چند روز میں طیاروں کے ذریعے انخلا بند کر دیں گی۔‘

    EUAmbAFG

    ،تصویر کا ذریعہ@EUAmbAFG

    کم سینگپوتا نے بتایا ’لوگ اچانک مرنے لگے، تمام ہی خواتین۔ ایک خاتون کی ہلاکت پر اس کا شوہر بہت صدمے میں تھا اور ان کی ایک بیٹی بھی لاپتہ ہے۔ اس کے بعد تین مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ وہ چار ہلاکتیں ہیں جو ہمیں نظر آئیں۔ ان کے علاوہ بھی مختلف جگہوں پر کئی اموات ہوئی ہیں جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس دوران فائرنگ نہیں ہوئی۔ صرف اچانک ہجوم میں اضافہ ہونے اور شدید گرمی میں، اضطراب کی کیفیت میں اضافہ ہوا۔ جو سب سے زیادہ کمزور تھے وہ ہلاک ہو گئے۔ یہ ایک انتہائی دل توڑنے والی صورتحال ہے۔‘

    ”EUAmbAFG

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. کابل ایئرپورٹ سے خوفزدہ افغانوں کا انخلا جاری

    طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے چھٹے روز بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔۔۔

  20. افغان رہنما انس حقانی کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات، حمایت کی یقین دہانی

    MJalal700

    ،تصویر کا ذریعہ@MJalal700

    طالبان رہنما انس حقانی نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان حشمت اللہ شاہدی، نور علی زدرانت کچھ دیگر کھلاڑیوں اور سابق کرکٹ بورڈ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین سے کابل میں ملاقات کی ہے۔

    ملاقات کے دوران کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انس حقانی کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ نے افغانستان میں کرکٹ کی بنیاد رکھی اور وہ اب بھی اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔