القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
کابل کے طالبان انچارج کی حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہTwitter/@DrabdullahCE
کابل صوبے کے طالبان انچارج عبدالرحمان منصور نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے۔
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ اُنھوں نے طالبان حکام سے کہا ہے کہ ’کابل کے لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ سب لوگوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔‘
اُن کے مطابق طالبان نے بھی اس موقع پر کہا کہ وہ ’کابل کے لوگوں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کابل میں میڈیا کے مسائل پر کمیٹی بنا دی گئی، طالبان
طالبان نے کہا ہے کہ اُنھوں نے کابل میں میڈیا کے مسائل کے معاملے پر کمیٹی بنا دی ہے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’کابل میں میڈیا کے اطمینان و تسلی کی خاطر ایک تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔
اس کمیٹی میں ثقافتی کمیشن، فیڈریشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا انسٹیٹیوشنز اور کابل پولیس کے ایک ایک رکن شامل ہوں گے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ یہ کمیٹی کابل میں میڈیا کے مسائل حل کرے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
روس اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو
سنیچر کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں دونوں نے طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ایک نمائندہ حکومت کے قیام کے لیے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے اور ملک میں استحکام و امن و امان کی بحالی کے لیے مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
حقانی نیٹ ورک کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنجلال الدین حقانی (دائیں) حقانی نیٹ ورک کے بانی تھے جو سنہ 2018 میں اپنی وفات تک اس گروہ کے سربراہ رہے۔ اب اُن کے بیٹے سراج الدین حقانی اس گروہ کے قائد ہیں۔
افغان طالبان میں حقانی نیٹ ورک کو عسکری بازو کی حیثیت حاصل ہے چنانچہ متوقع ہے کہ وہ طالبان کے نئے سیٹ اپ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اے ایف پی کے مطابق جلال الدین حقانی اس گروپ کا قیام عمل میں لائے تھے اور سنہ 1980 کی دہائی میں سوویت مخالف جنگ میں اس گروپ نے نمایاں انداز میں کارروائیاں کیں۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور اس کے اتحادیوں مثلاً پاکستان نے ان کی امداد کی۔
اس جنگ کے دوران اور سوویت یونین کے انخلا کے بعد بھی اس گروپ کا اثر و رسوخ برقرار رہا اور بعد میں جلال الدین حقانی سنہ 1996 میں طالبان کے ساتھ مل گئے اور پہلے طالبان دورِ حکومت میں وزیر بھی رہے۔
سنہ 2018 میں طالبان نے اعلان کیا کہ جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں اور اُن کے بیٹے سراج الدین حقانی باقاعدہ طور پر گروپ کے سربراہ بن گئے۔
اُن کے چھوٹے بھائی انس حقانی کابل پر قبضے کے بعد سے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
سنہ 2019 میں انس حقانی کی افغان حکومتی حراست سے رہائی کو امریکہ اور طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی شروعات کے طور پر دیکھا گیا جو بالآخر امریکہ کے افغانستان سے انخلا پر منتج ہوا۔
حقانی نیٹ ورک کی مالی مضبوطی اور عسکری طاقت کی وجہ سے اُنھیں طالبان کے اندر بھی نیم خود مختار تصور کیا جاتا ہے۔
اس گروپ کو امریکہ نے غیر ملکی دہشتگرد گروہ قرار دے رکھا ہے اور اقوامِ متحدہ نے بھی ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
طالبان کے افغانستان پر قبضے سے افریقی گروہ بھی متاثر, کیتھرین بیاروہنگا، بی بی سی افریقہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد افریقہ میں عسکریت پسند تنظیمیں بھی اس کا جشن منا رہی ہیں۔
صومالیائی شدت پسند تنظیم الشباب سے منسلک ایک میڈیا ادارے نے طالبان کے قبضے کے بعد تہنیتی پیغام نشر کیا۔
اس کے علاوہ القاعدہ سے منسلک جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے سنہ 2019 کے بعد اب پہلا پیغام جاری کیا ہے جس میں اُنھوں نے طالبان کو مبارک باد دی۔
عیاد الغیلی نے کہا کہ ’ہم جیت رہے ہیں۔‘
اُنھوں نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور فرانس کی جانب سے مغربی افریقہ کے ساحل خطے میں اپنی فوجیں گھٹانے کا موازنہ کیا۔
اور صرف افریقہ کے شدت پسند گروہ ہی یہ موازنہ نہیں کر رہے بلکہ مشرق میں صومالیہ سے لے کر مغرب میں نائجیریا تک اخباری مضامین اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے اپنی اپنی آرا اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔
افریقی حکومتیں اسلام پسند عسکری گروہوں کے خلاف اپنی لڑائی کے لیے غیر ملکی امداد پر بڑی حد تک منحصر ہیں اور افعانستان پر طالبان کا قبضہ اُن کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
کیا طالبان افغان شہریوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟
ہماری لائیو کوریج میں خوش آمدید
اگر آپ ہماری لائیو کوریج میں ابھی ابھی شامل ہوئے ہیں تو آپ کے لیے دن کی اہم خبروں کا خلاصہ یہ ہے
طالبان تحریک کے شریک بانی ملّا عبدالغنی برادر نئی حکومت کے لیے مذاکرات کرنے کابل پہنچ چکے ہیں۔
کابل میں بینک ساتویں روز بھی بند ہیں اور اب لوگوں میں پیسے ختم ہونے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔
جمعے کو رات بھر افغانستان سے پروازیں بند رہنے کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر کابل ایئرپورٹ سے فضائی آپریشن بحال کر دیا ہے۔
بحرین اور متحدہ عرب امارات افغانستان سے ٹرانزٹ کی اجازت دے رہے ہیں کیونکہ قطر نے اپنی گنجائش پوری ہوجانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے تمام امریکیوں اور اُن کے افغان سہولت کاروں کو ملک واپس لانے کا اعلان کیا ہے مگر خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انخلا کا یہ منصوبہ پرخطر ہے۔
یونان نے ترکی کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگا دی ہے تاکہ طالبان سے فرار ہونے والے افغان سرحد پار کر کے یورپ میں داخل نہ ہو سکیں۔
بریکنگ, طالبان مخالف فورسز نے بغلان کے تین شمالی اضلاع کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا
،تصویر کا ذریعہ@AkbarMohmand2
افغانستان کے صوبہ بغلان کے کچھ مقامی ذرائع کے مطابق افغان حکومت کے وفادار ’طالبان کے خلاف برسرِ پیکار گروہ‘ نے تین اضلاع کو طالبان جنگجوؤں سے چھین کر دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جن تین اضلاع کا کنٹرول طالبان سے واپس چھینا گیا ہے ان میں پلی حصار، دی صلاح اور بانو شامل ہیں۔
بغلان صوبہ پنجشیر کے پڑوس میں واقع ہے۔
یاد رہے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔
کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان پنجشیر پر حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو ان کا مقابلہ کریں گے۔
عبداللہ عبداللہ اور کرزئی کی افغان پارلیمنٹ کے مرد اور خواتین اراکین سے ملاقات
افغان مصالحتی کونسل کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ نے سابق صدر کرزئی کے ہمراہ افغان پارلیمنٹ کے کچھ ارکان اور خواتین کارکنوں سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔
ایک ٹویٹ کے ذریعے انھوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ’ہم نے موجودہ صورتحال اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت میں مدد کرنے کے طریقوں اور ان کے لیے صحیح سیکورٹی فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اشرف غنی متحدہ عرب امارات کیوں پہنچے؟
متحدہ عرب امارات نے افغانستان سے راہ فرار اختیار کرنے والے صدر اشرف غنی کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی ہے۔
15 اگست کو جب طالبان جنگجو کابل کا محاصرہ کر رہے تھے اسی دوران صدر اشرف غنی نے اچانک ملک چھوڑ دیا۔
اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے۔ بہت سے لوگ ان کے ازبکستان یا تاجکستان جانے کی بات کر رہے تھے۔ پھر اشرف غنی نے خود متحدہ عرب امارات میں ہونے کی تصدیق کی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اشرف غنی کو انسانی بنیادوں پر سیاسی پناہ دی ہے۔ جبکہ مسٹر غنی نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا ہے۔
اشرف غنی نے کہا: 'میں ابھی متحدہ عرب امارات میں ہوں تاکہ خونریزی اور افراتفری کو روکا جا سکے۔' اشرف غنی نے یہ بھی کہا کہ وہ افغانستان واپس آنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔
بحرین نے انخلا کے دوران ٹرانزٹ کے لیے اپنا ائیر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے دوران پروازوں کو اپنی ٹرانزٹ سہولیات کے استعمال کی اجازت دے رہا ہے۔
خلیجی قوم کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب جمعے کے روز قطر میں موجود امریکہ کا ایئر بیس بھر گیا اور انخلا کی کوششوں میں امریکہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد واشنگٹن دوسرے ممالک کے ہوائی اڈوں کی تلاش میں تھا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ ’عارضی بنیادوں پر 5000 افغان شہریوں کی میزبانی کرے گا، جس کے بعد وہ دوسرے ممالک کا سفر کریں گے‘۔
یو اے ای کا یہ بھی کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پہلے ہی تقریباً 8500 غیر ملکی شہریوں کے انخلا میں ’سہولیات‘ فراہم کی ہیں۔
کابل ائیر پورٹ پر تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی فوج نے جمعہ کو بڑی تاخیر کے بعد کابل سے انخلا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
کابل ایئرپورٹ سے عارضی طور پر قطر جانے والی امریکی پروازیں کے لیے پروسیسنگ والی سہولیات میں جگہ ختم ہو گئی تھی۔
ایک سینئر امریکی فوجی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہوائی اڈے کے اندر مسافروں کی پروسیسنگ دوبارہ شروع ہوچکی ہے لیکن موجودہ مسافروں کی باری آنے میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں۔
ہزاروں لوگ اب بھی کابل کے ہوائی اڈے کے باہر شدت سے انتظار کر رہے ہیں، ان میں سے کچھ جو اپنی پروازوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
،تصویر کا ذریعہ@DeptofDefense
کیا پنجشیر وادی طالبان کی پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گی؟
،تصویر کا ذریعہREZ DEGHATI
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔
کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔
سنہ 2001 میں اپنی موت تک افغان رہنما احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ اور طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ یہ ملک کا واحد حصہ ہے جس کی طالبان کے کنٹرول سے باہر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں پر طالبان تیزی سے قبضہ کر چکے ہیں۔
کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔
ملک کے نائب صدر امراللہ صالح، جن کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کی جوڑ توڑ میں اہم کردار تھا اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود دونوں نے اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہے۔
تو کیا پنجشیر طالبان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے؟ مزید پڑھیے >>
طالبان افغانستان میں سڑکوں کی تعمیر کے کام کی تشہیر کیوں رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہ@PwcOf_iea
افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں حالات اب معمول پر آرہے ہیں۔
اسی سلسلے میں انھوں نے سڑک کی تعمیر اور تعمیراتی کام کی بحالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔
طالبان کے عربی زبان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے 19 اگست کو ایک ویڈیوشائع کی جس میں بہت سے لوگ کھڑے ہیں اور ایک اعلان کیا جا رہا ہے۔
ٹویٹر پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ طالبان کی 'وزارت تعمیرات عامہ' نے ایک کمپنی کے ساتھ صوبہ زابل میں قلات اور صوبہ میدان وردک کے میدان شہر کے درمیان ایک سڑک بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔
ٹویٹ میں کمپنی کا نام گلو گلیکسی کنسٹرکشن بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ایک دن پہلے پوسٹ کی گئی ویڈیو کو امارات اسلامی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کرتے ہوئے ساتھ لکھا گیا کہ وزارت تعمیرات عامہ ملک بھر میں سڑکوں کی تعمیر نو کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ قندھار اور ہرات کے درمیان سڑک کی تعمیر تیزی سے شروع ہوئی ہے۔
اس سے پہلے یہ دونوں ویڈیوز ایک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھیں جس نے خود کو طالبان کی وزارت پبلک ورکس کا آفیشل اکاؤنٹ قرار دیا ہے۔
طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا تاہم حکومت کا اعلان کرنا ابھی باقی ہے۔
ٹویٹر ہینڈل جو خود کو وزارت کا آفیشل اکاؤنٹ بتاتا ہے، اس کے علاوہ طالبان کا عربی زبان کا اکاؤنٹ اور طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا اکاؤنٹ بھی اسی قسم کی پوسٹس شئیر کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں افغانستان میں تعمیر نو سے متعلق بہت سی پوسٹس اس اکاؤنٹ سے شئیر کی گئی ہیں، جن میں سے کئی نعیم نے بھی شیئر کی ہیں۔
ان پوسٹس میں افغانستان کے کئی صوبوں اور علاقوں جیسے لوگر، میدان وردک، زابل میں سڑکوں کی تعمیر کی تصاویر ہیں۔
یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پہلی بار دسمبر 2014 میں بنایا گیا تھا۔ تاہم اس پر پہلی پوسٹ اس سال 9 جولائی کو دیکھی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@alemara_ar
کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہر کی صورتحال
طالبان کا افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے اورکابل آمد کے بعد شہر کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
یونان: افغان پناہ گزینوں کو ترکی میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سرحد پر باڑ لگا دی
،تصویر کا ذریعہReuters
یونان کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی تازہ لہر کے خدشات کی وجہ سے ترکی کے ساتھ سرحد پر چالیس کلومیٹر کی باڑ لگا کر ایک نیا ریگولیٹری نظام نصب کیا گیا ہے۔
یونانی وزیر برائے شہری تحفظ میچالیس کریسوکوئیڈس نے یورس کے علاقے کے دورے کے دوران کہا کہ ان کا ملک افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ممکنہ اثرات کا انتظار نہیں کر سکتا۔
یونان 2015 میں پناہ گزینوں کے بحران میں سب سے آگے تھا۔ اس وقت ایک ملین سے زائد لوگ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور غربت سے بچنے کے لیے یونان کے راستے ترکی میں داخل ہوئے اور وہاں سے یورپی یونین کے دیگر ممالک میں چلے گئے۔
ان میں سے بہت سے لوگ یونان سے چلے گئے لیکن ان میں سے تقریباً 60 ہزار لوگ ملک میں ہی رہے۔
یونانی عہدیدار کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب ترکی نے یورپی ممالک سے افغان مہاجرین کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یونانی وزیر اعظم کریاکوس مٹسوٹاکیس کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ افغانستان سے تارکین وطن میں تیزی سے اضافہ ’ہر ایک کے لیے ایک سنگین چیلنج‘ ہو سکتا ہے۔
اردوغان نے کہا کہ اگر افغانستان اور ایران میں ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔
طالبان کے افغانستان پر تیزی سے قبضے کے بعد بہت سے لوگ کسی بھی ممکنہ طریقے سے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یونان نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے کسی بھی افغان شہری کو ملک بدر کر سکتا ہے۔
ملا عبدالغنی برادر ایک جامع حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک سینئر طالبان عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ملا عبدالغنی برادر طالبان رہنماؤں اور دیگر سیاست دانوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے تاکہ ایک جامع حکومت تشکیل دی جا سکے۔
ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں اور ان کے پاس طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج کا عہدہ بھی ہے۔ آج صبح ہی وہ قندھار سے کابل پہنچے ہیں۔
برادر طالبان کی افواج کے کابل میں داخل ہونے کے تین دن بعد گذشتہ منگل کو قندھار پہنچے تھے۔
ملا عبدالغنی برادر طالبان کے چار بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انھیں 2010 میں پاکستانی حکومت نے گرفتار کیا تھا اور تقریباً تین سال بعد رہا کیا گیا تاکہ امن عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
طالبان کے پیروکار ملا برادر کو گروپ کے مفکرین میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی مدرسوں میں مذہب کی تعلیم حاصل کی اور ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کابل ایئرپورٹ سے خوفزدہ افغانوں کا انخلا جاری
طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔
کابل ایئرپورٹ سے امریکی پروازیں دوبارہ شروع
،تصویر کا ذریعہ@DeptofDefense
افغانستان سے افغان اور دیگر شہریوں کو نکالنے کے لیے امریکی پروازیں سات گھنٹے کے وقفے کے بعد آج دوبارہ شروع ہوئیں۔
قطر میں کوئی امریکی اڈہ موجود نہیں تھا تاکہ دوسرے لوگوں کو ٹھہرایا جا سکے اور واشنگٹن ایسے ممالک کی تلاش میں تھا جہاں افغانستان سے لائے جانے والے لوگوں کو رکھا جا سکے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکی فوج نے کابل ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل کا استعمال کیا جہاں امریکیوں کے ایک گروپ کو کابل سے نکالنے سے پہلے رکھا گیا۔
پاکستان طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں آنے والی حکومت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرے گا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے تحریکِ طالبان پاکستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان اس سے پہلے بھی افغان حکومت پر واضح کر چکا ہے اور آنے والی حکومت کو بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان کسی بھی کالعدم تنظیم کی حمایت نہ پہلے کرتا تھا اور نہ اب کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹی ٹی پی کی طرف سے افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا معاملہ آنے والی حکومت کے ساتھ بھی اٹھاتا رہے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹی ٹی پی کو کوئی جگہ فراہم نہ کی جائے۔
زاہد حفیظ چوہدری کو آسٹریلیا میں پاکستان کا ہائی کمشنر نامزد کیا گیا ہے، ان کی جگہ عاصم افتخار احمد کو دفترے خارجہ کا نیا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔