القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. القاعدہ عرب جزیرہ نما کی جانب سے طالبان کی ’جیت‘ پر انھیں مبارک باد

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    القاعدہ کی یمن میں کام کرنے والی شاخ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی مبارک باد دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیں جاری رکھیں گے۔

    القاعدہ عرب جزیرہ نما (اے کیو آئی پی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوریت کا کھیل اور امن پسندی صرف ایک نظر کا سراب ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اے کیو آئی پی کے اس بیان کو جہادی نیٹ ورکس کی نگرانی کرنے والے ’سائٹ انٹیلیجنس‘ گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔

    امریکہ اے کیو آئی پی کو القاعدہ کے عالمی نیٹ ورک میں سے سب سے خطرناک گروہ سمجھتا ہے اور ان کے خلاف یمن میں متعدد بار ڈرون حملے کر چکا ہے۔

    یمن میں گذشتہ سات سالوں سے جاری جنگ کے باعث اس گروہ نے اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

    دنیا بھر میں دیگر جہادی تنظیموں کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بی بی سی کے گرینک گارڈنر لکھتے ہیں کہ آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کی یہ تحریر پڑھیے۔

  2. کابل میں ’معمول‘ کی زندگی کا ’نیا‘ انداز

    Kabul

    بی بی سی کے نامہ نگار برائے افغانستان، سکندر کرمانی ملک کے دارالحکومت کابل میں موجود ہیں اور وہاں کے حالات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ اس وقت ادھر کیا ماحول ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر کے ایئرپورٹ پر ’افرا تفری‘ مچی ہوئی ہے جہاں بڑی تعداد میں شہری ملک چھوڑنے کے لیے باہر جانے والی پروازوں پر شامل ہونا چاہ رہے ہیں لیکن دوسری جانب شہر میں ماحول کافی حد تک پرسکون ہے اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔

    سکندر کرمانی کا کہنا ہے کہ شہر میں انتہائی بڑی تعداد میں طالبان جنگجو موجود ہیں اور مسلح جنگجو شہر میں پیدل یا اپنی گاڑیوں پر گشت کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ بینک اور سرکاری دفاتر ابھی بھی بند ہیں اور عوامی مقامات پر خواتین کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

  3. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ پر اتوار سے لے کر آج تک 12 اموات

    kbl

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز سے لے کر جمعرات تک کابل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں اب تک 12 اموات ہوئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان اہلکار نے بتایا کہ یہ اموات گولی چلنے یا بھگدڑ مچنے کے باعث ہوئی ہیں۔

    اہلکار نے ایئرپورٹ کے داخلی دروازوں پر موجود عوام سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں تو وہ واپس گھر جائیں اور یہ کہ ’طالبان ایئرپورٹ پر کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔‘

    واضح رہے کہ اتوار سے کابل کے فضائی اڈے پر ہزاروں افراد کا رش جمع ہو رہا ہے جہاں سے لوگ بیرون ملک جانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    ایئرپورٹ امریکی فوج کے کنٹرول میں ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کے رستوں پر طالبان جنگجو موجود ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق طالبان کے مسلح افراد کئی لوگوں کو ایئرپورٹ تک پہنچنے سے روک رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس سفری دستاویزات موجود ہیں۔

  4. ’لوگ اپنے گھروں سے نکلنے سے ڈر رہے ہیں‘, فرانسس ماؤ، بی بی سی نیوز

    kbl

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل میں رہنے والی ایک نوجوان لڑکی نے مجھے صورتحال کے بارے میں بتایا۔ یہ طالبہ کا کانفرنسز میں شرکت کرتی تھی لیکن آج وہ گھر کے اندر محصور ہے۔

    ’طالبان نے کہا ہے کہ ہر کوئی واپس کام پر جائے۔ لیکن لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور وہ اپنے گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے۔ ہم سب کوشش کر رہے ہیں کہ گھروں میں رہیں۔‘

    ایئرپورٹ جانے والے کئی افراد کو طالبان نے مارا پیٹا ہے اور اس کے علاوہ ننگرہار صوبے میں صحافیوں کو مظاہروں کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔طالبان گھروں کی بھی تلاشی لے رہے ہیں حالانکہ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ملک میں اتنی بے یقینی کی کیفیت ہے کہ ان کے اعلانات اور بیانات ان کے عملی اقدامت سے نہیں ملتے۔ ‘

    اس طالبہ نے مزید یہ بھی کہا کہ انھیں ان کے رشتے داروں نے بتایا کہ طالبان صرف غیر ملکی لوگوں کو ایئرپورٹ جانے دے رہے ہیں۔

    ’اب لوگوں کو باہر لے جانے والی پروازیں خالی جا رہی ہیں کیونکہ طالبان نے ایئرپورٹ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔‘

  5. افغانستان کے پاس مالی ذخائر کی کیا صورتحال ہے؟

    money

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے سنٹرل بینک کے گورنر اجمل احمدی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں افغانستان کے اثاثاجات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طالبان ان کے عملے سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ اثاثہ جات کہاں ہیں۔

    اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس گذشتہ ہفتے تک تقریباً نوارب ڈالر کے اثاثہ جات تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کابل کے سنٹرل بینک میں یہ رقم کیش کی صورت میں موجود ہو۔

    انھوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل ضوابط کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر اثاثہ جات قابلِ فروخت ایسٹس کی شکل میں رکھے گئے جیسے کہ ٹریزری بلز اور سونا۔ تاہم ان کے بیان کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر اثاثہ جات تو ملک سے باہر رکھے گئے ہیں۔

    انھوں نے کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے امریکی فیڈرل ریزروو بینک میں تقریباً سات ارب ڈالر ہیں۔ امریکی بلز اور بانڈز میں 3.1 ارب ڈالر ہیں، ورلڈ بینک کے ریزروو اڈوائزری اینڈ میجنمنٹ پارٹنرشپ میں 2.4 ارب ڈالر ہیں۔

    ان کے علاوہ بین الاقوامی اکاؤنٹس میں افغانستان کے 1.3 ارب ڈالر ہیں اور دنیا بھر کے سنٹرل بینکس کے مشترکہ ادارے بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس میں 700 ملین ڈالر ہیں۔یہ تمام اثاثہ جات تو ملک سے باہر ہیں۔

    ان کے علاوہ 1.2 ارب ڈالر کا سونا 300 ملین ڈالر کیش بینک کی ملکیت ہیں تاہم اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں کتنا افغانستان کے اندر ہے اور کتنا افغانستان کے باہر۔

    afg

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

  6. افغانستان کے مالی وسائل منجمد کرنے کے باعث طالبان مالی دباؤ کا شکار

    afg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاں ایک جانب طالبان افغانستان پر اپنے قبضے کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے افغانستان کے قومی فنڈز کو منجمد کر دیا ہے تاکہ طالبان کی وہاں تک رسائی نہ ہو سکے۔

    افغانستان دنیا کے غریب تین ممالک میں سے ایک ہے اور اس کا دار و مدار بیرونی امداد پر ہے جو کہ اس کی مجموعی ملکی پیداوار کا 43 فیصد حصہ بنتا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بروکنگز انسٹٹیوٹ میں افغان امور کی ماہر وانڈا فلباب براؤن نے کہا کہ افغانستان بیرون ملک سے آنے والی امداد پر انحصار کرتا ہے اور وہ طالبان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔

    امریکہ پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکہ میں رکھے گئے افغان فنڈز کو منجمد کر رہے ہیں اور اس کے بعد بدھ کو عالمی مالیاتی ادارے نے بھی اعلان کیا کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد کو عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔

    عطیات دینے والے دیگر ممالک نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بھی افغانستان کو مالی امداد روک سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی طور پر دباؤ ڈالنا مغربی ممالک کے پاس ایک اہم طریقہ ہے طالبان سے نمٹنے کے لیے۔

  7. طالبان کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے باوجود افغان عورتوں کے خدشات موجود, وکاس پانڈے، بی بی سی نیوز

    afg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کا کہنا ہے کہ خواتین کو افغانستان میں ’شریعت‘ کے مطابق ان کے حقوق دیے جائیں گے۔ لیکن وہاں رہنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان کا کیا مطلب ہے۔

    زیب حنفیہ (فرضی نام) ملک کے ایک اور صوبے سے سفر کر کے کابل پہنچی ہیں اور وہ اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو جائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ نوکری پیشہ خواتین کو بالخصوص اپنے مستقبل کی پریشانی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زیب حنیفہ نے بتایا کہ ان کی دوست جن میں ایک ڈاکٹر اور ایک ٹیچر شامل ہیں، وہ بھی ملک سے باہر جانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    ’لیکن ابھی تک ہماری قسمت نہیں ہے۔ میں دیگر ممالک سے التجا کر رہی ہوں کہ ہمیں کسی طرح یہاں سے نکال لیں۔ ہم لوگ بس ہر وقت اسی خوف میں ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جائے گا، ہمیں طالبان جنگجؤں سے شادی کرنے پر مجبور کیا جائے گا، اور ہمیں بس بچے پیدا کرنے کے لیے رکھا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے بھی ختم ہو رہے ہیں لیکن انھوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جائیں گی۔

    ’بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ابھی کابل پر ہی ہے تو یہی سب سے اچھا آپشن ہے اس وقت۔‘

  8. افغانستان میں طالبان کے قبضے سے انڈیا کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

  9. ’دیکھنے میں زندگی معمول کی لگتی ہے لیکن ہے نہیں‘, وکاس پانڈے، بی بی سی نیوز

    afg

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    مزید دکانیں اب کھلنا شروع ہو گئی ہیں اور مزارِ شریف میں لوگ اپنی ضروریات کی اشیا خریدنے کے لیے اب گھروں سے نکلنا شروع ہو گئے ہیں، جو کہ افغانستان کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔

    اس شہر میں بڑی تعداد میں ہزارہ برادری اور ازبک نسل کے افراد رہتے ہیں جو کہ افغانستان کی بڑی اقلیتوں میں سے ہیں اور یہ دونوں وہ گروہ ہیں جن کو طالبان نے اپنے گذشتہ دور حکومت میں خاص طور پر نشانہ بنایا تھا۔

    اس بار حکومت میں آنے کے بعد طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی نسلی اقلیتی گروہ کے خلاف تشدد نہیں کریں گے لیکن شہر کے رہائشیوں کو اس وعدے پر پوری طرح اعتبار نہیں ہے۔

    اتوار سے ہم سے بات کرنے والے نسیم جاوید (فرضی نام) نے ہمیں بتایا کہ لوگ صرف دکھاوے کے طور پر ایسا رویہ قائم رکھ رہے کہ جیسے سب معمول کے مطابق ہے۔

    ’لیکن یہاں کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں ہے۔ مجھے ڈر و خوف اپنے ہڈیوں میں سرایت کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جب میں کبھی باہر نکلتا ہوں۔ طالبان ہر جگہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک طالبان نے لوگوں کے گھروں میں زبردستی گھسنا شروع نہیں کیا ہے اور وہ علاقے کے رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔

    لیکن انھوں نے مزید کہا کہ کہیں بھی جائیں تو ڈر و خوف محسوس ہوتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین اب اکیلے نکلنے سے ہچکچا رہی ہیں اور مقامی ٹی وی سٹیشنز نے موسیقی اور فلمیں نشر کرنا بند کر دی ہیں۔

  10. طالبان نے سرحد پار تجارت بند کر دی ہے: انڈیا

    ind/af

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں جاری صورتحال کی وجہ سے اس کے پڑوسی ممالک متاثر ہو رہے ہیں اور انڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے سرحد پار تجارت کو بند کر دیا ہے۔

    دونوں ملک کے درمیان کارگو یعنی تجارتی سامان لے جانے کے لیے پاکستان کے زمینی راستے استعمال ہوتے ہیں۔

    لیکن فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی ای او) کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اب بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث کروڑوں ڈالر کے سامان کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

    انڈیا افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور انھوں نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے جس میں ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے انھوں نے تین ارب ڈالر لگائے ہیں جن کی مدد سے ڈیم، سرکاری عمارتیں، سڑکیں اور سکول وغیرہ تعمیر کیے گئے ہیں۔

  11. اب تک کتنے ممالک افغانستان سے اپنے شہریوں کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کو طالبان کی جانب کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے کابل میں رہائش پذیر مختلف ممالک کے شہری افغانستان چھوڑنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان افغان شہریوں کو بھی نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں جن کی جانوں کو خطرہ ہے۔

    اب تک مختلف ممالک کے نکالے گئے افراد کی تعداد یہ ہے:

    امریکہ:

    امریکہ نے 5200 افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے جن میں سے دو ہزار افراد کو صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں لے جایا گیا ہے۔

    امریکہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطرات سے دوچار 22 ہزار افغان شہریوں کو اور افغانستان میں رہنے والے بقیہ 15 ہزار امریکیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیں گے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ ایسا ہر صورت میں کریں گے چاہے اس کے لیے انخلا کی ڈیڈ لائن 31 اگست سے زیادہ دیر بھی رکنا پڑے۔

    برطانیہ:

    اتوار سے لے کر اب تک 12 افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے اور آنے والے دنوں میں برطانیہ کی کوشش ہے کہ وہ یومیہ ہزار افراد کو ملک سے باہر نکال لے۔

    جرمنی:

    اتوار سے لے کر اب تک پانچ سو افراد کو ملک سے باہر نکالا جا چکا ہے جس میں سے سو افغان شہری شامل ہیں۔

    فرانس:

    اب تک 209 افراد کو باہر نکالا جا چکا ہے جس میں 184 افغان شہری شامل ہیں۔

    سپین:

    پانچ سو افراد

    نیدرلینڈز:

    اپنے ملک کے 35 شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا ہے اور ان کو امید ہے کہ وہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے مزید ہزار افراد اور ان کے اہل خانہ کو باہر نکال لیں گے۔

    ڈنمارک:

    84 افراد

    ہنگری:

    اپنے ملک کے 26 شہری

    پولینڈ:

    50 افراد

    جمہوریہ چیک:

    افغان شہریوں سمیت 46 افراد

    جاپان:

    سفارت خانے کے عملے سے تعلق رکھنے والے 12 افراد

    آسٹریلیا:

    افغان شہریوں سمیت 26 افراد۔ تاہم کہا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا ان دیگر افغان کو ملک سے نہیں نکالے گا جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    انڈیا:

    170 افراد

    ترکی:

    اپنے ملک کے 552 شہری

    سوئٹزرلینڈ:

    حکام کی کوشش ہے کہ وہ 230 افغان عملے کو ملک سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔

    ذریعہ: روئٹرز

  12. طالبان کی جانب سے چیک پوسٹس قائم، ائیرپورٹ جانے والے افغان افراد کو مشکلات کا سامنا

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اطلاعات کے مطابق طالبان نے ائیرپورٹ جانے والے راستوں پر چیک پوسٹس قائم کر دی ہیں جس کے باعث وہ افراد جو ائیرپورٹ جانا چاہتے ہیں ان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    اتوار کو طالبان کی جانب سے کابل شہر پر قبضے کرنے کے بعد سے تقریباً 4500 امریکی فوجیوں نے ائیرپورٹ کو کنٹرول میں لے لیا تھا تاہم وہاں تک جانے والے تمام راستوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔

    کہا جا رہا ہے کہ طالبان بالخصوص ان افغان شہریوں کو ائیرپورٹ جانے نہیں دے رہے جن کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں۔

    لیکن دوسری جانب حتی کہ وہ افراد جن کے پاس وہ دستاویزات بھی ہیں انھیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  13. طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

  14. پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’جن سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں وہ سرحد پر کھڑے ہیں‘

  15. کابل: گارڈز کے یونیفارم سے قومی جھنڈا غائب، طالبان کی شیعہ برادری کی مجلس میں شرکت

  16. افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا: بائیڈن کا ایک بار پھر اپنے فیصلے کا دفاع

    جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیراعظم جو بائیڈن نے ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کو نکالنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو بدھ کے روز دیے گئے انٹرویو میں جو بائیڈن نے ایک بار پھر افغان حکومت اور افواج کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔

    جب امریکی صدر سے کابل کے ہوائی اڈے پر پیر کے روز سامنے آنے والے مناظر کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ دفاعی انداز میں بولے ’یہ چار دن پہلے ہوا، پانچ دن پہلے!‘

    اس سوال کے جواب میں کہ انھوں نے ان مناظر کے بارے میں کیا سوچا؟ امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نے سوچا تھا کہ ہمیں اس پر قابو پانا ہو گا۔ ہمیں مزید تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں اس طریقے سے آگے بڑھنا ہے کہ ہم اس ہوائی اڈے کو کنٹرول کر سکیں۔ اور ہم نے ایسا کیا۔‘

  17. طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی تصاویر

    طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان سے آج کے دن لی گئی کچھ تصاویر میں دیکھا جا سکستا ہے کہ کابل میں ایسے تمام اشتہارات جن میں خواتین ماڈل ہیں، کو رنگوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

    ہوائی اڈے پر کے باہر طالبان موجود ہیں جبکہ فوجی ان لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکابل ائیرپورٹ پر موجود امریکی فوجی
    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکابل میں فرانس کے سفارتخانے کے باہر موجود لوگ
    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنہیرات شہر میں طالبان کا جھنڈا لہرا رہا ہے
  18. نیٹو: افغان سکیورٹی فورسز کا اتنی جلدی ڈھیر ہو جانا ’المیہ‘ ہے

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یہ ایک ’المیہ‘ ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اتنی جلدی ڈھیر ہو گئیں۔

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ واقعات سے کچھ سخت سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سٹولٹن برگ نے حالیہ بحران کا ذمہ دار فوجیوں کی بجائے افغان حکومت کی جانب سے قیادت اور لاجسٹک کی کمی کو ٹھہرایا۔

    انھوں نے کہا کہ نیٹو امریکہ پر حملے کے بعد افغانستان میں داخل ہوا اور ایک بار جب امریکہ نے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو یورپی اتحادیوں کے لیے یہ ایک عملی آپشن نہیں تھا۔

    انھوں نے کہا ’ہمارا منصوبہ کبھی بھی افغانستان میں ہمیشہ رہنے کا نہیں تھا۔‘

  19. ’کبھی کسی فوج کو 11 دن میں گرتے نہیں دیکھا‘

    امریکی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کے پاس اپنے ملک کا دفاع کرنے کی تربیت اور صلاحیت موجود تھی لیکن یہ ان کی ’مرضی اور قیادت پر منحصر تھا۔‘

    پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران جنرل مارک ملے نے یہ بھی کہا کہ ’ میں نے یا کسی اور نے بھی، اس سائز کی کسی فوج کو 11 دن میں گرتے نہیں دیکھا۔‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. ’کابل ائیرپورٹ پر صورتحال ابھی بھی خطرناک ہے‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل مارک ملے نے کابل ائیرپورٹ کی موجودہ صورتحال کو ’ابھی تک بہت خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

    افغانستان کی حالیہ صورتحال پر پینٹاگون کی بریفنگ میں امریکی فوج کے اعلی عہدیدار نے کہا کہ ابھی پوسٹ مارٹم کا وقت نہیں، ابھی وہاں فوجی خطرے میں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم امریکی فوج ہیں اور ہم ان تمام امریکی شہریوں کو نکالنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ امریکہ پہلے ہی اپنے تقریباً پانچ ہزار افراد کو وہاں سے نکال چکا ہے۔