القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
’دنیا نے افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں لیکن انڈیا نے مجھے واپس بھیج دیا‘
’طالبان کہتے ہیں نوکریوں پر جائیں لیکن جب لوگ کام پر جاتے ہیں تو اُنھیں واپس بھیج دیتے ہیں‘
آمنہ مفتی کا کالم: کابل، شہر افسوس!
’والد کی ہلاکت سے بھی زیادہ صدمہ افغانستان چھوڑتے وقت ہوا‘
افغانستان میں زیر زمین سونا بھرا پڑا ہے، یہ خزانہ اب کس کے ہاتھ آئے گا؟
کابل کی شاہراؤں سے اٹھتا تعفن اور سناٹے میں غیر یقینی کی کیفیت
افغان اویغور: ’ہمیں خوف ہے کہ طالبان ہمیں پکڑ کر چین کے حوالے کر دیں گے‘
’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘
کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی، طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش؟
ہرات سے ایک ڈائری: ’میں ایک قیدی کی طرح ہوں، میری زندگی رک گئی‘
کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد شہر میں خوف کا عالم
پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’طالبان خوفناک لوگ ہیں۔۔۔ ان کے سینوں میں دل نہیں‘
دولتِ اسلامیہ خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی
افغانستان کی صورتحال نے کیسے چین کے حوصلے بلند کیے اور دیگر ایشیائی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا
’تین روز سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا‘
’اُمید تھی طالبان خواتین کو حجاب میں گھروں سے نکلنے دیں گے لیکن یہ صرف دعویٰ تھا‘
’ذبیح اللہ کا اجازت نامہ بھی شاید آپ کو طالب کے تھپڑ سے نہ بچا سکے‘
’وہ شہر جس سے مجھے محبت تھی اب وہاں کچھ محفوظ نہیں تھا‘
طالبان کے حوالے سے ایران کا رویہ نرم کیوں ہو رہا ہے؟
