اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
بدھ کے روز اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی تھی۔ اس بینچ کے دوسرے ممبر جسٹس طارق محمود جہانگیری تھے۔
بُدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جیل ٹرائل نہیں ہو سکتا لیکن اس ضمن میں واضح کیے گئے پیرامیٹرز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے جس کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے جبکہ نیب کے پاس وفاقی حکومت کو جیل ٹرائل کیلئے لکھنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔‘
اس پر سپیشل پراسیکیوٹر نیب امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
امجد پرویز نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 9 مئی کو 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد ریمانڈ سے متعلق سماعت ہونی تھی۔انھوں نے کہا کہ نیب نے وفاقی حکومت کو لکھا تھا کہ یہ وہ کیس ہے جس کی وجہ سے 9 مئی کے واقعات پیش آئے اور وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی جیل سماعت کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
امجد پرویز نےاپنے دلائل کے حق میں بمبئی عدالت کا 1931 کا فیصلہ پیش کرتے ہوئے کہا اس فیصلے کی تین لائنوں میں موجودہ کیس کے تمام سوالات کا جواب ہے، اور جب ایک بار عدالت لگانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تو دوسرے کسی آرڈر کی ضرورت ہی نہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون کے مطابق جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے۔
دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا مگر اس سے پہلے ہی ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا۔ ’نوٹیفیکیشن اور سمری کے عمل کو دیکھیں تو اس پورے پراسیس میں غیرضروری جلد بازی واضح ہے۔ نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی۔ ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے۔‘
اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی یہی بات نوٹ کر رہے ہیں اور یہی بات کہنے لگے تھے۔ اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ کو احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا چاہیے کیونکہ احتساب عدالت کے جج تمام اہم کیسز کو چھوڑ کر دو کیسز کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ چلے جاتے ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔