آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. تحریک انصاف کی صنم جاوید نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    پی ٹی آئی کی نامزد امیدوار صنم جاوید نے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    صنم جاوید نے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں۔

    صنم جاوید کے این اے 119، این اے 120 اور پی پی 150 سے کاغذات مسترد ہوئے تھے۔ این اے 163 سے شوکت بسرا نے بھی اپیل دائر کر دی ہے۔

    اپیلوں میں ٹریبونلز کے فیصلے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

  2. بلوچستان کے ضلع آواران سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد اغوا، سرچ آپریشن جاری, محمد کاظم بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع آواران سے پانچ افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اغوا ہونے والے ان افرا د کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

    آواران سے متصل ضلع کیچ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے ان افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اغوا ہونے والے افراد میں ٹیکنیشن اور مزدور شامل ہیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اغوا ہونے والے پانچوں افراد ضلع آواران کے علاقے ساجدی بازار میں ایک موبائل ٹاور نصب کرنے گئے تھے۔

    اہلکار نے بتایا کہ یہ افراد جس گاڑی میں گئے تھے وہ ضلع آواران کی حدود سے اندازاً سات کلومیٹر دور ضلع کیچ کے علاقے ڈانڈار سے ملی۔

    انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ اغوا ہونے والے افراد جس کمپنی کا موبائل فون ٹاور لگانے گئے تھے اس کمپنی کے حکام نے بھی ان کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔

    اہلکار نے اغوا کے بعد ان افراد کی کیچ منتقلی کے امکان پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع کیچ میں بھی ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر حسین جان نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ تحصیل ہوشاپ سے پنجاب کے پانچ رہائشیوں کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق لیویز کی ٹیم روانہ کردی گئی ہے اور مختلف مقامات پر بازیابی کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

    خیال رہے کہ ضلع آوران کو بلوچستان کا سب سے زیادہ شورش زدہ ضلع سمجھا جاتا ہے۔ ضلع کیچ پولیس کے مطابق مغویوں نے اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے پولیس کو کوئی اطلاع فراہم نہیں کی تھی۔ ان لوگوں کے استعمال میں ایک کرولا گاڑی تھی۔

  3. عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ: ’احتساب عدالت کے جج اہم کیسز چھوڑ کر دو کیسوں کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ جاتے ہیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    بدھ کے روز اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی تھی۔ اس بینچ کے دوسرے ممبر جسٹس طارق محمود جہانگیری تھے۔

    بُدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جیل ٹرائل نہیں ہو سکتا لیکن اس ضمن میں واضح کیے گئے پیرامیٹرز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے جس کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے جبکہ نیب کے پاس وفاقی حکومت کو جیل ٹرائل کیلئے لکھنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔‘

    اس پر سپیشل پراسیکیوٹر نیب امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    امجد پرویز نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 9 مئی کو 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد ریمانڈ سے متعلق سماعت ہونی تھی۔انھوں نے کہا کہ نیب نے وفاقی حکومت کو لکھا تھا کہ یہ وہ کیس ہے جس کی وجہ سے 9 مئی کے واقعات پیش آئے اور وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی جیل سماعت کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

    امجد پرویز نےاپنے دلائل کے حق میں بمبئی عدالت کا 1931 کا فیصلہ پیش کرتے ہوئے کہا اس فیصلے کی تین لائنوں میں موجودہ کیس کے تمام سوالات کا جواب ہے، اور جب ایک بار عدالت لگانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تو دوسرے کسی آرڈر کی ضرورت ہی نہیں۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون کے مطابق جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے۔

    دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا مگر اس سے پہلے ہی ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا۔ ’نوٹیفیکیشن اور سمری کے عمل کو دیکھیں تو اس پورے پراسیس میں غیرضروری جلد بازی واضح ہے۔ نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی۔ ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے۔‘

    اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی یہی بات نوٹ کر رہے ہیں اور یہی بات کہنے لگے تھے۔ اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے۔

    شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ کو احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا چاہیے کیونکہ احتساب عدالت کے جج تمام اہم کیسز کو چھوڑ کر دو کیسز کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ چلے جاتے ہیں۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  4. تین انتخابی امیدواروں پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے: نگران وزیرِ اعلیٰ

    بلوچستان کے نگراں وزیر اعلیٰ میر علی مردان ڈومکی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والے تین امیدواروں پر حملے ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے تربت میں عام انتخابات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے انتظامی سطح پر تیاریاں مکمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام ڈویژنز کے دورے کر کے عام انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا ہے اور انتخابات سے متعلق اٹھائے گئے انتظامات اطمینان بخش ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ نگراں وزیر اعلٰی نے کہا کہ بلوچستان ماضی میں بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے تاہم اب حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ انتظامیہ اور فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور بحالی امن کے لیے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں کمشنر آفس تربت میں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    کمشنر مکران سعید احمد عمرانی اور مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اجلاس میں انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔

    نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الیکشن کی تیاری مکمل ہے اور حکومت پرامن صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے صورتحال پہلے سے بہتر ہے اور بحالی امن کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔

  5. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمید

    25 جنوری سے پہلے کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  6. ’عقیدت کی سیاست‘: پاکستان میں پیروں، گدی نشینوں کی سیاست کا تصور کب آیا اور کیا وقت کے ساتھ اس میں کمی آ رہی ہے؟

  7. شریف خاندان اور بلاول بھٹو کا ’مشن لاہور‘: کیا پنجاب کی سیاست مستقبل کے وزیراعظم کا فیصلہ کرتی ہے؟

  8. ’ہم کوئی آزاد ہیں؟‘ عاصمہ شیرازی کا کالم

  9. پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جانب سے تین سو یونٹس تک مفت بجلی فراہم کرنے کے انتخابی وعدے معاشی طور پر قابلِ عمل ہیں؟

  10. ’گھر پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگانے پر‘ تلخی: پشاور میں باپ نے قطر پلٹ بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، پولیس

  11. موروثی سیاست: پاکستان کی سیاست پر چند خاندانوں ہی کا راج کیوں ہے؟

  12. انکل آپ الیکشن میں بیٹھیں گے یا پھر لیٹیں گے؟: وسعت اللہ خان کا کالم

  13. سیاسی نظام پر عدم اعتماد یا سوشل میڈیا پر مہم: پاکستان بھر میں ماضی کے برعکس انتخابی گہما گہمی میں کمی کیوں؟

  14. پاکستان کی فوج میں اختلاف رائے کا تاثر: ’ذہن سازی‘ اور پالیسی میں ’تبدیلی‘ کا ٹکراؤ کیسے ہوا؟

  15. پاکستانی فوج کے حملے سے متاثر ہونے والے ایران کے سرحدی گاؤں میں تباہی کے مناظر

  16. درجنوں انتخابی نشان، سینکڑوں امیدوار: پی ٹی آئی کی امیدواروں کی شناخت سے متعلق حکمت عملی کیا پولنگ کے دن کامیاب ہو پائے گی؟

  17. آپریشن مرگ بر سرمچار: پاکستان کو فوری ردعمل دینے پر کس بات نے مجبور کیا اور یہ معاملہ کہاں جا کر رُکے گا؟

  18. پاکستانی صحافیوں کے ’دو کیمپس‘: وی لاگز کی دنیا جہاں بات ’کھل کر ہوتی ہے‘ اور آمدن ڈالر میں

  19. پاکستان کے الیکشن کی ساکھ پر سوالیہ نشان

  20. تقسیم ہوتا پاکستان ’پہلی قسط‘: بڑی سیاسی جماعتیں ایک ساتھ کیوں نہیں بیٹھنا چاہتی ہیں؟