آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف
سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
لائیو کوریج
سائفر کیس: ایک مقدمہ، تین اہم گواہ اور وکیل صفائی کا مؤقف ’عمران خان وزیراعظم تھے، کلرک نہیں‘
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم: سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی اسیر کارکن صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریک انصاف کی اسیر کارکن صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر کردہ اپیل کی سماعت پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں 8 فروری کو ہونے والے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو احکامات جاری کیے ہیں کہ صنم جاوید کا نام بطور امیدوار بیلٹ پیپرز میں شامل کیا جائے۔
جسٹس منیب اختر کے سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کی دوپہر اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ صنم جاوید کے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 119 اور این اے 120 کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 150 سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز این اے 119 سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور اب صنم جاوید بطور تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر ان کا مقابلہ کریں گی۔ صنم جاوید کو نو مئی کے واقعات کے تناظر میں گرفتار کیا گیا تھا اور گذشتہ کئی ماہ سے جیل میں ہیں۔
سپریم کورٹ کے اسی بینچ نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شوکت بسرا کے بھی این اے 163 سے کاغذات نامزدگی منظور کیے ہیں۔
مجموعی طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعہ کے روز تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چار رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ان رہنماؤں کے نام 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بیلٹ پیپرز میں شامل کیا جائے۔ ان رہنماؤں میں تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی سمیت صنم جاوید، شوکت بسرا اور عمر اسلم شامل ہیں۔
جمعہ ہی کے روز جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پرویز الہی کو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 سے انتخابات لڑنے کے لیے اہل قرار دیا تھا۔
پرویز الہی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بینچ کے ایک رکن جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ ’ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے۔‘
جبکہ تحریک انصاف کے خوشاب سے تعلق رکھنے والے رہنما عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلے پر اپیل سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
فوجی عدالتوں کو بحال کرنے سے متعلق اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔ آئندہ ہفتے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں لارجر بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں، جس پر مستعفی ہونے والے جج اعجاز الااحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ درخواستیں منظور کرتے ہوئے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے اقدام کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے اس فیصلے پر سٹے آرڈر دیا تھا۔ اب وفاقی حکومت، شہدا فاؤنڈیشن بلوچستان اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کو بحال کرنے کے لیے دائر کی گئیں اپیلوں پر سپریم کورٹ سماعت کرے گی۔
خیال رہے کہ نو اور دس مئی کے پرتشدد احتجاج میں ملوث سیاسی کارکنوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کے سامنے ہیں۔
بریکنگ, سابق وزیرِاعلی پنجاب پرویز الٰہی کو صوبائی اسمبلی سے الیکشن کی اجازت مل گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعلی پنجاب پرویز الٰہی کو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 گجرات سے انتخابات لڑنے کی دے دی ہے۔
جمعے کے روز، ہائی کورٹ اور الیکشن ٹربیونل کے خلاف دائر پرویز الٰہی کی درخواست کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کی۔
پرویز الٰہی کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہہ انھیں ابھی تک ریٹرننگ افسر کا مکمل آرڈر نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض عائد کیا گیا کہ ہر انتخابی حلقے میں انتخابی خرچ کے لیے الگ الگ اکاؤنٹ نہیں کھولے گئے۔ پرویز الٰہی پانچ حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پانچ انتخابی حلقوں کے لیے پانچ الگ الگ اکائونٹس کھولے جائیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر اگر انتخابی مہم میں حد سے زائد خرچہ ہو تو الیکشن کے انعقاد کے بعد اکاؤنٹس کو دیکھا جاتا ہے۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ایک اعتراض یہ عائد کیا گیا کہ سابق وزیرِاعلی نے پنجاب میں دس مرلہ پلاٹ کی ملکیت چھپائی۔
انھوں نے کہا کہ اعتراض کیا گیا 20 نومبر 2023کو دس مرلہ پلاٹ خریدا۔
پرویز الٰہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل نے ایسا پلاٹ کبھی خریدا ہی نہیں، اس وقت وہ جیل میں تھے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’ہماری دوسری دلیل یہ ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کی آئندہ کٹ آف ڈیٹ 30 جون 2024 ہے۔‘
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے۔
دورانِ سماعت، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جائیدادیں پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہو امیدوار کے جیتنے سے قبل کتنے اثاثے تھے اور بعد میں کتنے ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر درخواست گزار پلاٹ کی ملکیت سے انکار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پلاٹ کا اعتراض تب ہی بنتا تھا جب جج کا فیصلہ موجود ہو پلاٹ فلاں شخص کا ہے۔
سابق وزیرِاعلیٰ کے کا کہنا تھا اگر حکومت کو اس جائیداد پر اعتراض ہے تو خود رکھ لے۔
سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کو پی پی 32 گجرات سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ بعد ازاں پرویز الٰہی نے قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے متعلق اپنی اپیلیں واپس لے لیں۔
پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے پینجاب کے حلقے پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل مسترد کر دی۔
جمعے کے روز الیکشن ٹریبونل کے فیصلے خلاف عارف عباسی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کی۔
درخواست گزار کے وکیل عبدالرزاق نے موقف اپنایا کہ ریٹرننگ آفیسر نے ان کے مؤکل کی نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد کردییے تھے۔
دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تزکرہ ہی نہیں کیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے دو فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔
جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ جس شخص کیخلاف دو فوجداری ایف آئی آرز درج ہیں وہ پورے شہر بھر میں گھوم رہا ہے۔ انھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ ضمانت کیلئے ٹرائل کورٹ جانے میں آپ کو کیا مسئلہ تھا۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ریٹرننگ آفیسر نے عارف عباسی سے بیٹے کی لندن میں موجود جائدادوں کا پوچھا لیکن اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کیخلاف وارث خان تھانے میں دو ایف آئی آرز درج تھیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے درخواست گزار کے وکیل کو کہا کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں، کیس چلانا ہے تو حقائق بتائیں۔
عارف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آپ درخواست دیتے ہیں تو ہم فوراً سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں مگر تیاری تو کر کے آئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ سچ بولنے کیلئے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
سماعت کے بعد تین رکنی بینچ نے الیکشن ٹریبیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے عارف عباسی کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
عدالت نے عمر اسلم این اے 87 خوشاب اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے انتخابات لڑنے کے لیے اہل قرار دیا۔
واضح رہے کہ عمر اسلم کے نومئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر کاغزات نامزدگی مسترد کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے جمعے کے روز ہونے والی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا، دیں کہاں لکھا ہے؟‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی کیوں مسترد ہوئے؟ کیا عمر اسلم اشتہاری ہیں؟
وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمر اسلم حفاظتی ضمانت حاصل کر کے ضمانت قبل ازگرفتاری پر ہیں۔ انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ’عمر اسلم کی انتخابات لڑنے کی ایک آئینی درخواست مسترد جبکہ دوسری منظور ہوئی۔
تحریک انصاف کی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پرسماعت کے دوران سپریم کورث نے الیکشن کمیشن کو 11 بجے تک تیاری کا وقت دے دیا ہے۔
وکیل درخواست گزار صنم جاوید نے عدالت کو بتایا کہ ’اس کیس میں بھی مشترکہ اکاؤنٹ کا نکتہ ہے۔ ان کے مطابق کاغذات پردوسرا اعتراض جیل سپریٹنڈنٹ کے دستخط نہ ہونے کا ہے۔
تیسرا اعتراض صنم جاوید کے دستخط جعلی ہونے کا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسرکونیا سنگل اکاؤنٹ ایڈجسٹ کرنے کی درخواست دی ہے۔
نہیں اس کیس میں ریٹرننگ افسر نے کوئی درخواست نہیں دی۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’وکیل الیکشن کمیشن بھی گیارہ بجے تیاری کرکے جواب دیں۔‘
سپریم کورٹ میں پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت بھی 11 بجے ہو گی۔
جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
پاکستان کے ہندو اکثریتی علاقوں میں بھی ہندو سیاسی قوت کیوں نہیں بن پا رہے؟
’یہ پاکستان کی جانب سے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی انڈیا مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دینے کی تازہ ترین کوشش ہے‘: انڈیا
انڈیانے پاکستان کی جانب سے انڈین ایجنٹس کے دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے سے متعلق دعووں کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی انڈیا مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دینے کی تازہ ترین کوشش ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے جمعرات کی شام یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کے ایما پر دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے ’کرائے کے قاتلوں‘ اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا دو پاکستانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین پر ہونے والی ہلاکتوں سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔‘
پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے تفصیل سے اس بارے میں بھی آگاہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی ان دو وارداتوں کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی تھی اور اس میں کون کون ملوث تھا۔
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کو بھرتی کیا، ان کو مالی مدد اور حمایت فراہم کی اور انھیں دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
تاہم اب اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’دنیا جانتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی، منظم جرائز اور غیرقانونی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ انڈیا اور دیگر ممالک نے پاکستان کو عوامی سطح پر متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنے دہشت اور تشدد پھیلانے کے کلچر کا خود نشانہ بنے گا۔‘
انڈیا نے مزید کہا کہ پاکستان نے جو بویا ہے وہی کاٹے گا۔
’اپنے کرتوتوں کا الزام دوسروں کے سر عائد کرنے نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ کوئی حل ہے۔‘
لاہور ہائیکورٹ نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سُنا دیا: ’الیکشن کمشن درخواست گُزار کا موقف سُنے‘
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سلمان اکرم راجہ کو آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کے خلاف الیکشن کمیشن درخواست گزار کا موقف سن کر فیصلہ کرے، درخواست گزار الیکشن کمیشن سے رجوع کرے۔‘
اس سے قبل سلمان اکرم راجہ نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں اُن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’میں پی ٹی آئی کا اُمیدوار ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے مجھے آزاد اُمیدوار قرار دیا ہے، اُنھوں نے استدعا کی تھی کہ مجھے پارٹی کا اُمیدوار قرار دیا جائے۔‘
تاہم الیکشن کمیشن کا جواب آنے کے بعد جس میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ پارٹی کا اُمیدوار قرار دیے جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن بیلٹ پیپر پر نشان جاری نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 80 فیصد بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں۔
الیکشن کمشن کی جانب سے جواب کے بعد فاضل عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
اسلام آباد سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام لانگ مارچ کے شرکاء کی کوئٹہ آمد, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ
لانگ مارچ کشرکاء اسلام آباد سے گزشتہ روز روانہ ہوئے تھے اور آج کوئٹہ پہنچے جہاں ہزاروں افراد نے اُن کا استقبال کیا اور ان کے ہمراہ یونیورسٹی آف بلوچستان تک مارچ کیا۔
لانگ مارچ کے شرکا وہ سب سے پہلے کوئٹہ کے جنوبی کنارے ہزار گنجی پہنچے جہاں ہزاروں لوگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
ہزار گنجی سے وہ ایک ریلی کی شکل میں سریاب روڈ سے ہوتے ہوئے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے پہنچے جہاں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کیا۔
خطاب کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ کا لہجہ سخت تھا اور انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں نے ہماری خواتین کی سروں سے چادر کھینچنے کے علاوہ انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچوں کو اپنی خواتین کے سروں سے چادر کھینچنے کے اقدام کو کبھی نہیں بھولنا چائیے اور نہ ہی اپنے ان لاپتہ بھائیوں کو بھولنا چائیے جو کہ ریاست کے زندانوں میں کئی برسوں سے اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں پہلے روز سے معلوم تھا کہ اسلام آباد سے ہمیں انصاف نہیں ملے گا، اسلام آباد سے ہمیں نہ پہلے کوئی توقع تھی اور نہ آئندہ رہے گی۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’بعض سرکاری سردار یہ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے مذاکرات کے زریعے دھرنا کو ختم کیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ 'ہم نے کسی سے مذاکرات کی بنیاد پر دھرنے کو ختم نہیں کیا۔ ایسے سرکاری سرداروں کو شرم آنی چائیے جو اپنی سیاست کے لیے جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں۔‘
انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ زندانوں میں بند اپنے لاپتہ بھائیوں کو نہیں بھولیں اور نہ ہی ہم آپ لوگوں کو یہ بھولنے دیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر بلوچ نہیں اٹھے تو کل ان کی حالت بنگالیوں سے بھی بدتر ہوگی۔‘
انھوں نے لوگوں سے 27 جنوری کو کوئٹہ میں ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس جلسہ عام میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی-‘
لانگ مارچ کے شرکاء کی شہر میں داخلے سے قبل بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست مخالف بیانیے کے باوجود اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی گئی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دھرنے کے حوالے سے جائز خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب احتجاج کا رخ ریاستی اداروں اور اہلکاروں کی جانب مڑا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب پاکستانی ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں تو وہ محبت اور اچھی یادوں کی باتیں کرتے ہیں لیکن ماہ رنگ اب نفرت کی باتیں کریں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دھرنے کے شرکاء کو بلوچستان اور اسلام آباد کے عوام نے مسترد کیا۔ یہ چند لوگ ہیں اور یہ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر حملہ, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر ہونے والے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ کمیشن کا ڈرائیور معمولی زخمی ہوا۔
تربت میں پولیس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم نے افراد الیکشن کمیشن کے دفتر پر فائرنگ کے علاوہ دستی بم پھینکا۔
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت نمروز کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے-
ڈپٹی کمشنر کیچ حسین بلوچ نے بتایا کہ حملہ آور تین موٹرسائیکلوں پر آئے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کے دفتر میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن دفتر کے اندر موجود لیویز فورسز کے اہلکاروں نے جوابی کاروائی کی جس سے حملہ آور فرار ہوگئے۔
بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ میر علی مردان ڈومکی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی ایک سازش اور کوشش قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’حکومت عوام اور امیدواروں کو انتخابات کے لیے ایک پرامن اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔‘
گزشتہ روز نگراں وزیر اعلیٰ نے تربت کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ضلع کیچ سمیت مکران ڈویژن میں انتخابات کے حوالے سے سیکورٹی کے امور کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی تھی۔
تربت اور ضلع کیچ میں اب تک عام انتخابات کے حوالے سے چار واقعات پیش آئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے دفتر پر فائرنگ سے قبل ایک حملے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی کے امیدوار میر اسلم بلیدی زخمی ہوئے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کے امیدوار اصغر رند کے گھر پر دستی بم کے حملے کے علاوہ دشت میں نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کے امیدوار لالہ رشید کے قافلے پر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔
اسی طرح کے تین حملے بلوچستان کے شہر خاران میں بھی ہوئے تھے۔
سپریم کورٹ کا ’بلّے‘ کے نشان سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری: ’ہائیکورٹ سے متفق نہیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں الیکش کمیشن کا کوئی اختیار نہیں‘ سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے بلّے کے نشان سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی ارکان کو لاعلم رکھا، قانون کے مطابق پی ٹی آئی کو بلّے کا انتخابی نشان نہیں دیا جاسکتا۔‘
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے اولے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد اظہار وجوہ نوٹس جاری کیے جس کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے، الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔‘
سپریم کورٹ کا اپنے تفصیلی فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ ’انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر انتحابی نشان واپس لیا جاسکتا ہے۔‘
38 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن مئی2021 س تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کرانے کا کہہ رہا تھا، پی ٹی ائی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو متعدد شکایات موصول ہوئیں۔‘
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’شکایات کے مطابق پی ٹی ائی نے انٹرا پارٹی انتخابات اپنے ائین کے مطابق نہیں کرائے، ہائی کورٹ سے متفق نہیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں الیکش کمیشن کا کوئی اختیار نہیں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جس کے فرائض آئین میں درج ہیں۔‘
مزید یہ کہ ’پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، دس جنوری 2024 کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ’الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر 2023 کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا، 20 دن بعد پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کچھ نہیں کر سکتا۔ پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار بھی نہ کیا۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’لاہور ہائیکورٹ میں یہ معاملہ لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت تھا، پشاور ہائیکورٹ کے سامنے محض سرٹیفکیٹ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تھا، اگر انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کے معاملے کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ’الیکشن کمیشن کا ایسے حالات میں مکمل اختیار ہے، پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کے اختیارات میں دخل اندازی اختیارات سے تجاوز ہے۔ ہائیکورٹ کیسے الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔‘
سپریم کورٹ کی جانب سے بلّے کے نشان سے متعلق تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’انٹرا پارٹی الیکشن جیت کر آنے والوں کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ پارٹی امور چلائیں۔ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے پر انتخابی نشان نہ دیں۔ جب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے ایک سال کا وقت دیا اس وقت تحریک انصاف حکومت میں تھی۔‘
سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، اس وقت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومتیں تھیں۔ متعدد نوٹسز جاری کرنے اور اضافی وقت دینے کے باوجود تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے۔‘ مزید یہ کہ ’تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا۔‘
’ایک شخص نے ہیلمٹ پہن کر گولی چلائی‘: راولا کوٹ کی مسجد میں قتل ہونے والے ابو قاسم کشمیری کون تھے؟
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کی ایما پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ کے شہری محمد ریاض کو قتل کرنے والے کرائے کے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا پاکستانی سرزمین پر ہونے والی اس ہلاکت ہلاکت سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا پاکستانی شہری محمد ریاض کو 8 اکتوبر 2023 کو فجر کی نماز کے دوران راولاکوٹ میں ایک مسجد کے اندر قتل کیا گیا تھا۔
سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں کو انڈین ایجنٹس کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محمد ریاض نامی شہری کے قتل میں ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی نامی قاتل کا سُراغ لگایا اور اسے 15 ستمبر 2023 کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جہاز میں سوار ہونے سے قبل گرفتار کر لیا۔‘
سائرس سجاد قاضی نے مزید دعویٰ کیا کہ ’تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ عبداللہ علی کو انڈین ایجنٹس اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار نے بھرتی کیا اور اُن ہی نے اس کی رہنمائی کی۔‘
’انڈین ایجنٹس نے محمد عبداللہ علی کو بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پیلٹ فارم ٹیلی گرام کا سہارا لیا۔‘
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ’محمد عبداللہ علی کو پیسے ایک تیسرے ملک میں موجود رابطہ کار نے بھیجے، قاتل کو اسلحہٰ بھی فراہم کیا گیا۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو پاکستان کے متعدد شہروں سے گرفتار کیا۔ سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’ہمارے پاس دستاویزی، مالی اور فرانزک شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں انڈین ایجنٹس ان ہلاکتوں کے ماسٹر مائنڈز تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ ان ہلاکتوں میں ملوث انڈین ایجنٹس کے پاسپورٹ کی تفصیلات جاری کر رہے ہیں اور ان ممالک سے بھی رابطہ کر رہے ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کی قتل کی منصوبہ بندی ہوئی۔
یاد رہے کہ محمد ریاض عرف ابو قاسم کشمیری سابق کشمیری عسکریت پسند تھے۔ ان کے قتل کے بعد بی بی سی نے محمد ریاض عرف ابوقاسم کشمیری پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے آپ ذیل میں دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب اور ڈسکہ میں قتل ہونے والے مولانا شاہد لطیف کون تھے؟
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کی ایما پر پاکستانی شہری شاہد لطیف کو قتل کرنے والے کرائے کے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا پاکستانی سرزمین پر ہونے والی اس ہلاکت ہلاکت سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا پاکستانی شہری شاہد لطیف کو 11 اکتوبر 2023 کو سیالکوٹ میں ایک مسجد کے باہر قتل کیا گیا تھا۔
انڈیا کی جانب سے فی الحال پاکستان کے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
سائرس سجاد قاضی نے دعویٰ کیا کہ ’مفصل تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ایک انڈین ایجنٹ یوگیش کمار، جو کہ ایک تیسرے ملک میں مقیم تھا، نے یہ قتل کروایا۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’یوگیش کمار نے ایک تیسرے ملک میں کام کرنے والے ایک مزدور محمد عمیر کو پاکستان میں موجود جرائم پیشہ افراد کے رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا اور انھیں شاہد لطیف کو ڈھونڈ کر انھیں قتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بھرتی کیے گئے مقامی مجرم نے شاہد لطیف کو ڈھونڈا لیکن وہ شاہد لطیف کو قتل کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ مزید ناکامیوں کے بعد محمد عمیر کو ذاتی طور پر پاکستان شاہد لطیف کو قتل کرنے کے لیا بھیجا گیا۔‘
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’عمیر نے پانچ قاتلوں کا ایک گروہ تشکیل دیا جو 9 اکتوبر کو اس کام میں ناکام رہے، لیکن وہ 11 اکتوبر کو شاہد لطیف کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کو مطلوب مولانا شاہد لطیف پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب تھے۔ ان کے قتل کے بعد بی بی سی نے مولانا شاہد لطیف پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے آپ ذیل میں دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
بریکنگ, دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے اُجرتی قاتلوں اور انڈین ایجنٹس کے درمیان روابط کے معتبر شواہد موجود ہیں: پاکستان کا دعویٰ
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کے ایما پر دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے ’کرائے کے قاتلوں‘ اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا دو پاکستانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین پر ہونے والی ہلاکتوں سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔‘
انڈیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل فی الحال نہیں آیا ہے۔
سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ اُجرتی قتل کے کیسز ہیں جس میں ایک منظم بین الاقوامی سیٹ اپ ملوث ہے جو کہ متعدد مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔‘
سائرس سجاد قاضی نے دعویٰ کیا کہ ’انڈین ایجنٹس نے پاکستان میں قتل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور بیرونِ ملک واقع محفوظ ٹھکانوں کا استعمال کیا۔‘ سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ انڈیا نے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کو بھرتی کیا، ان کو مالی مدد اور حمایت فراہم کی اور انھیں دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر موجود اکاونٹس نے فوراً ان ہلاکتوں کی ذمہ داری لینا شروع کر دی اور نہ صرف انھیں سراہا گیا بلکہ اسے اپنی کامیابی قرار دیا گیا۔
سائرس سجاد قاضی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’قاتلوں کو سوشل میڈیا کی مدد سے، ٹیلنٹ کو جانچنے والوں اور داعش کے جعلی اکاونٹس کے ذریعے بھرتی کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان ابھی صرف دو ایسے کیسز کی تفصیلات سامنے لا رہا ہے جبکہ ان کیسز سے مماثلت رکھنے والے مزید واقعات ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔
پاکستانی شہری شاہد لطیف کا قتل
انھوں نے کہا کہ پاکستانی شہری شاہد لطیف کو 11 اکتوبر 2023 کو سیالکوٹ میں ایک مسجد کے باہر قتل کیا گیا تھا۔ سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’مفصل تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ایک انڈین ایجنٹ یوگیش کمار، جو کہ ایک تیسرے ملک میں مقیم تھا، نے یہ قتل کروایا۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 'یوگیش کمار نے ایک تیسرے ملک میں کام کرنے والے ایک مزدور محمد عمیر کو پاکستان میں موجود جرائم پیشہ افراد کے رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا اور انھیں شاہد لطیف کو ڈھونڈ کر انھیں قتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔‘
’بھرتی کیے گئے مقامی مجرم نے شاہد لطیف کو ڈھونڈا لیکن وہ شاہد لطیف کو قتل کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ مزید ناکامیوں کے بعد محمد عمیر کو ذاتی طور پر پاکستان شاہد لطیف کو قتل کرنے کے لیا بھیجا گیا۔‘
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’عمیر نے پانچ قاتلوں کا ایک گروہ تشکیل دیا جو 9 اکتوبر کو اس کام میں ناکام رہے، لیکن وہ 11 اکتوبر کو شاہد لطیف کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘
سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’اعترافی بیانات اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے حکام نے 12 اکتوبر کو ملک چھوڑنے کی کوشش کرنے والے محمد عمیر سمیت دیگر قاتلوں کو فوراً قاتلوں کر لیا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اُن کے خلاف عدالت میں ایک مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
پاکستانی شہری محمد ریاض کا قتل
سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں کو انڈین ایجنٹس کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محمد ریاض نامی شہری کے قتل میں ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ محمد ریاض کو 8 اکتوبر 2023 کو فجر کی نماز کے دوران راولاکوٹ میں ایک مسجد کے اندر قتل کیا گیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی نامی قاتل کا سُراغ لگایا اور اسے 15 ستمبر 2023 کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جہاز میں سوار ہونے سے قبل گرفتار کر لیا۔‘
سائرس سجاد قاضی نے مزید دعویٰ کیا کہ ’تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ عبداللہ علی کو انڈین ایجنٹس اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار نے بھرتی کیا اور اُن ہی نے اس کی رہنمائی کی۔‘
’انڈین ایجنٹس نے محمد عبداللہ علی کو بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پیلٹ فارم ٹیلی گرام کا سہارا لیا۔‘
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ’محمد عبداللہ علی کو پیسے ایک تیسرے ملک میں موجود رابطہ کار نے بھیجے، قاتل کو اسلحہٰ بھی فراہم کیا گیا۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو پاکستان کے متعدد شہروں سے گرفتار کیا۔ سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’ہمارے پاس دستاویزی، مالی اور فرانزک شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں انڈین ایجنٹس ان ہلاکتوں کے ماسٹر مائنڈز تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ ان ہلاکتوں میں ملوث انڈین ایجنٹس کے پاسپورٹ کی تفصیلات جاری کر رہے ہیں اور ان ممالک سے بھی رابطہ کر رہے ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کی قتل کی منصوبہ بندی ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے نقض امن میں شہریوں کی گرفتاری کے اختیارات بحال کر دیے
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا نقض امن کے خدشہ کے پیش نظر شہریوں کی گرفتاری کے لیے ایم پی او آرڈرجاری کرنے کا اختیار بحال کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ڈی سی اسلام آباد کا ایم پی او آرڈر جاری کرنے کے اختیار کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف چیف کمشنر اور سیکریٹری داخلہ کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ایم پی او آرڈر جاری کرنے سے روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
سنگل بینچ کے فیصلے پر حکم امتناع سے معطل ڈی سی اسلام آباد کا ایم پی او آرڈر جاری کرنے کا اختیار عارضی طور پر بحال ہو گیا ہے۔
190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں عمران خان کی درخواست پر سماعت، اعتراضات دور کرنے کی ہدایت, شہزاد ملک بی بی سی اردو
سابق وزیر اعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی ہے۔
عدالت نے عمران خان کے وکلا کو درخواست پر سات روز میں اعتراضات دور کرنے کی ہدایت بھی کی۔
عمران خان کے وکیل نے عدالت سے اعتراض دور کرنے کے لیے وقت مانگ لیا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’آپ کو ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں اعتراض دور کر لیں۔‘
سپریم کورٹ نے بھکر سے ثنااللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے این اے 91 بھکر سے آزاد امیدوار ثنااللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ میں این اے 91 بھکر سے آزاد امیدوار ثنااللہ مستی خیل کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کاغذات نامزدگی کیوں مسترد ہوئے ہیں؟
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے کاغذات منظور کیے، ہائی کورٹ نے مسترد کر دیے، ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا نہ ہی موقف سنا، بس یکطرفہ فیصلہ ہو گیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ثنااللہ مستی خیل اشتہاری ہیں، پیش کیوں نہیں ہوتے؟
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ثنااللہ مستی خیل سرنڈر کر چکے ہیں اور ضمانت پر ہیں۔ ثنااللہ مستی خیل پر الزام دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ہے۔
عدالت نے مخالف فریق کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیے بغیر فیصلہ کیا؟
وکیل نے بتایا کہ درست ہے کہ ہائی کورٹ نے نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کی کیا پوزیشن ہے؟ انھوں نے الیکشن کمیشن کے حکام سے استفسار کیا کہ کیا بیلٹ پیپرز چھپ چکے ہیں؟
الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کے لیے تیار ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ثنااللہ مستی خیل کا نام ابتدائی لسٹ میں شامل تھا، انتخابی نشان بھی مل چکا ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کا 5 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا اور ثنااللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ثنااللہ مستی خیل کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے کا حکم بھی دے دیا۔