آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے، عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے: چیئرمین تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ملک کی ایک بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ میں خلیج بدقسمتی ہے اور یہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔

    نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی منشور کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ اسی طرح 50 فیصد سینیٹرز کا بھی براہ راست انتخاب ہونا چاہیے، اس سے ہارس ٹریڈنگ کم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات ضروری ہیں، ایک ٹروتھ کمیشن بننا چاہیے اور یہ پاکستان کے لیے اہم ہے۔

    منشور میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مدت میں ایک، ایک سال کمی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اسمبلی کی مدت پانچ سال کچھ زیادہ ہی لگتی ہے اور یہ بہتر ہوتا ہے کہ چار سال کی مدت ہو، اگر چار سال قانون سازی پر توجہ دیتے رہیں اور مقامی حکومتیں بھی ساتھ چلتی رہیں تو چار سال اسمبلی کے لیے مناسب مدت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کا منشور دیکھا ہے اور اس کے لیے پوری ٹیم نے چھ مہینے بہت محنت کی ہے لیکن یہ بہت افسوس کی بات اور غیر آئینی طرز عمل ہے کہ ایک جماعت کو پورے انتخابی عمل سے باہر کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تمام ادارے آئین کے تابع ہونے چاہئیں، چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔

    ’یہ قابل شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قابلِ شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو اپنے منشور کی بجائے آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، اس طرح تو وہ سیاست دانوں کی خرید و فروخت کی سیاست کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ افسوس کہ الیکشن کمیشن ہمارے خلاف چل رہا ہے، عدالتی فیصلے سے پہلے ہی انتخابی نشان الاٹ کر دییے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ آزاد امیدوار ہمارے ہیں، سب کو ٹکٹ جاری کیے اور اگلے انٹرا پارٹی الیکشن میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

  2. اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی: آصف زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔

    بلوچستان کے علاقے حب میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ ’آپ اپنے دوستوں کو سمجھائیں جو ہتھیار اٹھاتے ہیں، جمہوریت ہی بلوچستان کا حل ہے۔‘

    سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آپ نے جو جماعتیں بنائیں اور جو بنانے جا رہے ہیں وہ پاکستان کے مسائل نہیں سمجھ سکتیں، ورنہ آزما کے دیکھ لیں۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی صرف جمہوری راستے پر چلتے ہوئے ممکن ہے۔

  3. آٹھ فروری کی جیت کے بعد ریاستی اداروں کا بھی احتساب ہو گا: علی امین گنڈہ پور کا جلسے سے آڈیو خطاب

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈہ پورنے ڈی آئی خان کے حق نواز پارک میں جلسہ سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاستی اداروں، پولیس اور ایجنسیز نے ہمارے لوگوں کو دوسری پارٹیوں میں شمولیت مجبور کیا۔ ان کا بھی احتساب ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا بدلہ عوام آٹھ فروری کو لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اٹھ فروری کو انشاءاللہ تحریک انصاف کی جیت ہوگی۔ آٹھ فروری کو ’کوئین‘ (سکے) پر مہر لگائیں ہم الیکشن جیتیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجبوری کا بہانہ بنا کر جانے والے واپس اجائیں۔ بزدلی کر کے چھوڑ جانے والے اب ہمارے ساتھی نہیں ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ صرف ووٹ دینا نہیں بلکہ اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ علی امین نے کہا کہ ’میں کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں جو اج ہمیں چھوڑ گئے ہیں انھیں دوبارہ نہیں آنے دیں گے۔‘

    علی امین کے مطابق ’عوام ہمارے ساتھ ہیں وہ ہمارے کرتا دھرتا ہوں گے۔‘

  4. ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد ججز کے خلاف مہم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے: مرتضیٰ سولنگی

    نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ اسحاق جہانگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ججز کے خلاف توہین آمیز مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف حکومت نے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی ہے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے کچھ دیگر ججز کے خلاف تنقید کی گئی، جس کے بعد ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل عمل لائی گئی۔

    ایف آئی اے نے متعدد صحافیوں کو بھی نوٹس بھیجے کہ وہ وضاحت کریں کہ انھوں نے ججز کے خلاف ٹویٹ اور پوسٹ کیوں شیئر کیں۔

    مرتضیٰ سولنگی کے مطابق جے آئی ٹی بننے کے بعد کسی کو اغوا، گرفتار یا ہراساں نہیں کیا گیا ہے۔

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ تقریباً 110 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے، ان میں تقریباً 22 سیاسی کارکنان یا سیاستدان اور تقریباً 32 صحافی ہیں، ابھی تک قانون کے تحت صرف نوٹس جاری کیےگئے ہیں،کسی کو ہراساں نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عدالت اور قانون اپنا راستہ خود لے گا، اب تک ہونے والی کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے، آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں، اس پر مناسب پابندیاں موجود ہیں، بات تنقید کی نہیں بلکہ بات تضحیک اورکردارکشی کی ہو رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پچھلے دنوں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ کسی طور بھی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ تنقیدکو تہذیب کے دائرے میں رکھیں اور بہتان تراشی سے گریز کریں۔

    ڈی جی ایف آئی اے اسحاق جہانگیر نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نوٹس دینے کا مطلب ایف آئی آر درج کرنا ہی ہو۔ ان کے مطابق نوٹس ایک موقع ہوتا ہے کہ کوئی اپنا مؤقف پیش کر سکے۔

  5. فلاحی، فاشسٹ، ہائبرڈ اور چھچھوری ریاست کا فرق: وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات

  6. بریکنگ, کراچی اور ٹانک میں پی ٹی آئی کی ریلیوں پر پولیس کا کریک ڈاؤن، آنسو گیس کی شیلنگ

    پاکستان تحریک انصاف کی ٹانک اور کراچی میں منعقدہ انتخابی ریلیوں پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

    کراچی کے علاقے کلفٹن پر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی ہے جبکہ پولیس نے ریلی کے شرکا پر لاٹھی چارج کیا ہے۔

    کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے کلفٹن میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں لی تھی اس لیے پارٹی کارکنوں کو منتشر کیا گیا ہے۔

    ادھر صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے ٹانک میں بھی پی ٹی آئی رہنما شیر افضل خان مروت کی قیادت میں لکی مروت سے ڈیرہ اسماعیل خان تک نکالی جانے والی ریلی پر پولیس نے مبینہ طور پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے آج ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بڑے سیاسی جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر آج ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قیادت میں لکی مروت سے ٹانک جانے والی ریلی جب ٹانک کی حدود میں داخل ہوئی تو گل امام کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی اور پولیس کی جانب سے ان پر آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے گئے ہیں۔

    ٹانک ریلی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعلقہ پولیس سے ریلی کی اجازت لے رکھی تھی۔ جبکہ مقامی پولیس کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ریلی کے شرکا پر آنسو گیس شیل فائر نہیں کیے بلکہ اس وقت متعلقہ مقام پر کچھ شرپسند عناصر موجود تھے جنھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے ہیں۔

    ٹانک ریلی میں شریک عبد المالک کا کہنا تھا کہ آنسو گیس کے شیل سے کارکنوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی تاہم انھوں نے پولیس کا مقابلہ کیا اور رکاوٹیں عبور کر کے ٹانک پہنچ گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ریلی نکالی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تھے۔

  7. وقت آگیا ہے کہ ہم تمام دہشتگردوں کا مقابلہ کریں: بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے اور وقت آگیا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ کوئی گڈ یا بیڈ طالبان نہیں بلکہ تمام دہشتگردوں کا مقابلہ کیا جائے۔

    راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ملک خطرے میں ہے۔ ایک طرف معاشی بحران، دوسری طرف جمہوری بحران، تیسری طرف پورے معاشرے میں بحران پیدا ہوچکا ہے۔ ساتھ ساتھ وہی دہشتگرد جنھوں ہم نے قربانیاں دے کر شکست دلوائی، وہ ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پیپلز پارٹی ہی صرف اس ملک کو بچا سکتی ہے۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ دہشتگردی کا آج مقابلہ کریں۔۔۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں پاکستان میں کوئی گڈ طالبان یا بیڈ طالبان نہیں ہوگا۔ ہم تمام دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے۔ ہم صرف انھیں معاف کر سکتے ہیں جو آئین کو مانتے ہیں۔‘

    ’اگر کوئی ہمارے آئین کو نہ مانے اور ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو پھر پاکستان وہ منھ توڑ جواب دے گا جو صرف پیپلز پارٹی دلوا سکتی ہے۔‘

    ’ن لیگ ووٹ کی بے عزتی کر رہی ہے، تحریک انصاف کے تمام عہدیدار پلانٹڈ ہیں‘

    آٹھ فروری کے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار بلاول نے کہا کہ ’ن لیگ ووٹ کی عزت نہیں ووٹ کی بے عزتی کر رہی ہے۔ اگر آپ کو جمہوریت کو بچانا ہے، اس سازش کو ناکام بنانا ہے تو شیر پر نہیں تیر پر ٹھپہ لگانا ہے۔‘

    بلاول نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے وہی پرانی سیاست اپنائی جس سے انھوں نے توبہ کر لی تھی۔ ’ایک جماعت نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھول کر وہی پرانی سیاست اپنائی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آج سے چوتھی بار وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ انھیں سمجھ نہیں آتا اصل میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کر کے آپ کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘

    بلاول نے شرکا سے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو سمجھائیں کہ ’ہم تین نسلوں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ عمران خان کسی صورت وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ تحریک انصاف کے تمام عہدیدار پلانٹڈ ہیں۔ انھیں یہ سمجھ ہونی چاہیے۔ یہ ان کے اپنے لوگوں کا قصور ہے جو (بلے کا) نشان نہیں ملا۔‘

    وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کے عہدیداروں کی اپنی ناکامی کی وجہ سے پارٹی کا نقصان ہوا۔ ’آزاد پر ووٹ ضائع کرنے کے بجائے۔۔۔ ہوشیار ہو کر تیر کو ووٹ دیں۔‘

  8. ’سیالکوٹ موٹروے اس معیار کی نہیں‘ نواز شریف کا لاہور سے سیالکوٹ ٹرین سروس شروع کرنے کا وعدہ

    آٹھ فروری کے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ہم نے سیالکوٹ موٹروے بنائی مگر اس کے افتتاح کا موقع نہیں مل سکا۔‘

    سیالکوٹ میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ یہ ’وفاداروں کا شہر ہے۔ سب کے بڑا وفادار (خواجہ آصف) میرے ساتھ کھڑا ہے جس کے ساتھ 55 سال کا تعلق ہے۔‘

    مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ سیالکوٹ موٹروے ’اس معیار کی نہیں جو نواز شریف بنانا چاہتا تھا۔ اس میں ریسٹ ایریاز ہونے چاہیے تھے، اس کا معیار بہتر ہونا چاہیے تھا۔۔ ہم اسے دوبارہ بنائیں گے۔

    ’ہم لاہور سے سیالکوٹ بہترین ٹرین سروس بنائیں گے۔‘

    نواز شریف نے پوچھا ’کون کہتا ہے یوتھ مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں۔ یہ سارا جلسہ 30 سال سے کم عمر والوں کا ہے۔‘

    ’نوجوانوں کو 20، 20 سال کے قرضے دیں گے تاکہ وہ خود اپنا کاروبار بنائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’2017 کا پاکستان جو میں چھوڑ کر گیا تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔‘ ’ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو جلسے میں کوئی شخص ایسا نہ ہوتا جس کے پاس باعزت روزگار نہ ہوتا۔‘

    ان کا سوال تھا کہ اس مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے۔ ’جنھوں نے ملک کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا، یہ ظلم قوم کے ساتھ کیا گیا۔ اپنے ساتھ کیا گیا ظلم برداشت کر رہا ہوں۔ آپ کے ساتھ ہوا ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔‘

  9. ایران میں نو پاکستانیوں کی ہلاکت پر تحقیقات شروع: ’دشمن کو برادرانہ تعلقات خراب کرنے نہیں دیں گے‘

    سنیچر کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے جنوب مشرقی ایران میں پاکستانی سرحد کے قریب نو پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا جس کی اب ایران کی جانب سے مذمت کی گئی ہے اور اس کے بقول حملے کی تحقیقات شروع ہوچکی ہے۔

    ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سنیچر کی صبح اس حملے کی مذمت کی جس میں سراوان کے نواحی علاقے میں نو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ انھوں نے پاکستانی حکومت اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات شروع کر چکے ہیں۔ ’ایران اور پاکستان دشمنوں کو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلق خراب کرنے نہیں دیں گے۔‘

    دریں اثنا ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’دشمن ایران پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ہمسائیوں سے متعلق (خارجہ) پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    امیر عبداللہیان نے تہران میں منعقدہ ملٹی لیٹرلزم کی 7ویں کانفرنس میں اپنے خطاب میں خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمسائیگی کی پالیسی پر ہماری خصوصی توجہ ہے، علاقے کا امن و سلامتی اچھی ہمسایہ پالیسی میں مضمر ہے اور ہم دشمنوں کو خطے میں دوستی، امن اور سلامتی کو کبھی نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’گذشتہ دنوں ہم نے عراقی کردستان کے علاقے اور دوست اور برادر ملک پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں دہشت گردانہ نقل و حرکت دیکھی۔ ایران کی سلامتی، سرحدوں کی حفاظت اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے، پاکستان کے بلوچستان اور عراق کے کردستان کے علاقے میں جو کچھ ہوا، اس کے مشترکہ سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ہم نے ان ممالک کے حکام کے ساتھ تعمیری بات چیت کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج دشمن اسلامی جمہوریہ ایران پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ہمسائیگی کی پالیسی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    ارنا کے مطابق ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ڈپٹی سکیورٹی اینڈ لا انفورسمنٹ آفیسر علی رضا کا کہنا ہے کہ پولیس کی ٹیم جلد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی اور حملے میں بچنے والوں نے پولیس کو بتایا کہ تین مسلح افراد غیر ملکیوں پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے تھے۔

  10. بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں جلسہ: ’ہمیں معلوم تھا کہ اسلام آباد ہمارے ساتھ انصاف نہیں کرے گا، ہم جمہوریت کو ایکسپوز کرنا چاہتے تھے‘

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام جو جلسہ منعقد ہوا ہے مبصرین کے مطابق یہ کوئٹہ کی تاریخ کے بڑے جلسہ عام میں سے ایک تھا۔

    اس جلسے کے لیے بہت زیادہ تیاری نہیں کی گئی تھی بلکہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کے خاتمے کے بعد پریس کانفرنس میں اس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔

    اس جلسے کے لیے سریاب کے علاقے میں شاہوانی اسٹڈیم کا انتخاب کیا گیا تھا جو کہ لوگوں سے کچا کچ بھرا ہوا تھا۔ اس جلسہ عام کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے شرکا کی اکثریت نہ صرف نوجوانوں کی تھی بلکہ اس میں خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد شریک تھی۔

    بعض مبصرین کی یہ رائے ہے کہ اس جلسے میں خواتین جس بڑی تعداد میں شریک تھیں ماضی میں کسی جلسے میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ جلسے میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔

    لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو سٹیج پر بٹھایا گیا تھا جن کے ہاتھوں میں مبینہ طور پر جبری گمشدگی کے شکار ان کے رشتہ داروں کی تصاویر تھیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اس جلسے خطاب کرنے والے مقررین کی تعداد زیادہ تھی لیکن مرکزی مقرر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ تھیں۔ انھوں چار زبانوں بلوچی، براہوی، اردو اور انگریزی میں خطاب کیا۔

    لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا وہ آج بہت خوش ہیں۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد گئے اور حکمرانوں کو کہا کہ اپنی عدالتوں کو عزت دو۔

    ’ہم نے کہا کہ اگر جبری طورپر لاپٹہ کیئے جانے والے لوگوں پر کوئی الزام ہے تو ان کو اپنی عدالتوں میں پیش کرو۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ اسلام آباد ہمارے ساتھ انصاف نہیں کرے گا لیکن ہم اس لیے اسلام آباد گئے تاکہ اس ریاست کی جمہوریت کو ایکسپوز کریں اور دنیا کو بتائیں کہ یہاں کتنی جمہوریت ہے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جو مبینہ ڈیتھ سکواڈز بنائے گئے ان کو ختم کیا جائے۔

    انھوں نے بلوچستان کی بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ دن کو دعویٰ تو قوم پرستی کا کرتے ہیں لیکن رات کو حکمرانوں سے ملکر بلوچوں کے خلاف سازشوں کا حصہ بنتے ہیں۔

    انھوں نے بلوچستان کی خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور نہ صرف بلوچ قومی تحریک کا حصہ بنیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس تحریک کا حصہ بنائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب جو تحریک اٹھی ہے اسے ظلم اور جبر سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    لوگوں کی بڑی تعداد میں اس جلسے میں شرکت کے حوالے سے تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ آج کے اس ماحول میں جب سیاسی کارکن مایوس ہیں اس جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں نکلنا اہمیت کا حامل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ بلوچستان میں ایک بڑی تحریک کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

  11. پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کے لیے انتخابی منشور کا اعلا ن کردیا، غربت کا خاتمہ اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے اہداف شامل

    پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات سے قبل اپنا انتخابی منشور پیش کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے 2024 کے عام انتخابات کے لیے پارٹی کے منشور کا اعلان کیا، جس میں معاشی بہتری، ماحولیاتی استحکام ،ہمہ جہت ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی، غربت کا خاتمہ اور ساتھ ہی خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔

    سنیچر کوسابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ اور پیپلز پارٹی کے نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے یہاں پارٹی آفس میں میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا، جس میں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری بھی موجود تھے۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی عدم استحکام اور بار بار آنے والی آب و ہوا کی تباہی نے عوام کی مالی طاقت کو مزید گرا دیا ہےجو دن بدن غریب ہوتے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پی پی پی ترقی پسند ٹیکسیشن اور عوامی بہبود کی وکالت کر رہی ہے اور جامع ترقی کو فروغ دینے والی شراکت داری پر یقین رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا وہی وژن ہے جیسا کہ اس نے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے موسمیاتی لچکدار رہائش گاہیں تعمیر کی ہیں۔

    بی آئی ایس پی کے ذریعے سماجی تحفظ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب صدر نے کہا کہ اس منشور کے ذریعے ایک عوامی اقتصادی معاہدہ کیا ہے جو معمول کے مطابق کاروبار کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ پسماندہ طبقے کی بہتری اور معاشی اور سماجی طور پر ترقی کے لیے ٹھوس اور آؤٹ آف دی باکس تجاویز لے کر آتا ہے۔

  12. صحافیوں کو ایف آئی اے کے نوٹسز پر چیف جسٹس کا نوٹس، ’کیس کی سماعت پیر کو ہو گی‘

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی ایشن اور ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اعلامیے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    چیف جسٹس نے صحافیوں کے نمائندوں کو چیمبر میں بلا کر بتایا کہ وہ اس مقدمے پر پیر کو سماعت کرنے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے صحافی عقیل افضل، فیاض محمود اور عمران وسیم کو بتایا کہ ’آپ کی جو گزارشات ہیں عدالت میں بتائیں۔‘

  13. ایران میں پاکستانی سرحد کے پاس نو پاکستانی مزدور قتل، پاکستان کا ایران سے تعاون کا مطالبہ

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ایران میں نو غیر ملکی شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔

    مہر کے مطابق ابھی تک سیستان میں ان افراد کی قتل کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے۔ بلوچستان کے ایک سماجی حقوق پر کام کرنے والے گروپ ہالوش نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ قتل کیے جانے والے افراد پاکستان سے تعلق رکھنے والے مزدور تھے اور وہ ایک آٹو رپیئر شاپ پر رہ رہے تھے، جہاں وہ مزدوری کرتے تھے۔

    ہالوش کے مطابق تین دیگر افراد اس حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر رونما ہوا جب ایران اور پاکستان دوبارہ اپنے سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے اپنے اپنے سفیر ایک دوسرے کے ملکوں میں دوبارہ تعینات کرنے جا رہے تھے۔ چند دن قبل ایران کی طرف سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حملے سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اور اس حملے کے جواب میں پاکستان نے بھی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

    ایران کا تیل دنیا بھر میں سب سے سستا ہے۔ یہ تیل پاکستان اور افغانستان سمگل بھی ہوتا ہے۔

    ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سراوان میں نو پاکستانیوں کے ہولناک قتل پر گہرا صدمہ ہے، پاکستانی سفارت خانہ سوگوار خاندانوں کی مکمل مدد کرے گا۔

    مدثر ٹیپو نے کہا کہ زاہدان میں پاکستانی قونصل جنرل جائے وقوعہ اور ہسپتال کی طرف جا رہے ہیں، جہاں زخمی زیر علاج ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران سے پاکستانیوں کے قتل کے واقعے پر مکمل تعاون کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  14. سی پیک کو متاثرہ علاقوں سے گزارنے کے بجائے اسے لاہور سے گزار دیا گیا: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کو متاثرہ علاقوں سے گزارنے کے بجائے اسے لاہور سے گزار دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک کا پیسہ اورنچ ٹرین پر ضائع کیا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ جب صدر زرداری دس دس دورے کر کے چین سے آتے تھے تو تنقید ن لیگ کرتی تھی۔ ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے تمام سی پیک کے معاہدے دستخط کر دیے گئے تھے۔

    ان کے مطابق ’اس کا کریڈٹ بھی چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ن لیگ کا منشور نظر سے گزرا جس پر لکھا تھا کہ ’سچا نواز کا سچا منشور‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’آپ نے تین تین دفعہ یہ نواز دیکھا ہے، یہ کتنا سچا نواز ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ انتخابات تیر اور شیر کے درمیان مقابلہ ہے۔ اگر ہم نے شیر کا راستہ روکنا ہے تو تیر پر ٹھپہ لگانا ہے۔‘

  15. آٹھ فروری کو ووٹ دے کر نواز شریف کو ایک اور بار وزیر اعظم بنائیں: شہباز شریف کا لیاقت باغ جلسے سے خطاب

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری آنے والا ہے اور لگ پتا جائے کہ جب شیر دھاڑیں مارے گا۔ انھوں نے روالپنڈی کے عوام سے اپیل کی کہ نواز شریف کو ایک بار پھر ووٹ دے کر وزیراعظم بنائیں۔

    انھوں نے کہا کہ میں نے راولپنڈی کو لاہور نہ بنا دیا تو پھر میرا نام شہباز شریف نہیں ہے۔

    ان کے مطابق راولپنڈی شہر میں 30 ارب روپے پانی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت راول ڈیم اور خان پور ڈیم سے موجودہ مقدار سے دگنا پانی لایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ راولپنڈی کا رنگ روڈ کا منصوبہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان کے مطابق دو مہینوں میں آئی جے پی روڈ پر بجلی سے چلنے والی بسیں چلیں گی۔

    ان کے مطابق اس سے قبل راولپنڈی کے لیے دل کے امراض کے ایک ہسپتال کا تحفہ بھی انھوں نہ دیا ہے۔ انھوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ 8 فروری کو اسے ووٹ دیں، جس نے آپ کی خدمت کی ہو۔

  16. مہنگائی کو کم کرنے کا پلان بنا لیا، نواز شریف نے منصوبہ بنا لیا کہ بجلی 30 فیصد سستی کیسے کرنی ہے: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف نے منصوبہ بنا لیا کہ بجلی 30 فیصد کیسے سستی کرنی ہے۔ ایبٹ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مانسہرہ کے جلسے کے بعد پیغام ملا ایبٹ آباد والے یاد کر رہے ہیں۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ خانہ کعبہ کی نشان والی گھڑی بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لیے، کیا خیبرپختونخوا نے وہیں کھڑے رہنا ہے یا ترقی کرنی ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ ہم وہیں کام کرسکتے ہیں، جہاں ہمیں مینڈیٹ ملے، خدا کا واسطہ ہے، سوچ سمجھ کر ووٹ دیں، ہم نے مہنگائی کم کرنے کا پلان بنالیا، نوازشریف نے منصوبہ بنا لیا کہ بجلی 30 فیصد کیسے سستی کرنی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ووٹ ایک پرچی نہیں آپ کی تقدیر کا فیصلہ ہے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کبھی کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا، جو پورا نہ ہوا ہو، اگر ہمیں منتخب کیا تو ایک ایک وعدہ پورا کریں گے، عوام کی تکالیف دور کریں گے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک کے چپے چپے پر نواز شریف کی خدمت کے نشانات ہیں، کیا پنجاب میں موجود منصوبے ایبٹ آباد کےعوام کا حق نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کچھ ضرورری باتیں ایبٹ آباد کے عوام سے کرنی ہیں، نواز شریف نے اپنا منشور آج پیش کیا ہے اور منشور کاغذ کا ٹکڑا نہیں، سچا وعدہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق منشور وہ نہیں ہوتا، جو ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے۔

    مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کرنےکا وعدہ پورا کیا، ہم نے آپ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر منشور بنایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جس (تحریک انصاف) کی خیبرپختونخوا میں دس سال حکومت رہی، اس نے منشور نہیں دیا، پوری قوم جانتی ہے اس کا منشور پیٹرول بم ہے۔‘

    انھوں مزید کہا کہ انھوں نے قوم کے بچوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے دیے، کیا یہ لوگ قوم کے ہمدرد ہوسکتے ہیں؟

  17. ہمارے ڈنڈے والے استاد: محمد حنیف کا کالم

  18. ’نیب کا خاتمہ اور باہمی احترام کی بنیادوں پر انڈیا سے تعلقات‘: پاکستان مسلم لیگ ن کا انتخابی منشور جاری

    پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے 2024 کے الیکشن سے 11 روز قبل اپنا انتخابی منشور جاری کردیا ہے جس میں زراعت، خارجہ پالیسی، موسمیاتی تبدیلی، قانونی اور عدالتی اصلاحات، گورننس سسٹم میں اصلاحات، تعلیمی نظام، سستی بجلی کی فراہمی، عوامی فلاح و بہبود، انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری، سمندر پار پاکستانیوں، برآمدات، سیاحت اور کھیل کے حوالے سے اپنی ترجیحات شامل کی ہیں۔

    ن لیگ کے انتخابی منشور کے مطابق ’خطے کے امن و امان، معاشی ترقی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر انڈیا سے تعلقات استوار کیے جائیں گے جس کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق 5 اگست 2019 کا یکطرفہ غیر آئینی اقدام واپس لے۔ جموں و کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے۔‘

    انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنے اور اقتصادی راہداری کے اگلے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کی جائے گی۔

    ن لیگ کے منشور کے مطابق ترکی، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی، معاشی، دفاعی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت نے اپنے منشور میں امریکہ، روس، برطانیہ اور یورپین ممالک کے ساتھ بھی معیشت، تجارت، انسداد دہشتگردی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معاملات پر ساتھ کام کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

    جماعت کے انتخابی منشور میں لکھا گیا ہے کہ جماعت پارلیمان کی بالادستی کو یقینی بنائے گی اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو ان کی اپنی حالت میں بجال کرے گی۔ انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ’مشکل مقدمات کا فیصلہ ایک سال کے اندر جبکہ چھوٹے مقدمات کا فیصلہ دو ماہ میں سنایا جائے۔‘

    ن لیگ کی جانب سے نیب کا خاتمہ کرنے اور انسدادِ بدعنوانی کے اداروں اور ایجنسیوں کو مضبوط کرنے کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستان کے تعلیمی نظام کے حوالے سے ن لیگ کے منشور میں لکھا ہے کہ جماعت ملک بھر بھٹہ مزدوروں کے لیے سکولز قائم کرے گی اور دانش سکولز کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔ جماعت کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سالانہ اندراج 10 فیصد تک بڑھانے کا ادارہ رکھتے ہیں۔

    پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت بجلی کے بلوں میں 20 سے 30 فیصد کمی لائے گی اور بجلی کی پیداوار میں 15 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کرے گی۔

  19. بریکنگ, سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ’مہم‘: ایف آئی اے نے چار درجن سے زائد افراد کو نوٹسز جاری کر دیے

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کے خلاف ’بدنیتی پر مبنی‘ مہم چلانے پر صحافیوں، یوٹیبرز اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    ایف آئی اے کی جانب سے نوٹسز چار درجن افراد سے زائد افراد کو جاری کیے گئے اور انھیں 30 اور 31 جنوری کو ایف آئی کے دفتر میں پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

    واضح رہے پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے 16 جنوری کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کے خلاف جاری سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کرنے کے لیے چھ رُکنی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم قائم کی تھی۔

    اس تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے، انٹیلیجنس بیورو اور آئی ایس آئی کے افسران کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

  20. قومی اسمبلی میں کم نشستیں یا تنظیم سازی کا فقدان۔۔۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اب تک بلوچستان میں جگہ کیوں نہیں بنا سکیں؟