بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ کا معاملہ اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ کا معاملہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا ہے۔
قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے بی بی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا انھوں نے متفقہ نگراں وزیراعلیٰ لانے کی کوشش کی لیکن وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو اس کے لیے آمادہ نہیں ہوئے جس پر معاملہ اب پارلیمانی کمیٹی نے طے کرنا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ملاقات کوئٹہ کی بجائے اسلام آباد میں ہوئی کیونکہ وزیراعلیٰ تقریباً دو ہفتوں سے اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی اسلام آباد میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد پاکستان کی نشریاتی اداروں نے یہ خبر دی کی بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ کے نام پراتفاق ہوگیا ہے۔
جب بی بی سی نے جے یو آئی کے ایک سینیئررہنما کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی میں سابق وزیر اعلیٰ جام کمال کے ایک حامی رہنما سے رابطہ کیا توانھوں نے کہا کہ علی مردان ڈومکی کے نام پراتفاق ہونے والا ہے۔
جے یوآئی کے رہنما نے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی کہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو بھی علی مردان کے نام پر اتفاق کریں گے لیکن گزشتہ شب 12 بجے تک وزیراعلیٰ قائد حزب اختلاف سے نہیں ملے۔
چونکہ 15 اگست قائد حزب اختلاف اور وزیر اعلیٰ کے درمیان اتفاق رائے کا آخری دن تھا لیکن اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد آئینی لحاظ سے اب پارلیمانی کمیٹی نے وزیراعلی اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے بھیجے جانے والے ایک نام پراتفاق کرنا ہے۔
قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد انھوں نے اپنی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کے لیے دو نام بھیج دیے ہیں جن میں انجینیئرعثمان بادینی اورعلی مردان ڈومکی کے نام شامل ہیں۔
معروف قانون دان سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے تین یوم میں فیصلہ کرنا ہے اوراگر پارلیمانی کمیٹی میں بھی اتفاق نہیِں ہوا توپھر پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے بھیجے جانے والے کسی نام کے بارے میں فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔






