پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن سے نئے انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کے اعلان کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات آئین کے اندر دی گئی مدت کے اندر ہونا چاہیئں دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. جسٹس قاضی فائز کا جڑانوالہ کا دورہ: ’خود کو مسلمان کہنے والوں نے وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ،تصویر کا ذریعہSCP

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنیچر کو جڑانوالہ کا دورہ کیا اور مسیحی برادری پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ بطور مسلمان، پاکستانی اور انسان انھیں ان واقعات سے ’دلی صدمہ پہنچا اور شدید دکھ ہوا‘ ہے۔

    متاثرین سے ملاقاتوں کے بعد انھوں نے صحافیوں کے ساتھ اپنا ایک تحریری بیان شیئر کیا۔ اس میں لکھا ہے کہ ’عیسیٰ نگر میں گمراہوں کے ایک بے ہنگم ہجوم نے متعدد گرجا گھر اور مسیحی آبادی کے مکانات جلائے اور برباد کیے۔‘

    اس نوٹ میں اسلام کی تاریخ کے مختلف واقعات کی روشنی میں بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں کو مسیحی برادری سے احترام سے پیش آنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ان حملوں سے بانی پاکستان محمد علی جناح کی غیر مسلموں کو دی گئی ضمانتوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ’تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 اور 295 اے کے تحت مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانا جرم ہے اور کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں ہیں۔‘

    نوٹ میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہر مسلمان کا یہ دینی فریضہ ہے کہ دو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں، ان کی جانوں، اموال، جائیداد، عزت اور عبادت گاہوں کی حفاظت کریں اور ان پر حملہ کرنے والوں کو روکیں اور ان کو پہنچنے والے نقصان کی ہر ممکن تلافی کریں۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’ناسمجھی کی انتہا یہ ہے کہ ’اسلام‘ جس کے مفہوم میں امن ہے اور جو اپنے پیروکاروں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ لوگوں سے ملتے وقت ان کے لیے سلامتی کی دعا کیا کریں، اس مذہب کے چند ماننے والوں اور خود کو مسلمان کہنے والوں نے اپنے مذہب کی تعلیمات پامال کرتے ہوئے اتنی وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا۔‘

  2. تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کی اہلیہ کی نگراں حکومت میں شمولیت انڈیا کے لیے کوئی پیغام ہے؟

  3. عمران خان کے نام پر امداد جمع کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: زلفی بخاری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے کہا ہے کہ جو کوئی بھی سابق وزیر اعظم عمران خان یا تحریک انصاف کے نام پر امداد جمع کرنے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف پارٹی قانونی کارروائی کرے گی۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں زلفی بخاری نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے قانونی اخراجات کے نام پر چندہ جمع کرنے والی ایک تنظیم ہیومن رائٹس لیگل ایڈ فاؤنڈیشن (ایچ آر ایل اے ایف) اور اس کی فنڈ ریزنگ کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان یا پی ٹی آئی نے ایسی کسی قانونی ٹیم کو ہدایت دی نہ انھیں تعینات کیا۔ ان (عمران خان) یا پارٹی کی طرف سے اس کا کسی کو بھی حق نہیں دیا گیا۔‘

    رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سب کو ان جعلی کوششوں اور خود اعلانیہ لیگل ٹیمز کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔

    خیال رہے کہ ایچ آر ایل اے ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ’لندن میں انسانی حقوق کے وکلا کو آزادی کے لیے قانونی جنگ لڑنے کی ہدایت کی ہے۔‘

    اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی طرف سے ایچ آر ایل اے ایف کو اقوام متحدہ سمیت عالمی تنظیموں کے سامنے درخواستیں دائر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس نے ’پاکستان لیگل فنڈ‘ کے لیے ’ایک ملین پاؤنڈ‘ جمع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

  4. علی مردان ڈومکی نے نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    علی مردان ڈومکی نے جمعے کی شب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

    گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

    حلف لینے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینا اورالیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم جس کام کے لیے آئے ہیں وہ یہ ہے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں۔ انھوں نے اس امید کا اظہارکیا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے۔

    علی مردان ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ’ہماری جتنی بھی صلاحیتیں ہیں ہم امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ہم نے کابینہ کے بارے میں نہیں سوچا۔ ’ہماری کوشش ہے کہ ایک دو دن میں کابینہ کی تشکیل کریں۔‘

    اس سوال پر کہ کیا مزاحمت کاروں سے بات چیت کے لیے کوئی منصوبہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی بلوچستان کی بہتری کے لیے بات چیت کرنا چاہے تو وہ ہمارے بھائی ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ ان سے بات چیت او رابطہ ہو تاکہ وہ واپس اپنے ملک آ جائیں۔‘

  5. نگراں حکومت کی تشکیل کے باوجود ریاستی جبر کے سلسلے میں تیزی آئی: تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اعلامیہ

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں مبینہ ریاستی جبر کی مذمت کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق کور کمیٹی کو قانونی ٹیم نے عمران خان کے خلاف قائم مقدمات پر اب تک کی پیش رفت پر مفصل بریفنگ دی۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق جیل میں چئیرمین تحریک انصاف کی بنیادی سہولیات اور حقوق سے بدستور محرومی پر کور کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں عمران خان کی اپیل کی 22 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے حوالے سے اہم امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

    کور کمیٹی کے اجلاس میں چوہدری مونس الٰہی خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔

    اعلامیے کے مطابق کور کمیٹی کی جانب سے تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویزالٰہی سمیت مبینہ ریاستی وحشت و بربریت کا نہایت جرات، حوصلے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والے تمام قائدین اور کارکنان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں نگراں حکومت کی تشکیل کے باوجود تحریک انصاف کے خلاف ریاستی جبر کے سلسلے میں تیزی کی مذمت کی گئی ہے اور اسے تحریک انصاف کے خلاف جاری جبر و فسطائیت، ریاست کی وحدت اورمضبوط وفاق کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’عمران خان نے اپنی کم و بیش تین عشروں پر محیط سیاسی جدوجہد میں مرکز گریز قوتوں کے مقابلے میں ریاست اور وفاق کو غیر معمولی تقویت پہنچائی ہے۔‘

    کور کمیٹی کے مطابق ’بدترین انتقامی کارروائیوں کے ذریعے تحریک انصاف کو کمزور کر کے انتہاپسند، شدت پسند اور پرتشدد گروہوں کے لیے سیاست کے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔‘

  6. ’کسی نرمی کی گنجائش نہیں‘: صدر مملکت نے خاتون کی ہراسانی کے ملزم کی سزا بڑھا دی

    Harassment

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خاتون کی ہراسانی کے ملزم کی سزا بڑھا دی۔ خاتون کو ہراساں کرنے پر نیپرا کے ڈائریکٹر کو نوکری سے نکالنے کی سزا بھی سنا دی۔

    صدر مملکت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نامناسب پیغامات، دفتری اوقات سے زائد رکنے کے لیے کہنا، غیر اخلاقی مطالبات ماننے سے انکار پر سنگین نتائج کی دھمکی دینا ہراسانی ہے ، خاتون اور گواہوں کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، واٹس ایپ پیغامات، اور ای میل سے ہراسانی ثابت ہوتی ہے۔

    ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ’ملزم نے بلاواسطہ جرم کا اعتراف کیا، صرف سزا کی شدت کے خلاف اپیل دائر کی، کام کی جگہ پرخواتین کو ہراساں کرنا ایک سنگین معاملہ ہے۔ سزا بڑھا کر ’نوکری سے نکالنے‘ کی سزا دینا معقول اور مناسب رہے گا۔‘

    ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ڈائریکٹر احمد ندیم (ملزم) کی دائر کردہ اپیل مسترد کرتے ہوئے وفاقی محتسب کی طرف سے عائد کردہ ’دو انکریمنٹ روکنے‘ کی معمولی سزا کو تبدیل کیا۔

    خیال رہے کہ خاتون آفس اسسٹنٹ (شکایت کنندہ) نے نیپرا میں ہراساں کرنے کی درخواست دائر کی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم اپنے دفتر میں بلاتا، ذاتی معاملات پر بات کرتا، شکل پر تبصرے کرتا، چھونے کی کوشش کرتا، لنچ اور رات کے کھانے کی دعوت دیتا۔

    شکایت کے مطابق ملزم غیر ضروری اور نامناسب ٹیکسٹ پیغامات بھی بھیجتا تھا۔ بعد ازاں نیپرا کی انٹرنل ہراسمنٹ کمیٹی نے تفصیلی انکوائری کی جس میں ملزم کے خلاف ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہوئے۔ کمیٹی نے ملزم کی ڈائریکٹر سے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تنزلی کی سزا عائد کرنے کی سفارش کی۔

    اس فیصلے کے خلاف شکایت کنندہ اور ملزم دونوں نے انسداد ہراسیت محتسب کو اپیل دائر کی۔ انسداد ہراسیت محتسب نے سزا کو کم کر کے ’تین سال کے لیے دو انکریمنٹ روکنے‘ کی سزا دی۔

    ملزم اور شکایت کنندہ نے محتسب کے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کو اپیلیں دائر کیں۔ صدر مملکت نے ایوان صدر میں کیس کی ذاتی طور پر سماعت کی۔ انھوں نے ریکارڈ اور فریقین کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا۔

    صدر مملکت نے کہا کہ نیپرا کی کمیٹی کی انکوائری کافی تفصیلی تھی، تائید میں شواہد موجود ہیں۔

    ’ملزم کے رویے نے خاتون کو منصفانہ اور آزادانہ طریقے سے فرائض انجام دینے سے روکا‘

    ملزم نے ہراسانی کی بجائے صرف سزا کی شدت پر اعتراض کیا۔ ملزم کے رویے سے کام کے ماحول میں خلل پڑا اور خاتون کو ہراساں کیا گیا۔ صدر مملکت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے رویے نے خاتون کو منصفانہ اور آزادانہ طریقے سے فرائض انجام دینے سے روکا، اس تجربے سے گزرنے والی خواتین کے لیے ہراسانی سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔

    اگر خواتین کسی صاحب اختیار شخص کے غیر اخلاقی مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں تو انھیں ملازمت یا ترقی کھونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ساتھی کے ناپسندیدہ طرزعمل نے کام کے ماحول کو مخالف اور ناخوشگوار بنا یا، ہراسانی سے خواتین پر بلاواسطہ دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ نوکری چھوڑ دیں، بعض اوقات، خواتین ہراساں کیے جانے سے شدید صدمے کا شکار ہوتی ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ہراسانی کے نتیجے میں خواتین جذباتی اور جسمانی اثرات کا بھی شکار ہو سکتی ہیں، ہراسانی سے خواتین صحیح طریقے سے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو جاتی ہیں۔

    صدر مملکت نے قرار دیا کہ تمام واقعات، شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، واٹس ایپ گفتگو سے ملزم کا قصور ثابت ہوتا ہے۔ ہراسانی ثابت ہو چکی ہے، اس لیے ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں، اس لیے نوکری سے نکالنے کی سزا دی جاتی ہے۔

  7. سانحہ جڑانوالہ کے ذمہ داران قانون سے نہیں بچ سکیں گے: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے مسیحی وفد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ جڑانوالہ کے ذمہ داران قانون سے نہیں بچ سکیں گے۔ ان کے مطابق اس وقت گرفتاریوں کا عمل جاری ہے اور جو جو بھی ذمہ دار ہے ہر ایک کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا تمام مکتبہ فکر کے علما نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ نگراں وزیراعلیٰ کے مطابق اتوار تک چرچز کو دوبارہ بحال کروا دیں گے۔ نگراں وزیراعلیٰ کے مطابق ’مسیحی کمیونٹی کو سکیورٹی دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘

  8. الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کروں گا نہ کسی غیرآئینی اور غیرقانونی عمل کا حصہ بنوں گا: نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے کہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ خود کسی غیرآئینی اور غیرقانونی کام کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے مگر وہ کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق ابھی مخصوص حالات میں دیکھیں گے کہ انتخابات کا انعقاد کتنی مدت میں ممکن ہو سکے گا۔

  9. امریکی وزیر خارجہ کے نگراں پاکستانی وزیراعظم کو دیے گئے تہنیتی پیغام پر عمران خان اور سائفر کا حوالہ کیسے آیا؟

  10. جڑانوالہ میں مظاہرین پر فائرنگ سے آگ مزید پھیل سکتی تھی: آئی جی پنجاب

    عثمان انور، آئی جی پنجاب

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں مسیحی برادری پر حملہ آور مشتعل مظاہرین پر اس لیے فائرنگ یا آنسو گیس کی شیلنگ نہیں کی گئی کیونکہ ’خدانخواستہ کوئی ہلاکت ہوتی تو ہنگامہ بہت بڑھ سکتا تھا۔‘

    بی بی سی سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت جڑانوالہ میں قرآن کی بے حرمتی اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی گئی جسے مسلمان برداشت نہیں کرتے۔

    انھوں نے کہا کہ توہین مذہب کے دونوں مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مسیحی برادری کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں میں ملوث 126 افراد کو واقعے کی رات تک ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    آئی جی پنجاب نے بتایا کہ مبینہ توہین مذہب کے بعد علاقے میں اشتعال انگیزی پیدا ہوئی اور وہاں ’پانچ سے سات ہزار لوگ جمع ہوگئے تھے۔‘

    ’(اس واقعے سے) جو اثرات پورے پنجاب میں آسکتے تھے، اس سے بہت کم اثرات آئے۔ ہم نے صورتحال پر قابو پایا۔۔۔ حکومت پنجاب ان عمارتوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں جنھیں نقصان پہنچا۔‘

    عثمان نوار نے بتایا کہ توہین مذہب کے بعض واقعات ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی طرف سے ہوجاتے ہیں مگر ’اس واقعے میں (نوٹ) بڑی احتیاط سے لکھا گیا، نماز کے اوقات میں اسے لگایا گیا۔ اتفاق سے وہی بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے جو ایف آئی آر میں نامزد ہے۔ ہم یہ ساری چیزیں دیکھ رہے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے سازش کی۔‘

    نقصان کی تفصیل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جڑانوالہ کے 17 بڑے گرجا گھروں پر حملے ہوئے جن میں سے تین مرکزی چرچ تھے، کل چوراسی گھر جلے، ان میں چھوٹے ایک، ایک کمروں کے گھر بھی شامل ہیں۔

    جڑانوالہ واقعہ

    ’مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کرتے تو ہنگامہ بہت بڑھ سکتا تھا‘

    اس سوال پر کہ پولیس نے جڑانوالہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے یا انھیں روکنے کی کوشش کیوں نہ کی، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’ہم نے پانچ، چھ ہزار کا مجمع منتشر کیا۔ ورنہ نقصان بہت بڑھ سکتا تھا۔

    ’اگر ہم شروع میں ہی فائرنگ کر دیتے اور کوئی فوت ہوجاتا، یا ان کی طرف سے پُرتشدد کارروائیاں بڑھتیں تو آگ بہت پھیل جاتی۔ ہم نے پہلی رات ہی 126 افراد کو گرفتار کیا۔ آنسو گیس وہاں چلایا جہاں قبرستانوں پر حملے ہو رہے تھے، دیواروں کو توڑا جا رہا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پولیس مقامی مذہبی رہنماؤں کی مدد سے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ’اگر اسی وقت لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی اور خدانخواستہ کوئی ہلاکت ہوتی تو ہنگامہ بہت بڑھ سکتا تھا۔‘

    عثمان انور نے کہا کہ جڑانوالہ میں جہاں ایک طرف چھوٹی چھوٹی گلیوں میں حملے چل رہے تھی وہیں پولیس ’(علما کے) گروہ سے مذاکرات کر رہی تھی جنھوں نے لوگوں کو سمجھانے کا وعدہ کیا۔‘

    ان کی رائے میں پولیس وہاں ڈیو ایکشن نہیں لے سکتے تھی اور سیاق و سباق میں یہ بات سمجھی جا سکتی ہے۔

    اس سوال پر کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نقصان کم رکھنے کے لیے اس ہنگامہ آرائی کی پیشگوئی کیوں نہ کر سکے، عثمان انور نے کہا یہ واقعہ صبح ہوا جس کی پیشگوئی ممکن نہ تھی۔

    ’قرآن کے اوراق صبح برآمد ہوئے۔ لوگ صبح اکٹھے ہوئے۔ دوپہر 12 بجے تک پنجاب کے ضلع بھر کی ایکشن کمیٹیاں حرکت میں آچکی تھیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’دو بجے تک تمام انٹیلیجنس ادارے اپنے اجلاس کر چکے تھے۔ ساڑھے 12 بجے تک ہم پنجاب بھر کے گرجا گھروں کو تحفظ فراہم کر چکے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ملتان میں چرچ اور پادری پر حملہ روکا گیا جبکہ راولپنڈی میں بھی ایک حملہ روکا گیا۔ ’اگر دو، تین دن پرانا واقعہ ہوتا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے۔‘

    عثمان انور نے ان اسلامی علما کو سراہا جنھوں نے مشتعل مظاہرین کو روکنے میں مدد کی۔ ’مذہبی رہنماؤں نے لاہور اور دیگر اضلاع میں ہمارا ساتھ دیا، جڑانوالہ میں بھی وہ ہمارے ساتھ ملے اور لوگوں کو سمجھایا۔

    ’جب مشتعل ہجوم اکٹھا ہوتا ہے تو اس کی طاقت پانچ ہزار بندے کی ہوتی ہے اور دماغ ایک بندے کا ہوتا ہے۔ اس ایک بندے نے ہمارا ساتھ دیا۔ ٹولیاں نکل پڑتی ہیں، ان کے پاس وائر لیس نہیں ہوتے کہ انھیں احکامات دیے جاسکیں۔ ہمارے علما نے ہماری ہی کوششوں کی مدد سے اپنا کردار ادا کیا اور یہ پھیلا نہیں۔‘

    ’ماضی میں کوئی واقعہ سات، آٹھ لاشوں کے بغیر نہیں رُکتا تھا۔ (اس واقعے میں) ایک بھی بندہ زخمی ہوا؟ ایک لاش گری؟ نہیں نا۔ اس لیے کہ ادارے متحرک تھے۔‘

    تو کیا ایسی کوئی حکمت عملی بنائی جاسکتی کہ مستقبل میں ایسے واقعات روکے جاسکیں؟ عثمان انور نے کہا کہ پولیس تمام سازش کو بے نقاب کرے گی اور لوگوں کو علما کی مدد سے سمجھائے گی کہ ’یہ ہمارے بھائی ہیں۔ ہم پر ان کی حفاظت فرض ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ ’سوشل میڈیا کا دور ہے، مساجد میں بعد میں اعلان ہوتا ہے، پہلے چیز سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے آپ پتھر پھینکیں اور لہریں بنتی جائیں۔‘

  11. پی ٹی ایم سپریم کورٹ کے بجائے اب ترنول کے مقام پر مظاہرہ کرے گی: نگراں وزیرداخلہ

    نگراں وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ رات پی ٹی ایم قیادت سے کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں، جس میں پی ٹی ایم کی قیادت نے اسلام آباد جلسہ گاہ کی جگہ سپریم کورٹ سے تبدیل کر کے ترنول کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ مبینہ طور پر مغوی اور گرفتار ساتھیوں کی بازیابی کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے سپریم کورٹ کے سامنے دوپہر تین بجے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

    نگراں وزیرداخلہ کے مطابق پی ٹی ایم کے لاہور، پشاور اور دیگر شہروں سے گرفتار کارکنان کو سختی سے فوری رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی ایم نے حال ہی میں حکومت اور ریاست کو اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ شمالی وزیرستان میں مبینہ طور پر ’فوج کے ہاتھوں مغوی پی ٹی ایم رہنما عید الرحمٰن، زکیم اور گیلامن پشتین کو رہا کیا جائے۔‘

    اس کے علاوہ پشتونوں کے خلاف ’منظم امتیازی سلوک‘ اور اور ملٹری کورٹس کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اس احتجاج سے ایک دن پہلے پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے تمام قافلوں کو راستے میں روک لیا گیا ہے۔

    بعد ازاں انھوں نے یہ لکھا کہ ڈی آئی خان، اور جنوبی وزیرستان کے قافلے ’پورے دِن مزاحمت کے بعد‘ رات کو اسلام آباد، ترنول پہنچ گئے تھے۔

    پی ٹی ایم رکن عالم زیب محسود نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ خاصی مزاحمت کے بعد قافلے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تاہم بعض مقامات پر ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آج 1 بجے ترنول میں سارے قافلے جمع ہوں گے اور وہاں سے ایک ساتھ سپریم کورٹ کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی اور اسلام آباد میں کسی قسم کے اجتماع پر پابندی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. جڑانوالہ واقع پر نگراں وزیراعظم نے کہا ہے کہ کسی دوسرے مذہب کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے: نگراں وزیراطلاعات

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ واقع پر نگراں وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر کسی دوسرے مذہب کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے۔

    ان کے مطابق ریاست کی طاقت مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، ہم اکثریت ہیں لیکن اکثریتی غلبے کا طرز اختیار نہیں کریں گے کیونکہ اسلام ہمیں دیگر اقلیتوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

    نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، ہم کسی بھی فرد، فرقے اور قوم کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔

  13. انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، نگراں حکومت کی ترجیح معاشی بہتری ہو گی: نگراں وزیراطلاعات

    Murtaza

    ،تصویر کا ذریعہMurtaza Solangi

    نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے نگراں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت کی ترجیح معاشی بہتری پر ہو گی۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

    نگراں وزیراطلاعات کے مطابق آج کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ نگران حکومت کی توجہ ملکی معیشت پر رہے گی اور وفاقی کابینہ کے سرکاری اخراجات کو کم کرنا ہوگا اور ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے انتخابات کا پورا شیڈول اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا ہوا ہے اور الیکشن کمشین ہی انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ ملک کو منتخب نمائندے ہی چلائیں گے اور اس کے لیے آپ کے پاس ایک منتخب جمہوری حکومت ہوگی اور وہ آزادانہ، منصافنی، غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔ نگراں وزیراطلاعات کے مطابق ’اس بنیادی کام کو آئین اور قانون کی نظر میں جو ہماری ذمہ داریاں ہیں ہم وہ پوری کریں۔‘

    مرتضیٰ سولنگی کے مطابق ’سی سی آئی کے مردم شماری سے متعلق ایک جماعت عدالت میں گئی ہوئی ہے اس وجہ سے اس معاملے کے میرٹ پر بات کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

    نگراں وزیراطلاعات نے کہا کہ نگراں حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے لیے بھرپور تعاون کرے گی اور وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے دن پہلا ووٹ میں اور میری کابینہ کاسٹ کرے گی۔

  14. پاکستان بار کونسل کی 90 دن میں انتخابات نہ کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مذمت

    پاکستان بار کنونسل نے الیکشن کمیشن کی طرف سے 90 دن میں عام انتخابات نہ کرانے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان اور قانون سے روگردانی قرار دیا ہے۔

    بار کے وائس چیئرمین ہارون رشید نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کو وجہ بنا کر انتخابات کی تاخیر خلاف قانون ہے۔

    پاکستان بار کونسل نے الیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل جلد مکمل کر کے 90 دن کے اندر صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔

  15. جڑانوالہ میں مسیحی برداری پر حملے: ’سوشل میڈیا پر اقلیتوں کے خلاف کچھ کہنے پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، پولیس بھی ڈرتی ہے‘

  16. جڑانوالہ میں توہینِ قرآن کے الزامات کے بعد مسیحی آبادیوں پر حملہ: ’19 گرجا گھر اور 86 مکانات جلائے گئے‘

  17. کارکنوں کی بازیابی سمیت دیگر مطالبات پر پی ٹی ایم سپریم کورٹ کے سامنے آج مظاہرہ کرے گی

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سپریم کورٹ کے سامنے دوپہر تین بجے احتجاجی مظاہرہ کرنے جا رہی ہے جس میں مبینہ طور پر مغوی اور گرفتار ساتھیوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    پی ٹی ایمنے حال ہی میں حکومت اور ریاست کو اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ شمالی وزیرستان میں مبینہ طور پر ’فوج کے ہاتھوں مغوی پی ٹی ایم رہنما عید الرحمٰن، زکیم اور گیلامن پشتین کو رہا کیا جائے۔‘

    اس کے علاوہ پشتونوں کے خلا ’منظم امتیازی سلوک‘ اور اور ملٹری کورٹس کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اس احتجاج سے ایک دن پہلے پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے آنے والے تمام قافلوں کو راستے میں روک لیا گیا ہے۔

    بعد ازاں انھوں نے یہ لکھا کہ ڈی آئی خان، اور جنوبی وزیرستان کے قافلے ’پورے دِن مزاحمت کے بعد‘ رات کو اسلام آباد، ترنول پہنچ گئے تھے۔

    پی ٹی ایم رکن عالم زیب محسود نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ خاصی مزاحمت کے بعد قافلے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تاہم بعض مقامات پر ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آج 1 بجے ترنول میں سارے قافلے جمع ہوں گے اور وہاں سے ایک ساتھ سپریم کورٹ کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی اور اسلام آباد میں کسی قسم کے اجتماع پر پابندی ہے۔

  18. بریکنگ, علی مردان ڈومکی بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ مقرر, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    علی مردان ڈومکی

    ،تصویر کا ذریعہALI MARDAN

    بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ کے طور پر علی مردان ڈومکی کی تقرری کر دی گئی ہے۔

    کوئٹہ میں گورنر ہاؤس بلوچستان کے ترجمان کے مطابق گورنرعبدالولی کاکڑ نے علی مردان ڈومکی کے نام کی منظوری دی ہے۔

    ترجمان کے مطابق وہ جلد گورنر ہاؤس میں اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔

    صوبائی قائد حزب اختلاف ملک سکندر کاکڑ نے اپوزیشن کی جانب سے اپنی جماعت جے یو آئی کے امیدوارعثمان بادینی کے نام کو چھوڑ کر علی مردان کا نام نگراں وزیراعلیٰ کے طور پر وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو پیش کیا تھا۔

    صحافی عرفان سعید کے مطابق جے یو آئی نے اپنے امیدوارکو چھوڑ کر علی مردان ڈومکی کا نام پیش کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اسلام آباد میں نگراں وزیراعظم انوار کاکڑ اور سابق وزیراعلیٰ جام کمال نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے علی مردان کے نام سے اتفاق نہیں کیا جس کے باعث دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ کا معاملہ طول پکڑ گیا اور پارلیمانی کمیٹی تک پہنچ گیا۔

    اگرچہ گذشتہ شب ایک بجے تک کمیٹی کا اجلاس کسی نتیجے کے بعد ختم ہوگیا تھا لیکن ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ رات ایک بجے کے بعد ان کے نام پر اتفاق ہوگیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اتفاق کی روشنی میں سپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی نے علی مردان ڈومکی کا نام منظوری کے لیے گورنر بلوچستان کو بھیج دیا۔

    ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق گورنر نے علی مردان ڈومکی کی تقرری کی منظوری دی اور وہ جلد اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    علی مردان ڈومکی بلوچستان کے سیاسی منظرنامے پر پہلے سے معروف شخص نہیں۔ وہ ضلع سبی کے علاقے لہڑی کے رہائشی ہیں اور ان کا تعلق ڈومکی قبائل کے سردار خاندان سے ہے۔

    وہ سابق گورنر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اکبرخان بگٹی کے نواسے ہیں۔ وہ اس سے قبل لہڑی کے تحصیل ناظم اور سبی کے ڈسٹرکٹ چیئرمین کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔

  19. نیب ترامیم کے خلاف درخواست فل کورٹ سنے: جسٹس منصور علی شاہ

    نیب پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کرنے والے بینچ کے رکن جسٹس منصور نے کہا ہے کہ یہ معاملہ فل کورٹ کو سننا چاہیے۔

    سپریم کورٹ میں جمعے کو چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو خواجہ حارث کی جانب سے وکیل ڈاکٹر یاسر عمان پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث صحت کی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے۔

    سماعت کے آغاز پر بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے خصوصی عدالتوں سے متعلق کیس میں 22 جون کو نوٹ لکھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کو فل کورٹ کو سننا چاہیے اور وہ چیف جسٹس سے آج درخواست کرتے ہیں کہ نیب ترامیم کیس بھی فل کورٹ سنے۔

    منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا فیصلہ نہیں ہوا اور اگر فیصلہ ہو جاتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔

    مختصر سماعت کے بعد عدالت نے اگلی سماعت کے لیے 21 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سابقہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے کی جانے والی نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس پر سپریم کورٹ نے 16 مئی 2023 کو آخری سماعت کی تھی۔ تاہم عدالت نے کیس میں فیصلہ محفوظ ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے گزشتہ سماعت ملتوی کر دی تھی۔

    واضح رہے کی اس معاملے پر سپریم کورٹ کی جانب سے تمام تر فریقین کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ عدالت اب تک نیب ترامیم کے خلاف کیس میں 47 سماعتیں کر چکی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین کی جانب سے اُن کے وکیل خواجہ حارث نے 26 سماعتوں میں اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل مخدوم علی خان نے 20 سماعتوں میں اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔

  20. عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلے گا: وکیل حکومتِ پنجاب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے ملزم اور تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے بھانجے حسان نیازی ایڈووکیٹ کو فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔

    اس سلسلے میں عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ کی وساطت سے جمع کروائی گئی پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسان نیازی کو تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے لیے فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    وہ نو مئی کے واقعے کے بعد سے روپوش تھے اور انھیں رواں ہفتے ہی خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے حراست میں لیا گیا تھا۔

    حسان کو فوج کے حوالے کرنے کے بارے میں معلومات جمعے کو لاہور ہائیکورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے فراہم کیں۔’

    یہ درخواست حسان کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ جسٹس تنویر سلطان کی عدالت میں سماعت کے موقع پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ حسان نیازی جناح ہاؤس حملے کیس میں نامزد اور مرکزی ملزم ہیں۔

    حسان نیازی

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حسان کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا جبکہ وہ 17 اگست کو پولیس کی حراست میں آئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حسان نیازی کو عدالت کے ذریعے فوج کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا مگر ایس ایچ او نے ایسا نہیں کیا اور قانون کے برعکس اقدام کیا اس لیے پولیس کی جانب سے حسان کو فوج کے حوالے کرنے کے اقدام کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

    تاہم سرکاری وکیل نے حفیظ اللہ نیازی کے وکیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حسان نیازی کی حراست قانونی ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ ان کے موکل کی اپنے بیٹے سے ملاقات کروائی جائے۔ اس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے دریافت کیا کہ انھیں اس پر کوئی اعتراض تو نہیں۔

    جواب میں سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ’اب قواعد و ضوابط دیکھنا پڑیں گے‘۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ اتھارٹی سے پوچھ کر بتائیں کہ آیا باپ بیٹے کی ملاقات ہو سکتی ہے اور سماعت دن دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔