پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن سے نئے انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کے اعلان کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات آئین کے اندر دی گئی مدت کے اندر ہونا چاہیئں دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سائفر گمشدگی کا معاملہ: شاہ محمود قریشی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش، ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا

    Shah Mehmood

    ،تصویر کا ذریعہPTI Official

    پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

    اتوار کو پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ڈیوٹی جج احتشام عالم کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    ایف آئی اے کے وکیل نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے تاہم ملزم کے وکیل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے سائفر کی تحقیقات کے سلسلے میں تفتیشی ٹیم سے مکمل تعاون کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق ان پر مبینہ طور پر سائفر غائب کرنے اور اس کے مندرجات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی پر سائفر میں موجود اطلاعات غیر مجاز افراد تک پہنچانے کا الزام ہے۔ سابق وزیر خارجہ کے خلاف درج مقدمے میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ پانچ اور نو لگائی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو گذشتہ روز اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی تھی اور اس کے متن کے مطابق انھوں نے ’سائفر میں موجود اطلاعات غیر مجاز افراد تک پہنچائیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔‘

  2. بریکنگ, اسلام آباد پولیس کی سابق رکن اسمبلی علی وزیر اور خاتون وکیل ایمان مزاری کو گرفتار کرنے کی تصدیق

    Emaan, Ali Wazir

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    اسلام آباد پولیس نے خاتون وکیل ایمان مزاری اور سابق رکن اسمبلی علی وزیر کو گرفتار کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے علی وزیر اور ایمان مزاری کو گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں ملزمان اسلام آباد پولیس کو تفتیش کے لیے مطلوب تھے۔ ان کے خلاف تمام کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کی جاری کردہ خبر کو ہی درست تسلیم کیا جائے۔ اور اس ضمن میں پولیس سٹیشن سے کوئی شخص اس بارے میں بیان دینے کا مجاز نہیں ہے۔

    تاہم پولیس نے اپنے اس بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ان دونوں کو کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    جبکہ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ایمان مزاری اور علی وزیر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ خاتون وکیل ایمان مزاری نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے علاقے ترنول پر پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی اور فوج پر تنقید اور اداروں کے خلاف سخت نعری بازی کی تھی۔

    جبکہ اس سے قبل بھی پنجاب پولیس کی جانب سے ان کی والدہ اور سابق رکن اسمبلی شریں مزاری کو گرفتار کرنے کے بعد ایمان مزاری نے اس کا الزام سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر عائد کرتے ہوئے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    جس کے بعد فوج کی جیگ برانچ نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے یہ مقدمہ ختم کروایا تھا۔

    یاد رہے کہ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے سابق رکن اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر بھی گذشتہ دور حکومت میں دور زیر عتاب رہے اور متعدد مقدمات میں ڈیڑھ برس سے زائد عرصے تک جیل میں قید رہے۔

  3. بریکنگ, شمالی وزیرستان میں مزدورں کی گاڑی میں دھماکا، 11 افراد ہلاک، دو زخمی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں مزدورں سے بھری گاڑی میں دھماکے سے 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ دو زخمی ہیں۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کے ڈی ایس پی شیر اللہ کے مطابق واقعہ شمالی وزیرستان کےعلاقے شوال کے گاؤں میرکورمیں پیش آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب جنوبی وزیرستان سےتعلق رکھنے والے مزدور سنیچر کی شام کو اپنا کام ختم کر کے واپس جارہے تھے۔

    ان کے مطابق گاڑی میں مجموعی طور پر 16 افراد سوار تھے جن میں سے تین لاپتہ اور دو زخمی ہیں۔

    اس دھماکے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔علاقے میں اس وقت سرچ آپریشن ہو رہا ہے۔مزدوروں کی لاشیں جنوبی وزیرسان میں آبائی علاقوں میں منتقل کردی گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ کس وجہ سے پیش آیا اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم موقع پر موجود کچھ عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکا باروردی سرنگ سے ٹکرانے سے پیش آیا ہے۔

    واضح رہے کہ شوال کے علاقے میں کچھ عرصہ قبل سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن کیا تھا۔ اس علاقے میں مختلف چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے مزدور ایک چیک پوسٹ پر کام کر رہے ہیں تاہم پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  4. بریکنگ, انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری کو رات گئے ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا

    Emaan Mazari

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن اور خاتون وکیل ایمان مزاری کو پولیس نے گذشتہ رات ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما اور سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’خواتین پولیس اہلکار اور سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد ہمارے گھر کا دروازہ توڑ کر میری بیٹی کو لے گئے، وہ ہمارے سکیورٹی کیمرے، لیپ ٹاپ اور اس کا فون بھی لے گئے، جب ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ کس لیے آئے ہیں، تو وہ ایمان کو گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ میری بیٹی رات کو سونے والے کپڑوں میں تھی اور اس نے ان سے کپڑے تبدیل کرنے کا کہا لیکن وہ اسے بنا کسی وارنٹ گرفتاری یا قانونی کارروائی کے گھیسٹتے ہوئے لے گئے ہیں۔ یہ ریاست کی فاشزم ہے، یاد رہے کہ گھر میں ہم صرف دو خواتین رہتی ہیں۔ لہذا یہ ایک اغوا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ ایمان مزاری کو کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان مزاری کو اس وقت اسلام آباد وویمن پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے علاقے ترنول میں پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاجی جلسے میں ایمان مزاری نے شرکت کی تھی اور وہاں خطاب کرتے ہوئے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت لہجہ اختیار کیا تھا اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

  5. بریکنگ, کراچی سے اسلام آباد جانے والی مسافر بس کو حادثہ، 18 افراد ہلاک، 15 زخمی

    bus accident

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    کراچی سے اسلام آباد جانے والی بس کو فیصل آباد موٹروے پر پنڈی بھٹیاں کے قریب خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ڈی پی او حافظ آباد ڈاکٹر فہد کے مطابق اتوار کی الصبح فیصل آباد موٹروے پر پنڈی بھٹیاں کے قریب کراچی سے اسلام آباد جانے والی بس ایک پک اپ وین سے ٹکرا گئی جس کے فوراً بعد بس میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 18افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ 15 افراد زخمی ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔

    بی بی سی کی نمائندہ فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او حافظ آباد ڈاکٹر فہد نے بتایا کہ کراچی سے اسلام آباد جانے والی مسافر بس اتوار کی الصبح تقریباً ساڑھے چار بجے پنڈی بھٹیاں کے قریب ایک پک اپ وین سے ٹکرائی۔ پک اپ وین میں ڈیزل کے ڈرم موجود تھے جس کے باعث بس میں فوراً آگ بھڑک اٹھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حادثہ ممکنہ طور پر بس ڈرائیور کی آنکھ لگنے کے باعث پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سوزوکی پک ان وین بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ اس میں دو افراد سوار تھے جن میں سے ایک کی ہلاکت ہو گئی ہے جبکہ دوسرا تشویشناک حالت میں زخمی ہے۔

    Bus Accident

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ڈی پی او ڈاکٹر فہد کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 12 افراد کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ تشویشناک حالت میں موجود تین افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

    ڈاکٹر فہد کا کہنا تھا کہ حادثے کے فوراً بعد بس میں آگ لگ جانے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے بری طرح جھلس گئے ہیں جن کے باعث ان کی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے اور اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے۔

    ریسکیو 1122 نے بھی 18 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    Bus Accident

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

  6. شمالی وزیرستان: وین میں دھماکے سے 11 مزدور ہلاک، دو زخمی

    شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں وین میں دھماکے کے نتیجے میں 11 مزدور ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    مقامی پولیس نے بی بی سی سے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ شمالی وزیرستان تحصیل شوال میں گل میرکوٹ کے قریب وین میں ہوا۔

  7. بریکنگ, عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ: ’دونوں نے ذاتی فائدے کے لیے حقائق کو مسخ کیا‘

    shah and imran

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق ان پر مبینہ طور پر سائفر غائب کرنے اور اس کے مندرجات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آج اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی تھی اور اس کے متن کے مطابق انھوں نے ’سائفر میں موجود اطلاعات غیر مجاز افراد تک پہنچائیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔‘

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مذموم مقاصد اور ذاتی فائدے کے لیے حقائق کو مسخ کیا اور دونوں نے ریاست کے مفادات کو خطرے میں ڈالا اور مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے مندرجات کے غلط استعمال کی سازش کی گئی۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’28 مارچ کو بنی گالہ اجلاس میں سائفر کے مندرجات کے غلط استعمال کی سازش کی گئی اور عمران خان نے اپنے پرنسیپل سیکریٹری اعظم خان کو سائفر پیغام کے مندرجات میں ہیر پھیر کرنے کو کہا اور قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے مذموم مقاصد کے لیے سائفر کو استعمال کیا۔‘

    ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’عمران خان نے سائفر ٹیلی گرام بدنیتی کے تحت اپنے پاس رکھا اور وزارت خارجہ واپس نہیں بھیجا اور یہ اب بھی ان کے قبضے میں ہے۔‘

    ایف آئی آر کے مطابق ’سائفر ٹیلی گرام غیر قانونی قبضے میں رکھنے سے پورا سائفر سکیورٹی سسٹم خطرے سے دوچار ہوا اور ملزمان کے ان اقدامات سے غیر ملکی قوتوں کو بالواسطہ اور بلاواسطہ فائدہ پہنچا اور ملزمان کے ان اقدامات سے ریاست پاکستان کو نقصان پہنچا۔‘

    اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دوران اعظم خان اور رہنما تحریکِ انصاف اسد عمر کے کردار کا تعین تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔

  8. شاہ محمود قریشی کو کل اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا: ایف آئی اے, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    Qureshi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کو سائفر کی گمشدگی والے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    اہلکار کے مطابق ملزم شاہ محمود قریشی کو اتوار کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور متعقلہ عدالت سے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

    شاہ محمود قریشی دو مرتبہ سائفر کی گمشدگی سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں جبکہ اسد عمر اور سابق وزیر اعظم عمران خان ایک ایک مرتبہ اس تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

    ایف آئی اے نے چند روز قبل سائفر کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا تھا، جس میں ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے بقول سابق وزیر اعظم عمران خان بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔

  9. گرفتاری سے قبل شاہ محمود قریشی کی امریکی سفیر سمیت غیرملکی سفارتکاروں سے ملاقات کی تصدیق

    پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے اپنی گرفتاری سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی سفیر سمیت متعدد غیر ملکی سفارتکاروں سے ایک ناشتے پر ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم انھوں نے بتایا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ اس ملاقات میں سائفر پر کوئی بات ہوئی ہے یا عمران خان کی رہائی کے لیے درخواست کی گئی ہے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق انھوں نے اس ملاقات میں امریکی سفیر سمیت سفارتکاروں کو پاکستان میں بدلتی صورتحال کے بارے میں بتایا ہے اور اس پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔

    ان کے مطابق میڈیا پر نشر اور شائع ہونے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ اس ملاقات میں عمران خان کی رہائی کی درخواست یا امریکی سائفر پر کوئی بات ہوئی ہے۔

  10. شاہ محمود قریشی کو چائے کے کپ پر کیسے گرفتار کیا گیا؟, اعظم خان بی بی سی اردو

    Shah Mahmood Qureshi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی جب اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں تفصیلی پریس کانفرنس کرنے کے بعد اپنے گھر پہنچے تو ان کے لیے چائے تیار تھی۔ شاہ محمود قریشی نے ابھی چائے نوش فرما ہی رہے تھے کہ ان کے ملازم دوڑتے ہوئے آئے اور بتایا کہ سر گھر کے باہر تو پولیس ہی پولیس ہے۔

    اس کے بعد ملازم نے کہا کہ وہ پولیس والے کہتے ہیں کہ ہم شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے کے لیے آئے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے اپنے پرسنل پولیٹکل سیکریٹری توصیف عباسی کو بتایا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور میرے گھر والوں کو بتا دینا کہ حوصلے پست نہ کریں اور میں اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ توصیف عباسی نے بی بی سی اردو کو ان باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے شاہ محمود قریشی کے پیغامات ان کے گھر والوں اور پارٹی کے رہنماؤں تک پہنچا دیے ہیں۔

    Shah Mahmood Qureshi

    ،تصویر کا ذریعہScreenshot

    ان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے گرفتاری سے قبل انھیں کچھ کتابوں اور ضروری استعمال کی چیزوں کا بتایا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر بھیج دینا۔ توصیف عباسی کے مطابق پولیس والوں نے یہ بتایا تھا کہ وہ سائفر کے معاملے پر گرفتار کرنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے گرفتاری دینے میں بالکل تاخیر نہیں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ پولیس گھر کے اندر توڑ پھوڑ کرے۔

    توصیف کے مطابق شاہ محمود قریشی کو گرفتاری کرنے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 50 سے 55 کے درمیان تھی اور ان کے پاس ویگو سمیت متعدد گاڑیاں بھی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کو کتابوں سمیت ضروری سامان بھجوا دیا گیا ہے تاہم ابھی ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے کہ وہ سب چیزیں انھیں موصول ہو سکی ہیں یا نہیں۔

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے گرفتاری سے قبل اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز کی آئینی مدت کے اندر انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان ہی تحریک انصاف کے چئیرمین تھے، ہیں اور رہیں گے۔

  11. اٹک جیل کی بیرک نمبر 3 کے قیدی نمبر 804 ٹوئٹر پر کیوں ٹرینڈ کر رہے ہیں؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. سندھ کی 10 رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    سندھ کی نگران کابینہ کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی جہاں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے نگران کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔

    حلف اٹھانے والے نگراں صوبائی وزراء میں بریگیڈیئر(ر حارث نواز، مبین جمانی، ایشور لال، محمد یونس ڈھاگا، ڈاکٹر سعد نیاز، خدا بخش مری، ڈاکٹررعنا حسین، ڈاکٹر جنید شاہ، عمر سومرو اور ارشد ولی محمد شامل تھے۔

    قبل ازیں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی سفارش پر گورنر سندھ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 224 کی شق 1(A)کے تحت انھیں نگران صوبائی وزیر مقرر کرنے کی منظوری دی۔

  13. محمد حنیف کا کالم: پھاڑ کے، چیر کے، کاٹ کے رکھ دیں گے

  14. نیب ترامیم کیس: جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کےخلاف کیس کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا ہے جس میں جسٹس منصور علی شاہ کا نیب ترامیم کیس میں اختلافی نوٹ بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’فریقین کو موقع دینا چاہتا ہوں کہ بینچ کی قانونی حیثیت پر معاونت کریں۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ کے 2 صفحات پر مشتمل نوٹ میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت 3 رکنی کمیٹی بینچزتشکیل دینے کی مجاز ہے، 16مئی کی سماعت سے قبل بھی چیف جسٹس کو بینچ پر تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

    نوٹ کے مطابق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی آئندہ تاریخ مقرر نہیں جبکہ نیب ترمیمی کیس مقرر ہوگیا، فریقین کو موقع دینا چاہتا ہوں کہ بینچ کی قانونی حیثیت پر معاونت کریں اور پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر فیصلہ یا بطور متبادل فل کورٹ میں سے تشکیل دیا جائے۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اطلاق 184/3 کےتمام زیرالتوامقدمات پر ہوتا ہے، معلوم ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو 8 رکنی بینچ معطل کر چکا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی معطلی کا حکم محض عبوری نوعیت کا ہے۔

    نوٹ کے مطابق ’قانون درست قرار پایا تو اس کا اطلاق نفاذ کی تاریخ سے ہوگا نہ کہ عدالتی فیصلے کے دن سے،پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی قرار پایا تو نیب کیس سننے والا بینچ غیر قانونی تصور ہوگا، میری رائے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر فیصلے تک184/3 کے مقدمات نہ سنے جائیں۔‘

  15. بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اسلام آباد سے گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    تحریک انصاف کے رہنما اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تحریک انصاف نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ محمود کو گرفتاری کے بعد نیب ہیڈ کوارٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    تحریک انصاف کے مطابق شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے پولیس کی بھاری نفری نے گرفتار کیا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی کے خلاف جتنے بھی مقدمات سامنے آئے تھے ان سب میں وہ ضمانت پر ہیں تاہم ایف آئی اے نے چند روز قبل سائفر کی گمشدگی کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کو چند ہفتے قبل سائفر کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے میں طلب کیا گیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    یہ بھی واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل شاہ محمود قریشی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس بھی کی تھی۔

    اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق شاہ محمود قریشی ان کی تحویل میں نہیں اس لیے اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ ایف آئی اے کے اہلکار انھیں گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔

    ایف آئی اے کے ترجمان سے جب اس ضمن میں بی بی سی نے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اعلیٰ حکام سے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری سے متعلق رابطے میں ہیں اور جیسے ہی تصدیق ہوئی تو میڈیا کو اس بارے میں آگاہ کردیا جائے گا۔

  16. سابق گورنر خیبر پختونخوا اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ فرمان کا انتخابی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان

    shahfarman

    ،تصویر کا ذریعہscreenshot

    سابق گورنر خیبر پختونخوا اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ فرمان انتخابی سیاست سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میرے خاندان سے کوئی فرد بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ شاہ فرمان نے کہا کہ ’حلقہ کارکنوں کے حوالے کرتا ہوں۔‘

    سابق گورنر نے مزید کہا کہ ’پارٹی میں میرے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔‘

    شاہ فرمان کے مطابق ’سب کو پتہ ہے کہ پارٹی میں کس نے کتنے پیسے بنائے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کور کمیٹی اجلاس میں مجھ سمیت تین رہنماؤں پر غداری کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔‘

    ادھر تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کور کمیٹی کے حوالے سے غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ کور کمیٹی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ایک اور سوال کے جواب میں مزید کہا کہ چیئرمین کا عہدہ کوئی نہیں لینا چاہتا، یہ عمران خان کی امانت ہے۔ عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے اور جب بھی وہ رہا ہو کر آئیں گے ان کی امانت ان کو لوٹا دی جائے گی۔

    شاہ فرمان کے مطابق وہ سنہ 1996 سے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کے مطابق سنہ 2012 تک تو تحریک انصاف کو نشست ملنے کا بھی امکان کم تھا۔ تاہم وہ پھر بھی تبدیلی کے لیے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

    ان کے مطابق سیاست ان کا خاندانی پیشہ ہے اور نہ ہی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ شاہ فرمان کے مطابق وہ نو سال اقتدار رہنے کے باوجود بیرون ملک دورے پر نہیں گئے۔ ان کے مطابق انھوں نے سیکرٹ فنڈز کو بھی استعمال نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق مگر اس کے باوجود ان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

  17. بریکنگ, تحریک انصاف کا 90 روز میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 90 روز میں انتخابات کروانے کے لیے آئین بہت واضح ہے۔

    انھوں نے کہا کہ 10 روز پہلے نئی مردم شماری کا نوٹیفیکیشن ہوتا ہے جبکہ سات روز پہلے قومی اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو آئین کے تحت 90 دن کی واضح قدغن ہے بصورت دیگر وہ غیر آئینی قدم ہو گا۔

    شاہ محمود نے کہا ’تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات میں 90 دن سے زیادہ تاخیر کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرنے جا رہے ہیں اور ہماری قانونی ٹیم اس پر پٹیشن تیار کر رہی ہے۔‘

    شاہ محمود کے مطابق مردم شماری سے متعلق سی سی آئی کے فیصلوں کو چیلینج کیا جائے گا۔ سینیٹر علی ظفر اور سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے جو اپنی تکمیل کے قریب ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ کور کمیٹی کے حوالے سے بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    ’عمران خان ہمارے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ان کا متبادل کوئی ہو ہی نہیں سکتا ان کے ویژن پر سب جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک عمران خان رہا نہیں ہوتے کور کمیٹی ان کی امانت میں خیانت نہیں ہونے دے گی۔‘

  18. عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کی گرفتاری کیس کا تحریری حکم نامہ جاری: توہین عدالت پر ڈی سی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز پر 28 اگست کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی آئی کے رہنما شہریار آفریدی کی ایم پی او میں گرفتاری پر ڈی سی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کے خلاف توہین عدالت کیس میں 28 اگست کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کی ایم پی او میں گرفتاری پر ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن اور ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کے خلاف توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    عدالت نے تحریری حکم نامے میں لکھا ہے کہ بادی النظر میں ڈی سی اسلام آباد نے اس کورٹ کے آرڈرز کی خلاف ورزی کی اور ہائیکورٹ کا آرڈر ایگزیکٹو پر لازم نا ہونے کا تاثر دے کر نظام انصاف کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے۔

    حکم نامے میں شوکاز نوٹس پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ایس پی آپریشنز کے تحریری جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن اور ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر پر 28 اگست کو فرد جرم عائد ہو گی۔ ڈی سی اسلام آباد نے ہائیکورٹ کے ایم پی او پر پہلے سے جاری فیصلے کی خلاف ورزی کی۔

    واضح رہے کہ جون میں شہریار کے خلاف جاری ایم پی او ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا ۔

    حکم نامے کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے شہریار آفریدی کے خلاف دوبارہ صرف سورس رپورٹ پر غیر قانونی آرڈر جاری کیا ۔ اس کے علاوہ ایس ایس پی آپریشنز نے بھی عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی اسلام آباد نام بتائیں جس ایس ایچ او اور ڈی پی او نے یہ سورس رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو دی ہے۔

  19. عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 22 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 22 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئندہ ہفتے کیسز کی سماعت کے لیے مقدمات کی کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی درخواست پر بھی اسی روز سماعت ہو گی جس میں عدالت نے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری درخواست کی سماعت کریں گے۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  20. الیکشن کمیشن مقررہ وقت پر انتخابات کروائے، تاخیر سے ملک میں سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام پیدا ہو گا: شیری رحمان

    شیری رحمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے انتخابات مقررہ وقت پر کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں میں چار ماہ لگیں گے، یہ اعلان ہمارے لئے تشویش اور مایوسی کا باعث ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے اور جاری کردہ شیڈول پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے۔

    ان کے مطابق ’اسمبلیوں کی جلد تحلیل کرنے کا مقصد الیکشن کمیشن کو تیاریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت فراہم کرنا تھا، پیپلز پارٹی نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں نئی ​​مردم شماری کے تحت انتخابات کی توثیق کی تھی اور اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ موجودہ نشستیں تبدیلی نہیں ہوں گی۔

    شیری رحمان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیجیٹل مردم شماری پر جائز تحفظات کے باوجود، ہم نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔ چونکہ موجودہ قومی اور صوبائی نشستوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی، اس لیے حلقہ بندیوں کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے۔‘

    ان کے مطابق ’انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر ملک میں سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام کا باعث بنے گی، جس کا ملک متحمل نہیں، الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔‘