پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن سے نئے انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کے اعلان کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات آئین کے اندر دی گئی مدت کے اندر ہونا چاہیئں دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. مریم نواز کی ضمانت کی منسوخی کے لیے نیب کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    مریم نواز

    سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت کی منسوخی کے لیے دائر نیب کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ نیب نے شمیم شوگر ملز کیس میں آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے اب سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 22 اگست کو مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ مزید یہ کہ اس بینچ میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں ہی سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ 23 اگست کو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ ساتھ ہی عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب نے ہی سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی تھی۔

  2. نجم الثاقب کی آڈیو لیکس درخواست پر سماعت 4 ستمبر تک وفاقی حکومت سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیکس درخواست پر سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے جس میں آڈیو ٹیپ کی قانونی حیثیت پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا گیا ہے۔

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری پارلیمانی امور، اسپیکرقومی اسمبلی، خصوصی کمیٹی اور سیکرٹری کمیٹی کو فریق بنایا گیا تھا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 2 مئی کو اسپیکر قومی اسمبلی نے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی، آڈیو لیکس پٹیشنر کی پرائیویسی میں مداخلت اور غیرقانونی سرویلنس کا نتیجہ ہے۔

    اب جمعرات کو جاری ہونے والے تحریری فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے وفاقی حکومت سے پوچھا کہ آڈیو ٹیپس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ عدالت کی جانب سے وزیر اعظم کے سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری دفاع کو 4 ستمبر تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    ساتھ ہی جسٹس بابر ستار نے وزیر اعظم کے سیکرٹری اور وزارتِ داخلہ و دفاع کے سیکرٹریز کو یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ جو تفصیلی رپورٹ سیکرٹریز نے جمع کرانی ہے انکی درستگی سے متعلق بیان حلفی جمع کرائے جائیں گے۔

    عدالت کی جانب سے تحریری فیصلے میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ جواب31 مئی کے آرڈر میں اٹھائے گئے سوالات کو مدنظر رکھ کر جمع کرائیں کیونکہ وفاقی حکومت کا پہلے سے جمع کروایا گیا جواب 31 مئی کے آرڈر کے مطابق نہیں۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات میں:

    • عدالت نے پوچھ رکھا ہے کہ کیا آئین اور قانون میں شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے؟
    • اگر گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے تو یہ کون سی ایجنسی یا اتھارٹی کس میکنزم کے تحت کرتی ہے؟
    • عدالت نے پوچھ رکھا ہے کہ ریکارڈ آڈیو گفتگو لیک ہونے کی ذمے داری کس پر عائد ہو گی؟
    • عدالت کا سوال ہے کہ کیا شہریوں کی آڈیو لیک معاملے پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کو تحقیقات کا اختیار ہے؟
  3. جڑانوالہ میں مسیحی برادری پر حملے: ایسا کیا ہوا کہ چند گھنٹوں میں بات جلاؤ گھیراؤ تک جا پہنچی؟

  4. بریکنگ, نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تقرری کا معاملہ: کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا، پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بے نتیجہ ختم, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے نگراں وزیر اعلیٰ کی تعیناتی کے معاملے پر مشاورت کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا ہے۔

    جمعے کو (آج) پارلیمانی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس ہو گا۔

    نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے نام پر مشاورت اور اتفاق کرنے کے لیے بلوچستان کی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کی شب کوئٹہ میں منعقد ہوا۔

    پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن ایک روز کی تاخیر سے جاری ہوا تھا۔

    پارلیمانی کمیٹی کے لیے حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کے علاوہ سردار عبدالرحمان کھیتران اور انجنیئر زمرک خان جبکہ قائد حزب اختلاف ملک سکندر کاکڑ کی جانب سے عبدالواحد صدیقی، محمدی ونیس زہری اور محمد نواز کاکڑ کے نام بھیجے گئے تھے۔

    جمعرات کے اجلاس میں میں صرف تین اراکین انجنیئر زمرک خان، محمد یونس زہری اور محمدنواز کاکڑ نے شرکت کی۔

    اجلاس میں نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے چاروں ناموں پر غور کیا گیا لیکن یہ اجلاس کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

    کمیٹی کے پاس وزیر اعلیٰ کا نام طے کرنے کے لیے آج آخری دن ہے۔ اگر کمیٹی آج کوئی فیصلہ نہ کر سکی تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا۔

    وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری کے لیے جو نام تجویز کیے ہیں ان میں میر نصیر بزنجو اور علی حسن زہری کے نام شامل ہیں۔

    میر نصیر بزنجو وزیر اعلیٰ میرعبدالقدوس کے قریبی رشتہ دار ہیں جبکہ علی حسن زہری کا شمار سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

    تاہم علی حسن زہری کی اہلیہ بلوچستان عوامی پارٹی سے بلوچستان سے سینیٹر ہیں۔

    قائدحزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے علی مردان ڈومکی اور عثمان بادینی کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گئے تھے۔

    عثمان بادینی کا تعلق جمیعت العلماء اسلام سے ہے اور ان کا شمار بلوچستان کی معروف کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔

    علی مردان ڈومکی نواب محمد اکبر خان بگٹی کے نواسے ہیں اور ان کا تعلق ڈومکی قبیلے کے سردار خاندان سے ہے۔

  5. ’جڑانوالہ کا واقعہ ناقابل برداشت ہے اور ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں‘: آرمی چیف

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ ’جڑانوالہ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے۔ معاشرے کے کسی بھی طبقے کی طرف سے کسی کے خلاف، خصوصاً اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور انتہا پسند رویے کے ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘

    راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے آئی ایس پی آر کے سالانہ انٹرن شپ پروگرام کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام شہری بلا تفریق مذہب، جنس، ذات یا عقیدہ کے برابر ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف نے آئی ایس پی آر کے سالانہ انٹرن شپ پروگرام کے شرکا سے خطاب کیا جس میں پاکستان بھر کی مختلف یونیورسٹیوں کے 370 سے زائد طلباء نے شرکت کی۔

    نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے قومی ترقی میں نوجوانوں کے کردار پر زور دیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں جو ملک کے امن، ترقی اور خوشحالی میں بہت زیادہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ نے ملک میں انارکی اور بدامنی پھیلانے کے لیے عوام میں دراڑ، عدم برداشت، بداعتمادی اور پرتشدد رویے پیدا کرنے اور اسے ہوا دینے کے لیے دشمن قوتوں کی کوششوں کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ’نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچ، آدھا سچ، جھوٹ، غلط معلومات اور غلط معلومات کے درمیان فرق کو سمجھیں۔‘

  6. ’ہم بس بھاگے، دوپٹہ اور جوتے بھی نہیں لیے۔۔۔‘ جڑانوالہ میں مقامی افراد نے کیا دیکھا؟

  7. بریکنگ, الیکشن کمیشن کا ڈیجیٹل مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے نتائج کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حالیہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے سرکاری اشاعت شدہ نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں شیڈول کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

    پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سے معاونت طلب کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ضروری احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نئی مردم شماری کے تنائج کی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن پر نئی حلقہ بندیاں کروانا لازم ہے۔

  8. بریکنگ, نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    نگران کابینہ

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ایوان صدر میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ کے ارکان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

    18 ارکان پر مشتمل نگران کابینہ میں 16 وفاقی وزرا شامل ہیں جن میں، شمشاد اختر کو وزارتِ خزانہ، اقتصادی امور اور نجکاری، جلیل عباس جیلانی کو وزارتِ خارجہ، لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ انور علی حیدر کو وزارتِ دفاع اور دفاعی پیداوار، سینٹر سرفراز احمد بگٹی کو وزارتِ داخلہ، منشیات کی روک تھام اور وزارتِ بیرون ملک مقیم پاکستانی و ترقی انسانی وسائل، گوہر عجاز کو کامرس اور صنعتی پیداوار، مرتضیٰ سولنگی کو وزارتِ اطلاعات، احمد عرفان اسلم کو قانون و انصاف، ماحولیات، اور آبی وسائل، خلیل گوریج کو وزارتِ انسانی حقوق، سمی سعید کو منصوبے بندی، اور خصوصی اقدامات، شاہد اشرف تاڑر کو ریلوے، مواسلات، سمندری امور، محمد علی کو وزارت پیٹرولیم اور توانائی، ماداد علی سندھی کو وزارتِ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت، ڈاکٹر ندیم جان کو نیشنل ہیلتھ سروسز ، انیق احمد کو وزارتِ مزہبی امور اور مذہبی ہم آہنگی، ڈاکٹر عمر سیف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام، سائنس اور ٹیکنالوجی، اور اداکار جمال شاہ کو وزارتِ ثقافت اور قومی ورثہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

    تاہم ان 16 وفاقی وزرا کے علاوہ وزیر اعظم کے پانچ معاونینِ خصوصی جن میں تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے سیدہ عارفہ زہرہ، سمندری معاملات کے لیے وائس ایڈمرل ریٹائرڈ افتخار احمد راؤ، سیاحت کے لیے وصی شاہ، انسانی حقوق اور خواتین کو باختیار بنانے کے لیے مشعال حسین ملک، اور بیرون مُلک مقیم پاکستانیوں کے لیے محمد جواد سوحراب ملک شامل ہیں۔

    ساتھ ہی تین مُشیر بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہونگے جن میں ہوابازی کے لیے ائیر مارشل ریٹائرڈ فرحت حسین ملک، اسٹیبلیشمنٹ کے لیے احد خان چیمہ، اور فائنینس کے لیے ڈاکٹر وقار مسعور کو چُنا گیا ہے۔

  9. نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے عہدے کا حلف اٹھا لیا, ریاض سہیل/بی بی سی اردو، کراچی

    سندھ کے نامزد نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ گورنر کامران ٹیسوری نے ان سے حلف لیا، اب وہ صوبائی کابینہ کا انتخاب کریں گے۔

    سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے جسٹس مقبول باقر کا نام تجویز کیا تھا اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم نے دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد ان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقرکی پیدائش 1957 کو کراچی میں ہوئی۔ انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، 2002 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور اگلے ہی سال مستقل جج بن گئے۔

    جسٹس مشیر عالم کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ذمہ داریاں ادا کیں، وہ ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے جنرل پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انکار کیا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد آخری جج تھے جو بحال ہوئے۔

    2013 میں ان پر کراچی پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکر جہنگوی نے قبول کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر 2015 میں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیے گئے، جب قومی احتساب بیورو عمران خان کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف گہرا تنگ کر رہا تھا ان دنوں میں انہوں نے نیب کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس میں سعد رفیق کیس مقبویت رکھتا ہے۔

    جسٹس فائز عیسیٰ قاضی پر جب ریفرنس دائر کیا گیا تو وہ آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہے، انھوں نے فل بینچ فیصلے میں بھی اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ نگران وزیر اعلیٰ سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ان کا نام احتساب بیورو کے سربراہ کے طور پر بھی دیا گیا تھا۔

  10. تمام سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع، اثاثے و واجبات کی تفیصلات جمع کرائیں: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی ہے کہ سال 2022-23 کے لیے اپنے اکاؤنٹس کے مربوط گوشوارے 29 اگست 2023 یا اس سے پہلے جمع کروانے ہوں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 210 کا متن ہے کہ کوئی سیاسی جماعت مالی سال کے اختتام کے ساٹھ دن کے اندر کمیشن کو اپنے گوشوارے کرے گی۔ پارٹیاں اس ضمن میں سالانہ آمدنی اور اخراجات، فنڈنگ کے ذرائع اور اثاثے و واجبات بتاتی ہیں۔

  11. نواز شریف کی پاکستان واپسی زیرو رسک ہوچکی ہے: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی عدالتوں سے بریت طے ہے اور ان کی پاکستان واپسی ’زیرو رسک‘ ہوچکی ہے۔

    ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا واپس آنا ’زیرو رسک ہوچکا ہے۔ گارنٹی کی ضروری ہی نہیں ہے۔ (الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی) قانون سازی کے بعد نااہلی ختم ہوچکی ہے۔ قانون سازی کالعدم ہوئی نہ اس پر عملدرآمد روکا گیا۔

    ’اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کی اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ان میں بریت زیرو رسک، گارنٹیڈ ہے۔ مریم نواز کی اپیل میں جو فیصلہ ہائیکورٹ نے کیا، وہ فیصلہ آپ پڑھ لیں، وہ گارنٹی ہی ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’رسک زیرو ہونے تک نواز شریف کی واپسی کا رسک نہیں لے سکتے۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’نواز شریف وطن واپس ضرورآئیں گے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ان کے خلاف سکور سیٹل کررہا ہو یا عدلیہ کوئی ایسا فیصلہ دے اس لیے ان کے خلاف تمام رسک زیرو کر کے انھیں وطن واپس لایا جائے گا۔‘

    دریں اثنا رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ الیکشن کی تاریخ آگے جانے پر سٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہے۔ ’مئی 2022 میں الیکشن کا فیصلہ ہوچکا تھا اور وزیراعظم کی الوداعی تقریر بھی تیار تھی مگر چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر کے بعد حکمت عملی کو تبدیل کیا اور الیکشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے جو کچھ کیا وہ اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ’عام انتخابات میں سب کو سیاسی مہم چلانے کا بھرپور موقع ملے گا تاہم 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔‘

  12. سائرس سجاد قاضی نئے سیکریٹری خارجہ مقرر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    محمد سائرس سجاد قاضی کو پاکستان کا 32واں سیکریٹری خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔ انھیں اس عہدے پر اسد مجید خان کی جگہ تعینات کیا گیا ہے جو سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔

    دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سائرس سجاد قاضی کو بین الاقوامی اور عالمی سفارتکاری میں تجربہ حاصل ہے۔

    وہ اس سے قابل اقوام متحدہ، نیو دہلی اور واشنگٹن ڈی سی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ 2015 سے 2017 کے دوران ہنگری میں پاکستانی سفیر اور 2017 سے 2022 تک ترکیہ میں پاکستانی سفیر رہ چکے ہیں۔

    دفتر خارجہ نے اسد مجید کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور ملکی سفارتکاری کے لیے ان کے عزم کو سراہا ہے۔ ’ان کی سربراہی میں وزارت خارجہ نے پیچیدہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کیا اور پاکستان کی بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط کیا۔‘

    دفتر خارجہ نے کہا کہ ’فارن سروس آف پاکستان کی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں پر بھی انھیں یاد رکھا جائے گا۔

    ’ہم ان کی کامیابیوں کا جشن منائیں گے، ملک کے لیے ان کی سروسز پر شکریہ ادا کریں گے اور مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کریں گے۔‘

  13. عمران خان کی متعدد مقدمات میں گرفتاری روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست

    چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے خلاف ملک بھر میں درج متعدد مقدمات میں گرفتاری روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

    اس درخواست میں وفاقی حکومت، آئی جی پنجاب، آئی جی بلوچستان، سپریٹنڈنٹ جیل اٹک کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں نیب، ایف آئی اے، انسداد دہشت گردی عدالت لاہور اور اے ٹی سی اسلام آباد کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومتی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف سیاسی انتقام بند کیا جائے کیونکہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 180 سے زائد مقدمات درج ہیں۔

    اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے نو مقدمات میں متعقلہ عدالت نے عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ میں دی گئی عبوری ضمانت کو بھی کینسل کر دیا ہے۔

  14. ارجنٹینا کی بدحال معیشت کو ’ڈالرائز‘ کرنے کی گونج: کیا ایسا پاکستان میں بھی کیا جا سکتا ہے؟

  15. پی سی بی کی ویڈیو میں عمران خان شامل، وسیم اکرم غائب: ’خان صاحب نے اٹک جیل سے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا‘

  16. چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدم دستیابی، عمران حان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت مؤخر, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    غمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمعرات کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں ہو سکی ہے۔

    واضح رہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست میں اُن کی اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس کیس پر ابتدائی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی تھی تاہم جمعرات کو چیف جسٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے جمعرات کو ہونے والی سماعت کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی کی گھر کا کھانا فراہمی کی درخواست پر بھی آج ہی سماعت ہونا تھی، جسے اب مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس کیس میں گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے پنجاب حکومت اور جیل حکام سے جواب طلب کر رکھا تھا۔

  17. نقص امن کا خدشہ: جڑانوالہ تحصیل میں 17 اگست کو مقامی تعطیل، فیصل آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ

    جڑانوالہ

    ،تصویر کا ذریعہDistt Administration

    جڑانوالہ میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف پرتشدد احتجاج کے بعد کشیدہ صورت حال کے پیش نظر جمعرات کے مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ضلع فیصل آباد میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کے نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں ہر قسم کے احتجاج، دھرنے، جلسے وغیرہ کی اجازت نہیں ہوگی۔

    واضح رہے کہ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے واقعے کے بعد بدھ کے روز مشتعل مظاہرین نے مسیحی آبادی پر دھاوا بول کر متعدد گرجا گھروں کو نذرِ آتش کر دیا جبکہ کرسچین کالونی کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔

    حکام نے کہا ہے کہ شہر میں حالات تاحال کشیدہ ہے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

  18. پاکستان تحریک انصاف کا جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر افسوس کا اظہار

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نہایت حساس نوعیت کے معاملے پر ریاستی و حکومتی مشینری کی مجرمانہ ناکامی قابلِ مذمت ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رنگ، نسل، جنس، مذہب کے امتیاز کے بغیر شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کا تحفظ ریاست کا بنیادی فریضہ ہے،

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام امن و آشتی کا دین، دستور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کا ضامن ہے۔

    تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات کی تمامپہلوؤں سے تحقیق کرے اور پُر تشدد کارروائیوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کو حرکت میں لائے۔

  19. جڑانوالہ کے واقعے پر نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کا اظہار مذمت

    پاکستان کے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین کی جانب سے مسیحی آبادی پر دھاوا بول کر متعدد گرجا گھروں کو نذرِ آتش کرنے اور کرسچین کالونی کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ کرنے کے واقعے کی نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مذمت کی ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’جڑانوالہ سے آنے والے مناظر دیکھ کر میں ہل گیا ہوں، قانون کی خلاف ورزی اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے اور حکومت پاکستان اپنے شہریوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کھڑی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’جڑانوالہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک اور پریشان کن ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ تمام مذہبی مقامات، مقدس کتابیں اور شخصیات مقدس ہیں اور ہمارے اعلیٰ ترین احترام کے مستحق ہیں۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ اور مذہبی سکالرز سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور قابل مذمت اقدامات کی مذمت کریں۔ ایسے پاگل پن کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان تمام مذہبی اقلیتوں کا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    سابق وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ میں گرجا گھروں پر حملے کے بارے میں سن کر افسوس ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عبادت گاہوں کے تقدس کو پامال کرنا قطعاً ناقابل قبول ہے اور انتظامیہ مسیحی برادری اور ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  20. کراچی: گجر اور اورنگی نالے کے متاثرین کا سپریم کورٹ کی رجسٹری کے باہر احتجاجی مظاہرہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی میں گجر اور اورنگی نالے کے متاثرین نے سپریم کورٹ کی رجسٹری کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور متبادل گھر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرے کے وقت سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت جاری تھی۔

    کراچی بچاؤ تحریک کی رہنما ابیرا اشفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ 2021 میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ متاثرین کو متبادل گھر فراہم کیے جائیں دو سال گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

    ’وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، صوبائی وزیر ناصر شاہ اور مرتصیٰ وہاب نے اعلان کیا تھا کہ 6 ہزار گھروں کی تعمیر کے لیے 10 ارب رپے رکھے گئے ہیں تاہم بجٹ بکس میں رکھی گئی رقم 8 فیصد بھی نہیں۔‘

    ابیرا اشفاق کے مطابق عدالت نے ہر ماہ سندھ حکومت سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی تھی لیکن اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔

    یاد رہے کہ بارشوں کے پانی کی نکاسی کے لیے سپریم کورٹ نے نالوں کی صفائی کا حکم جاری کیا تھا جس کے دوران غیر قانونی تجاویزات بھی ہٹائی گئی تھیں۔

    متاثرین کے احتجاج کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد نے متاثرین کو متبادل گھر اور گھروں کی تعمیر تک کرایہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ’ہم دفتر سے یہ بھی معلوم کریں گے کہ کیا ماہانہ پیشرفت رپورٹ جمع کرائی بھی گئی ہے یا نہیں۔‘

    عدالت نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب ، چیف سیکریٹری، کمشنر کراچی اور ایڈووکیٹ جنرل کو جمعرات کو 11 بجے طلب کر لیا۔