ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گھروں اور ہسپتال میں پانی داخل

ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارشوں سے شہر میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایبٹ آباد مانسہرہ روڈ پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ ایوب میڈیکل ہسپتال سمیت کئی کالونیوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوا ہے۔

لائیو کوریج

  1. اکبر بگٹی قتل کیس: پرویز مشرف کی ضمانتی مچلکوں کی واپسی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پرویز مشرف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں ملک کے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ضمانتی مچلکوں کی واپسی کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں برس فروری کے مہینے میں انتقال کرنے والے پرویز مشرف کو جنوری 2016 میں ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے دیگر ملزمان سمیت قتل کے اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔

    بریت کے بعد پرویز مشرف نے گزشتہ برس دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانی مچلکوں کی واپسی کے لیے درخواست دائر کی تھی جن کے عوض ان کی ضمانت منظور کی گئی تھی۔

    جمعے کے دن سپریم کورٹ نے اس درخواست پر جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل دو رکنی بنچ تشکیل دیتے ہوئے سماعت 27 جولائی کے لیے مقرر کی اور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان سمیت دیگر کو نوٹس بھی جاری کر دیے۔

  2. کور کمانڈر ہاؤس لاہور حملے کی تفتیش میں عمران خان کی گرفتاری مطلوب ہے، سپیشل پراسیکیوٹر, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    لاہور کور کمانڈر ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    نو مئی کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے سپیشل پراسیکیوٹر سید فرہاد علی شاہ کہا ہے کہ تفتیش مکمل کرنے کے لیے عمران خان کی گرفتاری مطلوب ہے۔

    واضح رہے کہ جمعے کے دن چیئرمین عمران خان نو مئی کے واقعات پر پانچ مختلف مقدمات میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں آٹھ اگست تک توسیع کی گئی۔

    عمران خان کی عدالت سے روانگی کے بعد سپیشل پراسکیوٹر سید فرہاد علی شاہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے آئندہ پیشی پر درخواست کی جائے گی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج کی جائے۔

    سپیشل پراسیکیوٹر سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ موبائل فون سمیت دیگر ایسے آلات برآمد کرنا باقی ’جن کے ذریعے مختلف سوشل میڈیا پیجز پر اور مختلف گروپس پر مہم چلائی گئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تفتیش میں ثابت ہوا ہے کہ اداروں کے حوالے سے ایک مہم چلائی گئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ملزمان کو ضمانت مل گئی تو پھر تفتیش کا عمل مکمل نہیں ہوسکے گا۔

    سید فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان جے آئی ٹی ٹیم کو مطمئن نہیں کر سکے۔

    سید فرہاد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگلی تاریخ پر تفتیش مکمل کر کے لائی جائے تو پری اریسٹ بیل (یعنی ضمانت قبل از گرفتاری) کے حوالے سے تفتیش مکمل ہے لیکن ابھی ہمیں کسٹڈی درکار ہے تو کسٹڈی ملنے پر ہم باقی تفتیش اور ریکوری کرنے کے بعد چالان عدالت میں پیش کریں گے۔‘

  3. ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 29 فیصد سے زائد کا اضافہ، آٹے کی قیمت میں 100 فیصد سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 29.16 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ ایک سال میں آٹے، چاول، چینی، آلو، چائے، ٹماٹر اور ڈبل روٹی کی قیمت میں ہونے والا بڑا اضافہ رہا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں ہونے والا اضافہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں گزشتہ سال اسی ہفتے کے مقابلے میں ہوا۔

    ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ ہفتے میں تاہم جولائی کے مہینے کے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.7 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 126 فیصد، چائے کی قیمت میں تقریباً سو فیصد، چاول میں 77 فیصد، چینی کی قیمت میں 66 فیصد، آلو کی قیمت میں 60 فیصد، ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد اور ڈبل روٹی کی قیمت میں 47 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس ہفتے پیاز کی قیمت میں دس فیصد، مرغی کی قیمت میں ساڑھے آٹھ فیصد کی کمی ہوئی۔

  4. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، انڈیکس میں 473 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور پہلے کاروباری سیشن کے اختتام تک سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 473 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں جمعے کے دن کاروبار کا مثبت انداز میں آغاز ہوا اور پورے پہلے سیشن میں حصص کی خریداری کا رجحان غالب رہا۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کے اضافے کی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کے بعد بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور بڑی کمپنیوں پر عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس کا خاتمہ ہے۔

    ڈارسن سکیورٹیز کے تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے بعد معیشت میں بہتری آئی ہے اور گزشتہ روز مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں چار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس نے سٹاک مارکیٹ پر مثبت اثر ڈالا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح عدالت کی جانب سے بڑی کمپنیوں پر سپر ٹیکس کے خاتمے کے حکم نے بھی سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کو فروغ دیا۔

  5. فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے دوران ملزمان کے اہلخانہ کو مقدمہ دیکھنے کی اجازت دی جائے گی، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے نو مئی کے واقعات میں گرفتار عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

    جمعے کے دن سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ‏فوجی عدالتوں میں ملزمان کے وکیل کے ساتھ ساتھ ان کے اہلخانہ کو بھی مقدمہ کی سماعت دیکھنے کی اجازت دی جائے گی۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل سے فوجی عدالت میں ملزمان کو اپیل کے حق پر سوال کیا تو اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے سے متعلق بہت محتاط رہ کر غور کی ضرورت ہے۔

    اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کے دوران انڈین جاسوس کلبھوشن کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’ہمیں ایسے چلنا ہو گا کہ ملکی پوزیشن متاثر نہ ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کچھ چیزوں کا میں ذکر نہیں کر رہا، بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہو گا۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر غور کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔

    اٹارنی جنرل نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے ایک ماہ کا وقت طلب کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بینچ اس استدعا پر غور کرے گا۔

    درخواست گزار اور سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل نے عدالت سے حکم امتناع کی درخواست کی جسے مسترد کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ جب کسی سویلین کا ٹرائل ہی شروع نہیں ہوا تو حکم امتناعی کس بات کا۔

    چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ملٹری ٹرائل شروع ہونے سے قبل عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

  6. اگر ملک میں مارشل لا لگا تو ہم مداخلت کریں گے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر ملک میں مارشل لا لگا تو ہم مداخلت کریں گے۔

    اس سے قبل اعتزاز احسن کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ضیا الحق کے دور میں ہوتا رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ دور کا ضیا الحق کے دور سے موازنہ نہ کریں۔

    اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ہم کسی ریٹائرڈ جج کو 102 افراد سے ملاقات کے لیے فوکل پرسن مقرر کر سکتے ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ وہ اس حوالے سے ان کے چیمبر میں بتائیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں زیر حراست افراد کو بنیادی حقوق ملیں اور زیر حراست افراد کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت ہو۔

  7. 9 مئی کے واقعات پر ملٹری کورٹس کے فیصلوں میں تفصیلی وجوہات کا ذکر ہوگا، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر ملٹری کورٹس کے فیصلوں میں تفصیلی وجوہات کا ذکر ہوگا۔

    اٹارنی جنرل نے جمعے کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے چھ رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالت میں سزا سیکشن 105 اور رولز 142 کے تحت سنائی جاتی ہے اور ملزم کو سزا سنانے کے بعد کنفرمیشن کا مرحلہ آتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کنفرمیشن سے پہلے جائزہ لیا جاتا ہے کہ ٹرائل قانون کے مطابق ہوا یا نہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ملزمان پرائیوٹ وکیل کی خدمات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف اپیل کے لیے سیکشن 133 موجود ہے اور سزا کے 42 دن کے اندر کورٹ آف اپیل سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

  8. فوجی عدالتوں میں ملزمان کو دفاع کے لیے بہت کم وقت دیا جاتا ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ فوجی عدالتوں میں ملزمان کو دفاع کے لیے بہت کم وقت دیا جاتا ہے۔

    عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے دوران ملزم اپنے وکیل سے مشاورت کر سکتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں بھی فیصلہ کثرت رائے سے ہوتا ہے اور سزائے موت کی صورت میں فیصلہ دو تہائی سے ہونا لازمی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ بادی النظر میں گرفتار 102 ملزمان میں سے کسی کو سزائے موت یا 14 سال سزا نہیں دی جائے گی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کا مطلب ہے کہ سیکشن 3 اے کا کوئی کیس نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسا کوئی کیس نکل سکتا ہے۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا بیان آج کی سٹیج تک کا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کو اپنے دفاع کے لیے فوجی عدالتوں میں بہت کم وقت دیا جاتا ہے جبکہ جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل فیئر ہونگے۔

  9. ملزم کو حراست میں لیے جانے سے پہلے آرمی ایکٹ کے تحت انکوائری شروع کی جاتی ہے، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عام شہریوں کے فوجی ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ کو ملٹری کورٹس میں ٹرائل کا طریقہ کار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کو حراست میں لیے جانے سے پہلے آرمی ایکٹ کے تحت انکوائری شروع کی جاتی ہے۔

    عدالت میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جس کمانڈنگ آفیسر کی زیر نگرانی جگہ پر جو کچھ ہوتا ہے اس کی رپورٹ جی ایچ کیو ارسال کی جاتی ہے۔

    ان کے مطابق اس کے بعد آرمی ایکٹ رولز کے تحت ایک انکوائری شروع کی جاتی ہے اور اگلے مرحلے میں ملزم کی کسٹڈی لی جاتی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ملزم کی کسٹڈی لینے کے بعد شواہد کی سمری تیار کر کے چارچ کیا جاتا ہے تاہم اگر کمانڈنگ افسر شواہد سے مطمئن نہ ہو تو چارچ ختم کر دیتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ الزامات بتا کر شہادتیں ریکارڈ کی جاتی ہیں جبکہ ملزم کو بھی چوائس دی جاتی ہے کہ وہ اپنا بیان ریکارڈ کروا سکتا ہے۔

  10. نو مئی کے واقعات میں ملوث 102 افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے معاملے پر بہت احتیاط برتی گئی: اٹارنی جنرل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

    جمعہ کی صبح شروع ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ضمن میں بہت محتاط ہے کہ کن افراد کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے اور اسی لیے نو مئی کے واقعے میں ملوث 102 افراد کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے بہت احتیاط برتی گئی اور تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔

    دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا آرمی ایکٹ بنیادی انسانی حقوق کے دائرے سے خارج ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’جی، آرمی ایکٹ پر بنیادی انسانی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘

    اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سویلین پر فوجی ایکٹ کے اطلاق کے لیے اکیسویں ترمیم کی گئی تھی اور سویلینز پر آرمی ایکٹ کے اطلاق کے لیے شرائط رکھی گئی تھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کردہ فوجی عدالتیں مخصوص وقت کے لیے تھیں۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم سے قبل بھی آرمی ایکٹ کے سویلینز پر اطلاق کا ذکر موجود تھا۔

    ایک موقع پر جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ آرمی ایکٹ میں ترمیم کر سکتی ہے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ بنیادی انسانی حقوق کبھی آ رہے ہیں اور کبھی جا رہے ہیں اور یہ کہ قانون بنیادی حقوق کے تناظر میں ہونا چاہیے۔

    جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ (اٹارنی جنرل) کے دلیل یہ ہے کہ ریاست کی مرضی ہے کہ وہ بنیادی حقوق دے یا نہ دے۔‘

    اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کو صرف قانون سازی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سب کچھ ٹرائل کورٹ پر نہیں چھوڑ سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ عام تاثر تھا کہ سنہ 2015 میں اکیسویں ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان کو ایک طرف کر دیا گیا مگر اب ایسا نہیں ہے۔

    اس کیس میں مزید سماعت جاری ہے۔

  11. ’سائفر جنرل باجوہ کے لیے بھیجا گیا، ایک ہی آدمی مجھے ہٹا سکتا تھا‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عمران خان نے اس پیغام میں مزید کہا کہ ’گذشتہ 14 ماہ سے کوشش کی جا رہی کہ عمران خان کو نااہل قرار دے کر جیل میں ڈالا جائے۔‘

    وہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ’جس اعظم خان کو میں جانتا ہوں وہ ایک ایماندار، قابل آدمی ہے۔ میرا نہیں خیال وہ ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔ اس سے زبردستی کہلاوایا گیا ہے۔ انھوں نے زبردستی دو پارٹیاں بنا دیں ہیں، جیلوں میں ہمارے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف بیان دو اور پارٹی چھوڑ دو۔‘

    عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ’سائفر میں دو مرکزی باتیں ہیں: عمران خان کو آپ نے عدم اعتماد کے ووٹ میں پاکستان کی وزارت عظمیٰ سے ہٹانا ہے۔ ایک اور یہ چیز لکھی ہے کہ عمران خان نے اکیلے روس جانے کا فیصلہ کیا۔‘

    خیال رہے کہ عمران خان کی روس آمد کے روز روسی افواج نے یوکرین میں مداخلت کر کے جنگ شروع کر دی تھی۔

    سابق پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس سائفر میں ’ہمارے سفیر اسد مجید نے پیغام بھیجا کہ آپ کو ان (امریکہ) کے خلاف ڈیمارش کرنا چاہیے، اس نے غلط زبان استعمال کی۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان میں مجھے ایک ہی آدمی ہٹا سکتا تھا، آرمی چیف۔‘

    ’سائفر تو جنرل باجوہ کے لیے بھیجا گیا ہے۔۔۔ مجھے انٹیلیجنس کے لوگ بتاتے رہتے تھے کہ آپ کی حکومت کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے، میں یہ مانتا نہیں تھا۔ جب یہ سائفر آیا تو مجھے احساس ہوا کہ ایک آدمی کے سوا کون وزیر اعظم کو ہٹا سکتا ہے۔ جس کے پاس پاور ہے، سپر کنگ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر میں جنرل باجوہ پر تنقید کر رہا ہوں تو میں پاکستانی فوج پر تنقید نہیں کر رہا۔ میں غلطی کرنے والے ایک آدمی پر تنقید کر رہا ہوں۔ کسی جج کی بات کروں گا تو کیا میں ساری عدلیہ کے خلاف ہوگیا؟ یہ تو ہم اپنے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔‘

    ’انکوائری ہوتی تو جنرل باجوہ کا نام سامنے آجانا تھا۔ کیا آئی ایس آئی کو نہیں پتا تھا کہ تحریک انصاف کے بیک بینچرز بار بار امریکی سفارتخانے جا رہے تھے؟‘

    دریں اثنا سائفر کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ سائفر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال اور آئینی شکنی سے متعلق معاملہ ایف آئی اے کے پاس زیر تفتیش ہے۔

  12. ’جنرل باجوہ نے حکومت کی پالیسی کے خلاف روس کی مذمت کی‘ عمران خان کا الزام

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں آرمی چیف جنرل باجوہ نے ’حکومت کی پالیسی کے خلاف روس کی مذمت کی۔‘

    سوشل میڈیا پر سائفر کے معاملے پر خطاب کے دوران انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’میں سب سے پوچھ کر روس گیا، واپس آیا تو جنرل باجوہ نے کہا روس جانے پر مذمت کرو۔ دفتر خارجہ اور ہمارے مرکزی رہنما بیٹھے۔ سب نے کہا کہ انڈیا تو مذمت نہیں کر رہا تو ہم کیوں کریں۔ ہم ان سے سستے تیل اور گندم کے لیے معاہدے کر آئے تھے۔

    ’اس کے بعد ایک نیشنل سکیورٹی کے ایک سیمینار میں جنرل باجوہ نے کہا ہم روس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ حکومت کی پالیسی کے خلاف جا کر انھوں نے یہ بیان دیا۔‘

    عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور حکومت میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے انھیں روس کے دورے پر جانے کا کہا تھا۔

    ’میں نے جنرل باجوہ سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں آپ کو روس جانا چاہیے۔‘

    ان کے مطابق وہاں 20 لاکھ ٹن گندم اور سستے تیل کے لیے روس سے مذاکرات کرنے پر اتفاق ہوا۔ عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’جب میں روس کا دورہ کر کے واپس آیا تو جنرل باجوہ نے کہا کہ جو روس وہاں (یوکرین میں) گیا ہے اس کی مذمت کرو۔‘

    سابق وزیراعظم کے مطابق ’سب نے جنرل باجوہ کو یہ مشورہ دیا کہ انڈیا امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے، وہ مذمت نہیں کر رہا تو ہم کیوں کریں؟‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’نیشنل سیکیورٹی سیمینار میں جنرل باجوہ حکومت کی پالیسی کے خلاف جا کر روس کی مذمت کی۔‘

    ’اس کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی ٹویٹ آئی، جس میں انھوں نے لکھا کہ جنرل باجوہ ’پرو امریکہ‘ ہیں جبکہ عمران خان ’اینٹی امریکہ‘ ہیں۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’ہمیں بعد میں یہ پتا چلا کہ حسین حقانی کو 30 ہزار ڈالر دے کر ہمارے خلاف بھرتی کیا گیا تھا۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’میرا اپنا ہی آرمی چیف میرے خلاف لابی کر رہا تھا۔‘

  13. سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں چار ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران چار ارب 20 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    جس کے بعد اس کے ذخائر آٹھ ارب 72 کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک میں سعودی عرب کی جانب سے دو ارب ڈالر، آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ارب ڈالر جمع کرائے گئے ہیں۔

    ملک کے تجارتی بینکوں کے پاس پانچ ارب 33 کروڑ اسّی لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں اور ملک کے پاس مجموعی طور پر 14 ارب چھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔

  14. پاکستانی پاسپورٹ بدستور نچلے درجے پر مگر وہ 33 ممالک جہاں پاکستانی پہنچ کر ویزہ لے سکتے ہیں

  15. سائفر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوا، ایف آئی اے تفیش کر رہا ہے: اعظم نذیر تارڈ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ سائفر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال اور آئینی شکنی سے متعلق معاملہ ایف آئی اے کے پاس زیر تفتیش ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سائفر کی دستاویز جسے عمران خان نے اپنی تحویل میں لے کر جلسے میں استعمال کیا۔ اسے متعلقہ محکمے کو لوٹایا نہیں گیا۔ اوّل تو سائفر کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دو ممالک کے سفارتی تعلقات کے بارے میں تھا۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس دستاویز کو جس طرح قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے بے دریغ استمعال کیا گیا۔ اس معاملے کو انکوائری کے لیے ایف آئی اے کو بھجوایا تھا۔ ‘

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے بجائے ایف آئی اے کے پاس پیش ہونے کے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ جہاں عدالت نے حکومت کو سنے بغیر سٹے آرڈر کر دیا۔ اب وہ حکم امتناعی منسوخ ہوا۔ جس کے بعد یہ دستاویز حاصل کر کے محکمے کو لوٹایا گیا۔ ‘

    انھوں نے کہا ’164 کے بیان کے مطابق اس دستاویز پر ایک بیانیہ بنایا گیا اور اسے اپنی سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک نقطہ اٹھایا گیا اس پر کسی دوسرے کا موقف سنے بغیر عدم اعتماد کو تحریک کو ڈس مس کیا۔ پھر عمران خان نے صدر کو سفارش کرنے کے تین منٹ میں اسمبلی تحلیل کر دی۔‘

    ’اس کے بعد عدالت نے سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار د ے کی اسمبلی بحال کی اور عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی۔ یہ معاملہ ایف ائی اے کو بھیجا گیا۔ اور معاملہ زیر تفتیش ہے۔ عمران حان کو 25 جولائی کو طلب کیا ہے۔‘

  16. توشہ خانہ کیس: ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرکے انھیں فروخت کرنے ظاہر شدہ اثاثوں میں اس کا ذکرنہ کرنے سے متعلق اپنا بیان متعقلہ عدالت میں ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا ہے کہ ریکارڈ سے واضح ہوا کہ ملزم عمران خان نے سنہ2018,19 میں الیکشن کمیشن میں بتایا کہانھوں نے توشہ خانہ سے چار تحائف لیے اور ملزم کی جانب سے دو کروڑ 20 لاکھ سے زائد کا چالان جمع کروایا گیا، جبکہ توشہ خانہ کی جانب سے تحائف کی مالیت کا اندازہ 10 کروڑ 70 لاکھ سے زائد تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ملزم عمران خان کی طرف سے جن ٹرازیکشن کا ذکر کیا گیا وہ کاغذات میں موجود ہی نہیں ہے۔

    ضلعی الیکشن کمشنر نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے جب اس ضمن میں ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کو بھجوایا گیا تھا تو الیکشن کمیشن نے اس پر عمران خان کو نوٹس جاری کیا تھا۔ دوران سماعت عمران خان نے نہ ہی کوئی رسید پیش کی نہ ہیان تحائف کے خریداد کا نام بتایا۔

    انھوں نے کہا کہ حقائق بتاتے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نےالیکشن کمیشن میں جھوٹی دستاویزات اور بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو توشہ خانہ سے تحفہ منتقل ہو تو الیکشن کمیشن کےفارم بی میں درج کیا جانا ضروری ہے جبکہ ملزم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے فارم بی میں تحائف کی منتقلی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

    وقاص ملک کا کہنا تھا کہ چیرمین پی ٹی آئی نے فارم بی میں تحائف کی قیمت بھی نہیں لکھی ہوئی جس کی وجہ سے حقائق سے معلوم ہوا عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے جھوٹ پر مبنی بیان دیا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ توشہ خانہ سے 2020-21 میں انھوں نے 5 قیمتی تحائف لیے اورانھوں نے کہا کہ حقائق سے معلوم ہوا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں جھوٹ پر مبنی گوشوارے جمع کروائے اور گواہ کے بقول عمران خان کیجانب سے الیکشن ایکٹ کی خلاف وزری کی گئی ہے۔

    وقاص ملک کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ملزم کے بیان اور توشہ خانہ ریکارڈ اور سٹیٹ بینک کے ریکارڈ پر تقابلی جائزہ لیا اور واضح ہوا کہ توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف کا چلان 22 جنوری2019 کو جمع کروایا اور جنوری سے 30 جون 2019 تک بینک الفلاح اکاونٹ میں بس ایک ٹرانزیکشن تین کروڑ کی ہوئی جبکہ اس سے پہلے وہ یہ دستاویز الیکشن کمیشن کو دے چکے تھے اس میں کہا گیا تھا کہوہساڑھے دو کروڑ دس لاکھ کےتحائف فروخت کرچکے ہیں۔

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی موجودگی میں شہادتیں ریکارڈ ہونی چاہیں کیونکہ قانون کے مطابق بھی ملزم کی موجودگی میں ہی شہادتیں ریکارڈ ہوتی ہیں۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ملزم اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہے جس کے بعد شہادتیں ریکارڈہوتیں۔

    اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ہمایوں دلاور نے عمران خان نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کو بلایا اس لیے تھا تاکہ مسئلہ حل ہو۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کے پاس کوئی جواز ہی نہیں کہ حاضری سے استثنیٰ منظور کرے۔

  17. ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ، 285 روپے کی حد عبور کر گیا, تنویر ملک ، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان جمعرات کو بھی برقرار رہا۔

    انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 1.35 روپے اضافے کے بعد 285.14 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت دو روپے بڑھ گئی جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 293 روپے کی سطح تک جا پہنچی کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ درآمدات کے لیے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہے جو روپے کی سطح پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان رہا اور انڈیکس میں تین سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  18. سندھی گلوکار بیدل مسرور کے لاپتہ بیٹے ھنس مسرور واپس آگئے

    ہنس مسرور

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    کراچی سے لاپتہ ہونے والے سندھی گلوکار بیدل مسرور کے بیٹے ھنس مسرور واپس آگئے ہیں، انھیں دو روز قبل نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

    بیدل مسرور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے گلشن اقبال میں رہتے ہیں فون پر انھوں نے بتایا کہ وہ خریت سے گھر پہنچ گئے ہیں اور انھیں غلط فہمی کی بنیاد پر اٹھایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ھنس مسرور تحریک انصاف کے سرگرم کارکن ہیں۔

    بیدل مسرور نے بتایا کہ بیٹے نے بتایا کہ انھوں نے پوچھا کہ سیاسی بنیادوں پر اٹھایا گیا یا سائبر کرائیم میں لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ’شاید انھیں اندازہ ہوا کہ غلط بندے کو اٹھایا ہے اس لیے شرمساری میں پھر چھوڑ دیا، ایک افسر نے ملاقات کی تھی جس نے بیٹے کو کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ بیدل مسرور کے بیٹے ہیں۔‘

    بیدل مسرور ٹی پی وی پر پروڈیوسر رہے ہیں اور سندھ میں فیض، شیخ ایاز کی شاعری انقلابی انداز میں گاتے ہیں۔ بیدل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو دباؤ آیا اس کی وجہ سے بیٹے کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی کے صدر تھانے پر ھنس کی بھانجے عبدالرحیم نے ایک درخواست دی تھی جس میں بتایا تھا کہ وہ اور ان کے ماموں ھنس مسرور ایف ٹی سی بلڈنگ میں ٹی سی پی کے دفتر میں سکیننگ کا ٹھیکہ سنبھالتے ہیں۔ ’ہم 18 جولائی کی رات تقریبا پونے نو بجے دفتر سے گھر جانے کے لیے نکلے تو سفید گاڑی کھڑی تھی جو پولیس موبائیل سے ملتی جلتی تھی اس نے مامور کو روکا جو الٹو کار میں سوار تھے میں نے سمجھا کہ انھیں عام چیکنگ کے لیے روک رہے ہیں اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔‘

  19. وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز نیب منی لانڈرنگ ریفرنس میں بری

    احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں بری کر دیا ہے۔

    عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے بریت کے لیے رجوع کیا تھ۔ عدالت نے نصرت شہباز سمیت دیگر ملزمان کو بھی بری کر دیا۔

    اشتہاری رابعہ عمران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری۔

    عدالت نے تمام ملزمان کی فریز جائیدادیں ڈی فریز کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کی بریت کی خوشی میں احتساب عدالت کے باہر مٹھائی تقسیم کی گئی۔

  20. باڑہ میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد دو ہوگئی

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ باڑہ میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد دو ہوگئی ہے۔

    ریسکیو 1122 نے ایک بیان میں کہا کہ ’شہدا میں بہادر شیر اور طیب آفریدی شامل ہیں۔‘

    اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔