ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گھروں اور ہسپتال میں پانی داخل

ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارشوں سے شہر میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایبٹ آباد مانسہرہ روڈ پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ ایوب میڈیکل ہسپتال سمیت کئی کالونیوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوا ہے۔

لائیو کوریج

  1. توشہ خانہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کی تینوں اپیلوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق تینوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    عدالت نے درخواست گزار عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستوں پر قابل سماعت ہونے متعلق فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

    واضح رہے عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ کیس کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرنے، سیشن جج کی فیس بک پر(مبینہ طور پر) عمران خان کے خلاف مواد کی اشاعت پر کیس منتقل کرنے اور بیان حلفی پر الیکشن کمیشن کے گواہ کے متضاد دستخطوں سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

    دوران سماعت الیکشن کمیشن کے گواہ کے بیان حلفی ہر دستخط مختلف ہونے کے خلاف دلائل میں عمران خان کے وکیل حواجہ حارث نے کہا کہ گواہ سے سوال ہوا کہ کیا بیان حلفی اور شکایات کی درخواست پر آپ کے دستخط مختلف ہیں؟ جس پر الیکشن کمیشن کے گواہ نے کہا کہ ایک جگہ ان کے مختصر دستخط تھے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے افسار کیا کہ خواجہ حارث آپ یہ کر رہے ہیں گواہ نے جرح کے دوران جو کہا اس کو وضاحت کرنی ہے ؟ جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جی بالکل اس نے وضاحت دینی ہے یا وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

    خواجہ حارث کے مطابق ’میرا سارا کیس یہ ہے کہ یہ بدنیتی پر بنایا گیا کیس ہے۔ یہ بنتا ہی نہیں تھا۔‘

    توشہ خانہ فوجداری کیس سننے والے جج ہمایوں دلاور پر چیئرمین پی ٹی آئی کے اعتراض اور ان کا کیس دوسری عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر اپیل پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج کی فیس بک پوسٹ آپ نے دیکھی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انھوں نے پوسٹ سے متعلق کچھ نہیں دیکھا۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ یہ آپ ضرور دیکھ لیجئے گا،ایف آئی اے کے پاس تو پورا سیل ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اگر تو وہ ٹھیک ہیں یا غلط ہیں دونوں صورتوں میں اس اپنے اثرات ہیں۔ صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں۔

    خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواستیں قابل سماعت ہونے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    واضح رہے عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ کیس کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرنے، سیشن جج کی فیس بک پر(مبینہ طور پر) عمران خان کے خلاف مواد کی اشاعت پر کیس منتقل کرنے اور بیان حلفی پر الیکشن کمیشن کے گواہ کے متضاد دستخطوں سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

  2. توشہ خانہ فوجداری کیس: عمران خان کی تین اپیلیں قابل سماعت ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFace Book

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی تین اپیلوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جاری ہے۔

    عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ کیس کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرنے، سیشن جج کی فیس بک پر(مبینہ طور پر) عمران خان کے خلاف مواد کی اشاعت اور بیان حلفی پر الیکشن کمیشن کے گواہ کے متضاد دستخطوں سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سے سماعت کے آغاز پر دلائل میں کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سیشن کورٹ کا 21 جولائی کا آرڈر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔‘

    خواجہ حارث کےمطابق ’ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پر جرح کے دوران دستاویزات طلبی کی استدعا کی گئی تھی، گواہ پر جرح کے دوران ہمارا اعتراض تھا۔ توشہ خانہ کارروائی کا ریکارڈ منگوائیں۔ اس کیس میں ہمارے خلاف الیکشن کمیشن کی توشہ خانہ کارروائی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آپ یہ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کے سامنے توشہ خانہ کیس کی جو کارروائی ہوئی۔ ؟

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جی توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے سامنے جو کارروائی ہوئی اس میں استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی تھی اور اس دوران مختلف توشہ خانہ کی تفصیلات طلب کیں۔‘

    خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ یا تو ہمارا اعتراض منظور کیا جاتا اور ریکارڈ طلب کیا جاتا یا پھر الیکشن کمیشن کی تمام کارروائی مقدمے سے علیحدہ کردی جانی چاہیے تھی۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’بنیادی طور پر گواہ سے الیکشن کمیشن کی کارروائی سے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے جو بھی اعتراضات ہوں اس پر فیصلہ ہونا چاہیے۔‘

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہمارے خلاف جب ریکارڈ استعمال ہو رہا ہے تو پھر اس کو طلب بھی کرنا چاہیے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آدھی بات تو وہ بتا رہے ہیں باقی نہیں بتا رہے کہ کارروائی کیا ہوئی۔ میں نے یہی کہا گواہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کی بات کر رہا ہے وہ ریکارڈ بھی منگوا لیں۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مکمل ریکارڈ یا اس کا کچھ حصہ طلب کرنے کا کہا؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے ریفرنس سے لے کر فیصلے تک کا ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کی ہے۔

    خواجہ حارث کے مطابق ’میں الیکشن کمیشن کے آرڈر کو چیلنج نہیں کر رہا،ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کر رہا ہوں۔

    الیکشن کمیشن سے ریکارڈ طلبی کی ایک درخواست پر خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔

  3. سب نقلی ہے! عاصمہ شیرازی کا کالم

  4. الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ الیکشن کروائیں، مقدمے نہ کروائیں: بابر اعوان

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کی لیگل ٹیم کے سینیئر ممبر بابر اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان دونوں الیکشن کی تیاری میں ہیں۔

    اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’آئین کے مطابق موجودہ حکومت کے پاس اب 18 دن گن کے رہ گئے ہیں۔ اور اس کے بعد جو الیکشن کا اعلان ہو گا وہ آئین کا تقاضا ہے کہ 60 روز میں ہو گا۔‘

    بابر اعوان نے کہا کہ ’ الیکشن کمیشن سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ الیکشن کروائیں اور مقدمے نہ کروائیں۔‘

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو 25 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہےاور اس بات کا امکان ہے کہ عمران خان آج الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوں گے۔

    اس سے قبل الیکشن کمیشن نے مقدمے میں عدم پیشی پر اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو گرفتار کر کے منگل کی صبح 10 بجے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اس ضمن میں اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’پولیس الیکشن کمیشن کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے عمران خان کی رہائشگاہ پر گئی تھی اور عمران خان کے وکیل نے وارنٹ گرفتاری وصول کر لیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ منگل کو الیکشن کمیشن میں پیش ہوں گے۔‘

    بابر اعوان کے مطابق ہم نے لیگل میٹنگ کی ہے اور سیاسی صورت حال پر بھی بات ہوئی ہے پاکستان کا اصل شٹیک ہولڈر ووٹر ہے اصل اقتدار ووٹر کے پاس ہوتا ہے اس کو باہر رکھ کر الیکشن نہیں مانا جا سکتا۔

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس اسلام اباد ہائی کورٹ اور نئے جیوڈیشل کمپلیکس کے انچارج جج صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ پرانی عمارت نسبتا محفوظ تھی آج نئئ عمارت میں عمران خان پر بوتل پھینکی گئ اور اس میں نہ جانے کیا تھا۔‘

  5. کارونجھر: سندھ کے ’مقدس‘ پہاڑی سلسلے سے قیمتی پتھر نکالنے کے معاملے پر کیا تنازع ہے؟

  6. اسحاق ڈار نے نگران وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کبھی نہیں کیا، یہ محض قیاس آرائیاں ہیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسحاق ڈار کے نگران وزیر اعظم بنائے جانے کی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خواہش کا اظہار نہ کبھی وزیر خزانہ نے کیا نہ کسی پارٹی اجلاس میں بات ہوئی ہے۔

    خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اسحاق ڈار نے نگران وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کبھی نہیں کیا اور یہ فیصلہ ہم نے نہ صرف اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر کرنا ہے بلکہ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا ہے۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق ’اسحاق ڈار کے حوالے سے یہ بات میڈیا میں ہی آئی۔ میڈیا کے کسی زمہ دار صاحب نے اس کا عندیہ دیا جس کے بعد خبر آگے بڑھنا شروع ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’معاملات کو قیاس آرائیوں کی جانب جانے کے بجائے اس کی تصیح ہونا چاہیے اور ان افواہوں کو پنپنے کے بجائے دم توڑ دینا چاہیے۔‘

    وزیر دفاع نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ’میں حلفاً آپ کو کہہ رہا ہوں کہ میری اپنی پارٹی کے کسی شخص سے بات نہیں ہوئی۔ میں اپنی سمجھ کے مطابق کہہ رہا ہوں کہ ہم کو اگلے تین میں میں ایسا ماحول رکھنا چاہیے کہ الیکشن پر کی شفافیت پر انگلیاں نہ اٹھیں۔

    انھوں نے عمران حان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک شخص آئندہ تین چار ہفتے میں ہر حربہ استعمال کرے گا کہ الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھایا جا سکے، اسے کوئی موقع نہیں دینا چاہیے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’نگران حکومت کے لیے قانون سازی اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ نگران دور میں آئی ایم ایف معاہدے میں رخنہ آنے کا خدشہ ہے، وزارت خزانہ کے لیے ماہر معیشت بھی اتفاق رائے سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘

    خواجہ آصف نے کہا ’میری رائے کے مطابق سیاسی قیادت کے قریب ترین کسی شخصیت کو نگران وزیراعظم کے عہدے پر نہیں ہونا چاہیے۔‘

    شیری رحمان

    ،تصویر کا ذریعہSenate Of Pakistan

    دوسری جانب رہنما پیپلزپارٹی ور وفاقی وزیر شیری رحمان نے اینکر شاہ زیب خانزادہ کےساتھ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کسی نام پر اعتراض نہیں کیا، نگران وزیراعظم کے نام پر ن لیگ سے اب تک کوئی اتفاق نہیں ہوا،۔‘

    شیری رحمان نے دعویٰ کیا کہ ’ہم میں کوئی دراڑ نہیں، مل کر کام کررہے ہیں تاہم لیڈرشپ نے واضح کہا ہے کہ ہم غیر جانب دار سیٹ اپ کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

  7. سائفر کبھی وزراتِ خارجہ سے باہر نکلا ہی نہیں، نہ وہ چوری ہوا نہ کوئی دیکھ سکتا ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران حان کا کہنا ہے کہ سائفر کبھی وزراتِ خارجہ سے باہر نکلا ہی نہیں اور ملکی سفارتی کوڈ ہمیشہ سے محفوظ ہیں۔

    سوشل میڈیا پر خطاب میں ان تھا کہ وہ کل ایف ائی اے کی سائفر کے معاملے پر تحقیقات کے میں پیش ہونے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا وہ وہ گرفتاری کے لیے پوری طرح تیار ہیں تاہم وہ نہیں جانتے کہ ایف ائی اے کو ان سے کیا پوچھنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’نہ مجھے کوئی سوال نامہ ملا کہ وہ پوچھنا کیا چاہتے ہیں، مجھے کاغذات لانے کو کہا گیا ہے۔ مجھے پتا ہی نہیں کہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کیا لے کر جاؤں۔‘

    عمران خان نے اپنے خطاب مںی سائفر کے معاملے پر ممکنہ گرفتاری سے قبل اس معاملے کی وضاحت دی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سائفر ایک خفیہ پیغام ہوتا ہے۔اسے واقعی اسے خفیہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ایک دفعہ وہ کوڈ دنیا کو پتا چل جائے تو سارے سفارتی پیغام لیک ہو جائیں گے۔ جس طرح وکی لیکس میں ہوا اور امریکی راز افشا ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں اہم بات کو سمجھنے کی ہے کہ آیا ’سائفر کا کوڈ عمران خان نے لیک کیا یا نہیں۔ ‘

    انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’ سائفر کبھی کسی کے پاس نہیں جاتا۔ یہ یاد رکھیں یہ وہ سائفر نہیں جاتا اس کا مفہوم وہ اپنے لفظوں میں لکھ کر ہم تک پہنچتا ہے۔ نہ وہ چوری ہوا ہے نہ وہ کوئی اور دیکھ سکتا ہے۔ وہ صرف وزراتِ خارجہ میں رہتا ہے۔ وہ کبھی باہر نہیں آتا تو گم ہونے کا سوال ہی نہیں۔ نہ ہی وزیر اعظم یا کسی اور افسر تک جاتا ہے۔ سائفر کا کوڈ کبھی پبلک نہیں ہوا۔ بشمول وزیر اعظم کے۔ ہمارے پاس صرف یہ پیغام آیا کہ اسد مجید اور ڈونلڈ لون میں کیا بات چیت ہوئی۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ میرے پاس آیا تو ہم نے بہت احتیاط کی اور اسے پبلک نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ او آئی سی کی کانفرنس کی وجہ سے اسے روکنے کا فیصلہ کیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ ’ایف آئی اے چاہتی کیا ہے۔ سائفر محفوظ ہے۔ جیسے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ وزراتِ خارجہ میں ہے۔ ‘

  8. بریکنگ, الیکشن کمیشن کا نوٹس چیئرمین تحریک انصاف کی رہائشگاہ پر موصول، عمران خان کا کل پیش ہونے کا امکان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہFacebook

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کے مقدمے میں عدم پیشی پر جاری کردہ نوٹس ان کی بنی گالہ کی رہائشگاہ پر وصول کر لیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کا نوٹس عمران خان کی قانونی ٹیم کے رکن رائے محمد علی ایڈووکیٹ نے وصول کیا۔

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو 25 جولائی کو پیش ہونے کا کہا ہےاور اس بات کا امکان ہے کہ عمران خان 25 جولائی کو الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوں گے

    اس سے قبل الیکشن کمیشن نے مقدمے میں عدم پیشی پر اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو گرفتار کر کے منگل کی صبح دس بجے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اس ضمن میں اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس الیکشن کمیشن کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے عمران خان کی رہائشگاہ پر گئی تھی اور عمران خان کے وکیل نے وارنٹ گرفتاری وصول کر لیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کل الیکشن کمیشن میں پیش ہوں گے۔‘

    پولیس حکام کے مطابق پیش نہ ہونے کی صورت میں پولیس عمران خان کو گرفتار کرے گی۔

    IK

    ادھر اس وقت اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس، ایف سی کے اہلکار اور میڈیا کے نمائندے موجود ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر اللہ دتہ نے بتایا کہ انھیں عمران خان کی گرفتاری کرنے کا کوئی حکم موصول نہیں ہوا اور ان سے یہی کہا گیا ہے کہ وہ ان کی رہائش گاہ کے باہر ڈیوٹی پر پہنچیں۔

    اس وقت بنی گالہ میں عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی کل تعداد دو درجن کے قریب بتائی گئی ہے۔

    IK
  9. بریکنگ, الیکشن کمیشن کا اسلام آباد پولیس کو چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو گرفتار کرنے کا حکم

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین الیکشن کمیشن کے مقدمے میں عدم پیشی پر اسلام آباد پولیس کو کل عمران خان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین الیکشن کمیشن کے مقدمے میں عدم پیشی پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے آئی جی اسلام آباد کو ناقابل ضمانت وارنٹ کی تعمیل کی ہدایت کی ہے۔ توہین الیکشن کمیشن کے مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کی عدم پیشی پر وارنٹ جاری کیے۔

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہECP

  10. بریکنگ, کل فیک نیوز کے ذریعے کسی کو نگراں وزیر اعظم کا تاج پہنایا گیا: شیری رحمان

    sherry rehman

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و پیپلز پارٹی کی سنیئر رکن شیری رحمان کا کہنا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو کوئی نام نہیں دیے گئے ہیں اور نہ ہی کسی نام پر کوئی اتفاق ہوا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کل میڈیا میں فیک نیوز کے ذریعے کسی کو نگراں وزیر اعظم کا تاج پہنایا گیا ہے لہذا قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دی جائے۔

    واضح رہے گذشتہ روز پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنانے کے حوالے سے خبریں اور تبصرے چلتے رہے ہیں۔

    شیری رحمان نے انھیں خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعظم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا ایک واضح موقف ہے۔ نگران وزیر اعظم ایک غیر جانبدار شخص ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ سے متعلق بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہے۔ آئین میں نگران وزیر اعظم کے انتخاب کا ایک طریقہ کار ہے۔ نگران وزیر اعظم کا فیصلہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مل کر کرتی ہیں اور یہ ایک مشاورتی عمل ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی نام نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

  11. سائفر ایک حقیقت ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ دفتر خارجہ میں بیٹھ کر اسے گھڑا گیا: شاہ محمود قریشی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    شاہ محمود قریشی

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/PTI

    سابق وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کہا ہے کہ سائفر ایک حقیقت تھی اور اب بھی ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ دفتر خارجہ میں بیٹھ کر اسے گھڑا گیا ہے۔

    ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’سائفر کوئی معمولی نوعیت کا نہیں تھا۔ سائفر کے معاملے پر سکیورٹی کمیٹی کے دو مرتبہ اجلاس بلائے گئے۔ پہلا عمران خان اوردوسرا شہباز شریف کی سربراہی میں بلایا گیا تھا۔‘

    واضح رہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے سائفر کے معاملے پر پیر کے روز پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو طلب کیا تھا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد انھوں نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں اجلاسوں میں سائفر کو جھٹلایا نہیں گیا۔‘

    شاہ محمود نے کہا کہ ’سائفر کے معاملے میں ملکی مفاد کو مدنظر رکھا گیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ سائفر پر تحقیقات کے معاملے میں 6 دسمبر کو بھی پیش ہوئے اور آج بھی جو کچھ انہوں نے پوچھا اس پر انھوں نے اپنا موقف دیا ہے۔

    شاہ محمود کے مطابق عمران خان منگل کے روز سائفر کے معاملے میں ایف آئی اے میں پیش ہوں گے۔

    شاہ محمود قریشی سے جب پوچھا گیا کہ کیا فوجی قیادت پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹانے میں ملوث تھی تو اس سوال کا انھوں نے جواب نہیں دیا۔

    ایف آئی اے کے مطابق عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی طرف سے مجسٹریٹ کو دیے گئے بیان کے بعد ان دونوں رہنماؤں کو طلب کیا گیا تھا۔

    سائفر کا معاملہ جب سامنے آیا تھا تو اس وقت شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے۔

  12. ’صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس فارم کا آن لائن اجرا کر دیا گیا، سات اگست کووزیر اعظم انشورنس کارڈ کا باقاعدہ افتتاح کریں گے‘

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہtwitter

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس فارم کا آن لائن اجرا کر دیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگمیب نے کہا کہ جرنسلٹ ہیلتھ انشورنس پورے پاکستان کے صحافیوں کے لیے ہوں گی۔

    مریم اورنگزیب کے مطابق ’ صحافی اور میڈیا ورکز اس آن لائن فارم کے اجرا کے بعد رجسٹریشن کروا سکیں گے۔

    وزیر اطلاعات کے مطابق ’ فیلز میں کام کرنے والے ورکنگ صحافیوں کے علاوہ کیمرے کے آگے اور پیچھے موجود اور ڈیسک پر کام کرنے والے بھی اس ہیلتھ انشورنس میں شامل ہوں گے۔‘

    مریم اورنگزیب کے مطابق ’اس ہیلتھ انشورنس کے ذریعے زندگی کو لاحق ایمرجنسی سروس کی خدمات کور ہوں گی۔ ہیلتھ انشورنس کے ذریعے رینل ٹرانسپلانٹ ، کینسر کا علاج، ڈائلاسز، اینڈو سکوپی، ایمرجنسی، ڈے سرجری ، پوسٹ اور پری سرجری ٹریٹمنٹ، میٹرنٹی بینیفیٹ سمیت بعض او پی ڈی کی سروسز بھی شامل کی گئی ہیں۔‘

    وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزارت اطلاعات و نشریات اور پی آئی ڈی کی ویب سائٹ سے یہ فارم ملے گا۔ اس فارم میں نام سمیت دیگر ذاتی تفصیلات، ادارے کی تفصیلات اور دیگر معلومات پر کرنا ہوں گی جس کے بعد اس کی ای میل آیے گی جس میں کنفرم کیا جائے گا کہ یہ فارم جمع ہو گیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ دور حکومت میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ شہباز شریف چاہتے تھے کہ ورکنگ جرنسلٹ کی ہیلتھ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ سات اگست کو وزیر اعظم اس ہیلتھ انشورنس کے اجرا کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔

  13. ہاتھوں سے واکنگ ٹریک بنانے والے 80 سالہ علی یاور

  14. امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے آرمی چیف سے ملاقات میں علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا: آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے آج راولپنڈی میں ملاقات کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستان کے دورے پر موجود جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا۔‘

    بیان کے مطابق جنرل مائیکل ایرک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں اور کردار کا بھی اعتراف کیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بھی بات چیت کی گئی۔

  15. کسی بھی نئے مقدمے میں گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کیا جائے: عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ گزشتہ 30 روز کے دوران درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

    عمران خان عدالت سے درخواست کی ہے کہ ’عدالت کسی بھی نئے مقدمے میں گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کرے، نئے مقدمات میں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے تک گرفتاری سے روکا جائے۔‘

    عمران خان نے اپنی درخواست میں سیکریٹری داخلہ ، آئی جی اسلام آباد اور ایف آئی اے کو درخواست میں فریق بنایا ہے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ایف آئی اے نے کل سائفر کے معاملے پر طلب کر رکھا ہے۔

  16. بریکنگ, انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 287 روپے،اوپن مارکیٹ میں 293 روپے پر پہنچ گئی, تنویر ملک ، صحافی

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان سوموار کے روز بھی ریکارڈ کیا گیا ہے اور ہفتے کے پہلے کاروباری روز ایک ڈالر کی قیمت میں ایک روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

    اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 287.75 روپے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ دیکھا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 293 روپے کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ درآمدات کے لیے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہے تاہم اس کے ساتھ آئی ایم ایف کی جانب سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں کم فرق رکھنے کی شرط نے بھی انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت کو بڑھایا ہے۔

  17. سپریم کورٹ: وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو شاملِ تفتیش کرنے کی بلوچستان حکومت کی درخواست مسترد, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں قتل ہونے والے وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کے مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو 9 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے کی ایف آئی آر سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت عدالت نے بلوچستان حکومت کی عمران خان کو اس مقدمہ قتل میں شامل تفتیش کرنے کی استدعا کو بھی مسترد کر دیا اور آئندہ سماعت پر بھی عمران خان کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    پیر کے روز ہونے والی سماعت میں عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے وکیل لطیف کھوسہ، پراسیکیوٹر جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان بھی عدالت میں موجود تھے۔

    سماعت کے آغاز پر جسٹس یحیٰی آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار عدالت میں موجود ہیں؟ جس پر چیٸرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نشست پر کھڑے ہو کر حاضری لگوائی۔

    عدالت کے استفسار پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں عمران خان کو نامزد کیا گیا ہے اس لیے پولیس انھیں اس کیس میں شاملِ تفتیش کرنا چاہتی ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اس کیس کے تفتیشی افسرکے سامنے تفتیش کی غرض سے پیش ہونے کے احکامات جاری کریں۔

    عدالت نے پراسکیوٹر جنرل بلوچستان کی چیئرمین پی ٹی آئی کو شامل تفتیش ہونے کی استدعا مسترد کر دی۔ جسٹس یحییٰ خان افریدی نے ریمارکس دیے کہ ’اٹارنی جنرل نے رپورٹ فائل کی ہے، ہم نے کچھ چیزیں دیکھنی ہیں۔ دو ہفتے کی تاریخ مناسب ہے، اس سے آگے نہیں جائیں گے۔‘

    سپریم کورٹ نے 9 اگست تک عمران خان کو وکیل کے قتل کے مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا اور کہا کہ ملزم کوآئندہ سماعت پربھی پیش ہونا ہو گا۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع ہے۔

    اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانح سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اس سے بڑا اور کوئی مذاق نہیں ہو سکتا۔‘

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ سیاسی جماعتوں یا اسٹیبلشمنٹ سے ان کا کوئی رابطہ ہوا ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک بیک ڈور مذاکرات نہیں ہوئے۔‘

    چیئرمن تحریک انصاف عمران خان کی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے کے لیے اسلام آباد پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی اہلکار بھی بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے تھے۔

  18. عبدالرزاق شر ایڈووکيٹ کے قتل کیس کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    بلوچستان میں عبدالرزاق شر ایڈووکيٹ کے قتل کیس میں آئی جی بلوچستان نے تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’ایف آئی آر کے مطابق مقتول کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کی درخواست دینے کی وجہ دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔‘

    رپورٹ کے مطابق ’تحقیقات کے دوران 8 جون کو وزارت داخلہ کی جانب سے 7 رکنی جے آئی ٹی بنائی گئی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں بنائی گئی جے آئی ٹی کی اب تک 8 میٹنگز ہو چکی ہیں۔‘

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں ملزمان کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا، 19 جون کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو طلبی کے نوٹسز بھیجے گئے۔‘

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’متعدد بار نوٹسز بھیجنے کے باوجود عمران خان اب تک شامل تفتیش نہیں ہوئے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ’مقدمہ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت چار ملزمان کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مقتول کی اہلیہ، دو بھائیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘

  19. راوی جہلم اور چناب میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ : پی ڈی ایم اے الرٹ

    سیلاب کا خدشہ

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے 24 سے 30 جولائی کے دوران مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کے پیش نظر خبردار کیا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہےاور راوی، جہلم اور چناب میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے 27 جولائی سے مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران دریائے ستلج، راوی ، چناب اور دریائے جہلم کے بالائی علاقوں میں بارشیں ہوں گی۔

    ترجمان کے مطابق مون سون بارشوں کے نئے سلسلے میں پہلے جیسی شدت نہیں ہوگی۔ انتظامیہ کو ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے 24 گھنٹے الرٹ رہنے کے احکامات دیئے جا چکے ہیں۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ’حالیہ بارشوں سے انڈیا کے ڈیمز 90 فیصد تک بھر چکے ہیں جبکہ ممکنہ بارشوں کے پیش نظر انڈیا کی طرف مزید پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جائے۔

  20. ’آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھائے تاہم 200 یونٹ تک بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جا رہا‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پر عمران خان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا پھر اس کی خلاف ورزی کی اور ملک کو معاشی بحران سے دوچار کیا تاہم اب ڈیفالٹ ہونے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔

    فیصل آباد میں سلک ستیانہ بائی پاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں پر وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ 200 یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔‘

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی قیمتیں ان کے لیے بڑھائی گئئں جو زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔‘