حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو جاری
رکھنے کا فیصلہکیا ہے اور اب کل یعنی بدھ
کے روز نگران حکومت کے اختیارات بڑھانے سے متعلق ترامیم کی منظوری لیے جانے کا
امکان ہے۔
منگل کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی
صدارت میں ہوا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے آج ترامیم کے ساتھ پیش کی
جانے والی قانون سازی کو کل تک مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ جن قوانین میں ترامیم پیش
ہونی ہیں وہ ایک دن کے نوٹس کے سبب اب کل پیش کی جائیں گے۔
آج کے اجلاس کی کارروائی کا مختصر احوال
آج دوران اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق
رکھنے والے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے آج ہونے والی قانون سازی پر
اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ مشترکہ اجلاس کو بھی قومی اسمبلی اور
سینیٹ کی طرح ربڑ سٹیمپ بنانا چاہتے ہیں۔‘
رضا ربانی نے کہا کہ آج کچھ قانون سازی کی
بازگشت ہے اور کوئی سپلیمنٹری ایجنڈا لایا جائے گا مگر جو قانون سازی کی جانی ہے
وہ بل مسودہ کی صورت میں ہمارے پاس نہیں ہے۔
انھوں نے سپیکر کو مشورہ دیا کہ آپ ایسے کھیل
کا حصہ نہ بنیں جس سے مشترکہ اجلاس یا پارلیمنٹ بلڈوز ہو۔ ’اس طرح مت کریں،
قیامت نہیں آجائے گی، پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے اقدام اٹھائیں۔‘
سینیٹر مشتاق احمد نے رضا ربانی کی تائید کرتے
ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو انگھوٹا چھاپ یا ربڑ سٹیمپ نہ بنائیں۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت
نے سمجھنا دور قانون کو پڑھا بھی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہاں ناں ہوجاتی
ہے اور قانون پاس ہوجاتا ہے اس قانون کی کیا اہمیت ہوگی۔‘
انھوں نے کہا کہ باہمی مشورے سے مسائل کا حل
نکالنا ہوتا ہے۔ تاہم ایسا
سین ہے جیسے بھیڑوں کو ہانکا جارہا ہو۔ ان کے مطابق قانون سازی ہورہی ہے لیکن قانون ہمارے
سامنے نہیں ہے، جس سے پارلیمنٹ
کی ساکھ عوام میں خراب ہورہی ہے۔ علی ظفر کے مطابق اب میڈیا بھی قانونی سازی کے
لیے لفظ بلڈوز استعمال کر رہا ہے۔
حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف سے
تعلق رکھنے والے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ’وضاحت کرنا
چاہتا ہوں الیکشن ایکٹ کے حوالہ سے کمیٹی میں موجود رہے۔ تاہم اس دوران
جو ابہام پیدا ہوا وہ نگران وزیر اعظم کے حوالہ سے گفتگو پر ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ
چند ترامیم ایسی ہیں جو ہم نے منظور نہیں کیں۔
انھوںنے کہا کہ نگران حکومت کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ’اگر 230 کی ترمیم کی
بات کر رہے ہیں تو منظور نہیں اور اگر نگران حکومت نے ان ترامیم سے فائدہ اٹھا کر
تین ماہ سے تین سال تک مدت کرنی ہے تو ہمیں قبول نہیں۔‘
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ گزشتہ دور میں ایسا
ہوتا رہا ہے، سیٹیں تبدیل ہونے کے باوجود پارلیمان کا جنازہ نکل رہا ہے۔
ان کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ ہم چائے پینے آئے
ہیں یہاں اور واپس چلے جائیں گے۔‘
ان کے مطابق یہ کیسا ایجنڈا ہے جو یہاں آکر پتہ
چلتا ہے۔
ان کے مطابق ’ہمیں کل بھی منظور نہیں تھا کہ
پارلیمنٹ کے ممبران کو ہانک کر لایا جائے، ہمیں آج یہ بھی
منظور نہیں کہ ان سے انگوٹھا لگوایا جائے۔
وزیردفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی
سینیٹرز کا ایوان میں احتجاج کیا۔ وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پی
ٹی آئی کے ارکان کو کوڑا کرکٹ قرار دے دیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج اس (عمران خان) کے لوگ یہاں
بات کر رہے ہیں جو آرمی چیف کو باپ کہتا تھا۔
آج اس (عمران خان) پی ٹی آئی چئیرمین کی باقیات
رہ گئی ہیں۔ انھوں
نے کہا کہ ’یہ سب اس شخص کا کوڑا کرکٹ ہے جو
عدالتوں سے بھاگ رہا ہے۔‘
خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ’جس
شخص کا دفاع خواتین کریں گی، اس کی بہادری کیا ہوگی‘۔