ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گھروں اور ہسپتال میں پانی داخل

ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارشوں سے شہر میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایبٹ آباد مانسہرہ روڈ پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ ایوب میڈیکل ہسپتال سمیت کئی کالونیوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوا ہے۔

لائیو کوریج

  1. جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس ہمیں بھیجا گیا، ہم نے آگے پہنچا دیا، عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ جس وقت ان کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کیا وہ سپریم کورٹ جج کو جانتے ہی نہیں تھے۔

    بدھ کے دن جب سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس بھیجنے کو اپنی غلطی مانتے ہیں تو عمران خان نے کہا کہ ’میں تو قاضی فائز عیسی کو جانتا بھی نہیں تھا۔‘

    ’میری تو جسٹس فائز عیسی سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تو ریفرنس بھیجا گیا تھا ہم نے آگے پہنچا دیا۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو ریفرنس اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا تھا تو چیئرمین پی ٹی آئی نے مسکراتے ہوئے جوابی سوال کیا کہ ’کیا آپ کو کسی قسم کا شک ہے۔‘

  2. سپریم کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ ٹرائل کیس روکنے کے لیے دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار اور جج ہمایوں دلاور پر اعتراضات سے متعلق پی ٹی آئی چیئرمین کی درخواستوں پر ایک ساتھ فیصلہ کرے۔

    بدھ کے دن کیس کی سماعت کے دوران جسٹس یحیی آفریدی نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’مجھے امید ہے آپ مکمل تیاری سے آئے ہیں۔‘

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ’ہماری طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو درخواستیں التواء کا شکار ہیں‘ جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ ’آپ نے ان درخواستوں کا ذکر اس درخواست میں کیا ہے؟‘

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار اور جج ٹرانسفر کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔‘

    خواجہ حارث نے درخواستیں کے نمبر اور متن پڑھ کر سنایا تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ یہ چاہتے ہیں ہائیکورٹ دونوں اپیلوں پر فیصلہ کرے۔‘

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ’جی بلکل ہم چاہتے ہیں ان کا فیصلہ ہو۔‘

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں تو حکم ٹرائل کورٹ کو کیسے کر دیں۔‘

    سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ’ہائیکورٹ کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کی اپیل اور تمام درخواستوں پر ایک ساتھ فیصلہ کرے تاہم ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں مداخلت مناسب نہیں ہو گی۔‘

    سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو کیس کا جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

  3. 40 برس سے انڈین شہریت کی منتظر پاکستان کی سلمیٰ: ’بچوں کے بغیر ماں نہیں رہ سکتی‘

  4. ہمارے دور میں نیب نے این سی اے معاملے پر مطمئن ہو کر انکوائری بند کر دی تھی، عمران خان

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ نیب نے این سی اے اور ملک ریاض کے درمیان معاہدے پر ان کے دور حکومت میں انکوائری کرنے کے بعد مطمئن ہو کر کیس بند کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’نیب اس وقت این سی اے سے رابطے میں تھا اور یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر حسن شریف نے جو پچاس ملین پاونڈ میں علی ریاض ملک کو گھر بیچا تھا، وہ پیسہ نہیں آتا تو پھر نیب اور این سی اے کی کارروائی ہو گی۔‘

    ’انھوں نے مان لیا تھا کہ سپریم کورٹ میں پیسہ آ جائے گا۔ وہ انکوائری بند ہو گئی تھی۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جب آفتاب سلطان نیب کے چیئرمین بنے تو ان پر بھی زور لگایا گیا کہ عمران خان کے اوپر کچھ کرو تو انھوں نے انکار کر دیا۔ پھر موجودہ نیب چیئرمین کو لے کر آئے ہیں جس نے اس انکوائری کو پھر کھولا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جب نیب نے مجھے تین گھنٹے بلا کر سوال جواب کیے تو ان کو پتہ تھا کہ پہلے یہ انکوائری بند ہو چکی ہے۔‘

    عمران خان نے دعوی کیا کہ بطور وزیر اعظم ان کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ نیب نے کوئی انکوائری کی ہے کیوں کہ ’ہمارا نیب آزاد تھا، ہم تو نیب میں کوئی مداخلت نہیں کرتے تھے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں اسی وقت ان کی یہ انکوائری ختم کر دیتا۔‘

    ’یہ ہو نہیں سکتا کہ انکوائری ختم ہو جائے اور آپ پھر سے اس انکوائری کو چلوا دیں جب تک کوئی نئے شواہد نہ آ جائیں۔‘

  5. باڑہ تھانے میں زخمی ہونے والا شخص، جس نے خودکش حملہ آور کی کلاشنکوف پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی

  6. پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، انتخابات ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا

    پاکستان کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کے دن ساڑھے بارہ بجے منعقد ہو گا جس میں مختلف بل پیش کیے جائیں گے۔

    قومی اسمبلی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران انتخابات ایکٹ 2017 ترمیمی بل، دیوانی ملازمین ترمیمی بل، بینکار کمپنیات ترمیمی بل، انسداد نشہ آور اشیا ترمیمی بل سمیت دیگر امور پر غور کیا جائے گا۔

  7. سیکرٹ کوڈ دفتر خارجہ میں رہ جاتا ہے، وزیراعظم سمیت باقی عہدیداران کو سائفر کا مفہوم بھیجا جاتا ہے: عمران خان

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر قوم سے خطاب میں کہا کہ آج انھوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سامنے سائفر کے معاملے پر اپنا بیان ریکارڈ کیا ہے۔

    ان کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں ایف آئی اے کو بتایا کہ وزیراعظم، ڈی جی آئی ایس آئی، آرمی چیف اور دیگر اہم عہدیداران کے پاس کسی بھی سائفر کا مفہوم بھیجا جاتا ہے جبکہ سیکرٹ کوڈ دفتر خارجہ ہی میں رہ جاتا ہے، اس لیے سیکرٹ کوڈ عام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    عمران خان کے مطابق ’وزیراعظم نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر سکتا ہے، جس میں آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیفس ہوتے ہیں اور میں نے سائفر کا مفہوم اس فورم کے سامنے رکھ دیا۔‘ ان کے مطابق ’اس فورم پر فیصلہ ہوا کہ امریکہ کو اس سائفر پر ڈی مارش کریں گے کیونکہ امریکی سفیر نے وزیراعظم کو دھمکی دی تھی۔‘

  8. ایسا لگتا ہے کہ مشترکہ اجلاس کو بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی طرح ربڑ سٹیمپ بنانا چاہتے ہیں: میاں رضا ربانی

    حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو جاری رکھنے کا فیصلہکیا ہے اور اب کل یعنی بدھ کے روز نگران حکومت کے اختیارات بڑھانے سے متعلق ترامیم کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔

    منگل کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے آج ترامیم کے ساتھ پیش کی جانے والی قانون سازی کو کل تک مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ جن قوانین میں ترامیم پیش ہونی ہیں وہ ایک دن کے نوٹس کے سبب اب کل پیش کی جائیں گے۔

    آج کے اجلاس کی کارروائی کا مختصر احوال

    آج دوران اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے آج ہونے والی قانون سازی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ مشترکہ اجلاس کو بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی طرح ربڑ سٹیمپ بنانا چاہتے ہیں۔‘

    رضا ربانی نے کہا کہ آج کچھ قانون سازی کی بازگشت ہے اور کوئی سپلیمنٹری ایجنڈا لایا جائے گا مگر جو قانون سازی کی جانی ہے وہ بل مسودہ کی صورت میں ہمارے پاس نہیں ہے۔

    انھوں نے سپیکر کو مشورہ دیا کہ آپ ایسے کھیل کا حصہ نہ بنیں جس سے مشترکہ اجلاس یا پارلیمنٹ بلڈوز ہو۔ ’اس طرح مت کریں، قیامت نہیں آجائے گی، پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے اقدام اٹھائیں۔‘

    سینیٹر مشتاق احمد نے رضا ربانی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو انگھوٹا چھاپ یا ربڑ سٹیمپ نہ بنائیں۔

    سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت نے سمجھنا دور قانون کو پڑھا بھی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہاں ناں ہوجاتی ہے اور قانون پاس ہوجاتا ہے اس قانون کی کیا اہمیت ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ باہمی مشورے سے مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے۔ تاہم ایسا سین ہے جیسے بھیڑوں کو ہانکا جارہا ہو۔ ان کے مطابق قانون سازی ہورہی ہے لیکن قانون ہمارے سامنے نہیں ہے، جس سے پارلیمنٹ کی ساکھ عوام میں خراب ہورہی ہے۔ علی ظفر کے مطابق اب میڈیا بھی قانونی سازی کے لیے لفظ بلڈوز استعمال کر رہا ہے۔

    حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ’وضاحت کرنا چاہتا ہوں الیکشن ایکٹ کے حوالہ سے کمیٹی میں موجود رہے۔ تاہم اس دوران جو ابہام پیدا ہوا وہ نگران وزیر اعظم کے حوالہ سے گفتگو پر ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چند ترامیم ایسی ہیں جو ہم نے منظور نہیں کیں۔

    انھوںنے کہا کہ نگران حکومت کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ’اگر 230 کی ترمیم کی بات کر رہے ہیں تو منظور نہیں اور اگر نگران حکومت نے ان ترامیم سے فائدہ اٹھا کر تین ماہ سے تین سال تک مدت کرنی ہے تو ہمیں قبول نہیں۔‘

    کامران مرتضیٰ نے کہا کہ گزشتہ دور میں ایسا ہوتا رہا ہے، سیٹیں تبدیل ہونے کے باوجود پارلیمان کا جنازہ نکل رہا ہے۔

    ان کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ ہم چائے پینے آئے ہیں یہاں اور واپس چلے جائیں گے۔‘

    ان کے مطابق یہ کیسا ایجنڈا ہے جو یہاں آکر پتہ چلتا ہے۔

    ان کے مطابق ’ہمیں کل بھی منظور نہیں تھا کہ پارلیمنٹ کے ممبران کو ہانک کر لایا جائے، ہمیں آج یہ بھی منظور نہیں کہ ان سے انگوٹھا لگوایا جائے۔

    وزیردفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی سینیٹرز کا ایوان میں احتجاج کیا۔ وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پی ٹی آئی کے ارکان کو کوڑا کرکٹ قرار دے دیا تھا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ آج اس (عمران خان) کے لوگ یہاں بات کر رہے ہیں جو آرمی چیف کو باپ کہتا تھا۔

    آج اس (عمران خان) پی ٹی آئی چئیرمین کی باقیات رہ گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ سب اس شخص کا کوڑا کرکٹ ہے جو عدالتوں سے بھاگ رہا ہے۔‘

    خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ’جس شخص کا دفاع خواتین کریں گی، اس کی بہادری کیا ہوگی‘۔

  9. عمران خان کے خلاف دائر غداری کے مقدمے پر سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں غداری کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔

    عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی کو غیر قانونی طورپرتحلیل کرانے پرآرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے لیے ایک آئینی درخواست سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے دائر کر رکھی ہے۔

    درخواست میں ہائیکورٹ سے عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اورجسٹس گل حسن ترین پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل رؤف عطا ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین تحریک انصاف کو ان کی رہائش گاہ پر پیشی کا نوٹس بجھوایا گیا ہے۔لیکن ان کی جانب سے نوٹس کی تعمیل نہیں ہو رہی ہے۔

    عدالت نے درخواست پر سماعت دو ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کو پیشی کا نوٹس ’کورئیر‘ کے ذریعے تعمیل کروانے کی رپورٹ پیش کی جائے۔

  10. سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہوں: پرویز الٰہی نے ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ پرویز الٰہی نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حفاظتی ضمانت کا حکم معطل کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پرویز الٰہی نے پنجاب حکومت کا حراست میں رکھنے کا حکم نامہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے حفاظتی ضمانت دی، جسے پنجاب حکومت نے چیلنج کر دیا۔

    درخواست کے مطابق پنجاب حکومت کی اپیل پر ڈویژن بینچ نے حفاظتی ضمانت کا فیصلہ معطل کر رکھا ہے۔

    پرویز الٰہی کے مطابق موجودہ کیس میں سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر نہیں ہوسکتی تھی۔

    درخواست کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر سیاسی بنیادوں پر دبائو ڈالا جا رہا ہے۔

    پرویز الٰہی نے درخواست کی کہ سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کا حکم کالعدم قرار دے۔

  11. عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق درخواست پر کل سپریم کورٹ میں سماعت ہو گی

    سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ عمران خان کے خلاف قائم توشہ خانہ کیس کی ایک درخواست پر بدھ کو سماعت کرے گا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خـان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داہر کر رکھی ہے۔

    جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ عمران خان کی اس درخواست پر سماعت کرے گا۔

  12. ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ، 288 روپے کی سطح سے اوپر بند, تنویر ملک، صحافی

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا جب ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک ڈالر کی قیمت گزشتہ روز کے مقابلے میں 60 پیسے اضافے کے بعد قیمت 288.52 روپے پر بند ہوئی۔

    کاروبار کے دوران ایک مرتبہ ڈالر کی قیمت 289 روپے تک بھی چلی گئی تاہم پھر اس میں تھوڑی کمی دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سے ڈالر کی قیمت میں تسلسل سے اضافے کا رجحان جاری ہے، جس کی وجہ درآمدات کی ایل سیز کھولنے کے لیے ڈالر کی زیادہ طلب ہے جو پاکستانی کرنسی پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہا ہے، دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری ہے اور منگل کے روز انڈیکس 360 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

  13. پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن ایکٹ میں تمام ترامیم متفقہ طور پر منظور ہوئی ہیں: وزیرقانون

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرقانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن ایکٹ میں تمام ترامیم متفقہ طور پر منظور کی ہیں۔ ان کے مطابق

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ ہمارے دل کے قریب ہے، سنہ 2017 کا الیکشن ایکٹ بہت محنت سے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ہم یہاں قانون سازی کرنے آتے ہیں اور آئین میں وقت کے ساتھ ساتھ کچھ ترامیم کرنا پڑتی ہیں۔

    وزیر قانون نے کہا ہے کہ ڈیڑھ برس قبل دو منٹ میں 57 ترامیم کی گئیں۔ وزیر قانون نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کی رات ختم ہو رہی ہے، تو ایسے میں دو دو سال سے زیرالتوا بل بھی پر فیصلے کرنے ہیں۔

  14. پہاڑی پتھر تلے دبے سکردو کے خاندان کی وائرل ویڈیو: لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں میں کیا احتیاط ضروری ہے؟

  15. وزیر داخلہ رانا ثنااللہ دہشت گردی کے مقدمے سے بری, احتشام شامی، صحافی

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مدعی مقدمہ کے منحرف ہونے پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو سرکاری افسران کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ چیف سیکریٹری پنجاب ، کمشنر لاہور سمیت دیگر افسران اور ان کے خاندان کے افراد کو دھمکانے پر رانا ثناءاللہ کے خلاف 25 اگست 2022 کو مسلم لیگ ق کے مقامی رہنما شہکاز اسلم کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف تھانہ انڈسٹریل ایریا گجرات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    رانا ثناءاللہ آج انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے ، عدالت نے وزیر داخلہ کے ضمانتی کو بھی آج عدالت پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا کیونکہ مقدمہ میں بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر رانا سعد نے رانا ثناء اللہ کی ضمانت دی تھی۔

    تاہم منگل کو ہونے والی سماعت میں مدعی مقدمہ شہکاز اسلم اپنے الزام سے منحرف ہوگیا جس پر عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو مقدمہ سے بری کردیا۔

    یاد رہے اس مقدمہ میں رانا ثناء اللہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں ملکی اداروں اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اور چیف سیکرٹری پنجاب ، کمشنر لاہور سمیت سرکاری افسران اور ان کی فیملیز کو دھمکیاں دی ہیں۔

    رواں سال 24 فروری کو گجرات پولیس نے اس مقدمہ کی تفتیش مکمل کرکے اخراج مقدمہ کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا اور ایس پی انویسٹی گیشن گجرات سمیت تفتیشی ٹیم کو طلب کرلیا تھا جبکہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے

  16. بریکنگ, توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت دو اگست تک ملتوی، فرد جرم عائد کرنے کے لیے عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ، اسلام آباد

    عمران خان کی پیشی

    ،تصویر کا ذریعہKhaleeq Ahmed

    الیکشن کمیشن میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے کی۔

    عمران خان کی جانب سے خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت سے مہلت مانگ لی۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آج عمران خان پر فرد جرم عائد کرنی ہے۔

    جس پر عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ وہ آج پہلی بار پیش ہوئے ہیں اور ان کے پاس ریکارڈ نہیں۔

    ممبر حیبر پختونخوا نے ریمارکس دیے کہ فائل اور ریکارڈ دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی درخواست منظور کرلی۔ الیکشن کمیشن نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے عمران حان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی اور کیس کی سماعت دو اگست تک ملتوی کردی گئی۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس میں فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ جمع کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ اسد عمر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو میڈیا پر دھمکیاں دینے اور ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر الیکشن کمیشن میں کیس زیر سماعت ہے جبکہ اسد عمر اور فواد چوہدری پر بھی الیکشن کمیشن اور ممبران الیکشن کمیشن کی توہین اور ان کے خلاف دھمکی آمیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہkhaleeq Ahmed

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو آج ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    اس سے قبل الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز مقدمے میں عدم پیشی پر اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو گرفتار کر کے منگل کی صبح 10 بجے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    پولیس الیکشن کمیشن کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے عمران خان کی رہائشگاہ پر گئی تھی اور عمران خان کے وکیل نے وارنٹ گرفتاری وصول کر لیے اور آج الیکشن کمیشن میں عمران خان ذاتی حیثیت میں پیش ہو ئے۔

  17. پاکستان کی معاشی کامیابی امریکہ کی سب سے اہم ترجیح ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے فون پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی ’معاشی بحالی‘ میں امریکی معاونت کے حوالے سے بات کی ہے اور ’افغانستان سمیت خطے کے دیگر خدشات‘ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    پیر کی رات گئے ایک ٹویٹ میں انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ’امریکہ پاکستان کے ساتھ معنی خیز، جمہوری اور خوشحالی پر مبنی شراکت کا خواہاں ہے۔‘

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلنکن اور بلاول نے پاکستان امریکہ تعلقات میں ’مثبت سمت‘ پر اتفاق کیا اور اتفاق کیا کہ اس بارے میں آئندہ بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ امن، سکیورٹی اور ترقی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک اعلامیے میں بتایا ہے کہ ’سیکریٹری بلنکن نے امریکہ کی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ تعاون پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کا معاشی اعتبار سے کامیاب ہونا امریکہ کی سب سے اہم ترجیح ہے۔‘

    بلنکن کی جانب سے آئی ایم ایف کے اسلام آباد سے معاہدے کی منظوری کو خوش آئند قرار دیا ہے اور ’معاشی بحالی اور خوشحالی کے حوالے سے اصلاحات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پاکستان کے لوگ دہشتگرد حملوں میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ’امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں شراکت دار رہے گا۔‘

    خیال رہے کہ یہ فون کال ارمیکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے چیف جنرل مائیکل ایرک کریلا کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کے بعد ہوئی ہے جس میں انھوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے جاری کوششوں کو سراہا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل کریلا نے جنرل عاصم منیر سے راولپنڈی میں ملاقات کی ہے۔

  18. بریکنگ, توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان پیش, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان الیکشن کمیشن کے کمرہ عدالت پہنچ گئے۔

    چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کچھ دیر بعد شروع ہوگی۔

    چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین ، فیصل چوہدری، نعیم پنجوتھہ، علی بخاری سمیت دیگر وکلاء بھی عمران خان کے ہمراہ موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو میڈیا پر دھمکیاں دینے اور ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر الیکشن کمیشن میں کیس زیر سماعت ہے۔

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    اس سے قبل الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز مقدمے میں عدم پیشی پر اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو گرفتار کر کے منگل کی صبح 10 بجے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    پولیس الیکشن کمیشن کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے عمران خان کی رہائشگاہ پر گئی تھی اور عمران خان کے وکیل نے وارنٹ گرفتاری وصول کر لیے اور آج الیکشن کمیشن میں عمران خان پیش ہو گئے ہیں۔

  19. اسلام آباد: جج کے گھر میں کمسن ملازمہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج، ’بچی کے سر پر زخم تھے جن میں کیڑے پڑ چکے تھے‘

  20. ایف آئی اے میں پیشی کے دوران ممکنہ گرفتاری کے خلاف عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلہ محفوظ

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ایف آئی اے میں طلبی کے دوران ممکنہ طور پر گرفتاری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست کی سماعت کی۔ عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے سائفر کی تفتیش کے لیے سابق وزیر اعظم کو آج (25 جولائی) کو طلب کر رکھا ہے اور عمران خان نے ممکنہ گرفتاری سے روکنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کے روبرو بتایا کہ یہ بڑا افسوس ناک ہے کہ وزیراعظم ہاؤس بھی محفوظ نہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تو ریکارڈنگ سامنے آئی تھی۔

    لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ سائفر کو نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ڈسکس کیا، پھر امریکہ سے احتجاج بھی ہوا، امریکہ کو پیغام دیا گیا تھا کہ ریاست پاکستان کے لیے یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ جب وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹایا گیا تو پھر نئی حکومت تشکیل پائی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت دوبارہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں سائفر کی دوبارہ تصدیق کی گئی۔

    وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ کابینہ کی ہدایات پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی۔ 30 نومبر 2022 کے ایف آئی اے کے نوٹس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

    لطیف کھوسہ کے مطابق انھیں کہا گیا اسلام آباد کا نوٹس ہے تو اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں۔

    عمران خان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ یہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بات نہیں بلکہ وزیراعظم آفس کی بات کی ہے۔ بنیادی طور پر 19 جولائی کا ایف آئی اے کا نوٹس چیلنج کیا گیا ہے۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ وزیر داخلہ کہتے ہیں انکوائری کے وقت عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔