پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پرویز خٹک کے ایک حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: جسٹس منصور علی شاہ کے بنچ سے الگ ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے چھ رکنی بنچ نے سماعت شروع کر دی

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ سے علیحدہ ہونے کے بعد اس مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

    جسٹس اعجاز لاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عاٸشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں۔

    دوبارہ سماعت شروع ہونے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل حامد خان نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ہماری درخواست پر نمبر نہیں لگا۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے ہر بعد میں آئیں گے، ابھی ہم ایک سیٹ بیک سے رکور کر کے آرہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں دلائل کے بجائے دیگر حربے آزمائے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے حامد خان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں بھی مختلف استدعائیں کر رکھی ہیں۔ جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ میں ان سے میں سے صرف ملٹری کورٹ والی استدعا پر فوکس کروں گا۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کو بعد میں دیکھیں گے۔

  2. آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکان پر سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں تقریباً 1000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز کے آغاز پر کاروبار میں زبردست تیزی کا رجحان جاری ہے اور کاروبار کے آغاز کے پہلے ایک گھنٹے میں انڈیکس میں تقریباً 1000پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

    مارکیٹ میں اس وقت سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا رجحان غالب ہے جس کی وجہ سے انڈیکس میں اضافہ دیکھا گیا۔

    سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ حکومت کی جانب سے پاس کیا جانے والا بجٹ ہے جس میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگا دیے گئے ہیں۔

    اس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکان کی امید پیدا ہوگئی ہے جو گذشتہ سال نومبر سے التوا کا شکار ہے۔

  3. فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    supremecourt

    ،تصویر کا ذریعہsupremecourt

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

    پیر کے روز اس کیس کی سماعت کا آغاز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیا۔ سماعت کے آغاز پر ہی وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جسٹس منصور علی شاہ سے بینچ سے علیحدہ ہونے کی درخواست کی۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آ کر بینچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس کیس میں ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں جس کے باعث مذکورہ جج کے کنڈکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ (اٹارنی جنرل) کی خواہش پر بینچ نہیں بن سکتے،آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر اعتراض اٹھا رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کس بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں، مفادات کا ٹکراؤ یا جاںبداری کی بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ آپ ہمیں ہم خیال ججز کا طعنہ دیتے ہیں ،ہم نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو سزا نہیں سنائی،ہم سمجھتے ہیں یہ وقت ایک قدم پیچھے ہٹنے کا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ (اٹارنی جنرل) ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں۔ ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں بار بار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازع بنا رہے ہیں۔‘

    اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’درخواست گزار جواد ایس خواجہ ایک درویش صفت انسان ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ ان کو کیا فائدہ دیں گے؟‘

    اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے تو پہلے ہی دن آ کر کہا تھا کہ کسی کو اعتراض ہے تو بتا دیں۔‘

    اس گفتگو کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اعتراض کے بعد وہ یہ کیس نہیں سن سکتے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’بینچ ٹوٹنے کے بعد ابھی ہم اٹھ رہے ہیں اور مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے تحمل کا مظاہرہ کیا اور یہ کہ سپریم کورٹ کے پاس چھڑی نہیں ہے تو دیگر افراد کیوں چھڑی کا کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

    یاد رہے کہ اس بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھیں۔

  4. محکمہ ریلیف نے مون سون کے خطرات سے نمنٹے کی حکمت عملی بنا لی ہے, عزیزاللہ خان - بی بی سی اردو پشاور

    سیکریٹری ریلیف عبدالباسط نے کہا ہے کہ جامع حکمت عملی کا مقصد آفات کےخطرات کو کم کرنا اور بروقت ردعمل فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق محکمہ ریلیف کے زیر انتظام پی ڈی ایم اے نے گزشتہ تجربات کی روشنی میں اہم اسباق کو پلان میں شامل کیا ہے۔

    ترجمان محکمہ ریلیف کے مطابق منصوبے کی تیاری میں ضلعی انتظامیہ، صوبائی، وفاقی لائن محکموں اور ہیومینٹیرین پارٹنرز نے فعال کردارادا کیا ہے۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ منصوبے کا مقصد لوگوں کی زندگیوں اور معاش کی حفاظت کرنا ہے۔

    پلان کے مطابق دس اضلاع چترال اپر، چترال لوئر، سوات، ڈی آئی خان، ٹانک، چارسدہ، نوشہرہ، کوہستان اپر، شانگلہ اور دیر اپر کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ چھ دیگر اضلاع، مالاکنڈ، دیر لوئر، تورغر، کوہستان لوئر، کولائی پالاس کوہستان اور پشاور کو ہائی رسک کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

    محکمہ ریلیف تمام سٹیک ہولڈرز کی سفارشات سے پلان کومؤثر طریقے سے نافذ کرنےکے لیے پُرعزم ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کومشینری اورامدادی سامان فراہم کردیا ہے۔ عبدالباسط کے مطابق بوقت ضرورت دیگر امدادی سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔

    ترجمان کے مطابق محکمہ ریلیف کے زیر انتظام صوبے بھر میں فرضی مشقیں بھی جاری ہیں۔ محکمے نے پانی کی سطح کو مانیٹر کرنے کے لیے قبل از وقت وارننگ دینے کے لیے سات اہم پوائنٹس پانچ دریاؤں اور دو نالوں پر فلڈ ارلی وارننگ سسٹم نصب کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے پانی کے خطرناک سطح پر پہنچتے ہی سسٹم الرٹ سگنلز پیدا کرتا ہے۔

    ارلی وارننگ سسٹم پی ڈی ایم اے کے ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے ساتھ مکمل کنکٹ رہتا ہے۔

  5. ایف آئی اے کا مزید مبینہ سمگلر گرفتار کرنے کا دعویٰ, شہزاد ملک - بی بی سی اردو

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ یونان کشتی حادثہ کیس میں اس نے مبینہ سمگلروں کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے اور اس میں اسے کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔

    ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی کے مطابق اس نے اب تک یونان کشتی حادثے میں پانچ مقدمات درج کیے ہیں جبکہ مختلف کارروائیوں میں چھ مبینہ انسانی سمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کو کلرسیداں، جھنگ اور پشاور سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یونان کشتی حادثے کے بعد سے ایف آئی اے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پریس ریلیز کے ذریعے اپنی کارکردگی رپورٹ میڈیا سے شئیر کرتا ہے۔ تاہم ابھی تک عدالتوں سے کسی مبینہ سمگلر کو ابھی سزا نہیں ہوئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی اے کی کارکردگی پریس ریلیز سے زیادہ طریقہ تفتیش سے واضح ہو سکے گی جب وہ مبینہ سمگلروں کے گرفتاری کے دعوے کو عدالتوں میں ثابت کرے گی۔

  6. مودی اور امریکہ کے بیانات سے تکلیف پہنچی، آج پاکستان تنہا ہے: عمران خان

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں امریکہ اور انڈیا کے اس مشترکہ بیان سے تکلیف پہنچی ہے جس میں پاکستان سے سرحد پار دہشتگردی روکنے کے لیے اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مودی نے کہا کہ پاکستان کی تو بات نہ کرو، ہمارا شراکت دار اب امریکہ ہے۔ پاکستان تو اپنے بوجھ کے اندر کی ختم ہو رہا ہے۔ یہ تکبر بھرا بیان دورۂ امریکہ پر سامنے آیا۔‘

    ’ظاہر ہے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور ٹیکنالوجی کے معاہدوں پر دستخط کر کے ان میں تکبر آ گیا ہے کہ ہم امریکہ کے شراکت دار بن گئے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے افسوس یہ ہے کہ ایک آدمی کی جانب سے وہ لوگ اوپر بٹھائے گئے ہیں جسے لگتا تھا کہ اس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ جو مرضی کر سکتا ہے۔‘

    ’ہماری طرح کے لوگوں کا جینا مرنا یہیں ہے۔۔۔ این آر او لینے والے ملک کے فیصلے کر رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ بیٹھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پھر حیران ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر کیوں ہم پر تنقید کی جا رہی ہے، جو تنقید کرتا ہے وہ غدار ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’بحیثیت پاکستانی مجھے انڈیا اور امریکہ کے مشترکہ بیان پر تکلیف ہوئی۔ ہمیں (اس بیان میں) وہاں لا کر کھڑا کیا گیا کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی میں ملوث ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اسے ختم کریں۔ اس کے خلاف وزیر اعظم کے منھ سے کچھ نہیں نکلے گا۔‘

    ’بلاول کے دوروں کا یہ نتیجہ ملا کہ جو ان کی 14 ماہ سے خدمت کر رہے ہیں، ان کی طرف سے ایسا بیان ملا کہ پاکستان کی حیثیت بتا دی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ایسی خارجہ پالیسی بنا دی ہے کہ ہم دنیا سے اچھی اچھی باتیں کریں، انھیں آم کی ٹوکریاں بھجوا دیں اور ان کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر بات کریں، ایسی باتیں نہیں چلتیں۔ آج پاکستان کو آئسولیشن (تنہائی) کا سامنا ہے۔‘

  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ملک کی تازہ ترین سیاسی و معاشی صورتحال اور دیگر خبروں سے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔

    25 جون تک کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔