پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پرویز خٹک کے ایک حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان معاہدے کے لیے پہلے ہی پیشگی اقدامات اٹھا چکا ہے: آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان اس معاہدے کے لیے پہلے ہی پیشگی شرائط پر عملدرآمد کر چکا ہے۔ مشن نے اس حوالے سے ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے اور بجٹ کی منظوری کی مثالیں دی ہیں۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان سے افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا ہے تا کہ عام آدمی پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ آئی ایم ایف نے بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام کی بھی خصوصی تعریف کی ہے جس کے تحت غریب خاندانوں تک مدد کو یقینی بنانا ہے۔

    مشن نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی معیشیت کو متعدد جھٹکے لگے ہیں جس میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات نمایاں ہیں۔

    آئی ایم ایف نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اب پاکستان مختلف دیگر فورمز سے بھی قرضے حاصل کر سکے گا جس سے اسے معاشی استحکام کی طرف بڑھنے میں مدد مل سکے گی۔

  2. آئی ایم ایف کے سٹینڈ بائی معاہدے سے کیا مراد ہے؟

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ تین ارب ڈالر کا سٹاف لیول کا سٹینڈ بائی معاہدہ ہو گیا ہے۔ اب ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سینڈ بائی معاہدہ کیا ہوتا ہے؟

    پاکستان کے معاشی حالات کے تناظر میں آئی ایم ایف کے دو پروگرام بہت اہم ہیں: ’سٹینڈ بائی ارینجمنٹ‘ (ایس بی اے) اور ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی' (ای ایف ایف) ہیں۔

    آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق ’سٹینڈ بائی ارینجمنٹ‘ سے مراد ہے کہ قلیل مدتی فنانسنگ کے ذریعے کسی ملک کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کی جائیں۔ ایسے میں کم آمدنی والے ممالک کی اسی صورت میں مدد کی جاتی ہے اگر وہ ان مشکلات کو دور کریں جن کی بدولت انھیں فنڈنگ کی ضرورت پیش آئی تھی۔

    اس قسم کی فنانسنگ کی مدت 12 سے 24 ماہ تک ہوسکتی ہے مگر 36 ماہ سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ جبکہ فنانسنگ کی رقم ساڑھے تین سے پانچ سال میں لوٹائی جاتی ہے۔

    ایس بی اے، آئی ایم ایف کا ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مرکزی منصوبہ ہوتا ہے۔ عموماً یہ ان ملکوں کو دیا جاتا ہے جنھیں کم وقت میں ادائیگیوں میں توازن لانے کے لیے قرضے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اس کی شرح سود عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوتی ہے لیکن آئی ایم ایف کے مطابق یہ ہمیشہ دوسرے نجی قرضوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

    وہ ممالک جنھوں نے آئی ایم ایف سے اصلاحاتی قرضہ لیا لیکن اس کی شرائط میں طے کیے گئے ہدف پورے نہ کر سکے تو انھیں سہارے کے لیے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت مزید قرض دیا جاتا ہے۔

    اس کے برعکس ای ایف ایف وسط مدتی پروگرام ہے جس کا مقصد صرف ادائیگیوں میں توازن نہیں بلکہ اس کی خاص توجہ ملک کی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی ہوتی ہے۔

    یہ منصوبہ تین سال کا ہوتا ہے لیکن اسے ایک برس تک کی توسیع مل سکتی ہے جبکہ رقم کی واپسی چار سے دس سال کے عرصے میں کی جاتی ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق ملک کی معیشت کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٹھیک راہ پر لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اسی وجہ سے ای ایف ایف کا دورانیہ زیادہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایس بی اے کی مدت بھی کم ہوتی ہے، اس میں شرائط بھی کم ہوتی ہیں اور یہ اس وقت دیا جاتا ہے جب آپ پہلے سے اصلاحاتی پروگرام پر چل رہے ہوتے ہیں لیکن اس کو مکمل کرنے کے لیے آپ کو کچھ مزید مدد چاہیے ہو۔

  3. بریکنگ, پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ تین ارب ڈالر کا معاہدہ ہو گیا

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تین بلین ڈالر کا سٹاف لیول کا سٹینڈ بائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مشن کا پاکستان کے ساتھ تین بلین ڈالر کا سٹاف لیول کا معاہدہ طے پایا گیا ہے۔

    اس معاہدے کی منظوری ابھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے ہونی ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری جولائی کے وسط میں دیے جانے کا امکان ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق سٹینڈ بائی ارینجمنٹس پاکستانی حکام کو حالیہ بیرونی دباؤ کی شکار معیشیت کو استحکام کی طرف لے جاانے میں مدد دے گا۔ مشن کے مطابق یہ معاہدہ ’میکرو اکنامک‘ استحکام کو برقرار رکھنے اور کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے فنانسنگ کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنے کے لیے حکام کی فوری کوششوں کی حمایت کرے گا۔

    مشن کی پریس ریلیز کے مطابق نیا ایس بی اے پاکستانی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے ملکی آمدنی کو بہتر بنانے اور محتاط اخراجات پر عمل درآمد کے ذریعے سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے جگہ بھی پیدا کرے گا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق ’پاکستان کے موجودہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مستحکم پالیسی پر عمل درآمد کلیدی حیثیت کا حامل ہے، جس میں زیادہ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی دباؤ کو جذب کرنے کے لیے مارکیٹ کا تعین شدہ زر مبادلہ کی شرح، کاروباری ماحول اور اصلاحات پر مزید پیش رفت، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، ’کلائمنٹ رزیلیئنس‘ کو فروغ دینے، اور بہتر بنانے میں مدد کرنا اس معاہدے کے اہم اہداف ہیں۔

  4. لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عید کے روز کوئٹہ اور گوادر میں مظاہرے, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    کوئٹہ
    ،تصویر کا کیپشنکوئٹہ

    بلوچستان کے دو شہروں کوئٹہ اور گوادر کے علاوہ کراچی میں عیدالاضحیٰ کے روز لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔

    کوئٹہ اور کراچی میں ریلیاں اور مظاہرے بلوچ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے جبکہ گوادر میں ریلی کا اہتمام حق دو تحریک نے کیا تھا۔

    کوئٹہ میں ریلی کا آغاز وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اور دیگر عہدیداروں کی قیادت میں پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کے کیمپ سے ہوا۔ ریلی میں خواتین اور بچوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

    ریلی کے شرکا عدالت روڈ اور جناح روڈ سے ہوتے ہوئے واپس پریس کلب کے سامنے پہنچنے جہاں مقررین نے ان سے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ پیاروں کی گمشدگی ایک ایسی اذیت ہے جو کہ کبھی خوشی نہیں منانے نہیں دیتی جس کی وجہ سے وہ عید کے روز بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔

    گوادر
    ،تصویر کا کیپشنگوادر

    ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جبری گمشدگی کے باعث آج ہزاروں خاندان ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایک لاپتہ نوجوان کی بہن نے کہا کہ ’ہمارے کئی سال سے لاپتہ ہیں۔ کئی سالوں سے لاپتہ ہونے کے باعث ہم شاید ان کے چہروں کو بھول جاتے لیکن ان کی تصاویر کی وجہ سے ہم ان کو بھول نہیں سکتے۔‘

    مقررین نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا تو ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

    مقررین نے حقوق انسانی کی ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

    ادھر گوادر میں حق دو تحریک نے اپنے ماجد جوہر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان، حسین واڈیلہ اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں ریلی کے شرکا شہدائے جیونی چوک پہنچے جہاں انھوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا۔

  5. پی ٹی آئی مخالف بیانیے کو آگے بڑھا کر ہر کارکن کو دہشت زدہ کیا جا رہا ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے عید کے موقع پر اپنے مبارکباد کے پیغام کے ساتھ کہا ہے کہ ’یہ میرے لیے سب سے تکلیف دہ عید ہے۔‘

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہمارے تقریباً 10 ہزار کارکنان اور حامیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے اور پرامن احتجاج کرنے کے آئینی حق استعمال کرنے پر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیہ حمزہ سمیت ہمارے بہت سے بہادر رہنما جیل میں ہیں اور پی ٹی آئی چھوڑنے سے انکاری ہیں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے 16 کارکنان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور 8 دیگر کے مارے جانے کا شبہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان کے رشتے دار پولیس کے خوف سے انڈر گراونڈ چلے گئے ہیں۔‘

    عمران خان کے دعوے کے مطابق ’50 کارکنان گولیوں سے زخمی بھی ہوئے لیکن حیران کن طور پرنہتے مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔‘

    عمران خان کے مطابق یہ معلوم کرنے کے لیے کوئی آزاد تحقیقات نہیں کی گئی کہ 9 مئی کو حقیقتاً ہوا کیا تھا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی مخالف سرکاری بیانیے کو آگے بڑھا کر پارٹی سے وابستہ ہر فرد کو دہشت زدہ کیا جا رہا ہے جس کا صرف ایک مقصد ہے کہ انتخابات سے قبل اس (جماعت) کو ختم کیا جائے۔

    عمران خان نے لکھا کہ ’انشاء اللہ پی ٹی آئی اور قوم اس تاریک دور سے بہت مضبوط ہو کر نکلے گی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حکومت پر تنقید کرنے والے تمام لوگوں کے ساتھ میڈیا پر بھی مکمل طور پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

    عمران خان کے مطابق ’عمران ریاض خان کو اغوا کیا گیا ہے اور 40 دنوں سے ان کا ٹھکانے کا علم نہیں جبکہ ہمارے 5 معزز صحافی جنھیں اس ملک سے دربدر ہونا پڑا ہے، ہم انھیں بھی اس عید پر یاد کرتے ہیں۔‘

  6. اُن قوتوں کو شکست ہوئی جو قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے تھے‘ وزیر اعظم کا فوجی جوانوں سے خطاب

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ امن تباہ کرنے، دہشت گردی کرنے والوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لئے اب چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نےآج عید کا دن پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام پارا چنار میں فوجی جوانوں کے ساتھ گزارا۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ’وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر نے عید کی نماز فوج کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ ادا کی اور انھیں عید کی مبارکباد پیش کی۔‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    وزیراعظم نے فوج کے اعلیٰ جذبے، عسکری تیاری اور اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار کی تعریف کی۔

    جوانوں اور افسران سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ آج میں عید کا دن آپ کے ساتھ گزار رہا ہوں تاکہ مادروطن کی سرحدوں کی جرأت وبہادری سے حفاظت کرنے والے اپنے افسروں اور جوانوں کی کاوشوں اورجذبوں کو خراج تحسین پیش کروں۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’آج میں آرمی، ایئر فورس اور بحریہ کے افسروں اور جوانوں کی خدمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آہنی عزم کے ساتھ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کا مقدس فرض نبھاتے ہیں۔‘

    بیان کے مطابق ’وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن تباہ کرنے، دہشت گردی کرنے والوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لئے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’وزیر اعظم نے کہا ’پاکستانی قوم نے ملک میں فتنہ فساد، انتشار اور افراتفری پیدا کرنے والی قوتوں کے مذموم منصوبے کو ناکام بنادیا، اُن قوتوں کو شکست ہوئی جو اپنے مذموم ایجنڈے کے لئے قوم میں تقسیم اور دراڑپیدا کرنا چاہتے تھے۔‘

  7. پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے ’سٹینڈ بائی‘ معاہدے کا مطلب کیا ہے؟

  8. افغانستان سے ملحہ بلوچستان کے شہر چمن کے سب جیل سے 14 قیدی فرار, محمد کاظم بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے سب جیل سے 14 قیدی فرار ہو گئے ہیں۔ چمن پولیس کے سربراہ محمد نعیم اچکزئی نے فون پربتایا کہ قیدیوں کی فرار کی کوشش کے دوران گولی لگنے سے ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا ہے جبکہ قیدیوں کی فرار کو ناکام بنانے کی کوشش کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک اوردو زخمی ہوگئے ہیں۔

    فون پررابطہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر چمن عبدالسلام نے بتایا کہ سب جیل چمن کے احاطے میں قیدیوں نے نمازعید کی ادائیگی کے لیے انتظام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جب قیدی نماز عید کی ادائیگی کے لیے اکھٹے ہورہے تھے تو اس دوران ان میں سے بعض نے مل کر پولیس اہلکاروں پرحملہ کیا۔

    چمن پولیس کے سربراہ نعیم اچکزئی نے بتایا کہ قیدیوں نے ایک پولیس اہلکارسے اسلحہ چھین کر ان پر فائرنگ کی، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طورپر 17 قیدی جیل سے فرار ہوئے۔

    تاہم ان کی فرار کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پولیس کی فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔ انھوں نے بتایا کہ فرار ہونے والے 14 قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہرسے ان کی نکلنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں ناکہ بندی بھی کردی گئی ہے۔ ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں سے بعض سنگین جرائم جرائم میں ملوث ہیں۔

  9. ’کچن کے خرچ کے لیے آج کل 50 ہزار روپے کیا ہے؟‘ سینیٹرز کی تنخواہوں و مراعات میں مجوزہ اضافے پر اعتراض کیوں

  10. پی آئی اے کی تنظیم نو اور بحالی کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی تنظیم نو، اصلاحات اور بحالی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    کمیٹی عید کے بعد پی آئی اے کے حوالے سے اپنی تجاویز اور سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ’ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیرِ خواجہ سعد رفیق نے وزیراعظم کو پی آئی اے کی بہتری کے لیے مجوزہ روڈ میپ اور اصلاحات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔‘

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ’قومی ایئر لائن کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے بیڑے میں جہازوں کی تعداد 27 سے بڑھا کر 49 کرنا ہو گی۔‘

    بیان کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’گزشتہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے قومی ایئر لائن کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’سابقہ حکومت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں، چینی کمپنیوں اور ترک کاروباری افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جبکہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے قومی ائیرلائن نے یورپ اور امریکہ کے فضائی راستے گنوا دیئے ہیں، جس کی وجہ سے قومی ایئر لائن کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔‘

    پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے پالیسی کا اعلان

    ادھر وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق ’بانڈڈ سٹوریج پالیسی‘ کا اعلان کیا ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک میں جب پیٹرول کی قیمت بڑھنے والی ہوتی ہے تو سب کو پتا ہوتا ہے اور پھر ذخیرہ اندوز اس چیز کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور پیٹرول ذخیرہ کر لیتے ہیں لیکن آج میں آپ لوگوں کے سامنے اس ذخیرہ اندوزی کا توڑ پیش کر رہا ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی سے بچنے کے لیے ’بانڈڈ سٹوریج پالیسی لا رہے ہیں، بانڈڈ سٹوریج پالیسی کے نتیجے میں پاکستان میں تیل کی قلت نہیں ہو گی، اب دنیا کے بڑے بڑے ٹریڈرز بھی ملک میں تیل ذخیرہ کر سکیں گے۔‘

  11. ایک ادارے نے خود احتسابی کر کے مثال قائم کی،امید ہے انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بھی اس عمل سے گزرے گا: وفاقی وزیر جاوید لطیف

    وفاقی وزیر جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ’9 مئی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈز کو سزا دینا ناگزیر ہے،ایک ادارے نے خود احتسابی کر کے دوسروں کے لیے مثال قائم کی ہے، امید ہے انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بھی اس عمل سے گزرے گا۔‘

    ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ ’نو اور10 مئی کے واقعات میں ملوث سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ جتنے بھی طاقتور کیوں نہ ہوں انھیں سزا ضرور ملنی چاہیے، ،یہ ایک ادارے پر نہیں پاکستان کی ریاست اور سلامتی پر حملہ ہے۔‘

    میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ’اگر ایک طاقتور ادارہ اپنی خود احتسابی کا عمل شروع کرتا ہے تو خوش آئند ہے ،دیگر اداروں کو بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حاضر سروس کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ کو لانچ کرنے والوں کو گرفتار کر کے سزا نہ ملی تو خدانخواستہ 9 مئی جیسا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا کہ ’پارٹی قائد نواز شریف اڑھائی گھنٹے کی دوری پر ہیں جلد پاکستان آکر انتخابی اتحاد سے متعلق خود بتائیں گے۔‘

  12. شہریار آفریدی کو تحریک انصاف سے توڑنے کے لیے جیل میں کربناک سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: عمران خان

    sheheryar afridi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے رہنما پی ٹی آئی شہریار آفریدی کے ساتھ جیل میں مبینہ ہولناک سلوک برتے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

    عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں الزام عائد کیا کہ ’شہریار آفریدی کو جیل میں نہایت کربناک اور ہولناک سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انھیں توڑا جا سکے اور تحریک انصاف سے علیحدگی پر مجبور کیا جاسکے۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف نے شہریار آفریدی کے وکیل شیرافضل مروت کی ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’شہریار آفریدی کی اہلیہ اور بچوں کو، جیسا کہ شیر افضل نے بتایا، گھروں سے گلیوں میں نکالا گیا اور ان سے بدتمیزی کی گئی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان نے دعوی کیا کہ ’وہ وقت اب کچھ زیادہ دور نہیں کہ قوم معقولیت اور اخلاقیات سے عاری گروہ کے ہاتھوں ایسی بے مثال فسطائیت اور غیراخلاقی ہتھکنڈوں کیخلاف بھرپور ردعمل کا اظہار کرے گی۔‘

    واضح رہے کہ شہریار آفریدی کے وکیل شیر افضل مروت نے رات گئے اپنی ایک ٹویٹ میں شہریار آفریدی کی اہلیہ اور بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

    اپنی ٹویٹ میں شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مفتی کے لباس میں ملبوس چند افراد نے آج رات سوا نو بجے شہریار آفریدی کی اہلیہ کو دوبارہ اغوا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنے نابالغ بچوں کے ساتھ سڑک پر بھاگتے ہوئے مجھے فون کیا تاہم اغوا کی کوشش کرنے والے وہ بزدل ہمیں دیکھ کربھاگ گئے۔‘

    دوسری جانب شہریار آفریدی کی اہلیہ کے مبینہ اغوا کی کوشش کے ان الزامات پر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

  13. روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک سال کے دوران 80 روپے کا ریکارڈ اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں مالی سال دو ہزار بائیس اور تیئس میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک سال میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    انٹر بینک میں موجودہ مالی سال کے آغاز پر ڈالر کی قیمت 204.85 روپے تھی جو موجودہ مالی سال کے آخری روز یعنی 27 جون 2023 کو 285.99 پر بند ہوئی۔

    ڈالر کی قیمت میں پورے سال میں 80 روپے تک اضافہ ہوا جو مجموعی طور پر 28 فیصد اضافہ ہے ۔ ڈالر کی قیمت میں انٹر بینک میں گیارہ مئی 2023 کو 298.93 روپے تک پہنچ گئی تھی جو انٹربینک میں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر پورے مالی سال میں بڑھتا رہا۔ یکم جولائی 2022 کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 205 روپے تھا جو 27 جون 2023 کے آخر ی کاروباری روز 289 فیصد پر بند ہوا۔

    پورے سال میں ہونے والا اضافہ 85 روپے یعنی 29 فیصد رہا ۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی بلند ترین سطح تیس مئی 2022 کو ریکارڈ کی گئی جب ایک ڈالر کی قیمت 312 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

  14. نو مئی کے واقعات: خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی قائدین اور کارکن سیاسی وفاداریاں کیوں نہیں بدل رہے؟

  15. اگر یہ ملک کے خلاف بغاوت ہے تو عدالت میں اوپن ٹرائل ہو چھپ کر نہیں، تاکہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرسکوں‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’آج میں اپنی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے بیان سے فیصلہ کر دیا کہ ہم ہی بغاوت کر رہے ہیں۔ ایک میرا موقف بھی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اب بیچ میں جج ہو جو انصاف سے اس کا فیصلہ دے۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’کل آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بات کی کہ پاکستان کے خلاف بغاوت کی گئی اور سارا اشارہ تحریک انصاف کی طرف تھاکہ ہم نے بغاوت کی ہے اور یہ کہ پہلے سے اس کا پلان بن رہا تھا کہ ہم نے پہلے سے بغاوت کی تیاری کی ہوئی تھی اور ہم نے یہ سارا اپنی فوج کے خلاف کیا۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا ’جس طرح انھوں نے بات کی مجھے بہت تکلیف محسوس ہوئی۔ اب آئی ایس پی آر اور سٹیبلشمنٹ کا یہ موقف آ گیا کہ پی ٹی آئی نے بغاوت ہے ۔ ہمارا موقف ہے کہ ہمارے خلاف سازش کی گئی اور ہماری حکومت گرائی گئی۔‘

    عمران خان نے کہا کہ’25 مئی کو جو ہمارے ساتھ ہوا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی کو روکا ہو یا کسی کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی ہو ۔ ہمارے اوپر پورا ایک اٹیک کیا گیا اور ہمارے ہی خلاف پرچے کٹے۔ ‘

    عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے گھر پر 24 گھنٹے تک حملہ کیا گیا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا، ایسا کبھی کسی لیڈر کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔‘

    عمران خان کے مطابق ’جیوڈیشل کمپلیکس میں مجھے قتل کرنے کی پوری تیاری تھی۔ سازش یہ ہو رہی تھی کہ جو جماعت الیکشن جیتنے جا رہی تھی اس کے خلاف سازش کر کے پارٹی کو ختم کرنا تھا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کا سارا وقت ایک عدالت سے دوسری عدالت کے چکر لگاتے گزرتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ سب سے بڑی پارٹی کو باہر رکھنے سے بڑی سازش اور کیا ہو سکتی ہے۔

    ’مجھے پتہ تھا کہ یہ نو مئی کو مجھے پکڑنا چاہتے تھے تو میں نے وڈیو بیان ریکارڈ کروایا۔ مجھے غیر قانونی طور پر پکڑا تو کیا یہ بھی سازش کا حصہ تھا۔ اس سے لوگوں کو اشتعال آنا تھا ۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ پورا پلان کر کے ایک کریک ڈاون کیا گیا ۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ پہلے سے پلان کے بغیر دو دن میں 10 ہزار کارکن جیل میں ڈال دیں۔‘

    عمران خان کے مطابق ’آئی ایس پی آر کا موقف ہے کہ ان کے خلاف بغاوت ہے اور ہمارا موقف ہے کہ ہمارے خلاف پارٹی کو ختم کرنے کی سازش ہوئی ۔ ‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ملٹری کورٹس بھی اس لیے ہیں کہ سارے بوگس کیسز ہیں جن سے مجھے سزا نہیں ہو سکتی اس لیے مجھے باہر کرنے کے اور نا اہل کرنے کے لیے یہ کورٹس ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    عمران خان نے کہا ’آج میں اپنی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے بہت عزت سے کہنا چاہتا ہوں کہ عدالت میں کیس چلے اور اوپن ٹرائل ہو اگر یہ ملک کے خلاف بغاوت ہے تو اوپن ٹرائل ہونا چاہیے چھپ کر نہیں۔‘

    عمران خان نے کہا’جو آپ کے پاس ثبوت ہے وہ آپ لائیں جو ہمارے پاس ہیں وہ ہم لاتے ہیں۔ اگر مجھے غدار کہا جا رہا ہے تو مجھے سب کے سامنے موقع ملے کہ میں اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرسکوں۔‘

  16. ’ججز کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی سمری منظوری کے لیے بھجوا دی‘

    ججز کی تنخواہوں میں اضافہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خزانہ اسحق ڈار نے جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا ہے کہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کئے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے وہ کیا ہے۔

    ججز کی تنخواہوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ’ججز کی بیسک تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی سمری منظوری کے لیے بھجوا دی ہے۔‘

    اسحٰق ڈار نے کہا ’لوگ ایسا سمجھ رہے ہیں کہ جیسے ہم عدلیہ کے ساتھ نہیں ہیں یا ہم کو جیوڈیشری سے کوئی گلہ ہے۔ ان کی تنخواہ کے لیے صدر حتمی منظوری دیتے ہیں جبکہ وزیر اعظم ایڈوائس کرتے ہیں۔ یہ بیسک پر ہو گا مراعات پر نہیں۔ وزیر اعظم ابھی آوٹ سٹیشن ہیں تووہ جلد اس کو صدر مملکت کو بھیجیں گے۔‘

    وزیر خزانہ کے مطابق ’وزارت خزانہ اور وزارت قانون نے 20 فیصد اضافے کی سمری بھیجی ہوئی ہے اور امید ہے کہ اس فارمیلیٹیز 30 جون تک مکمل ہو گی جس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کی بھی بیسک سیلری پر وہی اپلائی ہو گا اور ججز صاحبان پر بھی وہی لاگو ہو گی‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تنخواہ دار طبقے پر بہت بوجھ تھا اور ہے اس لیے گریڈ 1 سے گریڈ 17 تک 35 فیصد جبکہ 18 سے 22 گریڈ کو بیسک تنخواہ پر 30 فیصد اضافہ دیا گیا تھا۔‘

  17. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: سپریم کورٹ نے آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر درخواستوں کی آج کی سماعت کا چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ’زیر حراست 102 افراد میں سے کسی کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا نہیں دی جائے گی۔

    حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ’آرمی کی حراست میں ملزمان کا کیس تفتیش کی سٹیج پر ہے، آرمی کی حراست میں ملزمان کا ابھی ٹرائل شروع نہیں ہوا۔ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے تفتیش کی کاپیاں ملزمان کے وکلاء کو فراہم کی جائیں گی۔‘

    حکم نامے کے مطابق ’درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ عزیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کئے جبکہ اٹارنی جنرل نے اگلی سماعت تک متعلقہ دستاویزات اور تحریری جواب جمع کرانے کی یقین دہانی کروائی۔‘

    حکم نامے کے مطابق ’اٹارنی جنرل نے فوج کی تحویل میں موجود 102 گرفتار افراد کی تفصیل عدالت میں جمع کرائی۔‘

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ کوئی صحافی اور وکیل فوج کی حراست میں نہیں۔ تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافی عمران ریاض خان کی بازیابی کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

  18. علی محمد خان ضمانت کے بعد مردان جیل سے نکلتے ہی ایک بار پھر گرفتار, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    علی محمد

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کو مردان کی اینٹی کرپشن پولیس نے ایک بار پھر گرفتار کر لیا ہے۔

    علی محمد خان کے وکیل ندیم شاہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’علی محمد خان کو آج جب اینٹی کرپشن کورٹ نے ضمانت دی تو جیسے ہی وہ مردان جیل سے رہائی کے بعد باہر نکلے تو اینٹی کرپشن پولیس نے ساتویں بار ان کو گرفتار کر لیا اور پولیس سٹیشن ساتھ لے گئے۔

    وکیل ندیم شاہ ایڈوکیٹ کے مطابق ’جمعرات کو صوبائی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا کہ علی محمد خان پر خیبرپختونخواہ میں کوئی کیس درج نہیں ہے اس کے باوجود اینٹی کرپشن پولیس نے ساتویں بارعلی محمد خان کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

  19. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات چلائے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت 23 جون کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔

    تحریری حکمنامے میں چھہ رکنی بینچ میں شامل جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ بھی شامل ہے۔

    نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس پاکستان سے فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تحریری فیصلے میں موجود نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ’نظام عدل کی ساکھ کی عمارت عوامی اعتماد پر کھڑی ہے۔‘

    نوٹ کے مطابق ’موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے۔ اس وقت ملک میں انتخابات کےلیے سیاسی ماحول کا منظرنامہ چارج ہے اور ایسے سیاسی چارج ماحول میں موجودہ عدالتی بنچ کے خلاف اعتراض کیا جاسکتا ہے۔‘

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں مزید لکھا ہے ’فوجی عدالتوں کے خلاف کیس سننے والے بنچ میں موجود ججز کے تحریری اعتراضات انتہائی سنجیدہ ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سینیئر جج کے اعتراض پر اس وقت مناسب نہیں ہے کہ اپنی رائے دوں۔‘

    نوٹ کے متن کے مطابق ’ایک سینیئر جج کے اعتراض عدالت میں ہم آہنگی اورعوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مناسب اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، اور اس کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے۔‘

  20. نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس: نیب راولپنڈی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 4 جولائی کو طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب راولپنڈی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ایک بار پھر طلب کرتے ہوئے دونوں کو 4 جولائی کو دن گیارہ بجے نیب راولپنڈی دفتر پیش ہونے کے لیے طلبی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    نیب کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کیس سے متعلق دستاویزات ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی گذشتہ دونوں پیشیوں پر نیب میں ہیش نہیں ہوئے تھے۔

    طلبی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چئیرمین تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی 4 جولائی کو نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔

    نیب نے اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی کو 26 جون کو طلب کررکھا تھا۔ تاہم چیئرمین پی ٹی آئی نے 4 جولائی کو نیب میں شامل تفتیش ہونے کی درخواست کی تھی۔

    نیب نے درخواست منظور کرتے ہوئے 4 جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی کو طلب کرلیا ہے۔

    یاد رہے گذشتہ روز بشری بی بی نے بھی نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب پیشی سے معذرت کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کروایا تھا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ وہ 4 جولائی کو شوہر کے ساتھ نیب میں پیش ہو سکتی ہیں۔

    عمران خان 4 جولائی کو اسلام آباد کی مختلف عدالتوں اور نیب دفتر پیش ہوں گے۔