پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف
ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پرویز خٹک کے ایک حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے۔
لائیو کوریج
سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ہنگامی بنیادوں پر ایک فیصد اضافہ، مجموعی شرح سود 22 فیصد ہو گئی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے مرکزی بینک نے زری کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس میں ملک میں شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک میں مجموعی طور پر شرح سود 22 فیصد ہو گئی ہے۔
سٹیٹ بینک کی زری کمیٹی کا اجلاس جون کے وسط میں ہوا تھا جس میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم ہنگامی طور پر بلائے گئے اجلاس میں اس کی جانب سے شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ کر دیا گیا۔
سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق شرح سود میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جو اس کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی ممکنہ بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اقدامات ہیں
نو مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی ضروری ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'نو مئی کا واقعہ اچانک نہیں ہوا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فوجی تنصیبات پر لوگوں کو بھیجا جائے اور فوج فوری ردعمل دے۔ لوگوں کو بھڑکایا جا رہا تھا۔ اگر فوری ردعمل آتا تو ان کے مذموم مقاصد پورے ہوتے۔'
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’کوئی توقع نہیں کر رہا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے ہی ملک پر حملہ آور ہو جائے گی۔'
اس سوال پر کہ کیا نو مئی کے واقعات کے اصل ذمہ داران کا تعین کیا جا چکا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ 'حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس کا اصل منصوبہ ساز کون ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے فوج کے خلاف لوگوں کی ذہن سازی کی۔ وہی ماسٹر مائنڈ ہیں اور آپ کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔'
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان منصوبہ سازوں کو ’کیفر کردار تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو کل کوئی اور سیاسی گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس واقعے کو دہرائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں کہ ہم ان منصوبہ سازوں کو پہچانیں اور انھیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔'
ریٹائرڈ جرنیلوں کے اہلخانہ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے: پاکستانی فوج
،تصویر کا ذریعہTwitter
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا ہے کہ جہاں فوج نے اپنے حاضر سروس افسران کے خلاف کارروائی کی ہے وہیں ان کے بقول ’ناقابلِ تردید شواہد‘ کی بنیاد پر ایک ریٹائرڈ فور سٹار جنرل کی نواسی، ایک ریٹائرڈ فور سٹار جنرل کے داماد، ایک ریٹائرڈ تھری سٹار جنرل کی اہلیہ اور ایک ریٹائرڈ ٹو سٹار جنرل کی اہلیہ اور داماد ناقابل تردید شواہد کی بنا پر اس احتسابی عمل سے گزر رہے ہیں۔
میجر جنرل احمد شریف نے ان افراد کے نام تو ظاہر نہیں کیے تاہم پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کی نواسی اور فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ ان افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں نو مئی کے واقعات کے تناظر میں قانونی کارروائی جاری ہے۔
بریکنگ, نو مئی: ’ایک لیفٹننٹ جنرل سمیت تین افسران نوکری سے برخاست، تین میجر جنرلز سمیت 15 افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی مکمل‘
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی افواج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا ہے کہ نو مئی کو پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں فوج نے اپنی ادارہ جاری تحقیقات مکمل کر لی ہیں، جس کے بعد ایک لیفٹیننٹ جنرل اور تین میجر جنرلز سمیت 18 افسران کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔
نو مئی 2023 کو تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس سمیت ملک میں کئی جگہ فوجی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے اور توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگائی گئی تھی۔
پیر کی شام پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’فوج نے اپنی روایت کے مطابق خود احتسابی کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔ ان کے مطابق ’متعلقہ ذمہ داران جو چھاؤنیوں، فوجی تنصیبات، جی ایچ کیو اور جناح ہاؤس کی سکیورٹی اور تقدس کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوئے، ان ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔‘
ترجمان کے مطابق ’اس سلسلے میں فوج کے اندر دو انکوائریز کی گئیں جس کے بعد ایک مفصل کورٹ آف انکوائری میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک لیفٹننٹ جنرل سمیت تین افسران کو نوکری سے برخاست کر دیا جائے۔‘
ان کے مطابق اس کے علاوہ تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت 15 افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی بھی کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق افواج پاکستان اور فوجی قیادت نو مئی کے واقعات سے آگاہ ہے اور فوج کے اندر خود احتسابی کا عمل موجود ہے جو بغیر کسی تفریق کے مکمل کیا جاتا ہے اور ’جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے، اتنی ہی بڑی ذمہ داری نبھانی پڑتی ہے‘۔
میجر جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق ’فوج کے احتسابی عمل میں کسی عہدے یا معاشرتی حیثیت میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی جاتی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'فوجی عدالتوں میں 102 شرپسندوں کا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔‘
ترجمان نے بتایا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس سنا جا رہا جبکہ یہ 17 سٹینڈنگ کورٹس پہلے سے ہی فعال تھیں اور سول کورٹس نے قانون کے تحت مقدمات ان عدالتوں کو منتقل کیے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ’نو مئی کے واقعات سے جڑے تمام منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو آئین پاکستان اور قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے، سیاسی جماعت یا معاشرتی حیثیت سے کیوں نہ ہو‘۔
فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’انصاف کے اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے رکاوٹیں ڈالنے والوں سے بھی پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، جس (عوامی ردعمل) کا ایک عکس آپ نے نو مئی کے واقعات کے بعد دیکھا۔‘
نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی: ترجمان فوج
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی گذشتہ کئی ماہ سے چل رہی تھی۔
ان کے مطابق ’پہلے اضطرابی ماحول بنایا گیا، عوامی جذبات کو اشتعال دلایا گیا اور پھر انھیں حملوں پر اکسایا گیا۔
ان کے مطابق نو مئی کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ جو دشمن گذشتہ 75 سال میں نہیں کر سکا وہ انھوں نے ایک دن میں کر دیا۔ ترجمان کے مطابق نو مئی پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تحقیقات جھوٹ پر مبنی بیانیہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا۔
ترجمان کے مطابق ’افواج پاکستان میں نو مئی کے سانحہ پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
شہریار آفریدی کو دوران قید تحریک انصاف چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: عمران خان
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ آج ان کی جماعت کے رہنما شہریار آفریدی کو جب انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ ان کے مطابق شہریار آفریدی کو پی ٹی آئی سے لاتعلقی اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ناگفتہ بہ صورتحال میں رکھا جا رہا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل اسی طرح کچھ پی ٹی آئی کے کارکنان ایک عدالتی پیشی پر بے ہوش ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق ان کارکنان کو اس سخت گرمی میں پولیس وین میں ٹھونس کر لایا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ جو پی ٹی آئی کو ختم کرنا چاہتے ہیں انھیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حقیقی آزادی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امید ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کسی سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں کیا جائے گا: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’انھیں یہ امید ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کسی سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں کیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ 102 زیر حراست افراد کو اہلخانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے مطابق ’جو افراد گرفتار کیے گئے ان کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کریں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ خاندان کو کیوں قیدی بنایا گیا ہے؟
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ درخواست گزار جنید رزاق کی فیملی کب سے قید میں ہے۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 9 مئی سے ارم رزاق اور دیگر کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔
ان کے مطابق اتنے دن گزر گئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ اس معاملے کو دیکھیں، ان کو خاندان سے ملنے کی اجازت دیں۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مجھے توقع ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کوئی ملٹری ٹرائل نہیں ہوگا۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو کوئی شکایت ہے تو نام بتادیں میں متعلقہ حکام سے بات کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان افراد کو وکیلوں تک رسائی بھی نہیں دی جارہی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل لطیف خان کھوسہ
نہ خاندان کو ملنے دیا جاریا ہے۔ لطیف خان کھوسہ
مجھے نام بتادیں تو میں آگے بات کروں گا۔ اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوج کی حراست میں لوگوں کی تعداد 102 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے: لطیف کھوسہ
اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے اس سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس وقت فوج کی کسٹڈی میں ہیں ان کے نام تک نہیں بتائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد 102 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
لطیف کھوسہ کے مطابق لواحقین میں یہ سراسیمگی پائی جاتی ہے کہ کچھ لوگ لاپتہ نہ قرار دیے گئے ہوں۔ ان کے مطابق گمشدگی کا لفظ ان کے لیے بہت پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔
لطیف کھوسہ نے میڈیا کو بتایا کہ آج کی سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجہ نے دنیا بھر کے عدالتی نظام سے نظیریں پیش کی ہیں۔ اب مزید سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ کل یعنی منگل کی صبح ساڑھے نو بجے کرے گا۔
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کل تک ملتوی, شہزاد ملک بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ پر وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد انھوں نے خود کو سات رکنی بینچ سے علیحدہ کر لیا اور اس وقت ان درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ ہی کر رہا ہے۔
پنجاب میں بارشوں سے 13 اموات رپورٹ ہوئیں، متعدد زخمی: پی ڈی ایم اے, عمر دراز ننگیانہ بی بی سی اردو
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداراے پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں آسمانی بجلی گرنے اور چھتیں گرنے کے 15 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان بارشوں کے باعث پنجاب بھر میں مجموعی طور 13 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
بارش کے باعث مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 17 افراد شدید اور چھ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں کو ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی کے مطابق صوبائی کنٹرول روم سے تمام تر صورتحال کی مانیٹرنگ بھی جاری ہے۔
ان کے مطابق پنجاب بھر کی انتظامیہ سے مکمل رابطہ میں ہیں۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شہری نقصانات کی اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں۔
بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمے: سپریم کورٹ میں وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہو گئی
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔
جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل دے رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ڈی کو اس لیے چیلنج کیا کہ اس کے تحت سویلین کا ٹرائل نہیں ہو سکتا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ میرے موکل جنید رزاق کو اٹھا لیا گیا، جنید رزاق کے بیٹے ارزم رزاق کو ایک الزام لگا کر اٹھایا گیا۔
نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس: بشری بی بی نے نیب پیشی سے معزرت کر لی ’پردہ نشین خاتون ہوں اپنے شوہر کے بغیر لاہور سے اسلام آباد کا سفر نہیں کر سکتی‘
بشری بی بی نے نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب پیشی سے معذرت کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کروایا ہے۔
یاد رہے نیب نے اس مقدمے میں بشری بی بی کو طلب کر رکھا ہے۔
تحریری جواب میں بشری بی بی نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں آج پیشی کے باعث اسلام آباد میں نہیں آ سکتی، پہلے نوٹس کے جواب میں بتا دیا تھا کہ کیس سے متعلق کوئی دستاویزات میرے پاس نہیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آپ کیس کا ریکارڈ القادر ٹرسٹ کے چیف فنانشل افسر سے حاصل کر چکے ہیں۔ القادر یونیورسٹی اور ٹرسٹ کی قرا داد اور دستاویزات سیکٹری بورڈ ڈاکٹر امجد کے پاس ہیں، میرے پاس دستاویزات اور قراردار کی کوئی نقول موجود نہیں۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ میں پردہ نشین خاتون ہوں اور اپنے شوہر کے بغیر لاہور سے اسلام آباد کا سفر نہیں کر سکتی۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلے نوٹسز میں کہا تھا کہ میری پیشی شوہر کے ساتھ منسلک کر دی جائے، محرم کے بغیر نیب راولپنڈی پیشی کے لیے معزرت خواہ ہوں۔
بشری بی بی نے جواب میں استدعا کی ہے کہ میں 4 جولائی کو شوہر کے ساتھ نیب میں پیش ہو سکتی ہوں۔ 4 جولائی کو کیس سے متعلق میری پیشی منتقل کر دی جائے۔
تھانہ آر اے بازار کیس کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت: شہریار آفریدی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم
سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے حوالے سے تھانہ آر اے بازار مقدمے کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت رہنما پی ٹی آئی شہریار خان آفریدی کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے شہریار آفریدی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا ہے۔
شہریار آفریدی کے وکیل کی جانب سے ان کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے جس پر تین جولائی کو سماعت ہو گی۔
شہریار آفریدی کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر 10 جولائی کو دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔
بریکنگ, ’21ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں، مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے‘ چیف جسٹس کے ریمارکس
،تصویر کا ذریعہsupreme court
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ کیا ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج نہیں ہو سکتے؟
جس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ آرمی چیف کے سامنے یا ان کی بنائی کمیٹی کے سامنے چیلنج ہو سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کورٹس میں اپیل کا دائرہ وسیع ہو۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ ملٹری کورٹس ڈسٹرکٹ کورٹ کی طرح ہو تو کیس کا دائرہ کار وسیع کر دے گا، ہم آسٹریلیا یا جرمنی کی مثالوں ہر نہیں چل سکتے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ملٹری کورٹ ایک متوازی نظام ہے جسے عدالت نہیں کہہ سکتے؟
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ جی میں یہ ہی کہہ رہا ہوں کیونکہ وہاں سویلین کو بنیادی حقوق نہیں ملتے۔ آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹرائل ہوتا ہے۔ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ڈسپلن کی خلاف ورزی کا معاملہ نہیں ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اچھا پوائنٹ ہے۔
اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ آپ سویلین کی حد تک ہی ٹرائل چیلنج کر رہے ہیں نا؟ آپ آرمی افیشل کے ٹرائل تو چیلنج نہیں کر رہے؟
وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ نہیں میں آرمی آفیشلز کے ٹرائل چیلنج نہیں کر رہا۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ امریکی قانون ان عام شہریوں کے بارے میں کیا کہتا ہے جو ریاست کے خلاف ڈٹ جائیں؟
جس پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ امریکہ میں عام شہریوں کی غیر ریاستی سرگرمیوں پر بھی ٹرائل سول عدالتوں میں ہی ہوتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے ان سے سوال کیا کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو بنیادی حقوق معطل ہو تو کیا پھر سویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ امریکی قانون اس پر بڑا واضح ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ امریکہ میں جو سویلین ریاست کے خلاف ہو جائیں ان کا ٹرائل کہاں ہوتا ہے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایسے سویلین کا ٹرائل امریکہ میں عام عدالتیں کرتی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے کہا تھا دنیا میں ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل ہوتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا ہمارے خطے میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتا ہے؟
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ 21ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں۔ مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے۔
سماعت میں 45 منٹ کا وقفہ دیا گیا ہے اور فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت 2:15 پر شروع ہو گی۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی آج تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، بیرسٹر گوہر
،تصویر کا ذریعہPTI
عمران کی وکلا ٹیم میں شامل بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ انھوں نے نیب کے حکام کو بتایا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ آج تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوں گے کیونکہ عمران خان مختلف کیسز کے سلسلے میں لاہور ہائی کورات میں پیش ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ نیب حکام کو بتا دیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی چار جولائی کو پیش ہوں گے۔
نیب کی تفتیشی ٹیم نے عمران خان کو توشہ خانہ سے صالح کیے گئے تحائف کی تفصیلات جاننے کے لیے جبکہ بشری بی بی کو نو ملین برطانوی پونڈ کی منتقلی اور القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہونے کا کہا تھا۔
یاد رہے اب تک بشری بی بی ایک مرتبہ بھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئیں جبکہ عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں دو مرتبہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔
عدالتی حکم کے باوجود اعظم خان کا کوئی سراغ نہ مل سکا، عدالت نے آئندہ سماعت پر ایس ایس پی آپریشنز کو طلب کر لیا
،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود اعظم خان کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر ایس ایس پی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ہدایت کی کہ متعلقہ محکمے پانچ جولائی تک اعظم خان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
عدالتی حکم پر ایف آئی اے، نیب، وزارت داخلہ اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور درخواست گزار کے وکیل قاسم ودود بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے اسفسار کیا کہ کیا سیف سٹی کیمروں سے کچھ پتہ چل سکا؟ جس پر نمائندہ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ سیف سٹی کے کسی کیمرے میں وہ گاڑی نظر نہیں آئی۔
جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، کیسے ممکن ہے کہ گاڑی کیمرے میں نہ آئی ہو، گاڑی اسلام آباد سے چل کر گئی ہو گی، کہیں نہ کہیں تو لوکیشن ملتی ہو گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیف سٹی بھی ماشا اللہ ہی ہے، آپ لوگ سنجیدہ بھی ہو جائیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اعظم خان 15 جون سے لاپتہ ہیں، کافی دن ہو گئے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے میں جبری گمشدگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے گارڈز بھی ساتھ نہیں تھے، جب نکلے تو گھر بتا کر گئے کہ کسی میٹنگ میں جا رہا ہوں۔
طاہر کاظم نمائندہ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ ساتھ آ جائیں ہم سیف سٹی فوٹیج ان کو دکھا دیتے ہیں۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ساتھ کیوں جائیں، انوسٹیگیشن اِنھوں نے کرنی ہے یا آپ نے؟
اس پر وکیل درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی کہ سینئر افسر کو تعینات کیا جائے تاکہ معاملہ سنجیدگی کی طرف جائے۔
وکیل درخواست گزار قاسم ودود کا کہنا تھا کہ آئی جی خیبرپختونخوا کو بلا لیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ اس عدالت کی حدود میں نہیں ہیں ان کو نہیں بلا سکتے۔ جس پر قاسم ودود کا کہنا تھا کہ عدالت وزارت داخلہ کے ذریعے بلانے کا اختیار رکھتی ہے۔
عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو 5 جولائی کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔
شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت: آئی جی اسلام آباد نے ترمیمی جواب جمع کر وا دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیریں مزاری کی عدالتی حکم امتناع کے باوجود گرفتاری پر آئی جی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس مقدمے کی سماعت کی۔
آئی جی اسلام آباد ناصر اکبر اپنے وکیل زاہد آصف کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش پوئے جبکہ درخواست گزار ایمان مزاری اور وکیل زینب جنجوعہ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔
آئی جی اسلام آباد کی جانب سے عدالت میں ترمیمی جواب جمع کرایا گیا۔ عدالت نے اس کی کاپی پٹشنرز کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس: احتساب عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ محفوظ
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس کے حوالے سے احتساب عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جسے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 10 جولائی کو سنائیں گے۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔
دورانِ سماعت نیب نے ایل این جی ریفرنس سپیشل جج سینٹرل اسلام آباد کی عدالت میں منتقل کرنے کا بیان دیا۔ نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد یہ ایف آئی اے کا دائرہ اختیار ہے۔
نیب کا کہنا تھا کہ ریفرنس سپیشل جج سینٹرل اسلام آباد کا دائرہ اختیار ہے۔
نیب سمیت دیگر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جسے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 10 جولائی کو فیصلہ سنائیں گے۔
یاد رہے ملزمان نے نیب آرڈیننس کے تحت عدالتی دائرہ اختیار چیلنج کررکھا تھا۔
بریکنگ, کیا سویلین کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر آپ کا اعتراض 175 تھری کی حد تک ہے؟ جسٹس عائشہ ملک کا سلمان اکرم راجہ سے سوال
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
درخواست گزار جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل کے بعد جسٹس عائشہ ملک نے ان سے سوال کیا کہ کیا سویلین کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر آپ کا اعتراض 175 تھری کی حد تک ہے؟
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ یہ جاننا اب ضروری ہے کہ آپ کی سیکشن 2 ڈی پر کیا انڈر سٹینڈنگ ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی ایل ای کیس میں تو ریٹائرڈ فوجیوں کا فوج کے اندر تعلق کا معاملہ تھا۔ انھوں نے سلمان اکرم سے سوال کیا کہ کیا سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، آپ کی کیا دلیل ہے؟
انھوں نے مزید سوال کیا کہ آپ نے ایکٹ کی شقیں چیلنج کی ہیں اس کی بنیاد کیا ہے؟
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت جوڈیشل اختیارات کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ خود ایک کیس میں طے کر چکی کہ جوڈیشل امور عدلیہ ہی چلا سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے دلائل دیے کہ فوجی عدالتوں سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں۔
چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ کیا آپ ملٹری کورٹس میں فوجیوں کے ٹرائل پر بھی جانا چاہتے ہیں؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ہم بہت سادہ لوگ ہیں ہمیں آسان الفاظ میں سمجھائیں، آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ ہاورڈ یونیورسٹی میں جا کر کریں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کی حد تک ہی بات کر رہا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا سویلین کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟
جس پر سلمان اکرم راجہ سے دلائل دیے کہ صرف کسی پر ایک الزام لگا کر فیئر ٹرائل سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سویلینز کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ سویلین ہیں جو آرمڈ فورسز کو کوئی سروسز فراہم کرتے ہیں۔ فورسز کو سروسز فراہم کونے والے سویلین ملٹری ڈسپلن کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے سویلینز وہ ہیں جن کا فورسز سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جو مکمل طور پو سویلینز ہیں ان کا ٹرائل 175/3 کے تحت تعینات جج ہی کرے گا۔
جس پر جسٹس عائشہ ملک نے ان سے استفسار کیا کہ ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایسی کئی عدالتیں اور ٹریبونل ہیں جن کا آرٹیکل 175/3 سے تعلق نہیں۔
بریکنگ, ’مفروضوں پر بات نہ کریں کہ ٹرائل ہو گا تو یوں ہو گا، ایسے تو کل ملٹری آفسران کے ٹرائل پر بھی بات کی جائے گی‘ چیف جسٹس
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
درخواست گزار جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے موکل کے بیٹے کا معاملہ ملٹری کورٹس میں ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل صرف آرٹیکل 175 کے تحت تعینات کیا گیا جج کر سکتا ہے۔
وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایف پی ایل ای کیس کا جب فیصلہ ہوا، تب تک اختیارات کی تقسیم کا اصول واضح نہیں تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ ایف پی ایل ای اس کیس سے کیسے متعلقہ ہے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایف پی ایل ای کیس تو ریٹائرڈ آرمی آفیشلز کے ٹرائل پر تھا۔
جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک آرمی آفیسر کا بھی ملٹری کورٹس میں ٹرائل یا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا؟
جس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ اگر کسی عدالت میں ٹرائل سے میرے آئینی حقوق متاثر نہیں ہوتے تو پھر خصوصی عدالت میں کیس چل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکنگ کورٹ یا اے ٹی سی جیسی خصوصی عدالتوں میں آئینی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ابھی کسی کا ٹرائل شروع ہوا ہے؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ ابھی کسی کا ٹرائل شروع نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ پھر مفروضوں پر بات نہ کریں کہ ٹرائل ہو گا تو یوں ہو گا۔ ایسے تو کل ملٹری آفسران کے ٹرائل پر بھی بات کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کل آخری ورکنگ ڈے ہے متعلقہ بات ہی کریں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ آپ آرٹیکل 175 کی شق 3 کو بنیادی انسانی حقوق سے کیسے جوڑ ریے ہیں۔ اس کا اطلاق تو پھر فوجی عدالتوں پر بھی ہو گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔ انھوں نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ 175 کی شق 3 کا یہاں کیا تعلق ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 175 کی شق 3 شفاف ٹرائل کی دی گئی ضمانتوں کے آرٹیکل 9 اور 10 کے ذریعے مؤثر ہوتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو شفاف ٹرائل کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں کوئی عدالتی نظیر دکھا دیں کہ 175 کیسے ملٹری ایکٹ سے منسلک ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک گھڑی ہے جسے ’گرینڈ کمپلکیشن‘ کہتے ہیں۔
انھوں نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ گرینڈ کمپلکیشن نہ بنائیں۔ آپ اپنے دلائل مختصر اور صرف کیس سے متعلق دیں۔