فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

  2. فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

    پیر کے روز اس کیس کی سماعت کا آغاز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیا۔ سماعت کے آغاز پر ہی وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جسٹس منصور علی شاہ سے بینچ سے علیحدہ ہونے کی درخواست کی۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آ کر بینچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس کیس میں ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں جس کے باعث مذکورہ جج کے کنڈکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ (اٹارنی جنرل) کی خواہش پر بینچ نہیں بن سکتے،آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر اعتراض اٹھا رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کس بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں، مفادات کا ٹکراؤ یا جاںبداری کی بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ آپ ہمیں ہم خیال ججز کا طعنہ دیتے ہیں ،ہم نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو سزا نہیں سنائی،ہم سمجھتے ہیں یہ وقت ایک قدم پیچھے ہٹنے کا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ (اٹارنی جنرل) ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں۔ ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں بار بار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازع بنا رہے ہیں۔‘

    اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’درخواست گزار جواد ایس خواجہ ایک درویش صفت انسان ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ ان کو کیا فائدہ دیں گے؟‘

    اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے تو پہلے ہی دن آ کر کہا تھا کہ کسی کو اعتراض ہے تو بتا دیں۔‘

    اس گفتگو کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اعتراض کے بعد وہ یہ کیس نہیں سن سکتے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’بینچ ٹوٹنے کے بعد ابھی ہم اٹھ رہے ہیں اور مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے تحمل کا مظاہرہ کیا اور یہ کہ سپریم کورٹ کے پاس چھڑی نہیں ہے تو دیگر افراد کیوں چھڑی کا کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

    یاد رہے کہ اس بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھیں۔

  3. محکمہ ریلیف نے مون سون کے خطرات سے نمنٹے کی حکمت عملی بنا لی ہے, عزیزاللہ خان بی بی سی اردو پشاور

    سیکریٹری ریلیف عبدالباسط نے کہا ہے کہ جامع حکمت عملی کا مقصد آفات کےخطرات کو کم کرنا اور بروقت ردعمل فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق محکمہ ریلیف کے زیر انتظام پی ڈی ایم اے نے گزشتہ تجربات کی روشنی میں اہم اسباق کو پلان میں شامل کیا ہے۔

    ترجمان محکمہ ریلیف کے مطابق منصوبے کی تیاری میں ضلعی انتظامیہ، صوبائی، وفاقی لائن محکموں اور ہیومینٹیرین پارٹنرز نے فعال کردارادا کیا ہے۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ منصوبے کا مقصد لوگوں کی زندگیوں اور معاش کی حفاظت کرنا ہے۔

    پلان کے مطابق دس اضلاع چترال اپر، چترال لوئر، سوات، ڈی آئی خان، ٹانک، چارسدہ، نوشہرہ، کوہستان اپر، شانگلہ اور دیر اپر کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ چھ دیگر اضلاع، مالاکنڈ، دیر لوئر، تورغر، کوہستان لوئر، کولائی پالاس کوہستان اور پشاور کو ہائی رسک کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

    محکمہ ریلیف تمام سٹیک ہولڈرز کی سفارشات سے پلان کومؤثر طریقے سے نافذ کرنےکے لیے پُرعزم ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کومشینری اورامدادی سامان فراہم کردیا ہے۔ عبدالباسط کے مطابق بوقت ضرورت دیگر امدادی سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔

    ترجمان کے مطابق محکمہ ریلیف کے زیر انتظام صوبے بھر میں فرضی مشقیں بھی جاری ہیں۔ محکمے نے پانی کی سطح کو مانیٹر کرنے کے لیے قبل از وقت وارننگ دینے کے لیے سات اہم پوائنٹس پانچ دریاؤں اور دو نالوں پر فلڈ ارلی وارننگ سسٹم نصب کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے پانی کے خطرناک سطح پر پہنچتے ہی سسٹم الرٹ سگنلز پیدا کرتا ہے۔

    ارلی وارننگ سسٹم پی ڈی ایم اے کے ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے ساتھ مکمل کنکٹ رہتا ہے۔

  4. ایف آئی اے کے مزید مبینہ سمگلر گرفتار کرنے کے دعوے, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ یونان کشتی حادثہ کیس میں اس نے مبینہ سمگلروں کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے اور اس میں اسے کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔

    ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی کے مطابق اس نے اب تک یونان کشتی حادثے میں پانچ مقدمات درج کیے ہیں جبکہ مختلف کارروائیوں میں چھ مبینہ انسانی سمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کو کلرسیداں، جھنگ اور پشاور سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یونان کشتی حادثے کے بعد سے ایف آئی اے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پریس ریلیز کے ذریعے اپنی کارکردگی رپورٹ میڈیا سے شئیر کرتا ہے۔ تاہم ابھی تک عدالتوں سے کسی مبینہ سمگلر کو ابھی سزا نہیں ہوئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی اے کی کارکردگی پریس ریلیز سے زیادہ طریقہ تفتیش سے واضح ہو سکے گی جب وہ مبینہ سمگلروں کے گرفتاری کے دعوے کو عدالتوں میں ثابت کرے گی۔

  5. مودی اور امریکہ کے بیانات سے تکلیف پہنچی، آج پاکستان تنہا ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں امریکہ اور انڈیا کے اس مشترکہ بیان سے تکلیف پہنچی ہے جس میں پاکستان سے سرحد پار دہشتگردی روکنے کے لیے اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مودی نے کہا کہ پاکستان کی تو بات نہ کرو، ہمارا شراکت دار اب امریکہ ہے۔ پاکستان تو اپنے بوجھ کے اندر کی ختم ہو رہا ہے۔ یہ تکبر بھرا بیان دورۂ امریکہ پر سامنے آیا۔‘

    ’ظاہر ہے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور ٹیکنالوجی کے معاہدوں پر دستخط کر کے ان میں تکبر آ گیا ہے کہ ہم امریکہ کے شراکت دار بن گئے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے افسوس یہ ہے کہ ایک آدمی کی جانب سے وہ لوگ اوپر بٹھائے گئے ہیں جسے لگتا تھا کہ اس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ جو مرضی کر سکتا ہے۔‘

    ’ہماری طرح کے لوگوں کا جینا مرنا یہیں ہے۔۔۔ این آر او لینے والے ملک کے فیصلے کر رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ بیٹھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پھر حیران ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر کیوں ہم پر تنقید کی جا رہی ہے، جو تنقید کرتا ہے وہ غدار ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’بحیثیت پاکستانی مجھے انڈیا اور امریکہ کے مشترکہ بیان پر تکلیف ہوئی۔ ہمیں (اس بیان میں) وہاں لا کر کھڑا کیا گیا کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی میں ملوث ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اسے ختم کریں۔ اس کے خلاف وزیر اعظم کے منھ سے کچھ نہیں نکلے گا۔‘

    ’بلاول کے دوروں کا یہ نتیجہ ملا کہ جو ان کی 14 ماہ سے خدمت کر رہے ہیں، ان کی طرف سے ایسا بیان ملا کہ پاکستان کی حیثیت بتا دی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ایسی خارجہ پالیسی بنا دی ہے کہ ہم دنیا سے اچھی اچھی باتیں کریں، انھیں آم کی ٹوکریاں بھجوا دیں اور ان کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر بات کریں، ایسی باتیں نہیں چلتیں۔ آج پاکستان کو آئسولیشن (تنہائی) کا سامنا ہے۔‘

  6. الیکشن کمیشن پر اکتوبر میں انتخابات کرانے کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں: خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر اکتوبر میں آئندہ عام انتخابات کرانے کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے انٹرویو میں کہا کہ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات شیڈول کے مطابق کرانے کی اجازت دی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ انداز میں کرانے کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی تاحیات نااہلی سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو تاحیات نااہل قرار دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ’جلد پاکستان پہنچ کر انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم لیگ ن عوام کی بھرپور حمایت سے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ’نواز شریف کے ویژن اور رہنمائی میں ترقیاتی اور فلاحی کام جاری رکھے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف اپنے خلاف حریف جماعت کی جانب سے درج کیے گئے جھوٹے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے وقت سے پہلے اسمبلیاں تحلیل کرنے سے متعلق سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف افواہیں ہیں جو ملک میں پھیلائی جا رہی ہیں۔

  7. بریکنگ, سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی نااہلی کی مدت پانچ سال رکھنے کا بل منظور کر لیا, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    قومی اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    قومی اسمبلی نے نااہلی کی مدت کے تعین اور الیکشن کی تاریخ سے متعلق اصلاحات کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔

    اس بل میں نااہلی کی مدت پانچ سال رکھ دی گئی ہے اور اس کی منظوری سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما جہانگیر ترین سمیت دیگر کے لیے اہلیت کی راہ ہموار ہوگی۔

    حکومت نے الیکشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جس میں آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت الیکشن ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی۔

    الیکشن اصلاحات بل 2017 میں ترمیم کی گئی ہے اور اس سے الیکشن ایکٹ 2023 منظور کیا گیا ہے۔

    الیکشن ایکٹ میں نئی ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت اب نااہلی کی سزا پانچ سال ہوگی۔ الیکشن ایکٹ 2023 کے تحت عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار صدر مملکت کے ساتھ مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن کو دینے کی ترمیم منظور کر لی گئی ہے۔

    الیکشن ایکٹ 2023 سینیٹ نے چند روز قبل ہی منظور کیا تھا۔ اس کے ذریعے الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول میں تبدیلی بھی کرسکے گا۔

    صدر مملکت عارف علوی کی غیر موجودگی میں بل کی جلد منظوری کا امکان ہے۔ صدر کی عدم موجودگی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے قائم مقام صدر کا چارج سنبھال لیا ہے۔

    قائم مقام صدر مملکت کی جانب سے الیکشن ایکٹ بل پر دستخط جلد متوقع ہیں اور یوں یہ بل ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا۔

    خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں۔

  8. بریکنگ, قومی اسمبلی سے مالی سال 24-2023 کا بجٹ منظور، ٹیکس ہدف 215 ارب روپے بڑھا دیا گیا

    Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہ@FinanceMinistry

    آئی ایم ایف کے مطالبے پر ٹیکس کا ہدف بڑھاتے ہوئے قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ کثرت رائے سے منظور کیا ہے۔

    خیال رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی بحالی کے لیے 9 جون کو پیش کردہ وفاقی بجٹ میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں جن کے بارے میں گذشتہ روز وزیر خزانہ نے ایوان کو آگاہ کیا تھا۔

    اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت کے محصولات کی وصولی کے ہدف کو بڑھایا گیا ہے، مجموعی اخراجات کا ہدف 144 کھرب 80 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ صوبوں کا حصہ 52 کھرب 80 ارب روپے سے بڑھا کر 53 کھرب 90 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    اتوار کو قومی اسمبلی میں فنانس بل کی منظوری کے لیے سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران فنانس بل میں کُل 9 ترامیم کی گئی ہیں۔ ان میں سے 8 ترامیم حکومت، ایک اپوزیشن کی جانب سے شامل کی گئی ہے۔

    ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 سے بڑھا کر 9 ہزار 415 ارب مقرر کر دیا گیا ہے، پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کر دی گئی، علاوہ ازیں این ایف سی کے تحت صوبوں کو 5 ہزار 276 ارب کے بجائے 5 ہزار 390 ارب ملیں گے۔

  9. تربت میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ کرنے والی سمعیہ بلوچ کون تھیں؟

  10. وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا

  11. پاکستان نے انڈین ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایل او سی پر فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کرایا, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان نے سنیچر کو اپنے زیرانتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے مقام پر فائرنگ کے الزام میں انڈین ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے حکام کے مطابق انڈین فوج کی فائرنگ سے تیتری نوٹ سیکٹر میں دو چرواہے چوہدری قاسم اور عبید قیوم ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

    حکام کے مطابق سنیچر کے روز انڈین فوج نے ’چھوٹے ہتھاروں سے فائرنگ کر کے جانور چرانے والے دو افراد کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی کر دیا ہے۔‘

    زخمی کرنے والے شخص کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا یے۔ دوسری جانب اس خطے کے وزیراعظم چوہدری انوارلحق اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    بیان کے مطابق سنیچر کی صبح انڈین فوج نے ’معصوم کشمیریوں کے خلاف اپنے معمول کے غیر انسانی رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے چرواہوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’ایک نئی جیو پولیٹیکل سرپرستی کی وجہ سے، انڈین افواج نے اپنے جھوٹے بیانیے اور من گھڑت الزامات کو پورا کرنے کے لیے معصوم جانیں لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔‘

    ’بلا اشتعال فائرنگ‘ پر انڈیا کے ساتھ شدید احتجاج کرتے ہوئے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’پاکستان ایل او سی کے علاقے میں کشمیریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنے انتخاب کے مطابق جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

  12. 9 مئی کے ذمہ داران کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے: استحکام پاکستان پارٹی

    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے مطالبہ کیا ہے کہ نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ فردوس عاشق اعوان سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں اکثریت تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنماؤں کی ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ’ملک کسی شرپسند سے نرمی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ تمام مرکزی کرداروں کو آئین اور قانون کے مطابق ان کے عمل کی سزا ملنی چاہیے۔‘

    ان کے مطابق جو پارٹی ملکی سالمیت کی حدود سے واقف نہیں اسے سیاست میں بھی رہنے کا کوئی حق نہیں، جس نے جو بویا وہی کاٹ رہا ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان کے مطابق اب پاکستانی سیاست میں ’کسی ہینڈسم گوربا چوف کی کوئی گنجاٸش نہیں ہے۔‘

    استحکام پاکستان پارٹی پر یہ تنقید بھی جاتی ہے کہ یہ پرو اسٹیبلشمنٹ جماعت ہے جس کا مقصد تحریک انصاف کو نقصان پہنچانا ہے۔ تاہم فردوش عاشق اعوان اس مؤقف کی حمایت نہیں کرتیں۔

    ان کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی ’پرو پاکستان‘ پارٹی ہے جس کا نظریہ ’سپاہ باقی تو دفاع باقی‘ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. ’سیاسی کارکنان کو شدید گرم موسم میں نہایت بُری کیفیت میں رکھا گیا ہے‘: عمران خان نے ویڈیو شیئر کر دی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’حکّام کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان اور سپورٹرز کیساتھ روا رکھا جانے والا غیرانسانی سلوک نہایت شرمناک ہے۔‘

    عمران خان کے مطابق ان سیاسی کارکنان کو اپنی سیاست کے انتخاب اور احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے پھینکا گیا، جہاں اس شدید گرم موسم میں انھیں نہایت بُری کیفیت میں رکھا گیا ہے تا کہ انھیں اپنے ہوش و حواس سے محروم کیا جا سکے۔

    سابق وزیراعظم کے مطابق ’ان کی (تیزی سے) بگڑتی ہوئی صحت اس ویڈیو میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے (جو ان سے فون چھینے جانے سے پہلے بنائی گئی) نام نہاد ’جمہوری تحریک‘ کے لبادے میں قائم کیے گئے وحشت و بربریت کے راج نے ہماری جمہوریت اور ہمارے سماج کی اخلاقی و معاشرتی اقدار کو ناقابلِ تلافی، ناقابلِ تصوّر نقصان پہنچایا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. تربت میں ’خاتون خودکش بمبار‘ کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    تربت

    ،تصویر کا ذریعہOfficials

    حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ میں بظاہر ایک خاتون کی جانب سے کیے گئے خود کش حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

    تربت میں پولیس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملہ کمشنر آفس اور گھوڑا چوک کے قریب کیا گیا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں وہاں سے گزر رہی تھیں۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے تربت میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک بیان میں بی ایل اے کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ’بی ایل اے مجید بریگیڈ کی فدائی سمعیہ قلندرانی بلوچ نے سر انجام دیا۔‘

    ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے تربت میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اپنے بیان میں ’پولیس اہلکار کی شہادت اور ایک خاتون اہلکار کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار‘ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی کا مقصد ترقیاتی عمل کو روکنا اور سکیورٹی فورسز کو مرعوب کرنا ہے۔ دہشت گردوں کے مزموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

    سمعیہ قلندرانی بلوچ

    ،تصویر کا ذریعہBLA

    ،تصویر کا کیپشنبی ایل اے کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ’بی ایل اے مجید بریگیڈ کی فدائی سمعیہ قلندرانی بلوچ نے سر انجام دیا‘

    ’پولیس کی ایک گاڑی دھماکے کی زد میں آگئی‘

    رابطہ کرنے پر کمشنر مکران ڈویژن سیّد فیصل آغا نے بتایا کہ حملے کی ٹارگٹ سیکورٹی فورسز کی گاڑیاں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پولیس کی ایک گاڑی بھی وہاں سے گزر رہی تھی جو کہ دھماکے کی زد میں آگئی۔

    انھوں نے بتایا کہ وہاں سے اب تک جو شواہد ملے ہیں، ان کے مطابق بظاہر یہ خود کش حملہ خاتون نے کیا۔

    تربت بلوچستان کے ضلع کیچ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ضلع کیچ کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں اور یہ انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

    ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ مسلح شورش سے متاثر رہے ہیں۔ اس ضلع میں بدامنی کے دیگر واقعات کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب ضلع کیچ میں بہتری آئی ہے۔

    اس سے قبل کراچی یونیورسٹی میں چینی شہریوں پر شاری بلوچ نامی جس خاتون نے خودکش حملہ کیا تھا، ان کا تعلق بھی ضلع کیچ سے تھا۔

  15. فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف مقدمے میں اعتزاز احسن نے مزید دستاویزات بھی جمع کرا دیں

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت ملٹری کورٹس میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس میں درخواست گزار اور سابق وکیل رہنما اعتزاز احسن نے اضافی دستاویزات جمع کروا دی ہیں۔

    اضافی دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے جمع کروائی گئیں، جن میں ملٹری کورٹس قوانین اور فوجی عدالتوں میں کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق آرٹیکلز شامل ہیں۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائل کا کیس 26 جون کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔

    اعتزاز احسن کے مطابق ’کیس کو جلد نمٹانے کے لیے دستاویزات اہمیت کی حامل ہیں، انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔‘

  16. 32 کھرب کے 62 ہزار زیرالتوا مقدمات کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے: وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ اس وقت وفاقی حکومت کے تقریباً 32 کھرب روپے مختلف ٹیکس جوڈیشل فورم پر زیر التوا 62 ہزار مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کے جلد حل کے لیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن سی (اے ڈی آر) میں ٹیکس دہندگان کا ایک اور محکمے کا ایک نمائندہ شامل کرنے اور اس کی سربراہی ہائی کورٹ کے جج کو سونپنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے حکومت نہ صرف واجب الادا ٹیکس وصول کرسکے گی بلکہ عدالتی فومرز پر بوجھ بھی کم ہوگا اور قانونی چارہ جوئی کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔

  17. نیب نے عمران خان اور بشری بی بی کو 26 جون کو طلب کر لیا

    IK BB

    ،تصویر کا ذریعہFile Photo

    پاکستان کے قومی احتساب بیورو نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 26 جون کو طلب کر لیا ہے۔

    عمران خان کو توشہ خانہ تحائف کیس میں 26 جون کو دوبارہ تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کو 190 ملین پاؤنڈ کیس یعنی القادر ٹرسٹ کیس میں طلب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو گذشتہ روز عدم پیشی پر دوبارہ نوٹس جاری ہوا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو نوٹس ارسال کر دیے گئے ہیں۔ ابھی تک بشری بی بی ایک مرتبہ بھی نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔

    سابق وفاقی وزرا زلفی بخاری اور بیرسٹر شہزاد اکبر نے القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی ہے۔ دونوں وزرا نے کہا ہے کہ وہ اس وقت بیرون ملک ہیں۔ شہزاد اکبر نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی ایک بار پھر پیشکش کی ہے۔

    سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری نے نیب کو تحریری جواب میں کہا ہے کہ وہ کاروباری مصروفیات کے باعث بیرون ملک مقیم ہوں۔ زلفی بخاری نے اپنی واپسی تک انکوائری ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ انھوں نے نیب سے کہا ہے انھیں نیب کی انکوائری رپورٹ بھی فراہم کی جائے۔ واضح رہے کہ نیب قانون کے تحت انکوائری رپورٹ فراہم کرنا لازمی ہے۔

  18. آئی ایم ایف سے تفصیلی مذاکرات کے بعد ٹیکس کی ترمیم متعارف کرانے جا رہے ہیں: اسحق ڈار

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے سنیچر کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ پیرس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کی سربراہ کے درمیان دو ملاقاتوں میں یہ طے ہوا ہے کہ نویں جائزہ پروگرم کو مکمل کرنے کے لیے ہر دو فریق ایک آخری کوشش کر لیتے ہیں۔

    ان کے مطابق ’ایکسٹرنل فناسنگ گیپ‘ کی وجہ سے ہمارا کیس بورڈ سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔‘

    ان کے مطابق اس کے بعد گذشتہ مسلسل تین راتیں آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 215 ارب روپے کے ٹیکس پر حکومت نے رضامندی ظاہر کی ہے اور اب ترمیم کے ذریعے یہ ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

    ترقیاتی بجٹ یا تنخواہوں پر کٹوتی نہیں ہوگی۔

    ان کے مطابق ایکسٹرنل فنانسنگ میں کمی کی وجہ سے 213 ارب کے ٹیکس عائد کریں گے۔

    ان کے مطابق جاری اخراجات میں 85 ارب روپے کی کمی لائی جائے گی۔ اسحاق ڈار کے مطابق اس بجٹ میں ان تمام تبدیلیوں کو متعارف کرا دیا گیا ہے۔

    وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ ’ہم نے آئی ایم ایف کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔‘ ان کے مطابق ’ہم نے خلوص نیت کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول کا معاہدہ ہوا تو بسم اللہ وگرنہ گزارا تو ہو رہا ہے۔

  19. 17 گریڈ سے زائد والے سرکاری ملازمین ایک ہی پینشن حاصل کر سکیں گے: وزیرخزانہ

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے سنیچر کو قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ نئی اصلاحات کے تحت 17 گریڈ سے زائد سرکاری ملازمین کو صرف ایک ہی پینشن مل سکے گی۔ ان کے مطابق ایک سے زائد پینشن کا سلسلہ ختم کیا جا رہا ہے۔

    میاں بیوی کی موت کی صورت میں خاندان والوں کو صرف دس سال تک پینشن مل سکے گی۔