پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پرویز خٹک کے ایک حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’صحافی عمران ریاض خان ہماری حراست میں نہیں ہیں، ریاست ان کی بازیابی کے لیے جو بھی معاونت درکار ہوئی فراہم کرے گی‘ اٹارنی جنرل کا عدالت میں بیان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    @IMRANRIAZKHAN1

    ،تصویر کا ذریعہ@IMRANRIAZKHAN1

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی عمران ریاض خان ہماری حراست میں نہیں ہیں۔ ریاست ان کی بازیابی کے لیے جو بھی معاونت درکار ہوئی فراہم کرے گی۔

    جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ان کی بازیابی کے لیے کوشش کریں تاکہ وہ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ گزار سکیں۔

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی ہے کیونکہ اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا صرف تحقیقات ہو رہی ہیں۔

    جس کے بعد درخواست گزار وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ اٹارنی جنرل کے اس بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے کہ ٹرائل شروع ہوا اور نہ ہی ابھی شروع ہو گا کیونکہ اٹارنی جنرل کا بیان ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے متضاد ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ٹرائل جاری ہے جبکہ اٹارنی جنرل کا دعویٰ ہے کہ کوئی ٹرائل شروع نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد پہلے ہفتے میں بتائیں گے کہ ان درخواستوں کی آئندہ سماعت کب ہو گی۔

  2. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: سپریم کورٹ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد پہلے ہفتے میں بتائیں گے کہ ان درخواستوں کی آئندہ سماعت کب ہو گی۔

    بینچ سے اٹھتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم عید کے بعد ملیں گے، جو لوگ گرفتار ہیں ان کا خیال رکھیں۔

  3. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں؟ جسٹس عائشہ ملک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل منصور عثمان نے اپنے دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی تحریری معروضات کے ساتھ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی معلومات فراہم کروں گا۔ میں ایف آئی آر میں افیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہ ہونے پر بھی معاونت کروں گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ملزمان کی کسٹڈی لیتے وقت الزامات بھی فراہم کردیے تھے، 9 مئی کے واقعہ کے بعد 15 دن لیے گئے پھر ملزمان کی حوالگی کا عمل ہوا۔

    چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت چارج کرنے کا طریقہ رولزمیں ہے؟ انھوں نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا آپ آج اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں گے؟

    جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں تحریری دلائل وقفہ کے بعد جمع کروا دوں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے معروضات کی تفصیل بھی مانگی تھی۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت 102 ملزمان ملٹری تحویل میں ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ تحویل میں موجود ملزمان کو گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی اور والدین بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہو گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں نے کچھ جیلوں کا دورہ کیا وہاں بھی ملزمان کو فون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو جو کھانا دیا جاتا ہے وہ عام حالات سے کافی بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھانا محفوظ ہے یا نہیں اس کا ٹیسٹ تو نہیں ہوتا مگر وہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی شفٹ ہو جائے گی۔

    اس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں؟ سادہ سوال ہے کہ ہم کیوں حراست میں موجود 102 افراد کی لسٹ کو پبلک کر سکتے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ابھی وہ زیر تفتیش ہیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پہلے یقینی بنائیں کہ زیر حراست افراد کی اپنے والدین سے بات ہو جائے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عید پر ہر کسی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون کون حراست میں ہے۔ عید پر سب کی اپنے گھر والوں سے بات ہونی چاہیے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ ملزمان کی آج ہی اہلخانہ سے بات کروائیں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فہرست پبلک کرنے کے حوالے سے ایک گھنٹے تک چیمبر میں آگاہ کر دوں گا۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ صحت کی سہولیات سب زیر حراست ملزمان کو مل رہی ہیں، ڈاکٹرز موجود ہیں۔ صحافیوں اور وکلا کے حوالے سے کچھ واقعات ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ریاض حنیف راہی سے کل بات بھی کی اور ان کی شکایات کا ازالہ ہو گا۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سزائے موت غیر ملکی رابطوں کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

  4. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا تھا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ کسی شخص پر شواہد کے بغیر الزام لگانا بے کار ہے۔ انھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایسی معلومات منگوائی ہیں جو تمام والدین کے لیے فائدہ مند ہیں۔

    دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ان مقدمات میں تو ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ تو سمجھ آتی ہے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر تحقیقات کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی تعریف نہیں کی گئی، سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا تھا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے۔

  5. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر مبنی ہے، عزیر بھنڈاری کے دلائل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل جاری ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہوئی مگر ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی کے خلاف شواہد نہ ہونے پر کارروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے۔

    ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے مزید دلائل دیے کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کے لیے تسلی بخش ہوں گی۔

    ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر مبنی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی پر موقف دینے کی بھی پابندی ہے اور ان کے بیانات میڈیا پر نہیں چلتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ مستند آوازیں ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہیں ہیں، ہماری استدعا ہے کہ اوپن ٹرائل کیا جائے۔

    اس کے ساتھ ہی عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

  6. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: آرمی اتھارٹی کیسے کسی شخص کو چارج کیے بغیر گرفتار کرسکتی ہے؟ چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    دوبارہ سماعت شروع ہونے پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آفیشل سیکرٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے؟

    وکیل درخواست گذار نے عدالت کو بتایا کہ جی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ذکر ہی نہیں ہے۔

    عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ ایکٹ میں ترمیم کےذریعے تحفظ پاکستان ایکٹ کو ضم کرکے انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں۔

    وکیل چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ 2017 میں ترمیم کرکے دو سال کی انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتا ہے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ سقم قانون میں ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کیا الزام لگایا گیا یہ تفصیل موجود ہی نہیں۔

    ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ شاعر احمد فراز کے مقدمے میں جسٹس افضل ظلہ نے کہا کہ چونکہ ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لیے ان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے شاعر احمد فراز اور سیف الدین سیف کیس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ احمد فراز پر الزام لگا تھا مگر ان کو باضابطہ چارج نہیں کیا گیا۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کیے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش کیسے ہو گی اور فرد جرم کیسے لگے گی؟

    جسٹس منیب اختر نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک مجسٹریٹ بھی تب تک ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے۔

    اس پر ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری کا کہنا تھا کہ یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ آرمی ایکٹ اس حوالے سے نامکمل ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس وقت تو ملزمان پر کوئی چارج ہی نہیں ہے۔

  7. بریکنگ, سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی کا معاملہ: سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کارروائی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

    جسٹس منیب اختر نے 13 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی ہے۔

    یاد رہے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کارروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کر رکھی تھی۔

  8. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: ’آرمی افسران کا سب سے اہم مورال ہوتا ہے، آرمی افسران کا مورال ڈاون کرنا بھی جرم ہے‘ چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے اور وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہو گی۔ وکیل عزیر بھنڈاری کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں کہیں بھی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے مزید دلائل دیے کہ آرمی سپورٹس سمیت مختلف چیزوں میں شامل ہوتی ہے، اگر وہاں کچھ ہو جائے تو کیا آرمی ایکٹ لگ جائے گا؟

    عزیر بھنڈاری نے عدالت میں سیکشن ٹو ڈی پڑھ کر سنایا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہو جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے جرم آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے۔ انھوں نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ دیکھانے کا کہا جس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت کو بتایا کہ آفیشل آرمی ایکٹ کے مطابق کسی بھی ممنوعہ قرار دیے گئے علاقے پر حملہ یا استعمال جس سے دشمن کو فائدہ ہو جرم ہے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ممنوعہ علاقہ تو وہ ہونا ہے جہاں جنگی پلانز یا جنگی تنصیبات ہوں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب آپ آرمی والے کی بات کرتے ہیں تو آرمی افسران کا سب سے اہم مورال ہوتا ہے۔ آرمی افسران کا مورال ڈاون کرنا بھی جرم ہے۔ اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ آرمی افسران اپنے ہائی مورال کی وجہ سے ہی ملک کی خاطر قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں۔

  9. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: صرف جنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے، جسٹس منیب اختر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ صرف جنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔ جب بنیادی حقوق معطل نہ ہوں تو سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا۔

    ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ ہمارا آئین، ہمارے بنیادی حقوق، ہمارے قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزر کر مختلف ہو چکے ہیں۔ اب ہمارے آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جس کو دیکھنا ضروری ہے۔ آئین کا یہ ارٹیکل فئیر ٹرائبل سے متعلق ہے۔

    عزیز بھنڈاری کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل سٹرکچرکی بات کرتا ہے اور آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے۔

    انھوں نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے۔ سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا اور کسی نے بھی خوشی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی۔

  10. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ بریگیڈئر ریٹائرڈ فرخ بخت علی کیس اور ڈسٹرکٹ بار کیس کے فیصلے، سویلین کے فورسز کے اندر تعلق سے متعلق ٹیسٹ ہیں۔ کیسے تعین ہو گا ملزمان کا عام عدالتوں میں ٹرائل ہو گا یا ملٹری کورٹس میں؟

    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیر سویلین کے ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔

    جس ہر جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؟ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاع پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آئی ایس پی آر کی گذشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے۔ انھوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے؟

    اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم ماضی میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مثالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ماضی کی ایسی مثالوں کے الگ حقائق، الگ وجوہات تھیں۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ شفاف ٹرائل کی بھی شرائط ہیں۔

  11. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: ملٹری کورٹس بھیجے گئے ملزمان پر سیکشن ٹو ڈی ٹو لگائی ہے، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائلز کے خلاف ہیں۔

    عزیر بھنڈاری کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے خلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ٹرائل جاری ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اٹارنی جنرل کے بیان سے متضاد ہے۔

    جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل ہمیں آپ کی بات پر یقین ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ملٹری کورٹس بھیجے گئے ملزمان پر سیکشن ٹو ڈی ون لگائی گئی ہے یا ٹو ڈی ٹو؟ انھوں نے رمارکس دیے کہ کل کے بعد اسی معاملے کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابھی تک سیکشن ٹو ڈی ٹو لگائی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سیکشن ٹو ڈی ون کا اطلاق بعد میں ہو سکتا ہے، آج کے دن تک ٹو ڈی ٹو کا ہی اطلاع ہوا ہے۔

  12. بریکنگ, سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز جسٹس منصور علی شاہ پر وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد انھوں نے خود کو سات رکنی بینچ سے علیحدہ کر لیا تھا اور آج ان درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ کر رہا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں۔

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری روسٹروم پر آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے بھی اس کیس میں درخواست دائر کی تھی۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عابد زبیری خوشی ہے سپریم کورٹ بار بھی اس کیس میں فریق بن رہی ہے، چیف جسٹس اچھے دلائل کو ویلکم کریں گے۔

  13. کوئٹہ میں رکشہ چلانے والی خاتون: ’اس شخص نے مجھے بیٹی پیدا کرنے کا طعنہ دیا جس کی اپنی پانچ بیٹیاں ہیں‘

  14. خام تیل سے لدا روسی جہاز کلائیڈ نوبل کراچی پورٹ پہنچ گیا, تنویر ملک، صحافی

    روسی خام تیل سے لدا دوسرا جہاز پاکستان پہنچ گیا ہے۔

    اس جہاز پر 55000 ٹن خام تیل لدا ہوا ہے ۔ روسی جہاز خام تیل کے ساتھ بندرگاہ کی حدود میں لنگر انداز ہو گیا ہے۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعلامیے کے مطابق جہاز کی برتھنگ پلان فائنل ہوتے ہی جہاز کو آئل پیئر پر لانے کے کام کا آغاز متوقع ہے۔

    جہاز فی الوقت آؤٹر اینکرایج میں لنگر انداز ہے جو کراچی پورٹ کی حدود کہلاتی ہے۔

    تمام جہاز پہلے آؤٹر اینکریج پر پہنچتے ہیں جہاں سے کے پی ٹی کا پائلٹ جہاز کو پورٹ چینل میں لا کر برتھنگ کراتا ہے۔

    یاد رہے روس سے خام تیل لانے والا یہ دوسرا جہاز ہے اس سے پہلے بارہ جون کو پہلا جہاز روسی خام تیل لے کر کراچی پہنچا تھا۔

  15. وہ کون تھے؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  16. فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت آج 9:30 پر شروع ہو گی

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    سپریم کورٹ میں سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج صبح 9:30 پر شروع ہو گی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز جسٹس منصور علی شاہ پر وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد انھوں نے خود کو سات رکنی بینچ سے علیحدہ کر لیا تھا اور آج ان درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ کرے گا۔

    گذشہ روز چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس کل (یعنی آج) آخری ورکنگ ڈے ہے۔

  17. سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کارروائی کا معاملہ: عدالتِ عظمیٰ آج دن 11:30 پر فیصلہ سنائے گی

    سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کارروائی کے معاملے پر عدالتِ عظمیٰ آج کونسل کو احکامات دینے سے متعلق درخواست کا فیصلہ سنائے گی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو دن 11:30 پر سنایا جائے گا

    درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کارروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

    سپریم کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    جن دو ججز نے اس درخواست پر سماعت کی ہے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے ہی سے درخواستیں دائر ہوئی ہوئی ہیں۔

  18. بلوچستان ہائیکورٹ کا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخاب پر حکم امتناعی, محمد کاظم بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخاب کے انعقاد کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ امتناعی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اخترافغان کی سربراہی میں بینچ نے ایک آئینی درخواست پر جاری کیا۔

    یہ آئینی درخواست گل محمد کاکڑ نے دائر کی تھی۔ یہ درخواست 22 جون کوپی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے نوٹیفیکشن کے خلاف دائرکی گئی تھی۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ 22 جون کا نوٹیفیکیشن پی سی بی کے آئین کے خلاف ہے۔ بورڈ آف گورنرز نے چیئرمین کا انتخاب 27 جون کو کرنا ہے۔

    عدالت نے درخواست کوباقاعدہ سماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو تا حکم ثانی پی سی بی کے چیئرمین کے انتخاب سے روک دیا۔

  19. شہباز گل جس پاکستانی ایئرپورٹ پر نظر آئیں انھیں گرفتار کر لیا جائے: عدالت, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام اباد طاہر عباس سپرا کی عدالت نےاداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس میں ملزم شہبازگِل کے خلاف اشتہاری کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کردی۔

    سماعت کے تفتیشی افسر نے شہبازگِل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ کی تعمیلی رپورٹ عدالت جمع کروائی جس میں کہاگیا کہ شہبازگِل کووارنٹ کے مطابق گرفتار کرنے کوشش کی۔

    وارنٹ کی تعمیل نہ ہونے کے لیے شہبازگِل جان بوجھ کر امریکہ چلے گئے ہیں۔عدالت نے ایف آئی اے کو شہباز گِل کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ۔شہباز گِل پاکستان میں جس بھی ائیرپورٹ پر نظر آئیں، انھیں گرفتار کر کے عدالت پیش کیا جائے۔

    عدالت نے چیئرمین نادرہ کو شہباز گِل کے شناختی کارڈ کو بلاک کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ شہبازگِل جان بوجھ کر کیس کے ٹرائل کو آگے نہیں ںڑھانا چاہتے۔

    شہبازگِل کی اسلام آباد اور فیصل آباد رہائش گاہ کے باہر اشتہاری قرار دینے کا اشتہار چسپاں کیا جائے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور اسلام آباد کو شہبازگِل کی تمام پراپرٹیز کی رپورٹ 30 دن میں عدالت جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے اور دیگر رپورٹس طلب کرلیں اور سماعت 26 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی۔

  20. سپریم کورٹ میں درخواست عوامی مفاد میں دائر کی ہے: سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی وضاحت

    پاکستان کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کچھ خبروں کے حوالے سے میڈیا کے نام ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف سپریم کوٹ میں جو درخواست دائر کی ہے وہ عوامی مفاد میں کی ہے۔

    ان کے مطابق وہ عمران خان کو 60 برس سے جانتے ہیں مگر ان کی کوئی 15 برس قبل ان سے ایک شادی کی تقریب میں صرف ایک ملاقات ہوئی ہے۔ اسی طرح ان کے مطابق تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیئر وکیل حامد خان سے ان کی رفاقت گذشتہ چار دہائیوں سے زائد کی ہے مگر ان کی یہ درخواست حامد خان کی درخواست سے علیحدہ اور مختلف ہے۔

    سابق چیف جسٹس نے سورہ الحجرات کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ خبر کو شائع کرنے سے قبل اس کی خوب چھان بین کر لیا کریں۔ ان کے مطابق انھیں ان کے ایک ہمدرد صحافی دوست نے یہ بتایا کہ ہے کہ ان کی درخواست سے متعلق میڈیا میں منفی خبریں چل رہی ہیں جن پر وضاحت دینا ضروری ہے۔ سابق چیف کے مطابق

    ان کی یہ میڈیا کے لیے آخری وضاحت ہے۔ انھوں نے میڈیا سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں اپنی کتاب ’سلاٹرڈ ود آؤٹ اے نائف‘ میں تفصیل سے اس کا ذکر کر چکا ہوں۔‘

    J S Khawaja

    ،تصویر کا ذریعہJ S Khawaja

    J S Khawaja

    ،تصویر کا ذریعہJ S Khawaja