میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
لائیو کوریج
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
’میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں‘: عمران خان

،تصویر کا ذریعہYoutube
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ’میں نے کبھی یہ ملک چھوڑ کر نہیں جانا، میں ڈیل کے لیے یہ نہیں کر رہا ہوں، میں یہ سب قوم کے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں۔‘
ان کے مطابق مائنس ون کی باتیں کی جاتی ہیں مگر وہ ڈیل نہیں کریں گے۔ عمران خان کے مطابق میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں اور یہ میں اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک ملک حقیقی طور پر آزاد نہیں ہوتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں، 19 کیسز میں ضمانت ہے، کسی بھی کیس میں ضمانت کینسل کر سکتے ہیں، پورا تیار ہوں کہ یہ مجھے پھر سے پکڑ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نو مئی کو ہمارے کارکنان کے اندر کچھ لوگ گھسائے گئے جنھوں نے سازش کے تحت اہم تنصیبات پر حملے کیے۔ ان کے مطابق وہ حیران ہیں کہ پولیس نے ان مظاہرین کو کیوں نہیں روکا جو کور کمانڈر ہاؤس چلے گئے یا پھر جو لوگ انھیں جی ایچ کیو لے گئیے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ’نو مئی کے بعد بہانہ بنا کر قانون کی دھجیاں اڑا گئی ہیں۔‘
عمران خان کے مطابق اب جیل سے واپس آ کر انھیں کارکنان نے بتایا ہے کہ نو مئی کو ’ایک دم کوئی لوگ آتے تھے اور ایک دم اشتعال دلاتے تھے کہ آؤ جی ایچ کیو چلو، میانوالی جہاز جلاؤ اور آؤ کور کمانڈر گھر جلاؤ۔‘
عمران خان کے مطابق اس کے بعد پورا ایکشن تیار تھا اور 24 گھنٹوں کے اندر دس ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔
یونان میں کشتی حادثہ، پاکستان میں 19 جون یوم سوگ ہوگا
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ 19 جون کو ملک بھر میں یوم سوگ ہوگا۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس دن قومی پرچم سرنگوں رہے گا جبکہ اس حوالے سے دیگر ضروری انتظامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPM Office
جماعت اسلامی کا 23 جون کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا اعلان
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا ہے ’کراچی کے انتخابات میں دھانلی کے خلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر 23 جون کو احتجاج کیا جائے گا۔ سراج الحق کے مطابق کراچی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنا وقار ختم کر دیا ہے۔
سراج الحق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی خواہش تھی کہ کراچی کا میئر ایک جیالا ہونا چاہیے۔ انھوں نے الزام عائد ہے کہ ’یہ اغوا برائے تاوان کی طرح کارروائی کی گئی ہے۔ سوا تین کروڑ کی آبادی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’بلاول بھٹو کہتا ہے کہ ہم نے ایک مذہبی جماعت کو شکست دی ہے۔‘
سراج الحق نے کہا ہے کہ وہ کراچی والوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے کراچی کے حقوق اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر کراچی کے لوگوں نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا ہے۔
جلسوں میں باتیں کرنے سے پرہیز کر کے کابینہ میں بیٹھ کر بات کریں: احسن اقبال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے بلاول بھٹو کی تقریر پر درعمل میں کہا ہے کہ ’وزیراعظم کی ہدایت پر تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں۔ تمام پالیسی فیصلوں میں اتحادی پارٹنرز شریک ہوتے ہیں، سب کی زمہ داری ہے کہ ان فیصلوں کا پہرا دیں اور برابر کی اوونرشپ دیں۔‘
نارووال میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’بجٹ کی تیاری کے موقع پر بھی تمام جماعتوں کو شریک رکھا گیا اور کابینہ میں تمام ممبران شریک تھے جن کے اتفاق رائے سے بجٹ کی منظوری دی گئی۔‘
احسن اقبال نے کہا ’اتحادی پارٹنرز جب جلسوں کے اندر عوام کے سامنے جب تنقید کر جائے گی تو سیاسی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ جلسوں میں باتیں کرنے سے پرہیز کر کے کابینہ میں بیٹھ کر بات کریں تاکہ سیاسی بے یقینی پیدا نہ ہو اورہم آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نیا فرنٹ نہ کھولیں۔‘
احسن اقبال نے کہا ’حکومت کی کوشش ہے کہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے۔ جب اتحاد ہوتا ہے تو اس کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں۔ اتفاق رائے پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ تاہم اس کی وسیع البنیاد اثرات اور سپورٹ ہوتی ہے۔‘
احسن اقبال کے مطابق ’پچھلے سال جب کلائمنٹ ڈزاسٹر آیا تو وفاقی حکومت نےسندھ اور بلوچستان میں تمام محدود وسائل کے باوجود 80 ارب روپے سے زیادہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دریعہ براہ راست مدد دی اور بیرونی دنیا کی امداد بھی وہاں پہنچائی گئی ،جس نے سیلاب سے نکلنے میں مدد دی ۔‘
انھوں نے دعوی کیا کہ ’شہباز شریف اپنے اتحادیوں کو مسلم لیگ ن سے ذیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ہماری کوشش ہے تمام صوبوں کو ایک آنکھ سے دیکھیں۔‘
واضح رہے سینیچر کے روز بلاول بھٹو نے سوات میں جلسے میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’بجٹ پر تحفظات پہنچانے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے جو فنڈز رکھنے چاہییں تھے وہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا تھا ’انھیں وزیراعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہوا ہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اس بجٹ پر پیپلز پارٹی بھی ووٹ ڈالے تو پھر سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز مختص کریں۔
ان کے مطابق ’وزیراعظم کی ٹیم میں کچھ لوگ ہیں جو انھیں ٹھیک صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم سے درخواست ہے کہ سیلاب متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کریں۔‘
سالٹ رینج کے قریب لاہور-اسلام آباد موٹروے پر بس حادثے میں 10 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہSocial Media
ریسکیو 1122 کے مطابق کلر کہار کے قریب لاہور-اسلام آباد موٹروے پر بس حادثے میں کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔
حادثہ موٹروے ایم ٹو پر سالٹ رینج کے قریب ہوا۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاہور سے اسلام آباد جانے والی بس کی بریک فیل ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا۔
زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سالٹ رینج کلر کہار کا لگ بھگ 10 کلومیٹر کا حصہ ہے جہاں اس سے قبل بھی بہت مہلک حادثات ہوتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ سڑک کے اس حصے پر جابجا وارننگ سائن نصب ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بھی اس ایریا میں موجود رہتی ہے اور ڈرائیونگ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کرتی نظر آتی ہے۔
یونان کشتی حادثے میں ملوث عناصر کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے افسران نامزد کر دیے
یونان کشتی حادثے میں کئی پاکستانیوں کی ممکنہ ہلاکت کے پیش نظر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کے لیے افسران کو نامزد کر دیا۔
نامزد کئے گئے افسران میں انسپیکٹر ہادی پرستان، انسپیکٹر عبداللہ، انسپیکٹر وقار اعوان اور سب انسپیکٹر ارتضا انصر شامل ہیں۔ یہ افسران ایف آئی اے کے مختلف اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکلز میں تعینات ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ’افسران کے موبائل نمبرز اور ای میل بھی شئیر کر دیے گئے ہیں۔ عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ کشتی حادثے میں ملوث عناصر کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات شیئر کرنے کے لئے افسران سے رابطہ کریں۔ معلومات شئیر کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔‘
شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور: ’آزمائشیں آتی ہیں، اللہ ہم سب کو سرخرو کرے‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نو مئی کے جیلاؤ گھیراؤ پر درج مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو 19 جون کو انھیں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں تفتیشی افسر نے شہریار آفریدی کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
سماعت کے دوران ان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔ عدالت نے شہریار آفریدی کو کمرہ عدالت میں ہی فیملی سے ملاقات کی اجازت دی۔
روسٹرم پر آ کر شہریار آفریدی نے کہا کہ ’میرا بھائی فوت ہوا مجھے جنازے میں شریک ہونے نہیں دیا گیا۔ میں نے یونیورسٹی اور کالجز میں جا کے پاکستانیت پر لکچر دیے۔ احتجاج کرنا میرا آئینی حق ہے، میں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔‘
عدالت نے ان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔
عدالت کے باہر صحافیوں نے شہریار آفریدی سے پوچھا کہ آیا وہ بھی پریس کانفرنس کریں گے؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ ’میں کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرتا۔ سب میرے لیے قابل احترام ہیں، کس نے (پارٹی کو) اس حالت میں چھوڑا، کیوں چھوڑا یہ تو رب جانتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آزمائشیں آتی ہیں، اللہ ہم سب کو سرخرو کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے (رانا ثنا اللہ کو) جیل میں نہیں ڈالا تھا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ میجر جنرل نے انٹیلیجنس رپورٹ پر انھیں) گرفتار کیا، ان کے پاس سب کچھ تھا۔۔۔ کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی۔‘
دریں اثنا اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس میں فواد چوہدری پر 24 جون کو فرد جرم عائد کیا جائے گا۔ لاہور کی ایک انسداد دہشتگردی عدالت نے نو مئی کے واقعات پر تھانہ شادمان میں درج مقدمے میں اعجاز چوہدری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کر رہا: وزیر خزانہ اسحاق ڈار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ شیل کمپنی پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کر رہی بلکہ ان کا کاروبار جاری رہے گا۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ملازمین فارغ نہیں ہوں گے۔ شیل جو بھی فیصلہ کرے گا وہ حکومت پاکستان کی منظوری کے تحت ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شیل ایک بین الاقوامی سرمایہ کار کو شیئرز بیچنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں معمول کے مطابق کاروبار چلے گا۔ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔‘
الیکشن وقت پر ہونے چاہیں، اتحادیوں سے بھی کہیں گے تیاری پکڑیں: بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرخارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انتخابات وقت پر ہونے چاہییں اور وہ اپنے اتحادیوں سے بھی کہیں گے تیاری پکڑیں۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن کے لیے تیار ہے اور ہم یہ سمجتھے ہیں کہ الیکشن وقت پر ہونا چاہیں۔ اگر الیکشن وقت پر ہوئے تو پھر یہ نوجوان آپ کو دکھائے گا کہ کیا نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کارکنان سے کہا کہ آج سے الیکشن مہم کا آغاز کر دیں۔
ان کے مطابق سندھ اور کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی طرح پیپلز پارٹی عام انتخابات میں بھی ایسے ہی نتائج دے گی۔ ’ہم نے کراچی میں اپنا میئر منتخب کرایا۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’آپ نے ن لیگ اور تحریک انصاف کا دور بھی دیکھ لیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوانوں کو موقع دیا جائے، بزرگوں کو بہت موقع دے چکے۔‘
ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ غربت اور بے روزگاری سے ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ انتخابات میں جو بھی جیتے اس کا حق ہو گا کہ وہ عوام کی خدمت کرے اور مسائل کا حل نکالے۔
’بجٹ میں سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ پر تحفظات پہنچانے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے جو فنڈز رکھنے چاہییں تھے وہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا انھیں وزیراعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہوا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اس بجٹ پر پیپلز پارٹی بھی ووٹ ڈالے تو پھر سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز مختص کریں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی ٹیم میں کچھ لوگ ہیں جو انھیں ٹھیک صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم سے درخواست ہے کہ سیلاب متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کریں۔‘
بلاول بھٹو نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے بھی سیلاب متاثرین کے فنڈز یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔
’نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو عبرت کی مثال بنائیں گے‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم پر جیسا بھی ظلم ہوا ہم نے کبھی حملے نہیں کیے۔ کبھی مشرف کے گھر کے جلاؤ کا نہیں سوچا۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ جب بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو وہ اس وقت 19 برس کے تھے مگر انھوں بس یہی کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سیلکٹڈ‘ جاتے جاتے دہشتگردوں کی طرح آگ لگا کر چلے گئے ہیں اور جی ایچ کیو سمیت اہم عسکری تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاہدہ: توہین مذہب کے ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت بھی مقدمہ چلایا جائے
اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنما شفیق امینی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے معاہدے کی تصدیق کی۔
اس معاہدے کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے مل کر طریقہ کار طےکیا ہے اور توہین مذہب کی روک تھام کے لیے مشاورت سے ایک لائحہ عمل تک پہنچے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت حکومت توہین مذہب اور توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمات چلیں گے۔ اس معاہدے کے تحت حکومت امریکہ کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے خط لکھے گی اور اس بابت اقدامات اٹھائے گی۔
اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے، ایک بے گناہ خاتون کو نہ صرف غلط سزا دی گئی اور قید میں بھی رکھا گیا ہے، پاکستان کے حالات پر کانگریس ارکان کو خط لکھنے والے ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ بھی دیکھیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر خط بھی لکھے گی۔
اس معاہدے کے تحت حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق طریقہ کار ٹی ایل پی کے سامنے رکھا، اسحاق ڈار نے یقین دلایا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔ اس معاہدے کے تحت حکومت کو اردو زبان کی ترویج کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔
ٹی ایل پی کے رہنما شفیق امینی نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات مان لیے ہیں، ہمارے مطالبات میں تحفظ ناموس رسالت، مہنگائی کا خاتمہ اور ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ شامل تھا، ہم نے اپنے مطالبات کے لیے پھر امن مارچ کیا۔
شفیق امینی کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کا شکریہ کہ انھوں نے لاکھوں لوگوں کے جذبات کی قدر کی اور ہامرے مطالبات مانے۔
خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا مطالبات کے حق میں کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ جاری تھا جو کہ حکومت نے جہلم کے قریب روک رکھا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTLP

،تصویر کا ذریعہTLP
یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کا پاکستان سے بیرون ملک افراد بھیجنے والے ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس نے غیرقانونی طریقے سے پاکستان سے لوگ بیرون ممالک بھیجے تھے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ ان افرادی کو بھی بیرون ممالک بھیجنے میں ملوث ہے جو چیند روز قبل یونان میں کشتی کے حادثے کا شکار ہوئے۔
ترجمان کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن کی ٹیم نے کراچی ائرپورٹ پر اس ملزم کو اس وقت پکڑ لیا جب وہ بین الاقوامی پرواز سے آذربائیجان فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ ملزم گدشتہ کئی ماہ سے روپوش تھا۔
اس ملزم کے بارے میں ایف آئی کا کہنا ہے کہ اس نے اس سے قبل بھی ملک سے غیرقانونی طریقے سے لوگ باہر بھیجے تھے جو بعد میں لیبیا میں کشتی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق ملزم متعدد شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے لیبیا بھجوانے میں ملوث تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق اس ملزم کے خلاف اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل گجرات میں مقدمہ درج تھا اور اس بنیاد پر گرفتار ملزم کو ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل گجرات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں: رانا ثنا اللہ

،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تحریک لبیک کے رہنما بھی شامل ہوں گے، جو تمام چیزوں کا جائزہ لے کر تحفظ ناموس رسالت کو ممکن بنائیں گے ۔
اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے رہنما کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ٹی ایل پی کے ساتھ تین دن سے مذاکرات کر رہے ہیں اور حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مزاکرات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں اور انھوں نے حکومت کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’ ناموس رسالت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے مل کر لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اس قبیح عمل میں لوگ ملوث ہیں اور اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔‘
رانا ثنا اللہ نے کہا ’ہم نے بیٹھ کر کچھ طریقے کار طے کئے ہیں کہ کس طرح تحفظ ناموس رسالت کو ممکن بنا سکتے ہیں اور ان اقدامات کو اٹھانے سے ایسے لوگوں کو روکا اور سزا دی جا سکتی ہے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے ۔‘
انھوں نے کہا ’عافیہ صدیقی کو 86 سال کی سزا دینا نا انصافی ہے۔ ان کو بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ حکومت عافیہ صدیقی کی رہائئ کے معاملے پر خط بھی لکھے گی۔‘
اس موقع پر ٹی ایل پی کے رہنما نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ’تحریک لبیک کی تاریخ پر امن ہے۔ امید کرتے ہیں کہ سابقہ تلخ تجربات پھر سے نہیں دہرائے جائیں گے۔‘
کراچی کا کنگ کون؟: محمد حنیف کا کالم
اعظم خان: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@NADIASHERKHAN
’لالا! میں نے تنگ آ کر پرویز خٹک کو لکھ دیا ہے کہ میں اس کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔‘ سگریٹ کا کش لگاتے سیکریٹری داخلہ خیبر پختونخوا نے اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس احسان غنی کو ان کے گھر کے برآمدے میں گپ شپ لگاتے ہوئے بتایا۔
سیکریٹری داخلہ اور آئی جی میں اتنا بھائی چارہ تھا کہ سیکریٹری داخلہ آئی جی کو ’لالا‘ یعنی بڑا بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔
یہ سنہ 2013 کی بات ہے۔
خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک وزیراعلیٰ تھے اور سیکریٹری داخلہ کی مختلف امور پر ان سے ٹھن چکی تھی۔
روایت تو یہ ہے کہ صوبے میں تعینات سیکریٹری اپنی نوکری بالخصوص اہم تقرری بچانے کے لیے سر جھکاتے اور وزیراعلیٰ کی ہاں میں ہاں ملا کر کام چلاتے ہیں مگر یہ سیکریٹری داخلہ ٹیڑھے مزاج کے آدمی تھے۔
انھیں اپنے کام میں مداخلت پسند نہ تھی جس پر انھوں نے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ کام کرنے سے دو ٹوک انکار کر دیا۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ 1990 میں سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس) کے امتحان میں ٹاپ کر کے ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی جس کا نام تبدیل ہو کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یعنی پی اے ایس رکھ دیا گیا) میں شمولیت اختیار کرنے والے اعظم خان تھے۔
اعظم خان کے حوالے سے صحافی اعزاز سید کی اگست 2020 میں شائع ہونے والی مکمل تحریر پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے۔
اعظم خان لاپتہ ہوئے یا وہ خود ہی کہیں روپوش ہوئے ہیں، ابھی حتمی طورپر نہیں کہا جا سکتا: رانا ثنا اللہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے حوالے سے درخواست پر انکوائری کا عمل مکمل کیا جائے گا تاہم ابھی حتمی بات نہیں کی جا سکتی کہ وہ لاپتہ ہوئے یا وہ خود ہی کہیں کسی جگہ پر روپوش ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانذادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اعظم خان کے لواحقین نے اپنی درخواست میں یہ نشاندہی نہیں کی کہ کن لوگوں نے ان کو اپنے ساتھ لیا ہے یا وہ کہاں سے غائب ہوئے ہیں، تو اس بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘
خیبرپحتونخوا میں تحریک انصاف کے سابق وزرا کے گھروں سے گاڑیاں لے جانے کے سوال پر رانا ثنا اللہ کہا کہ وہ سرکاری گاڑیاں تھیں۔
’خیبرپختونخوا میں نگران حکومت کے چیف سیکریٹری سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ یہ حکومت کی گاڑیاں تھیں اور انھوں نے اپنے استحقاق سے ذیادہ حکومت کی ان گاڑیوں کو رکھا ہوا تھا۔ انھیں متعدد بار کہا گیا کہ ان کو واپس کریں لیکن انھوں نے کوئی رد عمل نہیں دیا نہ واپس کیں۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق ’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذاتی گاڑیاں تھیں تو وہ ان کا ریکارڈ پیش کریں۔ وہ سرکاری گاڑیاں تھیں جو ناجائز طور پر انھوں نے رکھی ہوئی تھیں۔‘
رانا ثنا اللہ نے پرویز الہی سے متعلق سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ رولز کے مطابق نہ ان کو ان کے حقوق سے محروم کیا گیا نہ ان کی ایذا پہنچائی گئی۔
’پرویز الہی کو جیل میں تمام میڈیکل سہولیات حاصل ہیں لیکن ہے تو وہ جیل ہی۔ تاہم یہ سارا پروپیگنڈا ہے جیسے خواتین کے ساتھ نارروا سلوک کے بارے میں کیا گیا تھا۔ میری اطلاعات کے مطابق چوہدری صاحب وہاں کمفرٹیبل ہیں۔‘
وفاقی وزیر داخلہ نے عمران خان کی مقبولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ اب وہ (عمران خان) کبھی بھی اس ملک کی سیاست میں مرکزی رول ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس ملک میں سیاسی اختلاف رائے کو عروج دیا اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق ’نو مئی کے بعد عمران خان کی خام خیالی ہے کہ ان کا ووٹ بینک بڑھا ہے۔ جب بھی انتخاب ہو گا ان کی پارلیمانی اکثریت سامنے نہیں آئے گی۔‘
انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’نگران سیٹ اپ آنا چاہیے ہمیں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر جانا چاہیے۔ہم کبھی بھی انتخابات سے نہیں بھاگے نہ بھاگیں گے۔ دو صوبوں میں انتخابات سے اختلاف جائز بات تھی۔ اکتوبر یا نومبر میں عام انتخابات ہوں گے۔‘
چین سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر وصول: سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو چین کی جانب سے ایک ارب ڈالر وصول ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو چین کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر ملیں گے جس میں سے ایک ارب ڈالر ایک دو دن میں وصول ہو جائیں گے۔
پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت فنڈز کا انتظام کرنا ہے۔
اسلام آباد میں اعظم خان کی گمشدگی پر اغوا کا مقدمہ درج

،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد پولیس نے وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی گمشدگی پر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اعظم خان کے بھانجے محمد سعید خان کی مدعیت میں تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اعظم خان 15 جون کی شام ساڑھے چھ سے سات بجے اسلام آباد میں ہی ایک کام کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے اور تب سے لاپتہ ہیں۔ تاحال ان کا خاندان میں کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
اعظم خان کے خاندان کا مؤقف ہے کہ ان کا فون مسلسل بند جا رہا ہے لہذا ان کی گمشدگی پر اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔
خاندان کی درخواست پر پولیس نے دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس پر تبصرہ کیا ہے کہ ’جسے بھی میرے نزدیک سمجھا جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘
خیال رہے کہ اعظم خان عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں اور اس وقت ایک سرونگ گریڈ 22 ای اے ایس افسر ہیں۔
20 اگست 2020 کی تحریر: اعظم خان کون ہیں؟
پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پُرعزم ہے: وزارت خزانہ
وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پُرعزم ہے اور اتحادی حکومت نے پہلے ہی سیاسی قیمت پر کئی مشکل فیصلے کئے ہیں۔
جمعے کو جاری کردہ ایک پیغام میں اس کا کہنا ہے کہ ’معاملے کے خوش اسلوبی سے حل کے لیے ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔‘
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نے آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ کے بیان کاجائزہ لیا ہے۔
’آئی ایم ایف کے ساتھ نواں جائزہ فروری 2023 میں ہوا، حکومت پاکستان نے برق رفتاری سے تمام تکنیکی امور مکمل کر لیے تھے۔ واحد معاملہ بیرونی فنانسنگ سے متعلق تھا جو کہ ہمارا خیال ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے درمیان 27 مئی کو ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت میں احسن طریقے سے حل ہوا۔‘
اس کے مطابق ’اگرچہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ کبھی بھی نویں جائزے کا حصہ نہیں رہا تاہم آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے وزیراعظم کے کمٹمنٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ بجٹ کے اعداد و شمار شئیر کیے جبکہ بجٹ کے دوران بھی ہمارا آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا۔‘
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ریزیڈنٹ نمائندہ ایستھر پیریز کی جانب سے جہاں تک ٹیکس کی بنیاد سے متعلق معاملہ ہے تو ایف بی آر نے جاری مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 11لاکھ 61 ہزار نئے ٹیکس گزاروں کوشامل کیا ہے، ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ کی شرح 26.38 فیصدبنتی ہے، یہ ایک جاری مشق ہے اوریہ سلسلہ چلتا رہے گا، نان فائلرز کے لیے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقوم نکلوانے پر0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اسی سمت میں ایک اور قدم ہے۔
بیان کے مطابق بجٹ میں جن شعبہ جات کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے وہ معیشت کے حقیقی شعبہ جات ہیں جو نمو کے انجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’یہ شہریوں کو روزگار دلانے کا ایک پائیدار راستہ ہے، اس چھوٹ کا حجم بہت کم ہے۔ معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے اقدامات صرف بی آئی ایس پی سے استفادہ کرنے والوں تک محدود نہیں ہے۔ اس بجٹ کاحجم 400 ارب سے 450 ارب کردیاگیاہے، فروری 2023 میں یہ بجٹ 350 سے بڑھا کر400 ارب کر دیا گیا تھا۔‘
’ملک میں غربت کی لکیر سے اوپر بھی دسویں لاکھوں لوگ موجود ہیں جومعاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، بجٹ میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعہ 5 ضروری اشیا پر35 ارب تک کی سبسڈی دی جا رہی ہے، اس اسے استفادہ کرنے والوں کا سکور 32 سے بڑھا کر40 کر دیا گیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ’یہ سہولت بی آئی ایس پی سے استفادہ کرنے والوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔ جہاں تک ایمنسٹی کا تعلق ہے تو واحد تبدیلی آئی ٹی آرڈیننس کے متعلقہ پرویژنز کے تحت قدر کو ڈالرائز کرنا ہے، یہ سہولت آئی ٹی آرڈیننس کے سیکشن 111 چار کے تحت پہلے سے موجود ہے۔ ایک کروڑ روپے کی کیپ 2016 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس کیپ کوایک لاکھ ڈالرکے مساوی روپوں کے زریعہ حل کیا گیا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ’آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پرعزم ہے اور نویں جائزے کو مکمل کرنے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے، اتحادی حکومت نے پہلے ہی سیاسی قیمت پر کئی مشکل فیصلے کئے ہیں، معاملہ کے خوش اسلوبی سے حل کے لیے ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔‘
