الیکشن وقت پر ہونے چاہیں، اتحادیوں سے بھی کہیں گے تیاری پکڑیں: بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرخارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انتخابات وقت پر ہونے چاہییں اور وہ اپنے اتحادیوں سے بھی کہیں گے تیاری پکڑیں۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن کے لیے تیار ہے اور ہم یہ سمجتھے ہیں کہ الیکشن وقت پر ہونا چاہیں۔ اگر الیکشن وقت پر ہوئے تو پھر یہ نوجوان آپ کو دکھائے گا کہ کیا نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کارکنان سے کہا کہ آج سے الیکشن مہم کا آغاز کر دیں۔
ان کے مطابق سندھ اور کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی طرح پیپلز پارٹی عام انتخابات میں بھی ایسے ہی نتائج دے گی۔ ’ہم نے کراچی میں اپنا میئر منتخب کرایا۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’آپ نے ن لیگ اور تحریک انصاف کا دور بھی دیکھ لیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوانوں کو موقع دیا جائے، بزرگوں کو بہت موقع دے چکے۔‘
ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ غربت اور بے روزگاری سے ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ انتخابات میں جو بھی جیتے اس کا حق ہو گا کہ وہ عوام کی خدمت کرے اور مسائل کا حل نکالے۔
’بجٹ میں سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ پر تحفظات پہنچانے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے جو فنڈز رکھنے چاہییں تھے وہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا انھیں وزیراعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہوا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اس بجٹ پر پیپلز پارٹی بھی ووٹ ڈالے تو پھر سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز مختص کریں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی ٹیم میں کچھ لوگ ہیں جو انھیں ٹھیک صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم سے درخواست ہے کہ سیلاب متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کریں۔‘
بلاول بھٹو نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے بھی سیلاب متاثرین کے فنڈز یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔
’نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو عبرت کی مثال بنائیں گے‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم پر جیسا بھی ظلم ہوا ہم نے کبھی حملے نہیں کیے۔ کبھی مشرف کے گھر کے جلاؤ کا نہیں سوچا۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ جب بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو وہ اس وقت 19 برس کے تھے مگر انھوں بس یہی کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سیلکٹڈ‘ جاتے جاتے دہشتگردوں کی طرح آگ لگا کر چلے گئے ہیں اور جی ایچ کیو سمیت اہم عسکری تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔













