میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
لائیو کوریج
حکومت اور تحریکِ لبیک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج
،تصویر کا ذریعہTLP
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق سے تحریک لبیک پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ہوئی ہے جس میں تحریک لبیک کے وفد میں ڈاکٹر شفیق امینی، غلام عباس فیضی، مفتی محمد عمیر الزہری اور مولانا غلام غوث بغدادی شامل تھے۔
ملاقات میں وفد نے حکومتی اراکین کو اپنے مطالبات پیش کیے، اب ان مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر منعقد ہو گا۔
فردوس عاشق اعوان استحکام پاکستان پارٹی کی سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن مقرر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کی سابق رہنما فردوس عاشق اعوان کو استحکام پاکستان پارٹی کی سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن مقرر کر دیا گیا ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے بانی جہانگیر خان ترین نے اس بابت اعلان سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’الحمدللہ، میں ٹھیک ہوں‘: لندن پولیس کا یوٹیوبر عادل راجہ کی گرفتاری کی تصدیق یا تردید سے انکار
تحریک لبیک کا لانگ مارچ: جی ٹی روڈ جہلم کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند, شہزاد ملک، احتشام شامی
،تصویر کا ذریعہPunjab Police
وفاقی دارالحکومت
اسلام آباد کی جانب آنے والے تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو روکنے کی غرض سے پنجاب
پولیس نے ضلع جہلم کے مقام پر جی ٹی روز پر خندقیں کھود دی ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک
کا یہ مارچ چند روز قبل کراچی سے شروع ہوا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریک
لبیک کی مجلس شوری کے رکن پیر عنایت نے کہا کہ کراچی سے شروع ہونے والہ یہ لانگ
مارچ اسلام آباد پہنچ کر ہی ختم ہو گا۔
اس مارچ کے مقاصد
کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک کا یہ مارچ مہنگائی کے خلاف
ہے ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کو مزید کم کیا جائے اور اس کے
ساتھ ساتھ توہین مذہب کے مقدمات کا ٹرائل بھی خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں جس
طرح نو مئی کے واقعے میں ملوث افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے ہیں۔
ضلع جہلم انتظامیہ
کے ایک اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کے مارچ کو دیکھتے ہوئے دریائے جہلم کے دونوں
اطرف خندقین کھود دی گئی ہیں۔ اہلکار کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے انھیں ہدایات
جاری کی گئی ہیں کہ اس لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی جائے جس کی وجہ سے دریائے
جہلم کے دونوں اطراف یعنی لاہور سے راولپنڈی جانے والی اور راولپنڈی سے لاہور جانے
والی جی ٹی روڈ پرخندقیں کھو دی گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ
اس کے علاوہ پرانے ریلوے کے پُل کو بھی جہلم کے مقام پر بند کر دیا گیا ہے۔
صحافی احتشام شامی
کے مطابق سرائے عالمگیر اور جہلم کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا اور اس صورتحال کے
باعث جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے ہزاروں مسافر پریشان ہیں۔
پولیس ترجمان کے
مطابق جہلم پُل سمیت جی ٹی روڈ کے مختلف مقامات کو کنٹینرز لگا کر ہر قسم کی ٹریفک
بند کر دیا ہے جبکہ مختلف اضلاع کی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جہلم پل پر تعینات
کر دی گئی۔
جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ مسرت ہلالی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کر دی
،تصویر کا ذریعہASSOCIATED PRESS OF PAKISTAN
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مسرت ہلالی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کر دی ہے۔
کمیشن کا اجلاس بدھ کے روز چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں منعقد ہوا، جہاں جسٹس مسرت ہلالی کے نام کی متفقہ طور پر سفارش کی گئی۔
اپنے نئے عہدے کا حلف لینے کے بعد جسٹس مسرت ہلالی سپریم کورٹ کی دوسری خاتون جج ہوں گی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں جسٹس مسرت ہلالی پہلی خاتون جج ہیں جنھیں رواں برس ہی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ: ’نظرثانی کے آئینی تقاضے ہیں، اسے اپیل میں نہیں بدلا جا سکتا: چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم
کورٹ میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر
سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت دیکھ رہی ہے
کہ کیا پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے نظر ثانی کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے؟
بدھ کو ہونے والی سماعت
میں چیف جسٹس نے کہا کہ انڈیا میں حق سماعت نہ ملے تو نظر ثانی ہوتی ہے جبکہ ہمارے
ہاں فیصلہ غیر قانونی ہو تو نظر ثانی ہو جاتی ہے۔
درخواست
گزار پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ میںکہا گیا کہ عدالت کو اپنا پرانا فیصلہ ری اوپن
کرنے میں بہت ہچکچاہٹ اور احتیاط برتنی چاہیے۔
انھوں
نے کہا کہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حتمی ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا
ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس
منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمات کے ریویو میں صرف نقص دور کیا
جاتا ہے جبکہ دیوانی مقدمات میں سکوپ بڑا ہے۔
چیف
جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ ریے ہیں کیا پارلیمنٹ ریویو سکوپ
بڑھا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ’نظر ثانی کے آئینی تقاضے ہیں مگرنظر ثانی کو اپیل میں بدلا نہیں جا سکتا۔‘
درخواست
گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184(3) حتمی احکامات کے لیے بنایا گیا ہے اور
آرٹیکل184(3) کی تمام شرائط پوری ہورہی
ہوں تو ہی عدالت احکامات دیتی ہے۔
علی
ظفر کا کہنا تھا کہ اگر آرٹیل 184(3) میں ریویو کی بجائے اپیل دی جائے گی تو آرٹیل
184(3) کے اختیارات کم ہوجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب قانون ساز کہیں کہ وہ آرٹیکل184(3) کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں تو دراصل دائر
اختیار کم کیا جا رہا ہوتا ہے۔
جس
پر چیف جسٹس نے علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ دراصل آرٹیکل184(3) کو ختم کر رہے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹسکا کہنا تھا کہ ترمیم کے تحت اپیل کو خوش آمدید
کہیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آئین آرٹیکل 184(3) کے دائرہ اختیار میں کمی کی
اجازت دیتا ہے لیکن صرف آئینی ترمیم کے ذریعے۔‘
چیف
جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق نظر ثانی اور اپیل
کا فرق قانون سازوں کو معلوم تھا اور اسی
وجہ سے ہی آرٹیکل184(3) میں نظر ثانی کا
حق دیا گیا ہے اپیل کا حق نہیں دیا۔
علی
ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں نظر ثانی میں اپیل کا حق دینا عام قانون سازی کے
ذریعے نہیں دیا جاسکتا اور پارلیمان صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی سب کچھ کر سکتی
ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا
کہ آپ ازخود اختیارات میں سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کریں تو موسٹ ویلکم لیکن
اس ضمن میں آئینی ترمیم ہونی چاہیے۔
عدالت
نے کیس کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی۔
بریکنگ, بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ: فواد چوہدری ذاتی حیثیت میں 17 جون کو عدالت طلب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی
ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں اسلام
آباد کے مقامی عدالت نے فواد چوہدری کو 17 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
اسلام
آباد کی مقامی عدالت نے بدھ کے روز ملزم کی عدم حاضری پر دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری
کر دیے ہیں۔عدالت نے فواد چوہدری کے
اسلام آباد اور لاہور والے گھر سے عدالتی سمن کی تعمیل کروانے کی ہدایت بھی جاری
کی ہے۔
عدالت
نے فواد چوہدری اور ضامن کو سمن پر عملدرآمد پر رپورٹ بھی 17 جون کو طلب کی
ہے۔عدالت نے سمن پر عملدرآمد نہ کرنے پر
پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمن پر تعمیل ایسے کروائی جاتی ہے۔
مقامی
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ تعمیلی رپورٹ پر دستخط کروائے جاتے ہیں،شناختی
کارڈ نمبر لکھا جاتا ہے اور ایک گواہ رکھا جاتا ہے۔
عدالت
نے پولیس اہلکار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جونیئر کو آپ ایسے سیکھائیں گے۔
پولیس
اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے نمبر پر کال کی نمبر بند تھا،
عدالت
نے ملزم کے لاہور اور اسلام آباد والے گھر پر دوبارہ سمن جاری کرتے ہوئے آئندہ
سماعت پر تعمیلی رپورٹ طلب کر لی۔ کیس کی سماعت 17 جون تک ملتوی۔
توشہ خانہ کیس: سیکرٹری الیکشن کمیشن کے پاس فوجداری کارروائی کے لیے اجازت دینے کا اختیار نہیں، وکیل عمران خان
پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم کے خلاف
درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔
اسلام
آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں۔ سماعت کے آغاز
پر وکیل چیئرمین پی ٹی آئی خواجہ حارث نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار پر دلائل
دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے والے جج ہمارے اعتراضات کو ریکارڈ پر نہیں لائے۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ متعلقہ عدالت نے کہا کہ اِن اعتراضات کو شہادت ریکارڈ
کرتے وقت دیکھیں گے۔
وکیل
چیئرمین پی ٹی آئی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمپلینٹ مجاز اتھارٹی کی جانب سے
دائر نہیں کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ اس معاملہ کو شہادت کے مرحلہ پر دیکھیں گے۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا مجاز افسر ہی کمپلینٹ دائر کر سکتا ہے۔
انھوں
نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ دکھانے میں
ناکام رہے۔ شکایت درست طور پر فائل نہ ہونے کے باعث قانون کی نظر میں شکایت موجود
ہی نہیں۔
اس
پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن
خود اپنے ڈسٹرکٹ کمشنر کے ذریعے شکایت دائر کرتا؟
جس
پر خواجہ حارث نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر شکایت
دائر کر سکتا ہے۔ کیس دائر کرتے وقت شکایت کنندہ ڈپٹی الیکشن کمشنر تھے۔ خواجہ
حارث کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ نے حلفیہ تصدیق بھی کی کہ وہ ڈپٹی الیکشن کمشنر ہیں۔ انھوں
نے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ اتنی جلد بازی میں یہ مقدمہ کیوں دائر کیا گیا۔ شکایت
کنندہ کے دو جگہوں پر دستخط مختلف ہیں۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ یہ جعلسازی واضح طور
پر نظر آ رہی ہے۔
سماعت
کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی طرف سے ایون فیلڈ کیس کی
اپیلوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ مریم
نواز کی اپیل میں یہ ابزرو کیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن کریمنل کیس
میں میرٹ کو دیکھا جائے گا۔
چیف
جسٹس نے استفسار کیا کہ فرض کریں کہ الیکشن کمیشن کا توشہ خانہ کیس میں فیصلہ نہیں
ہے، پھر بھی کوئی شکایت درج کراسکتا ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن
نے ایک فیصلہ دیا اور اس کی بنیاد پر فوجداری کمپلینٹ دائر کی گئی۔
اس
پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجداری کارروائی میں الیکشن کمیشن نے شواہد کے
ساتھ اپنا کیس ثابت کرنا ہے، سول کارروائی اپنی جگہ لیکن کرمنل میں تو سزا ہونی
ہوتی ہے۔ مریم نواز کے کیس میں بھی ہم نے اس نکتے کو طے کیا تھا۔
چیف
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ موجود نہ ہو تو کیا پھر
بھی فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے؟ کیا پھر بھی کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کی کمپلینٹ
دائر ہو سکتی ہے؟
اس
پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری فوجداری کارروائی
کے لیے شکایت دائر کر سکتا ہے۔ جبکہ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیکرٹری الیکشن
کمیشن کے پاس فوجداری کارروائی کے لیے اجازت دینے کا اختیار نہیں۔ سیکرٹری الیکشن
کمیشن نے واضح لکھا کہ میں بطور سیکرٹری کمیشن اجازت دے رہا ہوں۔ سیکرٹری الیکشن
کمیشن نے یہ نہیں لکھا کہ کمیشن کی طرف سے اجازت دے رہا ہوں۔
اس
پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری الیکشن کمیشن کی بجائے کسی ممبر نے وہ خط
لکھا ہوتا تو پھر درست تھا؟ جی
بالکل اتھارٹی الیکشن کمیشن ہے، وکیل چیئرمین تحریک انصاف خواجہ حارث
ارشد شریف قتل کیس: کینیا اور یو اے ای سے باہمی معاہدوں کے لیے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم
کورٹ میں سینئر صحافی ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی گذشتہ سماعت کا تحریری
حکمنامہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ عدالت کینیا اور یو اے ای سے معاہدوں کے
لیے اٹارنی جنرل کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرتی ہے۔
سپریم
کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے کینیا اور
یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کے معاہدے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا، اٹارنی
جنرل کے مطابق اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کے معاہدوں کے لیے مزید وقت لگے
گا۔
تحریری
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کینیا اور یو اے ای سے معاہدوں کے لیے اٹارنی جنرل کی
مہلت دینے کی استدعا منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ
ارشد شریف کی دوسری اہلیہ جویریہ صدیق کے وکیل نے اقوام متحدہ سے تعاون لینے بارے
آگاہ کیا۔
ارشد
شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے پانچ افراد کو شامل تفتیش کرنے کی
درخواست کی۔
سپریم
کورٹ کے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ معاملے کی تحقیقات میں صرف سہولت کاری کر رہی
ہے۔ سپریم کورٹ کسی شخص کو شامل تفتیش کرنے کا نہیں کہہ سکتی، ارشد شریف کے والدہ
کے وکیل کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹائی جاتی ہے، جن افراد کو شامل
تفتیش کرنا ہے اس کی درخواست جے آئی ٹی کو دی جاسکتی ہے۔
اس
مقدمے کی مزید سماعت جولائی میں ہو گی۔
چیئرمین نادرا طارق ملک نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کر دیا
چیئرمین نادرا محمد طارق ملک نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران محمد شہباز شریف نے چیئرمین نادرا کے طور پر طارق ملک کی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ملاقات کے بعد میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں طارق ملک نےکہا کہ ’اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں انھیں پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب پر تیار کی جانے والی 'نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2023' کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے جو ان کے لیے اعزاز ہے۔ ‘
طارق ملک کے مطابق ’اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے پائیدار ترقی کے عالمی مقاصد (SDGs) کی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ پاکستان میں پارلیمان کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘
طارق ملک نے کہا کہ ان حقائق کے پیش نظر وہ چیئرمین نادرا کے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں تاکہ پوری لگن اور دلجمعی کے ساتھ اپنی تمام ذمہ داریوں کو انجام دے سکیں۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پانچ روپے گر گئی, تنویر ملک ، صحافی
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں منگل کے روز پانچ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ایک ڈالر کی قیمت 305 روپے سے 300 روپے کی سطح تک گر گئی۔
کرنسی ڈیلروں کی مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ بینکوں کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو ریلیز کیے جانے والے پچاس لاکھ ڈالر ہیں جو بینکوں نے روک رکھے تھے۔
ان کے مطابق اگلے چند روز میں مزید پچاس لاکھ ڈالر ریلیز کیے جائیں گے جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ریکارڈ کی جا سکتی ہےگ
’چیئرمین پی ٹی آئی نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس قتل کی سازش کا ثبوت نہیں بلکہ انھیں کسی نے بتایا تھا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’سابق وزیر اعظم کے نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس (اپنے) قتل کی سازش کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ دوران تفتیش اعتراف کیا کہ انھیں کسی نے قتل کی سازش کا بتایا تھا۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے اپنے اوپر لگائے جانے والے قتل کے الزامات کے حوالے سے بتایا کہ ’ جے آئی ٹی نے دوران تفتیش ان سے پوچھا تو سابق وزیر اعظم نے بیان دیا کہ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق ’ان کا تمام بیان ضبط تحریر میں لایا گیا
ایک تفتیشی عمل کے بعد یہ مستند دستاویز ہے جو جی آئی ٹی کے پاس ایک ثبوت ہے۔ دوران تفتیش انھوں نے خود کو ہی جھوٹا قرار دے دیا وہ الزامات لگانے جھوٹ بولنے اور گھٹیا الزام تراشی میں مثال نہیں رکھتے۔‘
رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا کہ ’یہی وہ الزام تراشی ہے جب انھوں نے اپنی قتل کی سازش سے متعلق نوجوان نسل کو گمراہ کیا اور پارٹی کے لوگوں میں زہر انڈیلا۔‘
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ ’وہ(عمران خان) 10 لاکھ افراد کی ٹائیگر فورس تیار کر رہے تھے۔ ٹائیگر فورس بنانے کے لیے اس ملک کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا یہاں تک کے کورونا فنڈز خرچ کئے گئے۔ اس فورس کے ذریعے وہ ملک میں سرکشی اور بغاوت کی تیاری اور ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق ’فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آڈیو اور وڈیو ثبوت موجود ہیں۔ اور اعترافی بیانات موجود ہیں۔ جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان پر قانون کے خلاف کارروائی ہو گی۔ ‘
وفاقی وزیر کے مطابق ’حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قانون اپنا راستہ لے گا۔‘
دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے رانا ثنا اللہ خان کی پریس کانفرنس سے قبل ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سوال یہ ہے کہ جب میں جنرل فیصل نصیر کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کروا سکا تو میں ثبوت کیسے فراہم کر سکتا ہوں ‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان کے مطابق ’میں جانتا ہوں کہ وہ(جنرل فیصل نصیر) نہ صرف مجھے رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف کے ساتھ مل کر قتل کرنے کی سازش میں ملوث تھے بلکہ اس کے بعد وہ اس کی پردہ پوشی میں بھی ملوث تھے۔‘
عمران خان نے الزام لگایا کہ ’انھوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کو سبوتاژ کیا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ اس سازش میں تین شوٹر ملوث تھے۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’تاہم اگر آزادانہ تحقیقات ہوئیں تو میں ثابت کروں گا کہ وہ ہمارے شہریوں کے خلاف بدترین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔‘
بریکنگ, بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم میں ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد کی بڑی کمی, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیرون ملک پاکستانیوں نے اس مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں مجموعی طور پر 24.8 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں۔
گزشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں ترسیلات زر 28.4 ارب ڈالر تھیں۔ ایک سال میں ان ترسیلات زر میں 3.6 ارب ڈالر یعنی 12.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2023ء میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مد میں 2.1 ارب ڈالر موصول ہوئے جو مئی 2022 میں ترسیلاتِ زر کے مقابلے میں 10.4 فیصد کم ہیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2023ء میں ترسیلات زر کی آمد کے اہم ذرائع میں سعودی عرب (524 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (335.8 ملین ڈالر)، برطانیہ (306.5 ملین ڈالر) اور امریکہ (257.2 ملین ڈالر) شامل ہیں۔
’فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے‘ ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنئیر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ بعض وجوہات کی وجہ سے کچھ تاخیر کا شکار ہوئی۔ انٹر پول کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’وزارت خارجہ کے مطابق باہمی قانونی معاونت کے معاہدے (ایم ایل اے) سائن ہونے تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘
بینچ میں موجود جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ ’کیا وجہ ہے کہ کینیا کے احکام نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ساتھ تعاون کیا لیکن سپیشل جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’نو جون کو کیینیا کے ہائی کمیشن نے کہا پہلے ایم ایل اے سائن کرنا ضروری ہے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ کینیا نے ایک ڈرافٹ بھیجا ہے جو مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ عثمان منصور کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو ڈرافٹ سے متعلق چیمبر میں آگاہ کرو گا۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے۔‘چیف جسٹس نے ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے؟
بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا تحقیاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے۔الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو جرم ہوا وہ بہت سنگین تھا۔ ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا۔
مقتول صحافی ارشد شریف کی بیوہ جویریہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے کہ متعلقہ ملک میں تفتیش کے لیے ٹیم بھجوا سکتے ہیں، سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی اس قانون کے تحت ہو رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کمیٹی کو درخواست بھیجی جاتی ہے تو اسکا اثر زیادہ ہو گا،
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت خود ان سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی۔ عدالت اٹارنی جنرل سے کہے گی وہ اس رپورٹ کا جائزہ لیں اور عدالت کی معاونت کریں۔‘
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ ارشد شریف کینیا کیوں گئے۔
انھوں نے کہا ’اس گاڑی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہےجس میں ارشد شریف کو قتل کیا گیا۔ ارشد شریف کی وجہ قتل معلوم کرنا ضروری ہے ،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔‘
مقتول کی بیوہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھیں اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریںگ
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا زکر موجود ہے،عدالت نے ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔
ٹک ٹاکر صندل خٹک جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل
،تصویر کا ذریعہ@KhattakSandal
ٹک
ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیوز لیک کے مقدمے میں عدالت نے ملزمہ ٹک ٹاکر صندل خٹک کو جوڈیشل
ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ
اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ٹک ٹاکر صندل خٹک کے خلاف ٹک ٹاکر حریم شاہ ویڈیوز
لیک کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی نے کی۔
اس
دوران ٹک ٹاکر صندل خٹک کو ریمانڈ کے لیے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
دورانِ
سماعت ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے صندل خٹک کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ
کی استدعا کی۔
صندل
خٹک کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ صندل خٹک کا موبائل پہلے ہی تفتیشی افسر کی
تحویل میں ہے۔
بعد
ازاں عدالت نے تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ٹک ٹاکر
صندل خٹک کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔
بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا
،تصویر کا ذریعہPunjab Assembly
پی
ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ انھیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پیشی کے موقع پر تھانہ گولڑہ میں
دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی پیشی کے موقع پر حراست میں لیا گیا ہے۔
ان کے وکیل کے مطابق سابق
صوبائی وزیر کو انسداد دہشت گردی کے عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلکس کے
باہر سے دیگر مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ علی
افضل ساہی کے وکیل بیرسٹر قاسم عباسی کا کہنا ہے کہ عدالت نے تھانہ گولڑہ مقدمے میں
عبوری ضمانت میں تین جولائی تک توسیع کی ہے۔
علی
افضل ساہی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت میں پیش ہوئے
تھے۔
بریکنگ, اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں 5.6 شدت کا زلزلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دارالحکومت اسلام
آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد
اور گردو نواح کے علاوہ لاہور، گوجرانوالا، جہلم، حافظ آباد اور سوات سمیت ملک کے
وسطی اور شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں
دھیرکوٹ، سماہنی، باغ، وادی نیلم اور گردونواح میں بھی زلزلےکے جھٹکے محسوس کیےگئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق
زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور زلزلے کا
مرکز مشرقی کشمیر تھا۔
بریکنگ, نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 61 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
میں بجلی کی رسد کے نگران ادارے نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 61 پیسے فی یونٹ
اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
بجلی
کی قیمت اپریل کے مہینے کے لیے بڑھائی گئی ہے۔ ٹیرف میں اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ
کی مد میں کیا گیا ہے۔
سی
پی پی اے نے دوروپے ایک پیسے فی یونٹ
اضافے کی درخواست کی تھی۔
بجلی
ٹیرف میں اضافے کا اطلاق جون کے مہینے کے بلوں پر ہو گا اور اس کا اطلاق کے الیکٹرک
اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہو گا۔
جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست کی قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
سپریم
کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست کے قابل سماعت
ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
منگل
کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ
جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت میں جسٹس منیب
اختر نے ریمارکس دیے کہ فٹافٹ جج کے خلاف کارروائی کرنے سے کیا فئیر ٹرائل کا حق
متاثر نہیں ہو گا؟
انھوں
نے کہا کہ جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں کیا چاہتے ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر
فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
اس
موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایت آجائے۔
سماعت کے دوران وکیل حنا جیلانی نے موقف اپنایا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل
کارروائی ختم کر دیتی ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس میں کہا کہ چاہتے کیا ہیں کیا
کونسل کو عدالت ہدایات دے، کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائیز دے سکتی ہے؟
وکیل
حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ جج کا احتساب کرنا کونسل کی ذمہ داری ہے قانون خاموش ہے
تو عدالت ہدایات دے، کرپشن کے باجود ریٹائرمنٹ
لینے والا جج عوامی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے۔
جس
پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آج کل
شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہیں، معاملہ سنجیدہ ہونے کی
وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں ہم نے کسی فیصلے میں کونسل کو ہدایت نہیں دیں۔
عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہو گی؟
حنا
جیلانی نے اس موقع پر کہا کہ کونسل کے افراد باہر سے تو نہیں آئے ہم میں سے ہی ہیں۔
جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ
رہی ہیں لوگ بغیر میرٹ کے شکایت بھیجتے ہیں۔ کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ ان کا
فیصلہ ہے۔
عدالت
نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیس میں مناسب حکم جاری کریں گے۔
واضح
رہے کہ جو بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا تھا ان کے خلاف ریفرنس بھی سپریم جوڈیشل
کونسل میں زیر التوا ہیں۔
بریکنگ, 48 گھنٹوں میں مربوط منصوبے کے تحت تحریک انصاف کے 10 ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نو مئی کے واقعات کے ذمہ دار وہ
ہیں جنھیں سب سے زیادہ اس کا فائدہ پہنچا۔
پی
ٹی آئی سربراہ نے نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کے تعین سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے
لکھا کہ ’نو مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا ایک سادہ
ترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے سامنے ایک کلیدی سوال یہ رکھیں کہ ان پرتشدد واقعات
کا سب سے بڑھ کر فائدہپہنچا کسے ہے؟ یقیناً
یہ تحریک انصاف تو نہیں ہے!‘
انھوں
نے مزید لکھا کہ ’دوسرا اہم سوال (جس کا جواب منظر کو بہت حد تک واضح اور شفاف
کردے گا) یہ پوچھا جائے کہ کیسے محض 48 گھنٹوں میں ہی ایک نہایت مربوط اور حیرت
انگیز منصوبے کے تحت (باقاعدہ ہدف بنا کر) تحریک انصاف کے 10 ہزار کارکنان،
سپورٹرز اور تحریک انصاف کے بیانیے کو مثبت نگاہ سے دیکھنے والے صحافیوں کو یا تو
قید کر لیا گیا یا (بزورِ جبر) عاجز و غیر متعلق کردیا گیا۔
اس سب میں بلاشبہہ ایک
سوچی سمجھی ترکیب ہی کارفرما تھی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔