میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. ’فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے‘ ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ارشد شریف قتل کیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنئیر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ بعض وجوہات کی وجہ سے کچھ تاخیر کا شکار ہوئی۔ انٹر پول کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’وزارت خارجہ کے مطابق باہمی قانونی معاونت کے معاہدے (ایم ایل اے) سائن ہونے تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ ’کیا وجہ ہے کہ کینیا کے احکام نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ساتھ تعاون کیا لیکن سپیشل جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔‘ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’نو جون کو کیینیا کے ہائی کمیشن نے کہا پہلے ایم ایل اے سائن کرنا ضروری ہے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ کینیا نے ایک ڈرافٹ بھیجا ہے جو مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ عثمان منصور کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو ڈرافٹ سے متعلق چیمبر میں آگاہ کرو گا۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے۔‘چیف جسٹس نے ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے؟

    بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا تحقیاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے۔الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو جرم ہوا وہ بہت سنگین تھا۔ ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا۔

    مقتول صحافی ارشد شریف کی بیوہ جویریہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے کہ متعلقہ ملک میں تفتیش کے لیے ٹیم بھجوا سکتے ہیں، سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی اس قانون کے تحت ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کمیٹی کو درخواست بھیجی جاتی ہے تو اسکا اثر زیادہ ہو گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت خود ان سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی۔ عدالت اٹارنی جنرل سے کہے گی وہ اس رپورٹ کا جائزہ لیں اور عدالت کی معاونت کریں۔‘

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ ارشد شریف کینیا کیوں گئے۔

    انھوں نے کہا ’اس گاڑی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہےجس میں ارشد شریف کو قتل کیا گیا۔ ارشد شریف کی وجہ قتل معلوم کرنا ضروری ہے ،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔‘

    مقتول کی بیوہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھیں اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریںگ

    انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا زکر موجود ہے،عدالت نے ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

  2. ٹک ٹاکر صندل خٹک جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

    Sandal Khattak

    ،تصویر کا ذریعہ@KhattakSandal

    ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیوز لیک کے مقدمے میں عدالت نے ملزمہ ٹک ٹاکر صندل خٹک کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ٹک ٹاکر صندل خٹک کے خلاف ٹک ٹاکر حریم شاہ ویڈیوز لیک کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی نے کی۔

    اس دوران ٹک ٹاکر صندل خٹک کو ریمانڈ کے لیے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    دورانِ سماعت ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے صندل خٹک کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

    صندل خٹک کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ صندل خٹک کا موبائل پہلے ہی تفتیشی افسر کی تحویل میں ہے۔

    بعد ازاں عدالت نے تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ٹک ٹاکر صندل خٹک کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔

  3. بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا

    Ali Fazal Sahi

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Assembly

    پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ انھیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پیشی کے موقع پر تھانہ گولڑہ میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی پیشی کے موقع پر حراست میں لیا گیا ہے۔

    ان کے وکیل کے مطابق سابق صوبائی وزیر کو انسداد دہشت گردی کے عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلکس کے باہر سے دیگر مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ علی افضل ساہی کے وکیل بیرسٹر قاسم عباسی کا کہنا ہے کہ عدالت نے تھانہ گولڑہ مقدمے میں عبوری ضمانت میں تین جولائی تک توسیع کی ہے۔

    علی افضل ساہی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

  4. بریکنگ, اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    Earthquake

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور گردو نواح کے علاوہ لاہور، گوجرانوالا، جہلم، حافظ آباد اور سوات سمیت ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دھیرکوٹ، سماہنی، باغ، وادی نیلم اور گردونواح میں بھی زلزلےکے جھٹکے محسوس کیےگئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور زلزلے کا مرکز مشرقی کشمیر تھا۔

  5. بریکنگ, نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 61 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی, تنویر ملک، صحافی

    بجلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں بجلی کی رسد کے نگران ادارے نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 61 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

    بجلی کی قیمت اپریل کے مہینے کے لیے بڑھائی گئی ہے۔ ٹیرف میں اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔

    سی پی پی اے نے دوروپے ایک پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔

    بجلی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق جون کے مہینے کے بلوں پر ہو گا اور اس کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہو گا۔

  6. جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست کی قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    منگل کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت میں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ فٹافٹ جج کے خلاف کارروائی کرنے سے کیا فئیر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہو گا؟

    انھوں نے کہا کہ جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں کیا چاہتے ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

    اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایت آجائے۔ سماعت کے دوران وکیل حنا جیلانی نے موقف اپنایا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کارروائی ختم کر دیتی ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس میں کہا کہ چاہتے کیا ہیں کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے، کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائیز دے سکتی ہے؟

    وکیل حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ جج کا احتساب کرنا کونسل کی ذمہ داری ہے قانون خاموش ہے تو عدالت ہدایات دے، کرپشن کے باجود ریٹائرمنٹ لینے والا جج عوامی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہیں، معاملہ سنجیدہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں ہم نے کسی فیصلے میں کونسل کو ہدایت نہیں دیں۔ عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہو گی؟

    حنا جیلانی نے اس موقع پر کہا کہ کونسل کے افراد باہر سے تو نہیں آئے ہم میں سے ہی ہیں۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہی ہیں لوگ بغیر میرٹ کے شکایت بھیجتے ہیں۔ کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ ان کا فیصلہ ہے۔

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیس میں مناسب حکم جاری کریں گے۔

    واضح رہے کہ جو بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا تھا ان کے خلاف ریفرنس بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہیں۔

  7. بریکنگ, 48 گھنٹوں میں مربوط منصوبے کے تحت تحریک انصاف کے 10 ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نو مئی کے واقعات کے ذمہ دار وہ ہیں جنھیں سب سے زیادہ اس کا فائدہ پہنچا۔

    پی ٹی آئی سربراہ نے نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کے تعین سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’نو مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا ایک سادہ ترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے سامنے ایک کلیدی سوال یہ رکھیں کہ ان پرتشدد واقعات کا سب سے بڑھ کر فائدہپہنچا کسے ہے؟ یقیناً یہ تحریک انصاف تو نہیں ہے!‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’دوسرا اہم سوال (جس کا جواب منظر کو بہت حد تک واضح اور شفاف کردے گا) یہ پوچھا جائے کہ کیسے محض 48 گھنٹوں میں ہی ایک نہایت مربوط اور حیرت انگیز منصوبے کے تحت (باقاعدہ ہدف بنا کر) تحریک انصاف کے 10 ہزار کارکنان، سپورٹرز اور تحریک انصاف کے بیانیے کو مثبت نگاہ سے دیکھنے والے صحافیوں کو یا تو قید کر لیا گیا یا (بزورِ جبر) عاجز و غیر متعلق کردیا گیا۔

    اس سب میں بلاشبہہ ایک سوچی سمجھی ترکیب ہی کارفرما تھی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. کھیل کے نئے اصول؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  9. لوئر چترال میں گرج چمک کے ساتھ موسلادار بارشوں سے مختلف مقامات پر سیلابی ریلے گھروں میں داخل

    لوئرچترال کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادار بارشوں کے مختلف مقامات پر سیلابی ریلے گھروں میں داخل ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو1122 کے مطابق ’موسلادار بارش کے باعث امدادی ٹیمیں متاثرہ گھروں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔‘

    ریسکیو 1122 کے مطابق ’چترال گول نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث نالے کے آس پاس کے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں‘

    جغور گول نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث گاؤں ڈوم شغور کے لوگ بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

  10. وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں بھی رقم کی جائے گی: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’جبر و وحشت کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔‘

    عمران خان کے مطابق ’ہم انڈین سرکار کے ہاتھوں (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔‘ ۔‘

    ٹوئٹر پر اپنے بیان میں عمران خان نے کہا ’آج ہمارے اپنے سکیورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور(قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان کے مطابق ’ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا ’رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پرموت و حیات کی کشمکش میں ہے۔‘

  11. پنجاب خیبر پختونخواہ انتخابات از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ کا پنجاب خیبر پختونخواہ انتخابات از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہو گیا ہے۔

    43 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا جبکہ فیصلے میں 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کا انتخابات سے متعلق فیصلہ 4 اور 3 کا کہنا بالکل غلط ہے، 7 رکنی بینچ بنا ہی نہیں تو 4 اور 3 کا تناسب کیسے ہو سکتا ہے؟‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس نے الیکشن ازخود نوٹس کیس پر سب سے پہلے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا، 9 رکنی لارجر بینچ نے 23 فروری کو پہلی سماعت کی۔

    فیصلے کے مطابق ’9 رکنی بینچ نے 23 فروری کی سماعت کے بعد ٹی روم میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران 9 ججز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا جسے 27 فروری کو جاری کیا گیا۔‘

    تفصیلی فیصلے میں بینچ کی ازسر نو تشکیل کے حکم نامے کا حوالہ دیا گیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس نے انتخابات ازخود نوٹس کیس پر صرف 2 بینچز تشکیل دیے، چیف جسٹس نے پہلے 9 رکنی اور پھر 5 رکنی بینچ تشکیل دیا، اس کیس میں کسی دوسرے بینچ کا کوئی وجود نہیں ہے۔‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے پر پانچوں ججز کے دستخط موجود ہیں،‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے دستخط کے ساتھ لکھا ’میں نے الگ سے آرڈر لکھا ہے‘

    جسٹس جمال مندوخیل لکھتے ہیں ’میں نے مرکزی فیصلے کےساتھ الگ نوٹ تحریر کیا ہے۔‘ اختلاف کرنے والے دونوں ججز نے مشترکہ آرڈر جاری کیا جس پر صرف دو ججز کے دستخط موجود تھے۔

  12. قومی اسمبلی میں نو مئی میں ملوث افراد کے خلاف کیسز ملٹری ایکٹ کے تحت چلانے کی قرارداد منظور

    وزیر دفاع خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے نو مئی میں ملوث افراد کے خلاف کیسز ملٹری ایکٹ کے تحت چلانے کی قرارداد پیش کی جو ایوان کی جانب سے منظور کر لی گئی۔

    قرارداد کے متن کے مطابق ایک جماعت اور اس کے قائد نے 9 مئی کو تمام حدود پار کردیں، اور آئین اور قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔‘

    قرارداد کے مطابق ’ان کے حملوں سے ریاستی اداروں اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، آئین اور قانون کے تحت ان کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے۔‘

    قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ ’دنیا میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے پر کارروائی کا اختیار افواج کو حاصل ہوتا ہے، تمام افراد کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سزائیں دی جائیں۔‘

    جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالاکبر چترالی نے قرارداد کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’کیا عدالتی نظام معطل ہو چکا ہے جو آپ سویلین کے کیسز فوجی عدالتوں میں لے کر جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جماعت اسلامی فوجی عدالتوں میں سویلین کے کیسز بھجوانے کی مخالفت کرتی ہے۔‘

    اجلاس میں قرارداد پیش کرتے وقت وفاقی وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کسی اور چیز کو ہاتھ نہیں لگایا گیا سوائے فوجی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کے۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق ’ ہر روز چاہے وانا ہو سوات یا میرانشاہ ہو تمام مقامات پر فوجی سپاہی شہید ہوتے ہیں اور جس وقت وہ سب پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں ایک سیاسی جماعت اور اس کے سربراہ پاکستان کی افواج کے خلاف اعلان جنگ کریں ۔‘

    ان کے مطابق ’دفاعی فورسز کا حق ہے کہ ان کی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔جو قانون کتابوں میں موجود ہے اسی کے تحت ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہوں گے۔‘

    اس سے قبل ایوان بالا میں نو مئی کے پرتشدد واقعات پر متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی جس میں نو مئی میں ملوث افراد اور سہولت کاروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

  13. جس کو نو مئی سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہی ان واقعات میں ملوث تھا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہIMRANKHANOFFICIAL

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ 9 مئی کے واقعات سے آخر کسی کو تو فائدہ ہوا ہے۔

    عمران خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں دعوی کیا ’ میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، جس کو نو مئی سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہی ان واقعات میں ملوث تھا۔‘

    عمران خان نے کسی کا نام لیے بعیر کہا ’جس طرح کی کارروائیاں چل رہی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی پوچھ ہی نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں ایک طبقہ قانون سے بالاتر ہے۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ’ ہمارا کارکن اب بھی ساتھ کھڑا ہے، یاسمین راشد ،اعجاز چوہدری ،میاں محمود الرشید سب ڈٹے ہوئے ہیں۔ میاں محمود الرشید نے آکر بتایا کہ ان کو ایجنسیوں نے ٹارچر کیا۔‘

  14. بریکنگ, مرکزی بینک کا شرح سود 21 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    شرح سود 21 فیصد پر برقرار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوموار کے روز ملک میں شرح سود کو تبدیل نہ کرنے اور 21فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق اپریل اور مئی کے بلند مہنگائی کے اعدادوشمار زیادہ تر توقع کے مطابق ظاہر ہوئے۔

    مرکزی بینک کی زری کمیٹی نے صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مہنگائی کی توقعات میں حالیہ نقطہ عروج سے ترتیب وار کمی بھی نوٹ کی۔

    مزید یہ کہ ’کمیٹی توقع کرتی ہے کہ ملکی طلب کم رہے گی جس کا سبب سخت زری موقف، ملکی غیریقینی کیفیت اور بیرونی کھاتے پر مسلسل دباؤ ہے۔‘

    اس پس منظر میں اور گرتے ہوئے ماہ بہ ماہ رجحان کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ مئی 2023ء میں مہنگائی 38 فیصد پر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اور اگر کوئی نادیدہ حالات پیش نہ آئے تو توقع ہے کہ جون اور اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوگی۔

  15. استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان اور سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی ہوں گے: جہانگیر ترین کا اعلان

    استحکام پاکستان پارٹی کے عہدے دراوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    جہانگیرخان ترین نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا کہ ’عبد العلیم خان پاکستان استحکام پارٹی کے صدر مقرر کیے گئے ہیں جبکہ عمر محمود کیانی سیکریٹری جنرل، عون چوہدری ایڈیشنل سیکریٹری جنرل اور پارٹی کے ترجمان ہوں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    واضح رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی میں بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے سابق رہنما شامل ہیں اور اس جماعت کے بانی جہانگیر ترین ہیں جنھوں نے اس کے قیام کا اعلان چند روز قبل کیا ہے۔

  16. لاہور میں جلاؤ گھیراؤ کا کیس: یاسمین راشد کا مذید جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد، جیل بھجوانے کا حکم, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی جانب سے تحریک انصاف رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کا مذید جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا ہے۔

    گلبرگ پلازہ میں جلاؤ گھیراؤ کیس کی سماعت کے دوران ‏پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔

    تفتیشی افسر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ‏ڈاکٹر یاسمین راشد گلبرگ عسکری ٹاور حملہ کیس میں ملوث ہیں اور تفتیش کیلئے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

    تاہم عدالت کی جانب سے یہ درخواست مسترد کر دی گئی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا۔

  17. دوبارہ حکومت آئی تو انصاف کا نظام درست کروں گا، عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کو اقتدار ایک بار پھر ملا تو وہ نظام انصاف کو درست کریں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں لیگل سسٹم کا جائزہ لے رہا ہوں، دوبارہ آیا تو اسے ٹھیک کروں گا۔‘

    غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بنایا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ’ملٹری کورٹس شروع ہوئیں تو جمہوریت ختم ہے پھر۔ کبھی سنا ہے کہ ملٹری کورٹس دنیا میں ہیں کہیں جہاں سمری ٹرائل ہوتا ہو۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’شیریں مزاری کے جانے کا بہت دکھ ہوا، اس کی صحت اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ پریشر برداشت کرتی۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’میرے لیے یہ کوئی بڑا کرائسس نہیں ہے۔ ہر کرائسس میں opportunity ہوتی ہے۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’لیہ کے علاقہ میں ساری ریت ہے اور میری بہنوں پر چھ ارب کا کیس بنا دیا ہے۔‘

  18. قومی سلامتی اداروں کے خلاف حملوں پر اکسانے کا الزام: شاہین صہبائی، عادل راجہ، وجاہت سعید اور سید حیدر رضا مہدی کے خلاف مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں قومی سلامتی اداروں کے خلاف عوام کو حملوں پر اکسانے کے الزامات کے تحت چار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کے رہائشی محمد اسلم کی درخواست پر درج ہونے والے اس مقدمے میں شاہین صبائی، سید حیدر رضا مہدی، وجاہت سعید خان کے علاوہ عادل فاروق راجہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    اس مقدمہ میں، جو انسداد دہشت گردی اور غداری کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، الزام لگایا گیا ہے کہ نو مئی کے دن ملزمان نے بیرون ملک سے عسکری اداروں کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ افراد ملک کے اندر بغاوت اور انتشار پھیلا رہے تھے اور ملزمان غیر ملکی ایجنسیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

    شاہین صہبائی اور وجاہت سعید خان صحافی ہیں اور سوشل میڈیا پر یو ٹیوب چینل چلاتے ہیں۔

  19. خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت: ’پولیس نے ایک اہم شہادت ضائع کر دی‘

    خدیجہ شاہ

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    انسداد دہشت گردی عدالت میں آج کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے کے کیس میں گرفتار فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے وکیل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر دلائل دیے ہیں۔

    وکیل نے عدالت کو بتایا کہ‏ دوران حراست خدیجہ شاہ کو فیملی اور وکیل سے ملنے نہیں گیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ خدیجہ شاہ کو شناخت پریڈ سے پہلے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ ’‏عدالت نے خدیجہ شاہ کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوایا تھا۔‘

    وکیل نے دہرایا کہ ‏شناخت پریڈ سے پہلے خدیجہ شاہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‏میڈیا پر خدیجہ شاہ کی خبریں چلتی رہیں جس سے ان کی شناخت عوام پر عیاں ہو گئی۔

    انھوں نے ضمانت پر رہائی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ شناخت عیاں ہونے سے شناخت پریڈ غیر مؤثر ہو گئی تھی۔ ’‏خدیجہ شاہ ایف آئی آر میں نامزد نہیں، ان کا کردار واقعے میں واضح نہیں۔ ‏یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، ضمانت پر رہائی دی جائے۔‘

    ’‏ملزمہ دمے کی مریضہ ہیں۔ ان کو سانس کی تکلیف ہے، خواتین کو زیادہ جیل میں رکھنا خلاف قانونی ہے۔‘

    جج نے ریمارکس دیے کہ ‏یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔

    وکیل نے دعویٰ کیا کہ سات گھنٹے کی تاخیر سے ایف آئی آر درج ہوئی جبکہ ملزمہ سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ کئی گھنٹے تو ہنگامہ آرائی ختم ہی نہیں ہوئی، خدیجہ شاہ کا موبائل برآمد ہو گیا ہے۔ اس پر وکیل نے کہا موبائل پولیس نے برآمد نہیں کیا۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ ’اس کا مطلب ہے پولیس نے ایک اہم شہادت ضائع کر دی۔‘

    عدالت نے دیگر خواتین کے وکلا سے دلائل طلب کیے ہیں۔

  20. نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں کاروباری شخصیت انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے کیس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں۔‘

    سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے خط لکھ چکی ہے۔

    چیف جسمس نے استفسار کیا کہ ’کیا وہ خط انور مجید کے وکیل کو دکھایا گیا ہے؟‘

    وکیل نے بتایا کہ نیب عدالت نے انور مجید کا کیس بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا ہے، عدالت کو کیس بھجوانے کا ابھی تحریری حکمنامہ نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی عمر 81 سال عمر ہے، نیب کو بھی بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں، عدالت اجازت دے تو وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا۔ جب تک نیب تسلیم نہ کر لے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے۔ دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔

    ’نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں۔ بینکنگ عدالت میں کیس بھجوانے کا فیصلہ بھی نیب کے بیان کے بعد دیا گیا ہوگا۔‘

    عدالت نے نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دیا نیب بیان طلب کیا ہے اور مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔