ملیکہ بخاری کے بعد مسرت جمشید چیمہ اور ان کے شوہر بھی تحریکِ انصاف چھوڑ گئے
پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مسرت چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی ملیکہ بخاری نے اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
لائیو کوریج
صحافیوں سمیت کسی بھی بے گناہ شہری کو ہرگز سزا نہیں ہونے دی جائے گی: پنجاب پولیس
پنجاب پولیس نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ ’جناح ہاوس پر حملے کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے جیو فینسنگ سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا گیا ہے، فرائض کی انجام دہی میں مصروف صحافیوں سمیت کسی بھی بے گناہ شہری کو ہرگز سزا نہیں ہونے دی جائے گی۔‘
پنجاب پولیس نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’اس مقام پر موجود تمام افراد کا ریکارڈ سامنے آ چکا ہے ۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واضح حکم دیا ہے بے گناہی ثابت کرنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ اسی حوالے سے نجی نشریاتی ادارے کے صحافی سرفرازخان کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
واضح رہے نو مئی کو کور کمانڈر ہاوس میں جلاو گھیراو اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں جی این این سے وابستہ صحافی سرفراز خان کو پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا تاہم اتوار کے روز سرفراز خان نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ان کے معاملات ایک غلط فہمی پر مبنی تھے۔
سرفرا خان کے مطابق ’آئی جی پنجاب سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشنز نے میرے ساتھ تعاون کیا۔‘
80 فیصد امکانات ہیں کہ منگل کو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کے روز انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیئے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ’میری تمام سینیئر لیڈرشپ اس وقت جیل میں ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ منگل کو جب مجھے متعدد مقدمات میں ضمانت کے لیے عدالت میں پیش ہونا ہے تو 80 فیصد امکانات ہیں کہ میں گرفتارکر لیا جاوں گا۔‘
عمران خان نےدعویٰ کیا کہ ’ لگ رہا ہے کہ جمہوریت ختم کی جا رہی ہے۔ انتخابات کے لیے حکومت نے آئین سے انحراف کیا بلکہ سپریم کورٹ کا حکم بھی نہیں مانا۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اکتوبر میں بھی انتخابات نہیں ہوں گے جب تک حکومت کو یقین نہ ہو جائے کہ تحریک انصاف کو ہرایا جا سکے گا۔ حکومت الیکشن سے خوفزدہ ہے اور حکومت ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جو جمہوریت کے منافی ہو۔‘
فوج سے تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے کبھی بھی فوج سے مسئلہ نہیں تھا۔ میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے ساتھ کام کر رہا تھا ۔ انھوں نے میری حکومت ختم کروائی شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جنرل (ریٹائرڈ) باجوہ نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی ڈیل موجودہ وزیر اعظم سے کر لی تھی۔ تب سے میں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے مسائل کا حل صرف انتخابات ہیں۔‘
عمران خان نے پی ڈی ایم کی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ پی ڈی ایم نے اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ جس طرح مجھے گرفتار کیا گیا اس کا رد عمل سامنے آیا مگراس جلاو گھیراو کو حکومت نے اپنے حق میں اور ہماری جماعت کو حتم کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس وقت 10 ہزار سے ذیادہ ہمارے کارکنان جیل میں ہیں۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو یقین ہے کہ انھیں(عمران خان کو) جیل میں ڈال کر بھی وہ انتخابات نہیں جیت سکیں گے۔
جنرل عاصم منیر نے کبھی اہلیہ کی کرپشن کے شواہد نہیں دکھائے: عمران خان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان کو کبھی بھی ان کی اہلیہ کی کرپشن سے متعلق کوئی شواہد دکھائے اور نہ ہی انھوں نے بطور وزیر اعظم جنرل عاصم منیر کو اس وجہ سے ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹوایا۔
عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ میں نے جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے اس لیے ہٹوایا کیوں کہ انھوں نے مجھے میری اہلیہ بشری بیگم کے کرپشن کیسز دکھائے تھے۔‘
عمران خان نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جنرل عاصم نے مجھے میری اہلیہ کی کرپشن کے کوئی شواہد دکھائے نہ ہی میں نے انہیں اس بنیاد پر مستعفیٰ ہونے پر مجبور کیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
واضح رہے کہ جنرل عاصم منیر ستمبر 2018 میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعینات ہوئے تھے۔
تاہم جون 2019 میں ان کی جگہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا تھا۔
گذشتہ برس سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ایسی چہ مگویاں عام تھیں کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیر کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی ان کے عہدے سے ہٹوایا تھا۔
تاہم عمران خان نے اس معاملے پر کبھی کھل کر بات نہیں کی۔
حال ہی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل بھی جنرل عاصم منیر کے نام کی مخالفت نہیں کی تھی۔
عمران خان کی جانب سے اس حالیہ بیان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ردعمل میں کہا کہ ’اگر آپ نے اس وجہ سے تبدیل نہیں کروایا تھا تو پھر کیا وجہ تھی؟ مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کوئی اور وجہ نہیں دے سکتے کیوں کہ اصل وجہ یہی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
دوسری جانب صحافی خرم حسین نے بھی عمران خان کی ٹویٹ پر جواب میں لکھا کہ ’اب جب ہم اس موضوع کی طرف آ چکے ہیں تو پھر آپ یہ کیوں نہیں بتا دیتے کہ آپ نے جنرل عاصم منیر کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی مستعفی ہونے کے لیے کیوں کہا تھا؟‘
نو مئی کے منصوبہ سازوں سمیت گالی دینے والے اور توڑ پھوڑ کرنے والے نہیں بچ سکتے، وزیر اعظم
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نو مئی کو میانوالی میں جہازوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔
لاہور میں امن و امان پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ نو مئی ملکی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا۔
انھوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے قائد اعظم ہاؤس زیارت کو جلایا جبکہ نو مئی کو لاہور میں قائد اعظم ہاؤس کو جلایا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مذاق کی بات نہیں ہے کہ میانوالی میں دشمن کے خلاف استعمال کرنے کے لیے قوم کی خون پسینے کی کمائی سے خریدے گئے ہوائی جہازوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس دن بے شمار ایسے واقعات ہوئے تھے جو پوری قوم کو ذہنی کوفت میں مبتلا رکھیں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ طے ہوا تھا کہ نو مئی کے منصوبہ سازوں، اکسانے والوں سمیت گالی دینے والے اور توڑ پھوڑ کرنے والے قانون سے نہیں بچ سکتے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب کی نگران حکومت کو گزارش کی تھی کہ اس معاملے میں ذمہ داریاں ادا کریں۔
فردوس شمیم نقوی کو جیل میں ڈالنا حکومت کی پست ذہنیت کی نشانی ہے: عمران خان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فردوس شمیم نقوی کی گرفتاری کی شدید مزمت کی ہے۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں عمران خان نے کہا ہے کہ ’فردوس شمیم نقوی کو دہشت گردی کے الزام میں زندان میں ڈال کر اہلِ اقتدار نے ظاہر کیا ہے کہ کس قدر گراوٹ کے شکار ہیں۔‘
عمران خان کے مطابق ’فردوس شمیم نقوی 27 سال قبل میرے ہمسفر اور پاکستان کو ایک منصفانہ اور انسانی اقدار پر مبنی سماج کی صورت میں ڈھالنے کے خواب میں میرے شراکت دار بنے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان کے مطابق ’انھوں نے جدوجہد کے تمام نشیب و فراز کا پوری ثابت قدمی سے سامنا کیا اور ایمان کی پختہ بنیادوں پر استوار مضبوط کردار ہی تھا جو بہت سی مایوسیوں کے باوجود ثابت قدمی کا وسیلہ بنا۔‘
عمران خان کے مطابق ’فردوس شمیم نقوی سرطان سے شفایابی کے مراحل میں ہیں جبکہ مرض کا بھی انھوں نے پورے وقار اور ہمت سے مقابلہ کیا۔‘
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔
اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔