ملیکہ بخاری کے بعد مسرت جمشید چیمہ اور ان کے شوہر بھی تحریکِ انصاف چھوڑ گئے
پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مسرت چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی ملیکہ بخاری نے اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
لائیو کوریج
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں آڈیو لیکس کمیشن نے چار شخصیات کو 27 مئی کو طلب کر لیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہJudiciary
آڈیو لیکس کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے قائم کمیشن نے چار شخصیات کو طلبی کے نوٹس وصول کرادیے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے آڈیو لیکس میں شامل شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا ہے۔ چار شخصیات کو 27 مئی کو پیش ہونے کے لیے طلبی کے سمن جاری کر دیے گئے ہیں۔
صدرسپریم کورٹ بار عابد زبیری، ایڈووکیٹ طارق رحیم کو سمن جاری کیے گئے ہیں جبکہ کمیشن نے صحافی عبد القیوم صدیقی اور ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کو بھی 27 مئی کو طلب کر لیا ہے۔
اسد قیصر، شبلی فراز، مراد سعید سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ضمانتیں خارج, شہزاد ملک بی بی سی اردو
انسدادِ دہشت گردی اسلام آباد کی عدالت نے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی استثنا کی درخواستوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ہے۔ جج راجہ جواد عباس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی آج استثنا کی درخواستیں مسترد کردیں۔
اے ٹی سی نے حسان نیازی، فرخ حبیب، اسد قیصر اور شبلی فراز کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کردی ہیں۔ زلفی بخاری، اعظم سواتی اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان کی بھی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی گئی ہے۔
جن دیگر رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج ہوئی ہے ان میں مراد سعید، علی نواز اعوان اور راجہ خرم شامل ہیں۔
جج راجہ جواد عباس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر حاضری کے باعث استثنا کی درخواستیں مسترد کی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں پر تھانہ گولڑہ اور سی ٹی ڈی میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔
نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کو بہانہ بنا کر تحریک انصاف کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین تحریک انصاف عمران خـان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نو مئی کے پُرتشدد واقعات جن کی جماعت کی پوری قیادت نے مذمت کی ہے کو بہانہ بنا کر پی ٹی آئی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق رہنماؤں کی پارٹی سے زبردستی علیحدگی اور پی ٹی آئی کے کارکنان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شامل ہے۔
عمران خان کے مطابق وہ تمام جماعتیں جو پی ڈی ایم کا حصہ ہیں اور وہ تمام صحافی جو اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے ہیں یاد رکھیں کہ یہ تحریک انصاف کو نہیں توڑا جا رہا ہے بلکہ یہ ہماری جمہوریت اور آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہمیں غلام بنانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی کیونکہ ہمارے پاس باخبر نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اعجاز چوہدری رہائی کے بعد پھر حراست میں
،تصویر کا ذریعہSENATE OF PAKISTAN
پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرل وائس پریذیڈنٹ اعجاز چوہدری کو رہائی کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اعجاز چوہدری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہا کیا گیا تھا۔
اس وقت اعجاز چوہدری کہاں پر ہیں اس متعلق کچھ معلوم نہیں ہے۔
بریکنگ, کور کمانڈر ہاؤس کیس: تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے سمیت 16 ملزمان آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے فوج کے حوالے کرنے کی منظوری, ترہب اصغر، بی بی سی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہSocial Media
لاہور
کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کور کمانڈر ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ
پھوڑ کے کیس میں مبینہ طور پر ملوث تحریک انصاف کے ایک سابق ممبر صوبائی اسمبلی
سمیت 16 ملزمان کو آرمی ایکٹ کے تحت آرمی
کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ان
ملزمان کے خلاف ملڑی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے کمانڈنگ افسر نے حراست کی استدعا
کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان آفیشنل سیکرٹ ایکٹ
کے سیکشن 3,7 اور 9کے تحتقصور وار پائے گئے ہیں چنانچہ مزید تحقیقات کے
لیے ان کی حراست مطلوب ہے۔
عدالت
کو فوجی افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ ان ملزمان نے مبینہ طور پر جن جرائم کا
ارتکاب کیا ان کا ٹرائل آرمی ایکٹ 1952 کے تحت ہو سکتا ہے جس پر انسداد دہشت گردی کی
عدالت نے کمانڈنگ افسر کی استدعا کو منظور کر لیا۔
اس
موقع پر استغاثہ نے کمانڈنگ افسر کی اس درخواست پر اعتراض نہیں کیا، جس کے بعد
عدالت نے سپرٹینڈنٹ کیمپ جیل کو ان 16 ملزمان کو مزید کارروائی کے لیے متعلقہ افسر
کے حوالے کر دیا۔
پی ٹی آئی نہیں چھوڑوں گی، ڈاکٹر یاسمین راشد
،تصویر کا ذریعہsocial media
پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑوں گی۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافی کے سوال ’کیا آپ بھی پی ٹی آئی چھوڑ رہی ہیں؟‘ کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہوں۔
بریکنگ, پنجاب میں انتخابات: الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست پر سماعت 29 مئی تک ملتوی
سپریم کورٹ میں پنجاب میں انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست پر سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
بریکنگ, ہوم ورک کرکے آئیں، پتہ تو چلے کہ الیکشن کمیشن کی مشکل کیا ہے: چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل ختم ہونے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ کے بہانے قبول نہیں کرنے چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو حکومت سے ٹھوس وضاحت لینی چاہیے۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ کل ارکان اسمبلی کے لیے 20 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس منظور ہوئیں، الیکشن کمیشن کو بھی 21 ارب ہی درکار تھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ارکان اسمبلی کو فنڈ ملنا اچھی بات ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن خود غیر فعال ہے، الیکشن کمیشن کے استعدادکار میں اضافے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے چار لاکھ پچاس ہزار سیکیورٹی اہلکار مانگے، ساڑھے چار لاکھ تو ٹوٹل آپریشنل فوج ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے الیکشن کمیشن کو بھی ڈیمانڈ کرتے ہوئے سوچنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ فوج کی سیکیورٹی کی ضرورت کیا ہے؟ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ فوج صرف سیکیورٹی کے لیے علامتی طور پر ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجی اہلکار آرام سے کسی کو روکے تو لوگ رک جاتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ جو پولنگ سٹیشن حساس یا مشکل ترین ہیں وہاں پولنگ موخر ہوسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہوم ورک کرکے آئیں، پتہ تو چلے کہ الیکشن کمیشن کی مشکل کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن مکمل بااختیار ہے، کارروائی کرسکتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں۔
بریکنگ, الیکشن کمیشن نے خود حل نہیں نکالا تو اب عدالت کو یہ اصول وضع کرنا ہو گا: چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل جاری ہیں۔
دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر قومی اسمبلی پہلے تحلیل ہو جائے تو کیا صوبائی اسمبلی کو الیکشن کمیشن تحلیل کر سکتا ہے؟
انھوں نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کی منتق مان لیں تو ملک میں منتخب وفاقی حکومت نہیں ہو گی۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ ایسی صورت حال میں آرٹیکل 224 حل دیتا ہے۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 224 ہر اسمبلی کے لیے ہے صرف وفاق کے لیے نہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ پنجاب میں 20 ضمنی انتخاب ہوئے جو مکمل شفاف تھے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلی پنجاب اور اپوزیشن لیڈر کے اتفاق رائے سے عدالت نے حکم دیا تھا۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ قومی اسمبلی کے انتخاب میں صوبائی حکومت کی مداخلت روکی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن شفاف اور مضبوط ہو تو مداخلت نہیں ہو سکتی۔ الیکشن کمیشن نے خود حل نہیں نکالا اب عدالت کو یہ اصول وضع کرنا ہو گا۔
عابد زبیری نے آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کو کام سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کو کام سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
انھوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فون ٹیپنگ کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ اور فون ٹیپنگ صرف دہشت گردی کے مقدمات میں ہائیکورٹ کے جج کی اجازت سے کی جاسکتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی فون ریکارڈنگ کو اسی صورت درست تصور کیا جاتا ہے جب ریکارڈنگ کرنے والا شخص موجود ہو۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس کا حکمنامہ خلاف قانون ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے اٹارنی جنرل سے یہ نہیں پوچھا کہ مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کس نے کی۔
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر مبینہ آڈیوز جاری کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کا اگلا اجلاس 27 مئی کو ہو گا اور اس میں متعدد افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
بریکنگ, پنجاب میں منتخب حکومت آ گئی تو قومی اسمبلی کے انتخابات کیسے شفاف ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل جاری ہیں۔
دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کبھی الیکشن کی کوئی تاریخ دیتے ہیں کبھی کوئی تاریخ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں ممکن ہی نہیں۔ ہر موڑ پر الیکشن کمیشن نیا موقف اپنا لیتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے مزید ریمارکس دیے کہ آپ ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں ماضی اور آج کے حالات میں فرق ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ موجودہ حالات میں انتخابات ممکن نہیں۔ جس ہر جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ آپ پھر آئینی اصولوں سے موجودہ حالات پر آگئے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا پانچوں اسمبلیوں کے الگ الگ انتخابات ہو سکتے ہیں؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ نگران حکومتیں ہوں تو الگ الگ انتحابات ممکن ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں الگ الگ انتخابات ممکن نہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ پنجاب میں منتخب حکومت آ گئی تو قومی اسمبلی کے انتخابات کیسے شفاف ہوں گے؟ ان کا مزید کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام سرکاری مشینری حکومت سے لیتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ نیوٹرل انتظامیہ نہیں ہو گی تو شفاف انتخانات کیسے ہوں گے؟
جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمشین کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قومی اسمبلی کا انتخاب متاثر ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ ارکان قومی اسمبلی صوبائی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جس آئینی اصول کی بات آپ کر رہے ہیں اس کے مطابق تو اسمبلی تحلیل ہی نہیں ہونی چاہییں۔
بریکنگ, جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو نو مئی پر بات کرنے سے روک دیا
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل جاری ہیں۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے صدر اور گورنر کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا، دو دن تک آپ مقدمہ دوبارہ سننے پر دلائل دیتے رہے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایک دن انتخابات سے آئین کی کون سی شقیں غیر مؤثر ہوں گی، لیڈر آف ہاؤس کو اسمبلی تحلیل کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نظام مضبوط ہو تو شاید تمام انتخابات الگ الگ ممکن ہوں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ فی الحال تو اندھیرے میں ہی سفر کر رہے ہیں جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ رہی۔
جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیے کہ سیاسی ماحول کو دیکھ کر ہی اٹھ اکتوبر کی تاریح دی تھی۔ ان کا کہنا ہے نو مئی کو جو ہوا اس خدشے کا اظہار کر چکے تھے۔
اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ایسے نہیں ہوسکتا جو آپ کو سوٹ کرے وہ موقف اپنا لیں۔
جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو نو مئی پر بات کرنے سے روک دیا۔
عائشہ گلالئی نے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی
،تصویر کا ذریعہPTI/ Facebook
پاکستان تحریک انصاف کی
سابق رہنما اور ایم این اے عائشہ گلالئی نے مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کرتے
ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں رہتے ہوئے انھیں علم تھا کہ ہواؤں کا رُخ کس طرف
جا رہا ہے، اسی لیے انھوں نے پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے اس صورتحال کے خلاف بہت پہلے
علمِ بغاوت بلند کیا۔
مسلم لیگ ق کے رہنماؤں
بشمول چوہدری شجاعت حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عائشہ گلالئی نے
کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران بہت سے پارٹیوں نے اُن سے شمولیت کے لیے رابطہ کیا،
لیکن انھوں نے مسلم لیگ ق میں اس لیے شمولیت اختیار کی کیونکہ چوہدری شجاعت نے
کبھی ذاتی مفادات کے لیے قومی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگایا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ
انڈیا اور اسرائیل کی فنڈنگ کے ثمرات اب کُھل کر سامنے آ چکی ہے اور یہ وہ صورتحال
ہے جس کا ادراک انھیں بہت پہلے ہو چکا تھا۔
بریکنگ, پہلے کیوں نہیں کہا کہ وسائل ملنے پر بھی انتخابات ممکن نہیں ہیں: جسٹس منیب اختر
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل جاری ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ نگران حکومت صرف اس لیے آتی ہے کہ کسی جماعت کو سرکاری سپورٹ نہ ملے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا نگران حکومت جب تک چاہے رہ سکتی ہے؟
جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کی مدت کا تعین حالات کے مطابق ہو گا۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ میں انتخابات سے معذوری ظاہر کی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں۔ سپریم کورٹ کو بھی کہا کہ وسائل درکار ہیں۔اب الیکشن کمیشن کہتا ہے آئین کے اصولوں کے مطابق انتخابات ممکن نہیں ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ یہ پہلے کیوں نہیں کہا کہ وسائل ملنے پر بھی انتخابات ممکن نہیں ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ اپنے تحریری موقف میں بھی یہ نقطہ اٹھایا تھا۔
بریکنگ, کب تک انتخابات آگے کر کے جمہوریت قربان کرتے رہیں گے، تاخیر سے منفی قوتیں حرکت میں آئیں گی: چیف جسٹس
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل جاری ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ بتائیں 90 دن کی نگران حکومت ساڑھے چار سال کیسے رہ سکتی ہے؟ آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیے کہ پنجاب اور کے پی کے دونوں صوبوں میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں۔
جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا پنجاب انتحابات کا فیصلہ چیلنج ہوا تھا اور سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا جس پر آپ نظر ثانی پر دلائل دے رہے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کے پی کے کا اسمبلی بھی تحلیل ہوئی تھی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ میرے کہنے کا مطلب تھا کے پی کے اور پنجاب پورے ملک کا ستر فیصد ہیں۔
جس پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ اگر بلوچستان اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل ہو تو کیا اس پر آئین کا اطلاق نہیں ہو گا؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ نشستیں جتنی بھی ہوں ہر اسمبلی کی اہمیت برابر ہے اور حکومت جو بھی ہو شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس منیب اختر نے مزید ریمارکس دیے کہ کیا الیکشن کمیشن کہہ سکتا منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے الیکشن نہیں ہوں گے؟
اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات سے معذوری ظاہر نہیں کر سکتا۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن تو کہتا تھا فنڈز اور سیکیورٹی دیں تو انتخابات کروا دیں گے۔آئین کے اصول کی بات کر کے خود اس سے بھاگ رہے ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ حقائق کے مطابق دی تھی۔
جس پر جسٹس مینب اختر نے سوال کیا کہ آٹھ ستمبر کو الیکشن کمیشن مجھے کہے کہ اکتوبر میں الیکشن ممکن نہیں تو کیا ہوگا؟الیکشن کمیشن دو سال کہتا رہے گا کہ انتخابات ممکن نہیں۔
جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے، صوابدید نہیں۔
چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود کہا آئین کی روح جمہوریت ہے، کب تک انتخابات آگے کرکے جمہوریت قربان کرتے رہیں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تاریخ میں کئی مرتبہ جمہوریت قربان کی گئی، جب بھی جمہوریت کی قربانی دی گئی کئی سال نتایج بھگتے۔ عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں صرف وسائل نہ ہونے کا ذکر تھا، الیکشن کمیشن کب کہے گا کہ اب بہت ہو گیا، انتخابات ہر صورت ہوں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب الیکشن کمیشن سیاسی بات کر رہا ہے، بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں ٹرن آوٹ ساٹھ فیصد تھا، سیکیورٹی خدشات کے باوجود بلوچستان کے عوام نے ووٹ ڈالا۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جب آپ تاخیر کریں گے تو منفی قوتیں حرکت میں آ جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم آئین کے محافظ ہیں اور ہمیں ہر صورت اس کا دفاع کرنا ہے۔
بریکنگ, نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی سہولت کے لیے آئین میں شامل کی گئیں: جسٹس اعجاز الاحسن
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل جاری ہیں۔
سجیل سواتی کا کہنا ہے کہ آئین کی منشا منتخب حکومتیں اور جہموریت ہی ہے۔ ملک منتخب حکومت ہی چلا سکتی ہے اور جہموریت کو بریک نہیں لگائی جاسکتی۔
وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 1973میں آئین بنا تو نگران حکومتوں کا تصور نہیں تھا۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین بنا تو مضبوط الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی سہولت کے لیے آئین میں شامل کی گئیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید ریمارکس دیے کہ شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
بریکنگ, نگران حکومت کی مدت میں توسیع آئین کی روح کے منافی ہے: جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے دلائل دے رہے ہیں۔
سجیل سواتی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہ انتخابات کے لیے نگران حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ نگران حکومت کی تعیناتی کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے۔ نگران حکمرانوں کے اہلِ خانہ الیکشن کمیشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین میں انتخابات کی شفافیت کے پیش نظر یہ پابندی لگائی گئی ہے۔
جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ اگر صوبائی اسمبلی چھ میں تحلیل ہو جائے تو کیا ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی رہے گی؟ ساڑھے چار سال قومی اسمبلی کی تحلیل کا انتظار کیا جائے گا؟
جس پر سجیل سواتی کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی متعلقہ صوبے میں کام کرے گی۔آئین کے ایک آرٹیکل ہر عمل کرتے ہوئے دوسرے کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی۔
ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 254 سے نوے دن کی تاخیر کو قانونی سہارا مل سکتا ہے۔ انتخابات میں نوے دن کی تاخیر کا مداوا ممکن ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مداوا ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ساڑھے چار سال کے لیے نئی منتخب حکومت آ سکتی ہے۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کیسے ممکن ہے کہ منتخب حکومت چھ ماہ اور نگران حکومت ساڑھے چار سال رہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 90 دن کا وقت بھی آئین میں دیا گیا ہے۔ نگران حکومت 90 دن میں الیکشن کروانے ہی آتی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید ریمارکس دیے کہ نگران حکومت کی مدت میں توسیع آئین کی روح کے منافی ہیں۔
جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کی ابزرویشن سے متفق ہیں۔
بریکنگ, آپ نے نظرثانی کا دائرہ کار مرکزی کیس سے بھی زیادہ بڑا کر دیا ہے: جسٹس منیب اختر کا الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے نظرثانی کا دائرہ کار مرکزی کیس سے بھی زیادہ بڑا کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت آج دوبارہ شروع ہوئی ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے دلائل دینا شروع کیے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تیسرا دن ہے وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل سن رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل مختصر ہوں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے پر کافی وقت ضائع ہوا، ہمیں بتائیے کہ آپ کا اصل نقطہ کیا ہے۔
سجیل سواتی نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ رولز آئینی اختیارات کو کم نہیں کر سکتے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ رولز عدالتی آئینی اختیارات کو کیسے کم کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب تک کے نقطہ نوٹ کر چکے ہیں، آپ آگے بڑھیں۔
وکیل سجیل سواتی نے دلائل دیے کہ فل کورٹ کئی مقدمات میں قرار دے چکی نظرثانی کا دائرہ کار محدود نہیں ہوتا۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کی منطق مان لیں تو سپریم کورٹ رولز عملی طور پر کام کالعدم ہو جائیں گئے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات ملاقات میں پارلیمنٹ کی قانون سازی کا اختیار بھی محدود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کے کیس میں لارجر بینچ نے قرار دیا کہہ سپریم کورٹ کا اختیار کم نہیں کیا جاسکتا۔ نظرثانی درخواست دراصل مرکزی کیس کا ہی تسلسل ہوتا ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ہوا میں تیر چلاتے رہیں گےتو ہم آسمان کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے۔ کم از کم ٹارگٹ کر کے فائر کریں پتا تو چلے کہنا کیا چاہتے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے نظرثانی کا دائرہ کار مرکزی کیس سے بھی زیادہ بڑا کر دیا ہے۔
گرفتار کارکنوں کے آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیا جائے: عمران خان کی سپریم کورٹ میں استدعا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے آرٹیکل 245 کے نفاذ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پارٹی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور گرفتار کارکنان کے آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایڈووکیٹ حامد خان کی وساطت سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں وفاق، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سمیت پاکستان کی سیاسی قیادت اور پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نگراں وزرائے اعلیٰ کو فریق بنایا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے سپریم کورٹ آرٹیکل 245 کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے اور اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سویلین کا کورٹ مارشل بھی غیرقانونی قرار دے۔
اس درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کے کارکنان کو فوری رہا کرنے کا حکم دے۔
درخواست مین استدعا کی گئی ہے سپریم کورٹ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے اور تحریک انصاف کے رہنماوں کی ’جبری علیحدگیوں‘ کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
بریکنگ, سابق ایم پی اے پی ٹی آئی جاوید اختر انصاری اور ڈاکٹر حیدر علی کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہsocial media
سابق ایم پی اے پی ٹی آئی جاوید اختر انصاری نے پاکستان تحریکِ انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ کھڑِے ہیں اور فوج ہمارا فخر ہے۔
،تصویر کا ذریعہsocial media
سوات سے پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے ڈاکٹرحیدرعلی خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔