ملیکہ بخاری کے بعد مسرت جمشید چیمہ اور ان کے شوہر بھی تحریکِ انصاف چھوڑ گئے

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مسرت چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی ملیکہ بخاری نے اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. تاریخی اور قومی ورثے کو جلا دینا کہاں کی حب الوطنی ہے: وزیراعظم شہباز شریف کا ریڈیو پاکستان پشاور کا دورہ

    PTVNewsOfficial

    ،تصویر کا ذریعہPTVNewsOfficial

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے شرپسندوں اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں اور شرپسندوں کو قانون اور آئین کے مطابق سزا ضرور ملے گی۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج ریڈیو پاکستان پشاور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی اور قومی ورثے کو جلا دینا کہاں کی حب الوطنی ہے، چاغی کی یادگار کو بھی راکھ بنا دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ قومیں اپنی تاریخی ورثے اور شناخت کی حفاظت کرتی ہیں ، یہاں جلا دیا گیا۔ اس سے زیادہ ملک دشمنی نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے ریڈیو پاکستان کے ملازمین کے حوصلے کی داد دی اور ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا اعلان کیا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت آ کر آج بہت دکھی ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریڈیو کی عمارت سے 14 اگست 1947 کو آزادی کی صدائیں بلند ہوئیں اور ریڈیو پاکستان پشاور نے ہی مملکت خداداد کی آزادی کا اعلان کیا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 9 اور 10 مئی کے دلخراش واقعات نے پاکستانی عوام کو رنجیدہ کیا۔

    وزیراعظم نے وزیر اطلاعات کو ریڈیو پاکستان پشاور کی مرمت کا کام فوری شروع کرانے کی ہدایت کی۔

  2. پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی کے 120 کارکنان کی رہائی کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے ان تمام کارکنان جنھیں ایم پی ایو 3/ ایم پی ایو 6 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے (یا جنھیں ابھی گرفتار کیا جانا ہے) کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ان افراد کی کل تعداد 120 ہے۔

  3. مسرت جمشید چیمہ کے تحریک انصاف چھوڑنے کی خبروں میں صداقت نہیں، خاندان کا بیان

    تحریک انصاف رہنما مسرت جمشید چیمہ کے خاندان نے کہا ہے کہ انھوں نے تحریک انصاف نہیں چھوڑی۔

    ایک بیان میں ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ مسرت جمشید چیمہ تمام پاکستانیوں کی طرح 9 مئی کے واقعات پر رنجیدہ ہیں اور سمجھتی ہیں کہ حالات اس نہج پر نہیں جانے چاہیے تھے۔

    ان کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ مسرت جمشید چیمہ نے بطور چئیرمین کے ترجمان جلاؤ گھیراؤ کا کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی خود کسی انتشار کا حصہ رہیں۔

    انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مسرت جمشید چیمہ کو جلد رہا کیا جائے گا تاکہ ان کے بچے اپنے والدین سے مل سکیں۔

  4. ایجنسیوں نے کہا ہے کہ عمران ریاض ان کے پاس نہیں ہیں، پولیس کا لاہور ہائیکورٹ میں جواب, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

    پنجاب پولیس نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ایجنسیوں کے مطابق اینکر عمران ریاض ان کے پاس نہیں ہیں۔

    عمران ریاض گمشدگی کیس میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں یہ جواب جمع کرایا گیا۔

    جمعرات کو سماعت کے دوران وکیل ظہر صدیق نے عدالت میں نئے فریق کیس میں شامل کرنے کے لیے درخواست بھی دی جس پر چیف جسٹس امیر بھٹی نے سوال کیا کہ آپ نے کس کس کو فریق بنایا ہے۔

    اظہر صدیق نے جواب دیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب، سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنانا ہے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کیس کو سیاسی نہ بنائیں، سیاسی بنائیں گے تو شاید کیس سن ہی نہ سکوں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیکریٹریز کو تو ہم پہلے ہی نوٹس کر چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کیس کو چلنے دیں، ہمارا مقصد یہ ہے کہ عمران ریاض کو بازیاب کرا سکیں، اسکی زندگی کو محفوظ بنانا ہے۔‘

    عمران ریاض کے والد کی جانب سے بات کرنے کی درخواست پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کو یقین دلاتا ہوں عدالت لوگوں کے دکھوں کو اپنے اندر جزب کرتی ہے۔‘

    چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ ’ہم نے بنادی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے، دیر سویر کو ایشو نہیں بنانا چاہیے، ہم نے زندگی کو محفوظ کرنا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی عدم حاضری پر سوال کیا کہ آئی جی پنجاب کہاں مصروف ہیں؟

    پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پنجاب شہدا کی تقریب میں شرکت کے لیے گوجرنوالہ میں ہیں، اس لیے عدالت نہیں آئے۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آئی جی پنجاب کا گوجرانولہ جانے کا شیڈول کہاں ہے؟ان کو کس نے بھیجا؟ وزیر اعلی یا کس نے جانے کا کہا، وہ ریکارڈ دیں۔

    ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے عدالت کو تمام ریکارڈ اور شیڈول فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

  5. ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کا مقدمہ: چوہدری پرویز الہی کی عبوری ضمانت خارج, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

    لاہور کی ایک اینٹی کرپشن عدالت نے سابق وزیر اعلی پنجاب اور تحریک انصاف کے رہنما چوہدری پرویز الہی کی عبوری ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی ہے۔

    ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے مقدمے میں چوہدری پرویز الہی کے وکلا کی جانب سے ایک روز کے لیے حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔

  6. اسد قیصر کا ابھی پریس کانفرنس کرنے کا موڈ نہیں بنا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کا وکیل سے سوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف رہنما اسد قیصر کے مقدمات سے جڑے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے سابق سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اسد قیصر کا ابھی موڈ نہیں بنا پریس کانفرنس کا، ’پریس کانفرنس کریں اور معاملہ ختم کریں۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسد قیصر کی مقدمات تفصیلات کی فراہمی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران یہ ریمارکس سامنے آئے جب جسٹس ارباب طاہر نے اسد قیصر کے وکیل سے سوال کیے۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس نے چھ ایف آئی آرز کا ریکارڈ بھی پیش کیا۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چودھری کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے تھری ایم پی او کے تحت ان کی گرفتاری کا حکم کالعدم قرار دیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے سینیٹر اعجاز چوہدری کو ایک ہفتہ قبل حراست میں لیا تھا۔

  7. موجودہ حکومت کے پہلے سال میں ملک کی معاشی ترقی 0.3 فیصد تک گر گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی معاشی شرح نمو موجودہ مالی سال میں 0.29 فیصد تک رہے گی جو گزشتہ مالی سال میں 6.1 فیصد تھی۔

    حکومت کی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے بعد موجودہ مالی سال کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صنعت میں شرح نمو منفی 2.9 رہے گی جو گزشتہ سال 6.83 تھی اور اس میں بڑی صنعتوں کی پیداوار 7.98 منفی ہوگی جو گزشتہ مالی سال میں 11.90 تھی۔

    خدمات کے شعبے میں شرح نمو 0.85 رہے گی جو گزشتہ سال 6.59 تھی۔ زرعی شعبے کی شرح ترقی اس سال 1.55 رہے گی جو گزشتہ سال 4.27 تھی۔

    تعمیراتی شعبے کی شرح نمو منفی 5.53 رہے گی جو گزشتہ مالی سال میں 1.90 تھی، لائیو اسٹاک کے شعبے میں شرح نمو 3.78 رہے گی جو گزشتہ سال 2.25 تھی اور کاٹن جننگ کے شعبے میں شرح نمو منفی 23 فیصد رہے گی جو گزشتہ مالی سال میں میں 9.22 تھی۔

  8. بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اب اپنے ملک میں پیسے کیوں کم بھیج رہے ہیں؟

  9. یہ قائل کر دیں کہ میرے بغیر ملک بہتر ہو سکتا ہے تو پاکستان کی خاطر پیچھے ہٹ جاؤں گا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ آج حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی کا اعلان کریں گے۔

    انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میں آج مذاکراتی کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہوں۔ جو بھی اس وقت طاقتور لوگ ہیں وہ ان سے جا کر بات کر لیں۔۔۔ وہ اکتوبر میں الیکشن اس لیے کروانا چاہتے تھے کیونکہ انھوں نے ہمارے ساتھ یہ کرنا تھا۔ جب تحریک انصاف کرش ہوجائے گی، یہ تب الیکشن کروائیں گے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں یہ کمیٹی بناتا ہوں، اگر یہ کمیٹی کو کہہ دیں کہ عمران خان کے بغیر پاکستان بہتر ہوجائے گا تو ملک کی خاطر میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔‘

    ’یا اس کمیٹی کو یہ کہہ دیں کہ اکتوبر میں الیکشن سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے۔ یہ اکتوبر تک پی ٹی آئی کو کرش کرنا چاہتے ہیں۔ میں اس کمیٹی کا اعلان کل کروں گا۔‘

    اپنے پیغام کے آخر میں سابق وزیر اعظم نے اپنے فالوروز کو کہا کہ ’آپ نے حوصلہ رکھنا ہے، آپ کے کپتان میں جب تک خون کا آخری قطرہ ہے وہ اس وقت تک کھڑا ہے، آخری گیند تک لڑنے والا کپتان ہے آپ کا، ہار ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں قوم سے بھی کہتا ہوں کہ آپ نے کسی صورت ہار نہیں ماننی۔‘

  10. پُرتشدد سوچ رکھنے والے گروہ کی کوئی جگہ نہیں: مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ’ایسی پُرتشدد سوچ رکھنے والے کسی گروہ کی کوئی جگہ نہیں‘ ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’جو جرم نو مئی کو عمران خان نے کیا، کوئی بھی، یہاں تک کے اس کی اپنی جماعت بھی اس گھناؤنے جرم اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔

    ’پاکستان کے لیے تھوڑا سا بھی درد رکھنے والا سیاست میں تشدد کا حامی نہیں ہوسکتا۔ یہاں پر تو عمران نے ملک ہی جلا ڈالا! کوئی ذی شعور پاکستانی فوجی تنصیبات، سرکاری، ریاستی اور سکیورٹی عمارتوں پر حملہ کرنے، ان میں توڑ پھوڑ کرنے اور انکو جلانے کی حمایت نہیں کرسکتا۔ یہ کام یا TTP نے کیا ہے یا PTI نے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’سیاست اور سیاسی تقسیم بعد میں، پاکستان پہلے! پاکستان کی سیاست میں ایسی پرتشدد سوچ رکھنے والے کسی گروہ کی کوئی جگہ نہیں۔ اس لیے یہ تخریب کار گروہ اپنے انجام کو پہنچا! پاکستان اب سکھ کا سانس لے گا اور آگے بڑھے گا۔‘

  11. اسد عمر تحریک انصاف کے تمام عہدوں سے مستعفی

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    اڈیالہ جیل سے اپنی رہائی کے بعد اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ نو مئی کے پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور اب نو مئی کے بعد جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اب میں اس قابل نہیں رہا کہ میں قیادت کر سکوں، میں سیکریٹری جنرل اور کور کمیٹی سے مستعفی ہوتا ہوں۔‘ ان کے مطابق میں نے 17 مہینے تک میں نے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری میں نے نبھائی ہے۔

    تاہم دیگر رہنماؤں کے برعکس اسد عمر نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کو اپنا لیڈر مانتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ پچھلے 13 ماہ جو کچھ ہوا اس کے اکیلے عمران خان ذمہ دار نہیں ہیں۔ عمران خان کے فیصلوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عوام نے کرنے ہے کہ عمران خان نے صحیح فیصلے کیے یا نہیں۔

    اسد عمر کے مطابق نو مئی کو سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہوئی کہ ایسی تنصیبات پر حملہ کیا گیا جن کا تعلق فوج سے ہے۔ انھوں نے عمران خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں منظم اور اصولوں پر کاربند فوج نہ ہوتی تو ہمارا حال بھی دیگر اسلامی ممالک کی طرح ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم نہ بھی رہیں تو فوج رہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ نو مئی کے واقعات نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔ ان کے مطابق ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم ان کے مطابق بے گناہ لوگوں کو جلد سے جلد چھوڑنا بھی ضروری ہے۔ اسد عمر کے مطابق اس دن کے مناظر اس وجہ سے بھی میرے دل کو زیادہ لگے کیونکہ میرا تین نسلوں سے فوج سے تعلق ہے۔

    ان کے مطابق مجھے فخر ہے کہ سنہ 1965 سے لے کر دہشتگردی کے خلاف جنگ تک میرے رشتہ داروں نے اپنی زندگی داؤ پر نہ لگائی ہو۔ اسد عمر کے مطابق صرف نو مئی کی بات ہی نہیں ہے۔ اس وقت ہم ملک میں کدھر لے کر آ گئے ہیں۔ 15 دن کی قید تنہائی میں یہ سوچا جیل میں بیٹھ کر کہ عدلیہ میں تقسیم ہے، عدلیہ فیصلے کرتی ہے مگر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ بہت خطرناک صورتحال ہے کہ عدلیہ کی تقسیم کی وجہ سے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔

    اسد عمر کے مطابق اس کے بعد فوج سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ ان کے مطابق اس کے بعد تحریک انصاف اور پھر پی ڈی ایم سٹیک ہولڈر ہے۔ اسد عمر کے مطابق اس وقت اگر الیکشن ہو جائے تو سندھ اور بلوچستان میں پی ڈی ایم جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف جیتے گی۔ ان کے مطابق سب سے بڑے سٹیک ہولڈر پاکستان کے عوام ہیں، جنھیں گذشتہ 13 ماہ سے بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں اب ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان حالات سے ملک کو نکالیں۔ ان کے مطابق سنہ 1971 کے بعد اب دوبارہ ایسے خطرناک حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ انھوں نے صدر مملکت کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے۔‘

  12. مردان: فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث چھ ملزمان کے مقدمات فوجی عدالت میں چلانے کی منظوری

  13. کریک ڈاؤن: کیا پاکستان میں سیاسی احتجاج کے لیے فضا تنگ ہوتی جا رہی ہے؟

  14. خوش ہوں کہ شیریں مزاری نے ظلم سے جان چھڑا لی، کارکنان گرفتاری نہ دیں، چھپ جائیں: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شیریں مزاری کو خرابی صحت کے باوجود کبھی ایک جیل اور کبھی دوسرے جیل میں منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق وہ خوش ہیں کہ شیریں مزاری شیریں مزاری نے ظلم سے جان چھڑا لی۔

    عمران خان نے اپنے کارکنان سے کہا ہے کہ وہ گرفتاری نہ دیں اور چھپ جائیں۔ سابق وزیراعظم نے انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں سے بار بار سوال کیا کہ وہ کہاں غائب ہو گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خـان جیل بھرو تحریک بھی شروع کر چکے ہیں۔

  15. تحریک انصاف چھوڑنے والوں پر جیل کا دروازہ کُھل جا سم سم کی طرح کُھل جاتا ہے: عمران خان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI FACEBOOK

    تحریک انصاف نے پارٹی چیئرمین عمران خان کا قوم سے ریکارڈڈ خطاب سوشل میڈیا پر ریلیز کر دیا ہے۔ اپنے 42 منٹ اور 59 سیکنڈ کے خطاب میں عمران خان نے آغاز ہی یہاں سے کیا کہ میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، ایسے میں ہمارے پاس ایک ہی رستہ سوشل میڈیا کا (رستہ) رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق میرے گھر کی انٹرنیٹ کی سہولت معطل کر دی ہے۔

    عمران خان کے مطابق آج کل کے یزید جس طرح کا ظلم تحریک انصاف کے لوگوں پر کر رہے ہیں۔ عمران خان کے مطابق ضیاالحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان چند کارکنان پر اتنے ظلم کیے گئے تھے۔ مگر آج ہمارے دس ہزار سے زائد کارکنان اس وقت جیل میں ہیں۔

    عمران خان کے مطابق سیاسی کارکنان کو چھوٹے چھوٹے خانوں میں رکھا گیا ہے۔ پانی اور کھانا تک نہیں ملتا۔ وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم کے مطابق انھیں ایسے رکھا گیا ہے جیسے غیر ملک دشمن بلکہ ان سے بھی بدتر کیونکہ جنگی قیدیوں کے بھی کوئی حقوق ہوتے ہیں۔

  16. عمران خان کے قوم سے خطاب میں تاخیر، زمان پارک کے علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل

    ِعمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ PTI

    پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا تھا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان بدھ کی شام سات بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ تاہم ابھی تک اس خطاب میں تاخیر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے ابھی اس تاخیر کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق بدھ کی شام چھ بجے کے بعد سے ہی عمران خان کی لاہور رہائش گاہ زمان پارک کے علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز مععطل کر دی گئی ہیں۔

  17. فواد چوہدری کا پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے اور عمران خان سے راہیں جدا کرنے کا اعلان

    فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہنما نے اعلان کیا ہے کہ اس سے قبل انھوں نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کی مذمت کی تھی۔ فواد چوہدری نے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے اور عمران خان سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لیے سیاست سے وقفہ لے رہے ہیں۔

    فواد چوہدری کو گرفتاری کے بعد رہائی ملی تو انھیں پھر گرفتار کیا گیا۔ جب عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں پر آواز اٹھائی تو فواد چوہدری کی اہلیہ نے ان سے شکوہ کیا کہ انھوں نے فواد چوہدری کا نام ہی نہیں لیا ہے۔

    فواد چوہدری کو جب دوسری بار رہائی ملی تو انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نو مئی کے پرتشدد واقعات کی مذمت کی۔

  18. آئی ایم ایف ڈیل میں تاخیر ضرور ہے مگر ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار

    ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل میں ڈھانچہ جاتی مراحل کی وجہ سے تاخیر ضرور ہوئی ہے مگر ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کے 9 ویں ریویو سے متعلق ٹیکنیکل ٹیم نے کام مکمل کر لیا ہے۔

    ان کے مطابق کہا جا رہا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے گا مگر ’ہم نے مینیج کیا ہے اور سب کو حیران کر دیا ہے۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق آئی ایم ایف کے حوالے 9 ویں ریویو کا کام مکمل کر دیا ہے، ہم تمام قبل از وقت اقدامات لے چکے ہیں۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف ڈیل میں ’سٹرکچرل‘ قسم کی تاخیر ہے۔

    ان کے مطابق ہم نے ساڑھے پانچ بلین ڈالر کمرشل قرضے ہفتوں میں واپس کیے ہیں۔ ان کے مطابق چین نے یہ دیکھتے ہوئے دو بلین ڈالر رول اوور کر کے واپس کر دیے۔ ان کے مطابق یہ بزنس ہے۔

  19. پی ٹی آئی پرپابندی لگائی گئی تو امید ہے سپریم کورٹ ایک ہی دن میں کالعدم قرار دے گی: سینیٹر علی ظفر

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی گئی تو عدالت ایک ہی دن میں کالعدم قرار دے دے گی۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ’توڑ پھوڑ انفرادی عمل ہے، اس بنیاد پر کسی جماعت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔‘

    ان کے مطابق ماضی میں جماعت اسلامی پرپابندی لگانے کی کوشش کی گئی تھی، مگر سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ آپ کسی سیاسی جماعت پرپابندی نہیں لگا سکتے۔‘ سینیٹر علی ظفرکا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی پرپابندی لگائی گئی تو امید ہے سپریم کورٹ ایک ہی دن میں کالعدم قرار دے گی۔

  20. سپریم کورٹ کے جج سمیت آڈیو لیکس کمیشن کو 12 افراد کی فہرست تھما دی گئی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    judges

    ،تصویر کا ذریعہJudiciary

    اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے انکوائری کمیشن میں ناموں کی ایک فہرست جمع کرائی گئی ہے۔ اس فہرست میں پہلا نام سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کا شامل ہے۔

    دیگر افراد میں وکیل خواجہ طارق رحیم اور صدر سپریم کورٹ عابد زبیری کا نام بھی شامل ہے۔

    فہرست میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، صحافی عبدالقیوم صدیقی کا نام بھی ہے۔ فہرست میں سابق وزیر اعظم عمران خان، سمیت جمشید چیمہ کا نام بھی ہے۔

    اس فہرست میں چیف جسٹس کی خوشدامن ماہ جیبیں نون، اہلیہ خواجہ طارق رحیم رافیہ طارق بھی ہیں۔

    سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم ثاقب اور ابوذر مقصود چدھڑ کا ریکارڈ بھی کمیشن کے سامنے جمع کرا دیا گیا ہے۔ اس فہرست میں سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کا نام بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ اٹارنی جنرل آفس نے آٹھ مبینہ آڈیوز سے متعلق 12 ناموں کی فہرست تیار کی۔