ملیکہ بخاری کے بعد مسرت جمشید چیمہ اور ان کے شوہر بھی تحریکِ انصاف چھوڑ گئے

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مسرت چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی ملیکہ بخاری نے اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپے روپے اضافے کے بعد 309 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل چند روز سے جاری اضافے کا رجحان بدھ کے روز بھی برقرار رہا جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 309 روپے روپے پر پہنچ گئی

    گذشتہ روز ڈالر کی قیمت 308 روپے پر بند ہوئی تھی۔ کرنسی ڈیلروں کے مطابق اس وقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی بہت کم ہے کیونکہ ملک کی سیاسی اور معاشی حالت کی وجہ سے ڈالر فروخت کرنے والوں نے ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالردینا بند کر دیا ہے جب گرمیوں میں باہر جانے والوں کی جانب سے ڈیمانڈ زیادہ ہے انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 287.13 روپے پر بند ہوئی۔

    اس وقت انٹر بنک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریٹ میں 22 روپے کا فرق ہے۔

  2. تحریک انصاف چھوڑنے والے سابق ایم این اے عثمان ترکئی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے سابق رہنما عثمان ترکئی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان ترکئی میں اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا۔

    21 مئی کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان خان ترکئی نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تحریک انصاف کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔‘

    عثمان خان ترکئی نے کہا کہ ’میں آئندہ الیکشن تحریک انصاف کے ٹکٹ سے نہیں لڑوں گا اس لیے تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرا تعلق کرنل شیر خان شہید کے گاؤں سے ہے۔‘

  3. 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن کے ماسٹر مائنڈ فیض حمید ہیں: فیصل واوڈا

    فیصل واوڈا

    ،تصویر کا ذریعہWWW.PID.GOV.PK

    تحریک انصاف کے سابق رہنما سینیٹر فیصل واوڈا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ القادر ٹرسٹ میں ہونے والی بدعنوانی میں زلفی بخاری، شہزاد اکبر اور بابراعوان کا نام لیا جاتا ہے مگر جس نے اس کرپشن کے کھیل کے اندر سب سے زیادہ فائدہ لیا اس کا نام ہے فیض حمید۔

    ان کے مطابق قتل کی کوئی ویڈیو نہیں ہوتی اور کرپشن کا کوئی پے آرڈر نہیں ہوتا، ایسے کیسز میں کڑی سے کڑی ملانی پڑتی ہے۔

    ان کے مطابق فیض حمید کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، فیض حمید نے اربوں روپے کا فائدہ لیا ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ آج وہ ’فیض حمید کے باقی گھناؤنے جرائم سے ہٹ کر صرف کرپشن پر بات کر رہے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’پاکستان اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں پاکستان کی بقا کی بات کریں۔‘

    فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ ’فیض حمید کی باقیات سینیٹ اور دائیں بائیں اب بھی موجود ہیں۔‘ ان کے مطابق انھوں نے نیب کو فیض حمید سے متعلق لکھ کر دیا ہے کہ ان کے کیسے آمدن سے اثاثے اتنے زائد ہو گئے ہیں اور انھوں نے کیسے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔

  4. پی ٹی آئی کے 72 ایم این ایز کے استعفوں کا معاملہ: استعفے منظور کرنے کے نوٹیفکیشن آئین اور اسمبلی رولز کے خلاف ہیں، لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے 72 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ استعفے منظور کرنے کے نوٹیفکیشن آئین اور اسمبلی رولز کے خلاف ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے 72 مستعفی ایم این ایز کے استعفوں کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایک ہی نوعیت کی تین درخواستوں پر 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کے استعفے منظور کرنے کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے جاتے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی مستعفی اراکین کے استعفوں کی تصدیق کے لیے اراکین کو طلب کریں اور دو مواقع فراہم کریں۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ استعفوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے سے پہلے مستعفی اراکین اپنے استعفے واپس لے سکتے ہیں۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مستعفی اراکین سیکرٹری قومی اسمبلی کو تحریری طور پر بتا کر اپنے استعفے واپس لے سکتے ہیں اور سیکرٹری اسمبلی اراکین کے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اقدامات کرے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس پراسس کے بعد دیے گئے استعفے غیر موثر تصور ہوں گے۔

  5. ’ہم چاہتے ہیں جو بھی بہتری ہو اس ملک کے لیے ہو‘ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

    پشاور ہائیکورٹ میں نگران صوبائی حکومت کو کام سے روکنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس مسرت ہلالی اورجسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کیے ہیں اور فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کیا ہے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں جو بھی بہتری ہو، اس ملک کے لیے ہو۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، ہماری بھی عزت اس ملک سے ہے اور سب سے پہلے ملک آتا ہے۔

    عدالت نے اس کیس کو اسی نوعیت کے دیگر کیسز کے ساتھ یکجا کرنےکے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 30 مئی تک ملتوی کردی ہے۔

  6. پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرنے کا سلسلہ جاری: وجہ دباؤ ہے یا نو مئی کے واقعات پر ناراضی؟

  7. بریکنگ, پنجاب میں انتخابات: الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں پنجاب میں انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  8. بریکنگ, زمینی حالات کا ذکر کیے بغیر کہا جا رہا ہے 218/3 کے تحت مزید اختیارات دیے جائیں: چیف جسٹس کے ریمارکس

    Supreme Court of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت جاری ہے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوانس کیوں نہیں دی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کو 218/3 کا بتایا نہ ہی 1970 کے انتخابات کا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو نہ سکیورٹی کا بتایا نہ فنڈز کا۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ زمینی حالات کا ذکر کیے بغیر کہا جا رہا ہے 218/3 کے تحت مزید اختیارات دیے جائیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین اختیار دیتا ہے تو استعمال کرنے سے پہلے آنکھیں اور ذہن بھی کھلا رکھیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ تلور کے شکار والے کیس میں بھی عدالت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ انھوں نے کہا کہ 16 ہزار ملازمین کے کیس میں نظر ثانی خارج ہوئی لیکن عدالت نے 184/3 اور 187 کا اختیار استعمال کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ خود تبدیل کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے ججز کیس میں سوموٹو نظر ثانی کی تھی۔

  9. بریکنگ, سات رکنی بینچ عدالت کے حکم پر بنا ہی نہیں تو 4/3 کا فیصلہ کیسے ہو گیا: چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت جاری ہے۔

    دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ پہلی بار عدالت آیا تھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایسے قانون کے حوالے بھی دیے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا تھا سکیورٹی اور فنڈز دے دیں انتخابات کروا دیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب ان تمام نکات کی کیا قانونی حیثیت ہے۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ نو رکنی بینچ نے اپنے حکم میں اہم سوالات اٹھائے تھے اور سیاسی جماعتوں کے مفادات کہیں اور جڑے ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانونی نکات پر دلائل کی بجائے بینچ پر اعتراض کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی حکم پ نو رکنی سے پانچ رکنی بینچ بنا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سات رکنی بینچ عدالت کے حکم پر بنا ہی نہیں تو 4/3 کا فیصلہ کیسے ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت دو منٹ میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ نظر ثانی خارج کی جاتی ہے لیکن عدالت قانونی نکات پر سن کر فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آسانی سے کہہ سکتے ہیں آپ نے سواری مس کر دی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے صدر کو خط لکھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو وہ صورتحال نہیں بتائی جو عدالت کو اب بتا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا صدر کو صرف تاریخ دینے کا لکھا گیا تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

  10. بریکنگ, 9 مئی کے واقعات: تحریک انصاف پر پابندی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے، خواجہ آصف

    social media

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دفاعی تنصیبات پر حملوں کے عزائم انڈیا کے تو ہو سکتے ہیں لیکن کسی پاکستانی کے نہیں ہو سکتے۔ اور اس حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا مگر ہم پی ٹی آئی پر پابندی کا جائزہ ضرور لے رہے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات اچانک نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور کور کمانڈر، جی ایچ کیو، گجرانوالہ کنٹونمنٹ اور میانوالی ائیر بیس و دیگر مقامات پر حملوں اور شہدا کی تحقیر کے منصوبے کے پیچھے گھناؤنے مقاصد تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان کے علاوہ کسی سول عمارت پر حملہ نہیں کیا گیا، اور ان تمام حملوں اور انھیں جس طرح حملوں کے متعلق بریف کیا گیا اس حوالے سے ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔

    ببث

    ’پی ٹی آئی پر پابندی جیسا اقدام اٹھایا گیا تو یہی عدالت ایک دن میں اسے کالعدم قرار دے دے گی‘

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ اگر تحریکِ انصاف پر پابندی جیسا اقدام اٹھایا جاتا ہے تو یہی عدالت ایک دن میں اس اقدام کو کالعدم قرار دے دے گی۔

    وہ سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی جماعتِ اسلامی پر پابندی کی بات کی گئی تھی۔ اور وہ مولانا موددوری کی جانب سے فائل کیا گیا مشہور مقدمہ تھا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آپ سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں لگا سکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ہنگاموں اور احتجاج میں توڑ پھوڑ کا تعلق ہے، وہ انفرادی ایکٹ ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کا اقدام اٹھایا جاتا ہے تو یہی عدالت ایک دن میں اس اقدام کو کالعدم قرار دے دے گی۔

  11. اپنے ساتھیوں سے کہیں ہمارے دروازے پر کھڑے ہوکر اتنی سخت باتیں نہ کریں: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ’ہم بہت سی قربانیاں دے کر یہاں بیٹھے ہیں اور ہم یہاں حکومت کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ‘

    انھوں نے کسی بھی واقعہ کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ ’ماضی کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔‘

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سماعت کے دوران کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اٹھائے گئے نکات پہلے کیوں نہیں اٹھائے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ دوسرا نقطہ تھا وفاقی حکومت پہلے چار تین کے چکر میں پڑی رہی۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایک صوبے میں انتخابات ہوں تو قومی اسمبلی کا الیکشن متاثر ہونے کا نقطہ اٹھایا گیا تھااور اپنے جواب میں4/3 کے فیصلہ ہونے کا ذکر بھی کیا تھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے اور عدالت آپ کی سماعت کے لیے بیٹھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی معقول نقطہ اٹھایا گیا تو جائزہ لے کر فیصلہ بھی کریں گے۔‘

    چیف جسٹس نے جمعت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے ساتھیوں سے کہیں ہمارے دروازے پر کھڑے ہو کر اتنی سخت باتیں نہ کریں اور اپنے لوگوں کویہ بھی کہیں کہ ایوان میں کھڑے ہوکر سخت باتیں نہ کریں۔ ‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہماری ہر چیز درست رپورٹ نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ کہا گیا عمران خان کو عدالت نے مرسیڈیز دی تھی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’میں تو مرسیڈیز استعمال ہی نہیں کرتا جبکہ پولیس نے عمران خان کی مرسیڈیز کا بندوبست کیا تھا اور اس بات کو پتہ نہیں کیا سے کیا بنا دیا گیا۔ ‘

    الیکشن کمیشن کی طرف سے نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہمیشہ آئین کی تشریح زندہ دستاویز کے طور پر کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انصاف کا حتمی ادارہ سپریم کورٹ ہے اس لیے دائرہ کار محدود نہیں کیا جاسکتے۔

    انھوں نے کہا کہ مکمل انصاف اور آرٹیکل 190 کا اختیار کسی اور عدالت کو نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا 150 سال کی عدالتیں نظیریں غیر موثر ہوگئی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’150 سالہ عدالتی نظیروں کے مطابق نظر ثانی اور اپیل کے دائرہ کار میں فرق ہے اور اس سوال کا جواب آپ نے کل سے نہیں دیا‘۔

    دورانِ سماعت تین رکنی بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دائرہ کار پر آپ کی دلیل درست مان لیں تو سپریم کورٹ رولز کالعدم ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز میں نظر ثانی پر ابھی تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ دائرہ کار بڑھایا تو کئی سال پرانے مقدمات بھی آ جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کا نظر ثانی سے متعلق آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہونے سے نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا دس سال بعد کوئی نظر ثانی دائر کر کے کہہ سکتا ہے رولز مکمل لاگو نہیں ہوتے۔

    جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو شاید اپنی دلیل مانے جانے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہےگ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ نظر ثانی دائر کرنے کے لیے مدت ختم نہیں ہونی چاہیے۔

    جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ 70 سال میں یہ نقطہ آپ نے دریافت کیا ہے تو نتائج بھی بتائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ کار سپریم کورٹ رولز میں موجود ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ رولز نظر ثانی کے آئنی اقدام پر قدغن نہیں لگا سکتے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 184/3 از خود نوٹس سے متعلق ہے، اس استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ احساس ہوا ہے کہ اس سے غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی نظر میں نظر ثانی کا دائرہ محدود ہونا درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں نظر ثانی میں دائرہ وسیع کیا جائےگ

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ اس نقطہ پر اٹارنی جنرل سے رائے لیں گے۔

  12. عمران ریاض کی بازیابی کا معاملہ: وزیر اعظم، نگران وزیر اعلیٰ، سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو فریق بنانے کی درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوبر عمران ریاض کی بازیابی کے حوالے سے وزیر اعظم، نگران وزیر اعلیٰ، سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو فریق بنانے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

    ‏یہ درخواست عمران ریاض کے والد نے اپنے اظہر صدیق کے توسط سے دائر کی ہے۔

  13. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ: اسد عمر کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار، رہا کرنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسد عمر کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے اسد عمر کو بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’اگر بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو سمجھیں سیاسی کیریئر پھر بھول جائیں۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے انھیں ٹویٹس بھی ڈیلیٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جن دو کیسوں میں ضمانت مانگ رہے ہیں وہ فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دورانِ سماعت کیا ہوا؟

    سماعت کے دوران اسد عمر کے وکیل بابر اعوان عدالت میں ہیش ہوئے۔

    سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسد عمر کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ تو آپ کو نہیں چھوڑیں گے، جب تک آپ پریس کانفرنس نہیں کریں گے‘۔

    جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس تو ہم نہیں کریں گے۔

    ینچ کے سربراہ نے کہا کہ اسد عمر کے دو ٹویٹس ہیں وہ فوراً ڈیلیٹ کروائیں۔

    جس پر اسد عمر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ خبر ہے لیکن ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت اسد عمر کو اس عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے۔

    جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسد عمر کے خلاف کیسز میرے سامنے ہیں اور اگر میں کوئی آرڈر کر دوں تو کل کیا ہو گا، مجھے نہیں معلوم۔

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہم نے کیسوں کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست دی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہمیں دو دن دے دیں تاکہ اگر رہائی ہو تو ہم متعلقہ عدالت میں سرینڈر کر دیں۔

    بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ جو کریمنل کیس درج ہیں ہم ان میں حفاظتی ضمانت چاہتے ہیں۔ جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے شاہ محمود قریشی کو بھی بیان حلفی جمع کرانے کا کہا تھا اور اس میں یہی تھا کہ 144 سیکشن کی خلاف ورزی نہ ہو۔

    اسد عمر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس سے قبل لوگ عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے۔ احتجاج ہمارا حق ہے۔

  14. سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی انتخابات کے معاملے پر نظرِثانی درخواست کی سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت آج دوبارہ ہو گی۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بارہ بجے اس درخواست پر سماعت کرے گا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی اس بنچ کا حصہ ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی آج بھی دلائل جاری رکھیں گے۔ یاد رہے وفاقی حکومت، نگران پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی اس مقدمے میں جوابات جمع کرا چکے ہیں۔

    واضح رہے سپریم کورٹ نے چار اپریل کو فیصلہ سناتے ہوئے چودہ مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم چودہ مئی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

    سپریم کورٹ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک انتخابات کے لیے درکار 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم وفاق اور الیکشن کمیشن اس عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کر سکے اور تین مئی کو الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائرکی تھی۔

  15. تحریکِ انصاف کی خواتین کارکن اور نو مئی: ’شیلنگ سے زیادہ تکلیف ان گالیوں کی ہے، جو مجھے دی گئیں‘

  16. ’ہم نے تو دو دو سال جیلیں کاٹیں لیکن پارٹی نہیں چھوڑی‘ احسن اقبال

    ahsaniqbal.pk

    ،تصویر کا ذریعہahsaniqbal.pk

    وفاقی وزیرِ اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’ہم نے تو دو دو سال جیلیں کاٹیں لیکن پارٹی نہیں چھوڑی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کو عمران خان نے جو ریڈ لائن کراس کی وہ کوئی جمہوری ملک برداشت نہیں کرتا۔

    وہ نجی ٹی وی پر تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی کئی مہینے جیلیں کاٹی ہیں اور انھیں جیل گئے ابھی چار پانچ روز بھی نہیں ہوئے۔ ہمارے لوگوں نے تو دو دو سال سے چھ چھ مہینے تک جیلیں بھگتی ہیں اور ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک غیرفطری پارٹی تھی اور یہ صرف عمران خان صاحب کے گرد ہی گھومتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو عمران خان نے جو ریڈ لائن کراسے کوئی مذہب جمہوری ملک برداشت نہیں کرتا۔ امریکہ میں ایسا کام جب ٹرمپ کے حمایتوں نے کیا تو ہزاروں کی تعداد میں انھیں گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا اور اسی طرح برطانیہ میں بلوؤں کے بعد 24 گھنٹے عدالتیں چلا کر ملوث افراد کو قرار واقعی سزائیں دی گئیں۔

  17. پاکستان میں کسی ایک سیاسی امیدوار یا کسی دوسرے پر ہماری کوئی پوزیشن نہیں: امریکی محکمۂ خارجہ

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر

    ،تصویر کا ذریعہUS STATE DEPT

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری اصولوں اور اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے مگر اس کی کسی ایک سیاسی امیدوار یا کسی دوسرے پر کوئی پوزیشن نہیں ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ سے پوچھا گیا کہ ’پاکستان میں سیاسی افراتفری ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن دیکھا ہے۔ پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت نے ان گرفتار شہریوں کے خلاف فوجی قوانین کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ انسانی حقوق کی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس فیصلے پر تنقید کی۔ آپ کے کیا خیالات ہیں؟‘

    اس پر ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ’ہم پاکستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کسی ایک سیاسی امیدوار یا کسی دوسرے پر ہماری کوئی پوزیشن نہیں۔ ہم جمہوری اصولوں کے احترام اور مساوی اطلاق کا مطالبہ کرتے ہیں، اظہار رائے کی آزادی – اور دنیا بھر میں قانون کی حکمرانی، اور یقیناً پاکستان میں ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان اصولوں کا تمام لوگوں کے لیے احترام کیا جائے۔‘

    انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ جمہوری اصولوں کے احترام، اظہار رائے کی آزادی اور دنیا بھر میں قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں – پاکستان میں، دنیا کے ہر دوسرے ملک میں۔‘

  18. سابق بی این اے کمانڈر گلزار امام شمبے کی رحم کی اپیل: ’امید ہے ریاست اصلاح کا موقع دے گی‘, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    گلزار امام شمبے

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی تحویل میں کالعدم بلوچ نیشنل آرمی (بی این اے) کے سابق کمانڈر گلزار امام شمبے نے میڈیا کے سامنے پیش ہو کر کہا ہے کہ ’ہمارا مسلح جدوجہد کا راستہ غلط ہے، امید ہے ریاست ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے اصلاح کا موقع دے گی۔‘

    اپنی نوعیت کی اس منفرد پریس کانفرنس، جو سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ہوئی، کے دوران گلزار امام بلوچستان کے وزیرداخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر آغا عمر احمدزئی کے ساتھ موجود تھے۔

    اگرچہ نجی میڈیا کے رپورٹرز کو پریس کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا لیکن کیمرا پرسنز کو اجازت نہیں تھی جبکہ آڈیٹوریم میں داخلے سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے ان کے موبائل فون اور بیگز بھی لیے گئے۔

    آڈیٹوریم میں صرف پی ٹی وی کے کیمرا مین کو ویڈیو بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ پریس کانفرنس میں اگرچہ میڈیا کے نمائندوں کو سوال کرنے کی اجازت دی گئی لیکن شروع میں جو سوالات پوچھے گئے ان سے گلزار امام کو کسی پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔

    بعض صحافی گلزار امام سے یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ ان کی گرفتاری کہاں سے عمل میں آئی لیکن ان کو اس کا موقع نہیں ملا بلکہ چند سوالات کے بعد پریس کانفرنس کو ختم کیا گیا۔

    ’آئیں بات چیت کریں اور پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں‘

    پریس کانفرنس کے موقع پر گلزارامام کے چہرے پریشانی بہت زیادہ عیاں نہیں تھی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلزار امام نے کہا کہ وہ گذشتہ 15 سال سے مسلح شورش کا حصہ رہے اور ہر طرح کے حالات سے گزرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے دوران انھیں ہر زوایے سے اپنے ماضی کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ’میں بلوچ اکابرین سے ملا ہوں جن سے گفت و شنید کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ آئینی اور سیاسی طریقے سے بلوچستان کے حقوق کا حصول ممکن ہے۔‘

    ان کے مطابق انھوں نے جس راستے کا انتخاب کیا، وہ غلط تھا کیونکہ مسلح کاروائیوں سے بلوچستان کا مسئلہ مزید گھمبیر ہوتا گیا۔ ’دنیا کی کچھ طاقتیں بلوچوں کو پریشر گروپ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس سے نقصان بلوچ قوم کا ہوگا۔‘

    انھوں نے مسلح تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ مسلح کارروائیوں کو ترک کر کے واپسی کا راستہ اپنائیں اور پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں کیونکہ مسلح کاروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں مسلح کارروائی کرنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں بات چیت کریں اور پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔ میں بلوچ طالب علموں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیارکریں۔‘

    گلزار امام نے کہا کہ ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے اور وہ بات بھی سنتے ہیں۔ ’امید ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے انھیں اصلاح کا موقع فراہم کرے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس جنگ میں جو لوگ مارے گئے وہ ان کے لواحقین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انھیں معاف کریں۔

    گلزار امام کی گرفتاری پر ڈی جی آئی ایس آئی ’خصوصی ستائش کے مستحق‘

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس موقع پر کہا کہ ’ہمارے ریاستی اداروں نے ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا دیا جس کے باعث پاکستان ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ریاست بات چیت پر یقین رکھتی ہے لیکن جو عناصر ملک کی بنیادوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کے سوا کوئی اور آپشن نہیں۔

    خیال رہے کہ آج اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کالعدم تنظیم بی این اے کے ’ہائی پرو فائل عسکریت پسند لیڈروں میں سے ایک‘ گلزار امام شمبے کی گرفتاری پر کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی (لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم) اپنی نوعیت کی پہلی اور مختلف جغرافیائی مقامات پر مشتمل، انتہائی پیچیدہ انٹیلی جنس آپریشنز کو بڑی نفاست کے ساتھ انجام دینے پر قوم کی طرف سے خصوصی ستائش کے مستحق ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. ’ملک ریاض نے مجھے یا بشری بی بی کو کوئی رقم یا تحفہ نہیں دیا‘ عمران خان کا نیب کو جواب, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کی تفتیشی ٹیم کو بتایا ہے کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین یا ان کے خاندان کی جانب سے انھیں یا ان کی اہلیہ بشری بی بی کو کوئی زمین، رقم یا تحفہ نہیں دیا گیا ہے۔

    اپنے تحریری جواب میں عمران خان کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر رازدارانہ معاہدے کو منظور کیا تھا اور کسی رکن نے بھی اس پر ایسا اعتراض نہیں اٹھایا جس کا جواب نہ دیا گیا ہو، نہ ہی اس کا مقصد پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچانا تھا۔

    انھوں نے نیب سے سوال کیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی ملک ریاض کی رقم کو نیب نے ’غیر قانونی‘ کہا ہے اور اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کو ’بینیفشری‘ قرار دیا گیا تاہم تحقیقات میں اب تک بحریہ ٹاؤن کے مالکان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا، نہ ہی سپریم کورٹ سے ریکوری مانگی گئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ نیب نے بدنیتی سے القادر ٹرسٹ انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کیا اور نیب کا مؤقف درست نہیں کہ انکوائری میں ’میٹریل شواہد ملے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیب کا انکوائری کو انویسٹگیشن میں بدلنے کا مقصد ’مجھے گرفتار کرنا تھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نیب کے نوٹس پر پیشی کی رضامندی دکھائی مگر نیب کو اس کیس کی تحقیقات کا اختیار نہیں ہے۔

    انھوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ القادر ٹرسٹ سے ’میں اور میری اہلیہ کوئی انکم یا منافع نہیں لیتے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ بطور پبلک آفس ہولڈر ان کے اور ملک ریاض کے خاندان کے درمیان کوئی ٹرانزیکشن ریکارڈ نہیں جبکہ ان کے علم میں نہیں کہ کابینہ کے کسی رکن اور ملک ریاض کے درمیان کسی رقم کا تبادلہ ہوا ہے۔

    ’این سی اے اور ملک ریاض کے درمیان معاہدے نہیں دیکھا‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2019 کی کابینہ میٹنگ کے فیصلے پر کسی پبلک آفس ہولڈر یا کابینہ کے رکن نے کوئی مالی فائدہ نہیں لیا۔ انھوں نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت بھی یہ معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا جبکہ یہ الزامات من گھڑت اور غلط ہیں۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب الزامات کی بنیاد وفاقی کابینہ کی جانب سے دسمبر 2019 میں رازدارانہ معاہدے کی منظوری ہے۔ ’190 ملین پاؤنڈ کی رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں موجود ہے اور سپریم کورٹ میں جمع رقم سے کسی قسم کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں ذاتی طور پر برطانوی کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ معاہدے کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی میں نے یہ معاہدہ دیکھا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ انھیں این سی اے اور ملک ریاض کے درمیان معاہدے سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کابینہ کو اس کیس پر بریفنگ دی تھی اور بتایا تھا کہ این سی اے اور ملک ریاض کے درمیان معاہدے کے تحت 190 ملین پاؤنڈز کی رقم پاکستان واپس آئے گی۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے ضروری دستاویزات فراہم نہ کرنے کا الزام بھی غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیب کے کال اپ نوٹس کے جواب میں ’میری دسترس میں موجود تمام دستاویزات جمع کروائی جا چکی ہیں۔‘

    ’عمران خان نیب کو مطمئن نہ کرسکے‘

    سابق وزیر اعظم سے القادر ٹرسٹ کیس میں تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کے دوران عمران خان اپنے جوابات سے نیب کو مطمئن نہ کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اپنے حق میں خاطرخواہ دستاویزات نہیں لائے۔

    نیب کے اہلکار کے مطابق عمران خان کو متعلقہ دستاویزات اور سوالات فراہم کر دیے گئے ہیں اور آئندہ طلبی پر عمران خان کو دستاویزات ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تفتیش ابھی انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے اور عمران خان کو اپنے حق میں دفاع کا بھرپور مواقع فراہم کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں ہی نیب کی جانب سے عمران خان کو نو مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا اور انھیں ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

  20. شاہ محمود قریشی کی دوبارہ گرفتاری پر عمران خان کا ردعمل: ’ملک میں جنگل کا قانون مسلط ہے، آخری سانس تک لڑوں گا‘

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں اور کارکنان کی طرح وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    ان کے مطابق اس وقت ملک پر جنگل کا قانون مسلط ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اندھیرنگری کے خلاف صرف عدلیہ رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو تتربتر کرنے کے لیے پولیس کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ میڈیا کی آواز دبا دی گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا کارکنان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    ان کے مطابق عمران ریاض کو عدالتی احکامات کے باوجود پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس دھکتی گرمی میں ہمارے کارکنان کو بہت چھوٹے سیل میں رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ کارکنان پر دوران حراست تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس ظلم کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام