کور کمانڈرز کانفرنس: عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا عزم

آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عمران خان کی چار مقدمات میں حفاظتی ضمانت پر سماعت کچھ دیر میں

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں دو ہفتوں کی عبوری ضمانت مل گئی ہے لیکن تاحال لاہور میں کور کمانڈر کے گھر پر حملہ کیس سمیت ایسے چار کیسز میں جن میں انھیں نامزد کیا گیا تھا میں ضمانت کے لیے جسٹس گل حسن اورنگزیب کا سنگل بینچ سماعت کچھ دیر بعد کرے گا۔

    اس کیس میں عمران خان کے وکیل بیرسٹسر سلمان صفدر ہوں گے۔ عمران خان اس وقت کمرہ عدالت میں ہی موجود ہیں۔

    اس دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’نیب کی تفتیش کے دوران تعاون کرتے رہیں گے، تاہم یہ صورتحال پر منحصر ہے۔‘

  2. بریکنگ, القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو دو ہفتے کے لیے عبوری ضمانت مل گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی دو ہفتے کے لیے عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے خصوصی ڈویژن بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھے۔

    خیال رہے کہ منگل کو عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیب کے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد دو روز تک حراست میں رکھے جانے کے بعد گذشتہ روز سپریم کورٹ نے عمران خان کو عدالت طلب کرتے ہوئے ان کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے دی اور انھیں عدالتی تحویل میں پولیس لائنز ریسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے انھیں جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

  3. بریکنگ, ایک ہی فرد تمام واقعات کا ذمہ دار ہے اور وہ ہے آرمی چیف: عمران خان

    عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت میں وقفے کے دوران بی بی سی کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی فرد تمام واقعات کا ذمہ دار ہے اور وہ ہے آرمی چیف۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اس کو خدشہ تھا کہ میں اقتدار میں آ کر اسے ڈی نوٹیفائی کر دوں گا، میں نے کسی کو ڈی نوٹیفائی نہیں کرنا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میری گرفتاری کے بعد جو کچھ ہوا اس کی ایک سال کی تاریخ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، میرے گھر پر حملہ کیا گیا، پارٹی کے صدر کے گھر کے دروازے کو بکتر بند گاڑی سے توڑا گیا۔ اب تک ایک سال میں 5000 لوگوں کو گرفتار کیا چکا ہے۔‘

    پاکستانی فوج پر تنقید سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’مجھ پر دو قاتلانہ حملے ہوئے اور میں نے صرف اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اسے بھی رد کر دیا گیا۔

    ’انھوں نے مجھے وزیرآباد اور پھر جوڈیشل کمپلیکس میں مارنے کی کوشش کی تھی۔ اگر میں جوڈیشل کمپلیکس چلا جاتا تو مجھے مار دیا جاتا۔‘

  4. عمران خان کے وکلا نے کور کمانڈر لاہور کے گھر پر حملہ کیس سمیت چار کیسز میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کر دی

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے وکلا نے کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس سمیت چار کیسز میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے۔

    خیال رہے کہ لاہور میں کور کمانڈر کے گھر پر مظاہرین کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد دھاوا بولا گیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ چار مقدمات القادر ٹرسٹ کیس میں حفاظتی ضمانت کے علاوہ ہیں۔

  5. اگر میری ضمانت منسوخ ہوتی ہے تو مزاحمت نہیں کروں گا: عمران خان

    سماعت میں وقفے کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہونا تھا، میں پہلے بھی کئی مرتبہ یہ بات کر چکا ہوں۔ لوگوں نے اس دوران اپنے غصے کا اظہار کیا۔‘

    بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین ڈیوس سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اگر مجھے تمام مقدمات میں ضمانت مل بھی جائے تو مجھ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ سے میری گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے ایسی ہی غیر قانونی گرفتاری دوبارہ کی جائے گی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا ایک سادہ سا پیغام ہے کہ اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد جو کچھ ہوا میں اس کو کیسے کنٹرول کر سکتا ہوں۔

    میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی سے قبل لاہور سے نکلتے وقت خبردار کیا تھا کہ اگر مجھے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا تو اس کا سخت ردعمل آ سکتا ہے۔

    میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ مجھے وارنٹ گرفتاری دکھاؤ اور گرفتار کرو لیکن اگر زمان پارک میں میری رہائشگاہ کی طرح حملہ کیا گیا تو اس کا سخت ردعمل آ سکتا ہے جو بے قابو ہو سکتا۔

    ان کا کہنا تھا جب انھوں نے مجھے گرفتار کیا تو مجھے کیا پتا باہر کیا ہو رہا ہے اور میں اس کا ذمہ دار کیسے ہوں۔ مجھے تو صورتحال کا اس وقت پتا چلا جب میں کل سپریم کورٹ میں پیش ہوا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر میری ضمانت منسوخ ہوتی ہے تو مزاحمت نہیں کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ دورانِ حراست نیب کے حکام کا رویہ میرے ساتھ اچھا رہا۔

    پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح سے مجھے گرفتار کیا گیا جب میں اپنے وکلا کے ساتھ عدالت کے احاطے میں موجود تھا۔

    ’جس طرح سے مجھے رینجرز نے گرفتار کیا اور جب ا سکی تصاویر باہر نکلی تو جو ہوا وہ ہونا تھا، جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو جب فوج اٹھا لے تو آپ کا کیا خیال ہے اس کا کیا ردعمل آنا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا ہو گا اس کو سمجھنے کے لیے کیا کسی جنیئس کی ضرورت ہے۔‘

  6. مجھے نہیں پتا تھا کہ لاہور میں کوئی قائداعظم ہاؤس بھی ہے، اگر ہے تو اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے: بابر اعوان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کے حوالے سے نئی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں، ایک دو لوگ نظام میں ایسے ہیں جنھیں عمران خان سے خطرہ ہے کہ اگر وہ اقتدار میں واپس آئے تو ان کی نوکریوں کو خطرہ ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس لیے پنجاب پولیس سے خاص ان لوگوں کو لایا گیا ہے جو تحریکِ انصاف سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک ہی راستہ ہے کہ الیکشن کروائے جائیں۔‘

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا تھا کہ لاہور میں کوئی قائداعظم ہاؤس بھی ہے، اگر ہے تو اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے۔

  7. بریکنگ, عمران خان کو دوبارہ گرفتاری کا خدشہ، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت میں وقفہ

    Imran

    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد اس میں جمعے کی نماز کا وقفہ لیا گیا ہے۔

    عمران خان نے عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’مجھے خدشہ ہے کہ باہر نکلا تو گرفتار کر لیا جاؤں گا۔‘

    سماعت کے دوران عدالت میں موجود ایک وکیل نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے تو عدالت ان پر برہم ہوئی اور اس وقت سماعت میں جمعے کا وقفہ ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ آج سماعت کا آغاز جلدی ہونا تھا تاہم کورٹ روم نمبر تین میں جگہ کم ہونے کے باعث کورٹ روم نمبر دو میں سماعت رکھی گئی۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو میں اب گرفتاری پر مذاحمت نہیں کروں گا۔ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔

    ’تاہم انھوں نے میرے خلاف 150 مقدمات بنا رکھے ہیں جن میں 40 دہشت گردی، 15 فوجداری مقدمات، توہین مذہب اور بغاوت سمیت کئی مقدمات شامل ہیں۔ مگر یہ کیسے ممکن ہے۔‘

  8. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت کے لیے نیا دو رکنی بینچ تشکیل دے دیا, عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا دیا گیا

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں حفاظتی ضمانت لینے کے لیے درخواست کی سماعت کے لیے نیا دو رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

    بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔ ڈویژنل بینچ کچھ دیر میں سماعت کا آغاز کرے گا۔

  9. اسلام آباد ہائی کورٹ کے قریب سے فوج اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کا سلسلہ جاری

    islamabad

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قریب سے فوج اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران کچھ جگہوں پر شیلنگ بھی کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں ریلی کے لیے کارکنان کو آج صبح کی کال دی گئی تھی۔

  10. عمران خان سے گذشتہ روز صدر عارف علوی اور وزیرِ اعلٰی گلگت بلتستان کی ملاقات ہوئی: اسلام آباد پولیس

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عدالتی حکم کے مطابق گذشتہ شب عمران خان سے 10 افراد نے ملاقات کی۔ صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ملاقات کی۔ عمران خان کے معالج ڈاکٹر فیصل نے بھی پولیس گیسٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ 7 رکنی قانونی ٹیم نے بھی عمران خان سے ملاقات کی تھی۔

  11. اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات تصاویر میں

    ihc

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر موجود رینجرز کی گاڑیاں

    اسلام آباد ہائی کورٹ جانے والی سڑکوں پر بھاری سکیورٹی تعینات ہے اور جیسے ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ اس وقت کشمیر ہائی وے سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھے گئے اور رینجرز اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    rangers

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فوجی

    ،تصویر کا ذریعہBBC/ObaidMalik

    ،تصویر کا کیپشناس وقت کشمیر ہائی وے پر فوجی ٹرکوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

    اس وقت کشمیر ہائی وے پر فوجی ٹرکوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ جی 10 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔

    container

    ،تصویر کا ذریعہBBC/Azam Khan

    ،تصویر کا کیپشنجی 10 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔
    farhat

    ،تصویر کا ذریعہBBC/FarhatJaved

    islamabad

    ،تصویر کا ذریعہBBC/SanaAsif

  12. پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی ویڈیو پیغام میں کارکنان کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حماد اظہر نے ایک ویڈیو پیغام میں پی ٹی آئی کے کارکنان کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ راستے میں اگر انھیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے ہر ممکن طور پر بچنے کی کوشش کریں۔

    خیال رہے کہ آج پی ٹی آئی کی جانب سے کارکنان کو اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنے اور وہاں پہنچ کر پر امن احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

  13. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی پر حکم امتناع جاری کر دیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے اور مقامی عدالت کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔

    خیال رہے کہ مقامی عدالت نے بدھ کو عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں فردِ جرم عائد کی تھی جس کے بعد 13 مئی کو گواہان کو طلب کیا گیا تھا۔ تاہم خواجہ حارث نے استدعا کی کہ جس جگہ عدالت قائم کی گئی ہے وہاں انھیں متعدد مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا انھیں اس معاملے پر حکمِ امتناع جاری کیا جائے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ ٹرائل کورٹ نے اعتراض ہر کیا کہا یے؟ تو انھوں نے کہا کہ جج صاحب نے کہہ دیا کہ ہم شواہد کے دوران دیکھیں گے اور درخواست 120 دن کے اندر فائل کرنی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی چیز غلط ہے تو 120 دن کے اندر درخواست دے سکتے ہیں؟ ٹرائل کورٹ نے یعنی کوئی فانڈنگز نہیں دیں۔ کوئی ڈسپیوٹڈ فیکٹ آپ کہ رہے ہیں کہ نہیں ہے؟

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’حقائق بہت واضح ہیں الیکشن کمیشن نے باظابطہ کمپلینٹ کی منظوری نہیں دی، اس معاملے کو شواہد کی ریکارڈنگ تک مؤخر کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

    عدالت کی جانب سے اس خواجہ حارث کی استدعا منظور کرتے ہوئے حکمِ امتناع جاری کر دی گئی ہے۔

  14. بریکنگ, انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں گیارہ روپے تک کی کمی، 288 روپے کی سطح تک آ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں تین دن مسلسل ہونے والے اضافے کے بعد جمعے کے روز امریکی کرنسی کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی جب ایک ڈالر کی قیمت 10.93 روپے کمی کے بعد 288 روپے کی سطح پر آ گئی۔

    گذشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 298.93 روپے پر بند ہوئی تھی۔ ڈالر کی قیمت میں میں گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جمعرات کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی رہائی کا مارکیٹ پر مثبت اثر پڑا۔

    ان کے مطابق عمران خان کی رہائی کے بعد سیاسی درجہ حرارت اور کشیدگی میں کمی آئی ہے جس کا مثبت اثر روپے کی قدر پر پڑا۔

    تاہم انھوں نے کہا غیر یقینی صورتحال میں قیاس آرائیوں پر مبنی ٹریڈنگ بھی ہوتی ہے جس میں گذشتہ روز کی پیش رفت کے بعد کمی آئی ہے۔

    دوسری جانب، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ایک ہفتے میں 10.04 ارب ڈالر کی سطح سے کم ہو کر 9.9 ارب ڈالر تک آ گئے۔

    مرکزی بینک کے مطابق ایک ہفتے کے دوران اس کے پاس زرمبادلہ میں سات کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد اس کے پاس زرمبادلہ ذخائر 4.3 ارب ڈالر رہ گئے۔

    کمرشل بینکوں کے پاس 5.6 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔

  15. اسلام آباد میں ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال!

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. پاکستان تحریکِ انصاف کے کون کون سے رہنما گرفتار ہیں اور انھیں کہاں سے حراست میں لیا گیا ہے؟

    document

    پاکستان تحریکِ انصاف نے گذشتہ رات بی بی سی کے ساتھ گرفتار رہنماؤں کی فہرست شئیر کی تھی جس کے مطابق پی ٹی آئی کے 24 رہنما زیرِ حراست تھے۔

    آج علی الصبح شیریں مزاری کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد یہ تعداد 25 ہو گئی ہے۔ اس وقت لاہور سے بھی کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، تاہم تاحال ان کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

  17. سپریم کورٹ میں کل کیا ہوا تھا اور یہ ’عدالتی نگرانی‘ کیا ہوتی ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انھیں عدالتی نگرانی میں پولیس لائنز گیسٹ ہاؤس منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی نگرانی سے کیا مراد ہے اور آج کی کارروائی میں سپریم کورٹ میں مزید کیا ہوا؟

    دیکھیے فرحت جاوید اور نعمان مسرور کی یہ رپورٹ۔

  18. سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو کیا ریلیف دیا اور اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟

    rangers

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز پاکستان کے سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے گرفتاری کے طریقے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    مگر سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کے بعد اِس وقت عمران خان کا سٹیٹس کیا ہے؟

    عمران خان کا ججز گیٹ سے سپریم کورٹ میں داخل ہونا، دورانِ سماعت دیے گئے ریمارکس اور عدالتی فیصلہ۔۔۔ یعنی کل سپریم کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں کتنا غیرمعمولی ہے؟

    اور سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کے بعد اب نیب کے آٹھ روزہ ریمانڈ کی حیثیت کیا ہے؟ کیا نیب کیسز میں گرفتاری سے پہلے ضمانت ممکن ہے؟

  19. بریکنگ, عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی آج، عدالت جانے والے راستوں کو سیل کر دیا گیا

    rangers

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے بعد آج عمران خان کو 11 بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ جانے والے راستوں کو سیل کیا جا رہا ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    اس وقت ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر موجود ہیں۔

    ان کے مطابق گذشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت کے حوالے سے درخواست پر سماعت ہونی ہے۔ تاحال اس کا ذکر چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت کے باہر لگی کاز لسٹ میں نہیں ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق آج عمران خان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کریں گے۔ ان کی عدالت کے باہر لگائی گئی کازلسٹ میں یہ کیس پہلے نمبر پر ہے۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں فردِ جرم عائد کی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کے وکلا نے ضلعی عدالت کے جج پر عدم اعتماد کرتے ہوئے یہ کیس کسی اور جج کے سامنے رکھنے کی استدعا کی ہے۔

    islamabad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ آنے والے راستوں کو سیل کیا جا رہا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ بتا رہے ہیں کہ ہائی کورٹ جانے والے راستوں، اور کشمیر ہائی وے کے اطراف پولیس، رینجرز اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    صرف ان وکلا کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے کیسز آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہوں گے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر صبح دس بجے جی 13 میں پرامن احتجاج کی کال دینے کے بعد کشمیر ہائی کو بھی مختلف جگہوں سے بند کیا جا رہا ہے۔

  20. ڈاکٹر شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایمان مزاری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے گرفتاری سے قبل انھیں وارنٹ دکھایا ہے اور بتایا ہے کہ ان کی والدہ کو آبپارہ تھانہ لے جایا جا رہا ہے۔