سماعت میں وقفے کے
دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری کے
بعد جو کچھ ہوا وہ ہونا تھا، میں پہلے بھی کئی مرتبہ یہ بات کر چکا ہوں۔ لوگوں نے
اس دوران اپنے غصے کا اظہار کیا۔‘
بی بی سی کی نامہ نگار
کیرولین ڈیوس سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران خصوصی بات کرتے ہوئے کہا
کہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اگر مجھے تمام
مقدمات میں ضمانت مل بھی جائے تو مجھ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے دوبارہ
گرفتار کر لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ سے میری گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے ایسی ہی غیر
قانونی گرفتاری دوبارہ کی جائے گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ
میرا ایک سادہ سا پیغام ہے کہ اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد جو کچھ ہوا
میں اس کو کیسے کنٹرول کر سکتا ہوں۔
میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ
میں پیشی سے قبل لاہور سے نکلتے وقت خبردار کیا تھا کہ اگر مجھے غیر قانونی طور پر
گرفتار کیا گیا تو اس کا سخت ردعمل آ سکتا ہے۔
میں نے پہلے ہی بتایا تھا
کہ مجھے وارنٹ گرفتاری دکھاؤ اور گرفتار کرو لیکن اگر زمان پارک میں میری رہائشگاہ
کی طرح حملہ کیا گیا تو اس کا سخت ردعمل آ سکتا ہے جو بے قابو ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا جب انھوں نے
مجھے گرفتار کیا تو مجھے کیا پتا باہر کیا ہو رہا ہے اور میں اس کا ذمہ دار کیسے
ہوں۔ مجھے تو صورتحال کا اس وقت پتا چلا جب میں کل سپریم کورٹ میں پیش ہوا۔ عمران خان کا مزید کہنا
تھا کہ ’اگر میری ضمانت منسوخ ہوتی ہے تو مزاحمت نہیں کروں گا۔‘
انھوں نے کہا کہ دورانِ
حراست نیب کے حکام کا رویہ میرے ساتھ اچھا رہا۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کی
جانب سے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح سے مجھے گرفتار
کیا گیا جب میں اپنے وکلا کے ساتھ عدالت کے احاطے میں موجود تھا۔
’جس طرح سے
مجھے رینجرز نے گرفتار کیا اور جب ا سکی تصاویر باہر نکلی تو جو ہوا وہ ہونا تھا،
جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو جب فوج اٹھا لے تو آپ کا کیا خیال
ہے اس کا کیا ردعمل آنا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کیا ہو گا اس کو سمجھنے کے
لیے کیا کسی جنیئس کی ضرورت ہے۔‘