کور کمانڈرز کانفرنس: عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا عزم
آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔
لائیو کوریج
’پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کی اجازت نہیں لیکن پی ڈی ایم کو سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کی سہولت مل رہی ہے‘
تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے پی ڈی ایم کے احتجاج کے حوالے سے اپنی ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ ’دفعہ 144 کی وجہ سے پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کی اجازت نہیں لیکن پی ڈی ایم کو سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کی سہولت مل رہی ہے جو آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات کے اہم کیس کی سماعت کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پوری دنیا پی ڈی ایم اور سہولت کاروں کے چہرے دیکھ رہی ہے جو کل سپریم کورٹ آف پاکستان پر حملہ کرنے والے ہیں۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس شہباز شریف کی ہدایت پر اس پلان کا حصہ ہے۔
’پیپلز پارٹی کل کانسٹی ٹیوشن ایوینو پر بھرپور احتجاج کرے گی‘
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نئیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے کل سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کی کال دی ہے۔ پیپلز پارٹی بھی کل کانسٹی ٹیوشن ایوینو پر بھرپوراحتجاج کرے گی۔
نیئر بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ملک میں جاری بحرانوں کی ذمہ داری عمران خان کی ہے۔ اس ملک میں آئین و قانون کی بالا دستی کے لیے ایسے منصف چاہیئں جو اپنی پسند و ناپسند کے فیصلے نہ کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو جب گرفتار کیا گیا وہ ملزم تھے جب تک الزام ہو وہ ملزم ہوتا ہے میرا سوال ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں کہ گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا اور انھیں اگلے دن ہائی کورٹ میں پیشی کے وقت تک مہمان بنا کے رکھا گیا۔‘
نیئر بخاری نےکہا کہ ’آرمی تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کارروائی ہونے چاہیے۔
’القادر ٹرسٹ عمران خان اور بشری بی بی کے نام پر ہے، بتایا جائے کہ پراپرٹی ٹائیکون سے وہ زمین کیوں لی گئی‘
مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ القادرٹرسٹ کے کاغذات پر کسی اور کے دستخط نہیں بلکہ عمران خان اور بشری بی بی کے دستخط موجود ہیں۔ یہ میاں بیوی کے نام پر ایک جعلی ٹرسٹ ہے۔
عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں مزید کہا کہ ’6 سے 7 ارب روپے کی زمین وہ گفٹ میں آتی ہے، بتایا جائے کہ پراپرٹی ٹائیکون سے وہ زمین کیوں لی گئی۔ جو 18 کروڑ القادر کے اکاونٹ میں آیا وہ کہاں سے ایا کیسے آیا کس نے بھجوایا ور وہ کون سے مستحقین ہیں جو وہاں پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘
عطا تارڑ کے مطابق ’ 170 ملین پاونڈ جو ستر ارب روپیہ بنتا ہے وہ قومی خزانے میں جمع کروانے کے لیے بطور جرمانہ پاکستان بھجوایا گیا تھا اس پر عمران خان نے اپنی دکان کھول لی۔ اس بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لیے ایک جھوٹا ٹرسٹ بنایا گیا۔‘
عطا تارڑ کے مطابق ’اس ایک سو نوے ملین پاونڈ کے بدلے 498 کینال زمینج پر علی ٹرسٹ بنایا گیا۔ کچھ زمین بنی گالہ میں فرح گوگی کے نام کروائی گئی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’خیبر پختونخوا میں ایک قانون عمل میں لایا گیا کہ ہاوسنگ سوسائٹی کی منظوری بغیر زمین کے بھی دی جا سکتی ہے۔‘
عطا تارڑ کے مطابق ’جیسے جیسے 190 ملین پاونڈ والے معاملے میں سرکار پراپرٹی ٹائیکون کو سہولیات فراہم کر رہی تھی خان صاحب القادر ٹرسٹ کے کاغذات پر سائن کر رہے تھے۔‘
جی ایچ کیو حملے میں 76 افراد گرفتار، 80 کروڑ نقصان کا تخمینہ
سی پی او راوالپنڈی خالد ہمدانی اور ایس ایس پی آپریشن عامر نیازی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں ابتک 76 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کو مکمل تحقیقاتی عمل کے ذریعے شناخت کیا گیا ہے۔
پولیس افسران کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے دوران 80 کروڑ کا نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
’ہمارے تمام شواہد عدالت میں ایڈمیسبل ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا ایشو جی ایچ کیو گیٹ اور حمزہ کیمپ پر حملہ ہے۔ تحقیقاتی عمل جاری ہے ایس ایس پی انویسٹیگیشن تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کر رہی ہیں۔‘
سی پی او راولپنڈی خالد محمود ہمدانی نے جی ایچ کیو حملے میں ملوث 26 ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔ پیش کئے جانے والے تمام ملزمان کے چہروں کو ڈھانپا گیا تھا۔
ایس ایس پی آپریشنز پورے تحقیقاتی عمل اور گرفتاریوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔
ایس ایس پی آپریشن نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’دو ڈی ایس پیز اور ایک ایس ایچ او زخمی ہیں۔ جبکہ پولیس کی 20 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پولیس تمام قانونی تقاضے پورے کر کے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘
عمران خان کی گرفتاری پر ہنگامہ آرائی: فوجی تنصیبات پر منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا گیا، پنجاب حکومت
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف صوبے میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں فوجی تنصیبات پر منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے گئے۔
نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو آگ لگانے والوں نے ہی عسکری ٹاور کو آگ لگائی۔
بریکنگ, پنجاب میں پُرتشدد مظاہروں سے 600 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، میانوالی میں جہازوں کو جلانے کا منصوبہ تھا: محسن نقوی

،تصویر کا ذریعہEPA
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد صوبے میں پُرتشدد مظاہروں میں ابھی تک کے تخمینے کے مطابق 600 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
انھوں نے لاہور میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’ابھی تک جو نقصان کی کیلکولیشن ہوئی وہ 600 کروڑ ہے۔ مزید نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے جب تک یہ نقصان پورا نہیں ہو گا کوئی بھی جیل سے باہر نہیں آئے گا۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کا ’میانوالی ایئر بیس پر طیارے نذر آتش کرنے کا منصوبہ تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے والے ’سیاسی جماعت کے ورکر نہیں دہشتگرد ہیں۔ جب تک ایک ایک بندہ گرفتار نہیں ہوتا، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔‘
’تمام شواہد موجود ہیں کہ یہ پہلے سے بنایا گیا منصوبہ بندی تھا، حملے کے مقام جیسے لاہور میں جناح ہاؤس، جی ایچ کیو راولپنڈی اور فیصل آباد میں آئی ایس آئی کا دفتر طے تھے۔ کور کمانڈر ہاؤس کو جلانے والوں نے ہی لبرٹی میں عسکری ٹاور کو جلایا۔‘
بریکنگ, جی ایچ کیو پر حملے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کی شناخت مکمل ہو گئی
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پر تشدد احتجاج کے دوران جی ایچ کیو پر حملے کے مقدمہ میں جی ایچ کیو میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرنے والے شدت پسندوں کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں اور عوام کو اکسانے والوں کی مکمل شناخت ہو گئی ہے۔
پرتشدد مظاہروں میں شامل چھ خواتین سمیت 16 افراد کی شناخت کر لی گئی۔ نو افراد کا تعلق راولپنڈی، تین کا تعلق اسلام آباد، دو کا کراچی اور چکوال سے ہے۔ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کی تصاویر بھی جاری کر دی گئیں۔
پولیس نے مشتعل مظاہرین کی شناخت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کی۔
بریکنگ, پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید گرفتار

،تصویر کا ذریعہPTI OFFICIAL
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید کو لاہور پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
ان کی گرفتاری گزشتہ روز اس وقت عمل میں آئی جب وہ لاہور ہائیکورٹ جا رہے تھے۔
میاں محمود الرشید کے خلاف اقدام قتل، دہشت گردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
پی ٹی آئی کا بلدیاتی سطح پر عدلیہ کے حق میں احتجاج کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف نے بلدیاتی سطح پر عدلیہ کے حق میں ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی آئی آج شام پانچ بجے بلدیاتی سطح پر عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔
’عدلیہ بچاؤ‘کے نام سے تمام کارکنان کو ہر یونین کونسل میں پرامن مظاہرہ کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق تمام لوگ اپنے اپنے علاقے میں ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ بجے تک احتجاج کریں گے۔
بریکنگ, حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مجھ سے خوفزدہ ہیں، انھیں الیکشن میں شکست فاش کا ڈر ہے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTI Official
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مجھ سے خوفزدہ ہے اور اسے الیکشن میں شکست فاش کا ڈر ہے۔
برطانوی نیوز چینل سکائی نیوز کو رہائی کے بعد دیے گئے ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے کمزور جمہوریت ہے اور ایسے میں امید صرف عدلیہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے مجھے ایسے پکڑا کیا جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں۔
انھوں نے ایک بار پھر پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’مھے آرمی چیف کے حکم پر اغوا کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس سمیت دیگر مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا منصوبہ ہے کہ مجھے اورمیری جماعت کو انتخابات سے باہر کر دیا جائے۔
کس ملک میں سب سے بڑی جماعت کی اعلیٰ قیادت کو اس طرح پکڑا جاتا یا نظر بند کیا جاتا ہے۔
’سیاسی دہشت گرد عمران خان آج تک لاڈلے ہیں اور ہر کونے میں ان کا سہولت کار موجود ہے:‘ بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر انتخابات میں ضرورت سے زیادہ سیاسی عدلیہ ہو گی تو پی پی پی وہ صاف و شفاف انتخابات نہیں مانے گی۔
کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’اب ایک بار پھر انتخابات ہو رہے ہیں تو عدلیہ ضرورت سے زیادہ سیاسی ہو رہی ہے، ہم پیغام دینا چاہتے ہیں اب ہم کسی انتخابات میں نہ اسٹیبلشمنٹ کو اور نہ ہی عدلیہ کو دھاندلی کرنے دیں گے۔‘
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ’اگر ضرورت سے زیادہ سیاسی عدلیہ موجود ہو گی تو پیپلزپارٹی وہ صاف و شفاف انتخابات نہیں مانے گی، اب ہمارے اتحادی پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ کے سامنے آئین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے ایک جلسے کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ کو یاد دلانے جا رہے ہیں کہ ان کا کام آئین پر عمل درآمد کرنا، ان کا کام قانون پر عمل درآمد کرنا، ان کا کام سیاست میں مداخلت کرنا نہیں ہے، جس طرح عمران کو لاڈلا ٹریٹمنٹ دی جارہی ہے یہ آئین کے ساتھ مذاق ہے۔‘
انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین میں کہا لکھا ہے کہ عمران کرپشن کرے تو اس کو پکڑا نہیں جاسکتا ہے، جو ضمانت دی گئی ہے وہ غیر قانونی ہے، آپ قانون توڑتے ہو تو جیل جاتے ہو، جج قانون توڑے تو ہم ان کے ساتھ کیا کریں۔‘
انھوں نے عدلیہ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح عمران خان نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کا ریلیف دیا گیا تو اگر ہم پانچ اپریل یا 27 دسمبر کو سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں منانے کا اعلان کریں تو آپ کیا کریں گے۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس نفرت کی سیاست نے جس طریقے سے پورے معاشرے کو تقسیم کیا ہے، سیاست کو تقسیم کیا ہے، میڈیا اور عدلیہ کو تقسیم کیا ہے لیکن پی پی پی کا وعدہ ہے کہ ہم پہلے بھی چاروں صوبوں کی زنجیر تھے اور آج بھی چاروں صوبوں کی زنجیر ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے کراچی میں صرف ٹریلر دکھایا ہے، جیسے کراچی میں پی ٹی آئی کو خداحافظ کہہ دیا ہے، اسی طرح ہم پورے ملک سے ان سیاسی دہشت گردوں کو فارغ کریں گے۔
کارکنوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنا قائد ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت دیکھی، اس وقت آپ غصے میں تھے، ناراض اور سراپا احتجاج تھے لیکن کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا اور ہمیشہ پرامن احتجاج کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب جنرل ضیاالحق نے قائد عوام کو تخت دار پر لٹکا دیا تھا تو ہم نے جی ایچ کیو یا کسی کور کمانڈر کے گھر پر حملہ نہیں کیا، ہم نے جناح ہاؤس کو آگ نہیں لگایا تھا، ہم نے ریاست کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو اسی کراچی پر حملہ کیا گیا لیکن ہم نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا، صدر آصف علی زرداری کو 12 سال جیل میں بند کیا تب کسی چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کسی عدالت میں طلب نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب قائد عوام عدالت میں پیش ہوتے تھے تو کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ ’گڈ ٹو سی یو‘، جب ضیا کے دور میں شہید بینظیر بھٹو جب سکھر جیل میں بند تھیں تو تب ہمارے لیے تو ایسا کوئی چیف جسٹس نہیں تھا۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’صدر زرداری کو کراچی کے سی آئی اے سینٹر میں تشدد کیا گیا، تب چیف جسٹس کہاں تھا، یہ انصاف کہاں تھا، مگر ہم نے تب بھی پرامن احتجاج کیا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو سیاسی دہشت گرد ہیں ان کے ساتھ تو کچھ ہوا ہی نہیں، یہ آج تک لاڈلے ہیں، انھوں نے تو اصل اپوزیشن بھی نہیں دیکھا، ابھی تک ہر کونے میں ان کا سہولت کار موجود ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا ’اب وہ اپنے سر پر بالٹی رکھ کر پھرتا ہے، اپنے آپ کو بہادر لیڈر کہتا ہے مگر اپنی بالٹی ساتھ لیے بغیر گھر سے باہر نہیں نکل سکتا ہے۔‘
وزیرخارجہ نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک رات بھی جیل میں نہیں گزار سکا، کپتان پولیس گیسٹ ہاؤس میں ایک رات بھی برداشت نہیں کرسکا، اس خوف سے کہ جیل میں ایک ہفتہ گزارنا پڑے گا اس نے ملکی ادارے پر حملے کر دیے اور پورے پاکستان کو جلا دیا۔‘
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ عدالت جاتا ہے اور کہتا ہے جج صاحب مجھے رہا کرو میں ایک دن سے باتھ روم نہیں گیا، یہ کس قسم کا لیڈر ہے، یہ سیاسی دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔‘
عمرانی جن اور ٹوٹی ہوئی بوتل: وسعت اللہ خان کا کالم
ڈاکٹر یاسمین راشد ہسپتال سے پھر گرفتار، اس بار جیل منتقل نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہscreengrab
پنجاب پولیس نے رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر یاسمین راشد کو لاہور کی سروسز ہسپتال سے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد لاہور پولیس کو تین مقدمات میں مطلوب تھیں۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ سرور روڈ، گلبرگ اور تھانہ شادمان میں یاسمین راشد کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ تینوں مقدمات میں دہشتگردی سمیت دیگر سنگین دفعات شامل ہیں۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نظر بندی کے احکامات معطل ہونے پر کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوئی تھیں اور انھیں طبعیت خراب ہونے پر سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ماڈل ٹاؤن ڈویژن کی پولیس ڈاکٹریاسمین راشد کو گرفتار کرنے کے لیے سروسز ہسپتال پہنچی تھی۔ پولیس کے مطابق دوبارہ گرفتاری کے باوجود بھی طبعیت ناسازی کے باعث ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہسپتال میں ہی رکھاجائےگا۔
بریکنگ, 9 مئی کے یوم سیاہ پر توڑ پھوڑ میں ملوث منصوبہ سازوں، مشتعل افراد اور اکسانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا: آرمی چیف

،تصویر کا ذریعہISPR
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ’آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ 9 مئی کے یوم سیاہ کے تمام منصوبہ سازوں، مشتعل افراد، اس پراکسانے اور عمل کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور پاکستان کی فوج اپنی تنصیبات کونقصان پہنچانے کی مزید کسی کوشش کوبرداشت نہیں کرے گی۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں انھیں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی جاری کوششوں پربریفنگ دی گئی۔
آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم امن اور استحکام کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں انفارمیشن وار فیئر اورغلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ’دشمن عناصرکی جانب سےمسلح افواج کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، عوام کے تعاون سے ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔‘
بریکنگ, ’فوج کو میں نے برا بھلا نہیں کہا بلکہ آرمی چیف کے ایکشن کی وجہ سے فوج کو برا کہا گیا‘
عمران خان نے ایک بار پھر فوج پر تنقید کی اور کہا کہ ’آئی ایس پی آرجب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب سے میں نے ملک کا سر دنیا میں اوپر کیا اور ملک کو عزت دلائی۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے ساری جگہ اپنی فوج کے امیج کو اوپر کیا۔ میرے دور حکومت میں فوج کو لوگ پسند کرتے تھے اور پھر ایک آرمی چیف نے میری پیٹھ میں چاقو مارا اور پاکستان کے بدنام مجرموں کو اوپر لا کے بٹھا دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فوج کو میں نے برا بھلا نہیں کہا بلکہ آرمی چیف کے ایکشن کی وجہ سے فوج کو برا کہا گیا۔‘
میں چاہتا ہوں سرکاری بلڈنگز جلانے اور گولی چلانے کی انویسٹی گیشن چیف جسٹس کریں: عمران خان

،تصویر کا ذریعہScreen Grab/PTI
عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ہمیں جب بھی اشتعال دلایا گیا ہے ہم پر امن رہے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ جو بھی سرکاری بلڈنگز جلائی گئی ہیں ان کی تحقیق ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ جن پرگولیاں چلائی گئیں ان کی انکوائری ہو لیکن میں ان سے انکوائری نہیں چاہتا‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’میں چاہتا ہوں اس کی انویسٹی گیشن چیف جسٹس کریں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کے شاہ فرمان اور شوکت یوسفزئی نے لوگوں کو توڑ پھوڑ سے روکنے کی کوشش کی تو ان سے وہ لوگ الجھ پڑے ان کے کپڑے پھاڑ دیے وہ کون لوگ تھے۔‘
عمران خان کے مطابق ’لاہور میں لوگوں نے بتایا کہ جنرل پبلک کے علاوہ عجیب و غریب لوگ انھوں نے دیکھے جو سب کو اشتعال دلا رہے تھے کہ کنٹونمنٹ میں چلیں۔‘
عمران خان نے دعوی کیا کہ ’جب جیوڈیشل کمپلیکس میں مجھے قتل کرنے کا پروگرام تھا جب بھی ایسے ہی کپڑوں میں لوگ وہاں تھے۔ جو گولی چلی وہ کس نے چلائی ہمارے لوگوں میں کسی نے نہیں چلائی۔‘
عمران خان نےکہا کہ ’ہم آئین و قانون کے ذریعےانتخاب جیت کر آنا چاہتے ہیں۔‘
بریکنگ, جمہوریت کو اب تک بچانے والی عدلیہ ہے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہScreenGrab/PTI
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت کو اب تک بچانے والی عدلیہ ہے عوام سے کہتا ہوں کہ عدلیہ اور اپنے آئین کے ساتھ کھڑے رہیں۔
لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا ’ عدلیہ کا شکر گزار ہوں کہ جعلی کیسز میں جیل جانے سے بچایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ 18 مارچ کو میرے گھر پر غیر قانونی طور پر حملہ کیا گیا اور بکتر بند گاڑی سے دروازہ توڑا گیا۔‘
عمران خان نے کہا ہے کہ ’27 سال ہم ہمیشہ پر امن رہے،تحریک انصاف واحد جماعت ہے جہاں خواتین جلسوں میں اتی ہیں تو ہم کیسے انتشار چاہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن اناونس ہو چکاہے اور پنجاب میں دفعہ 144 لگا دی گئی۔
سرکاری و نجی اداروں پر حملوں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث گرفتار افراد کی تعداد2894 ہو گئی: پنجاب پولیس
ترجمان پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ ،تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد2894 تک جا پہنچی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’شرپسند عناصر کی پرتشدد کارروائیوں میں پنجاب بھر میں 152 پولیس افسران اور اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے زیر استعمال 74 گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، نذر آتش کیا گیا جبکہ پولیس سٹیشنز اور دفاتر سمیت 22 سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
پی ڈی ایم کے احتجاجی دھرنے کے لیے مسلم لیگ ن کی تیاریاں شروع

سپریم کورٹ کے سامنے پی ڈی ایم کے احتجاجی دھرنے کے لیے مسلم لیگ ن نے احتجاج کی تیاریاں شروع کردیں۔
مسلم لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے مسلم لیگ ن لاہور کے صدر ملک سیف الملوک کو اسلام آباد ریلی کے لئے کنوینئر مقرر کردیا۔
مسلم لیگ ن سپریم کورٹ کے سامنے دھرنے کےلیے لاہور سے اسلام آباد تک کے لئے ریلی نکالے گی۔
مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز اسلام آباد جانے والی ریلی کی قیادت کریں گی۔
مسلم لیگ ن کے سابقہ اراکین اسمبلی کو ریلی میں زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو لانے کی ہدایت کی گئی۔
مسلم لیگ ن کی سپریم کورٹ کے سامنے ریلی سوموار کی صبح 10بجے ٹھوکر نیاز بیگ لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگی۔
