انتخابات نظرثانی درخواست پر سماعت: ’آج تو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر ہی سوال کر دیا،‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پنجاب میں انتخابات سے متعلق نظر ثانی درخواست پر آج سماعت کر رہا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے فنڈز اور سکیورٹی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا تھا مگر آج تو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ نظر ثانی درخواست میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے پنجاب میں پولنگ کی تاریخ 14 مئی واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے پاس انتخابات کی تارہخ دینے کا اختیار نہیں اور یہ کہ الیکشن کے لیے 14 مئی کی تاریخ دے کر عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ انھیں اپنی درخواست پر دلائل دینے کے لیے کتنا وقت چاہیے ہو گا، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے تین سے چار گھنٹوں کا وقت طلب کیا۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں ’ہم تمام فریقین کو سُنیں گے۔‘ سپریم کورٹ نے اب اس معاملے پر تمام فریقین بشمول وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سیاسی جماعتوں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے نظرثانی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے اور یہ کہ نظرثانی کیس میں وہ دلائل نہیں دیے جا سکتے جو مرکزی کیس میں نہ دیے گئے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی آدھی آبادی (پنجاب اور خیبرپختونخوا) نمائندگی کے بغیر ہیں اور اس وقت بہتر یہ ہو گا کہ عدالت اس وقت اپنے احکامات (پنجاب میں الیکشن) پر عمل کے لیے حکم جاری کرے۔
تاہم اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نظرثانی درخواست پر دلائل کی تیاری کے لیے وقت ملنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو مرکزی پٹیشن میں چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔
















