یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج کا رخ کریں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج کا رخ کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحـاق ڈار کے مطابق ملک میں پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 270 روپے فی لیٹر ہو گی۔
ان کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 30 روپے کمی کے بعد 258 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کےبعد نئی قیمت 164 روپے 7 پیسے فی لیٹر ہو گی۔
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ چند مقامات پر جلاؤ گھیراؤ اور گولیاں چلانے والے ایجنسیوں کے لوگ تھے۔
اپنے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر ایک ویڈیو پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ’ایک آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے کیوں کہ دونوں طرف کی بات سنے بغیر جج کبھی بھی فیصلہ نہیں کرتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ہمارے پاس کسی بھی آزادانہ تحقیق/انکوائری میں پیش کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ اور بعض مقامات پر فائرنگ وغیرہ میں ایجنسیوں کے اہلکار ملوث تھے تاکہ افراتفری پھیلائی جائے جس کا الزام تحریک انصاف پر دھرا جائے اور اس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا جواز تراشا جا سکے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’الیکٹرانک میڈیا پر یک طرفہ بیانیہ چل رہا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’یہ ایک منظم سازش تھی جس کے تحت حکومتی عمارات اور کور کمانڈر کا گھر جلایا گیا۔‘
’ہمارے پاس ویڈیو شواہد ہیں کہ کیسے لوگوں نے اشتعال دلوایا اور کون لوگ اس میں شامل تھے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہISPR
آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سوموار کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں خصوصی کور کمانڈرز کلانفرنس کی سربراہی کی جس میں گذشتہ چند دنوں کے دوران امن و امان کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کو بریفنگ دی گئی کہ شہدا کی تصاویر، عمارات اور فوجی تنصیبات کو ایک مربوط منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنا اور ادارے کو ردعمل دینے پر مجبور کرنا تھا۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے عسکری تنصیبات اور سرکاری اور نجی املاک کے خلاف ان واقعات کی بھرپور مذمت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان ان حملوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بیرونی فنڈنگ اور اندرونی سہولت کاری کی مدد سے عسکری لیڈر شپ کے خلاف پراپیگینڈا پر تشویش کا اظہار کیا گیا جس کا مقصد افواج پاکستان اور عوام کے درمیان اور فوج کے اندر خلیج پیدا کرنا ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے سوشل میڈیا کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مجوزہ قوانین کے تحت سزا دینے پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس میں تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ قوم کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا جا سکے۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرنے کا عزم بھی کیا جو قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کی جائیں گی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ عمران خان سے پوچھتے کہ کیا آپ سیاسی جماعت ہیں یا شدت پسند جماعت ہیں۔
بلاول نے کہا کہ ایک دن کی گرفتاری پر تحریک انصاف نے کور کمانڈر ہاوس اور جی ایچ کیو پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری پر ایک شدت پسند تںظیم کی طرح ردعمل دیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہر ادارے پر حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ آخری موقع ہے کہ تحریک انصاف فیصلہ کر لے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی جلاؤ گھیراؤ پر معافی مانگے ورنہ کسی ادارے کے کہنے پر ایسی جماعت سے مزاکرات نہیں کریں گے۔
بلاول بھٹو نے اس سے قبل کہا کہ ہمیں نیب سے نہیں بلکہ الیکشن سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ’پانچواں مارشل لا‘ نافذ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر پی ڈی ایم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے عدالت عظمی کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے وقت میں جب فوج آئین کا ساتھ دے رہی ہے، یہاں جوڈیشل مارشل لا لگایا گیا ہے۔
مریم نواز نے سپریم کورٹ کے مخصوص ججوں پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ عمران خان کی سہولت کاری کرتی رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھے، نواز شریف نے جنرل باجوہ کا نام لیا، جنرل فیض کا نام لیا لیکن ہمیشہ کہا کہ فوج ہمارا ادارہ ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف نے رواں ہفتے سے پنجاب کے مختلف شہروں میں سیاسی جلسےکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں پہلا جلسہ جمعرات کو مریدکے میں، دوسرا جلسہ گکھڑ منڈی، تیسرا لالہ موسی اور اس کے بعد اٹک میں جلسہ ہو گا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 10 مئی سے جلسوں کا اعلان کیا تھا تاہم پارٹی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلسوں کو ملتوی کر دیا گیا۔
پارٹی رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے جلسوں کے حوالے سے تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا اور چئیرمین تحریک انصاف عمران خان جلسے کے شرکا سے خطاب کریں گے۔
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے لاہور کور کمانڈر ہاوس میں توڑ پھوڑ کو تحریک انصاف پر کریک ڈاون میں شدت لانے کا ایک جال قرار دیا ہے۔
عمران خان نے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’مرکزی پنجاب کی ہماری صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور میری ہمشیرہ واضح طور پر مظاہرین کو جناح ہاؤس کو نقصان نہ پہنچانے کی تلقین کر رہی ہیں۔‘
اس ویڈیو میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے براہ مہربانی ’آپ لوگ اندر جانے کی کوشش نہ کریں اور باہر آ جائیں۔‘
عمران خان نے لکھا کہ ’بلا شک و شبہہ یہ ان لوگوں کی جانب سے ایک جال تھا جو اس لیے پھیلایا گیا کہ اس کی آڑ میں تحریک انصاف پر جاری کریک ڈاؤن میں شدت لا سکیں اور مجھ سمیت ہمارے سینئر قائدین اور کارکنان کو جیلوں میں بھر کر اپنے اس وعدے کو پورا کر سکیں جو انھوں نے لندن پلان کے تحت نواز شریف سے کر رکھا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں پاکستان کے بڑے صنعتی شعبے کی پیداوار میں 8.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
صرف مارچ کے مہینے میں اس پیداوار میں 25 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو مئی 2020 کے بعد سب سے کم ترین پیداوار ہے جب کورونا وائرس کے تدارک کے لیے لاک ڈاون لگنے کے بعد صعنتی و معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو گئی تھیں۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے تقریباً تمام صعنتی شعبوں کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے جن میں ٹیکسٹائل، کیمیکل، فارما سوٹیکل، آٹو موبائلز، ٹوبیکو، چمڑے، پٹرولیم، الیکٹرانکس، خوردنی اشیا کے صعنتی شعبوں کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے سابق جج اقبال حمید الرحمان کی بطور چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ تعیناتی کی منظوری دی ہے۔
ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس تعینات ہوئے۔
اقبال حمید الرحمان پاکستان کے دوسرے ایسے چیف جسٹس تھے جن کے والد بھی چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
جسٹس اقبال حمید الرحمان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس حمود الرحمان کے بیٹے ہیں جو سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس بنے۔
جسٹس حمود الرحمان اس عدالتی کمیشن کے سربراہ بھی تھے جس نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی عدالتی تحقیقات کی تھیں۔
جسٹس اقبال حمید الرحمان 25 ستمبر 1956 کو مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔
1960 میں اپنے والد جسٹس حمودالرحمان کی سپریم کورٹ میں تقرری ہونے پر مغربی پاکستان شہر لاہور منتقل ہوگئے ۔
اقبال حمید الرحمان نے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور سے ہی قانون ڈگری حاصل کی اور 1981 میں وکالت شروع کی۔
30 اکتوبر 2006 کو انھیں لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا۔ ہائی کورٹ کے جج کے علاوہ انھوں نے الیکشن کمیشن کے رکن کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے جسٹس اقبال حمید الرحمان نے سنہ 2009 میں پنجاب کے علاقے گوجرہ میں مسیحی آبادی پر ہونے والے حملہ کی عدالتی تحقیقات بھی کیں۔
جسٹس اقبال حمید الرحمان نے اکتوبر 2007 میں ہائی کورٹ کے مستقل جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا لیکن تین ہی دن بعد جنرل پرویز مشرف کی طرف سے عبوری آئینی فرمان یعنی پی سی او جاری ہوا تو وہ ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے اس کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔ اس بنا پر انھیں بھی عہدے سے معزول کر دیا گیا۔
جسٹس اقبال حمید الرحمان بعد میں دیگر معزول ججوں کے ساتھ اپنے عہدے پر بحال ہوئے اور 2011 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس مقرر ہو گئے۔
فروری 2013 میں انھیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا تھا اور وہ لگ بھگ ساڑھے تین سال سپریم کورٹ کے جج رہے۔
2016 میں جسٹس اقبال حمید الرحمان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
انھوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ممنون حسین کو بھجوایا اور ہاتھ سے تحریر کردہ استعفے میں کہا گیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 206 (1) کے تحت اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں تاہم استعفے میں مستعفی ہونے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں کراچی کی عدالت نے مقامی رہنما فردوس شمیم نقوی سمیت 28 ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
فردوس شمیم نقوی کو پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا اور تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ انھوں نے لوگوں کو اشتعال دلایا اور اکسایا اور ان کی ایما پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
فردوس شمیم کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری پر کراچی میں ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں عدالت نے 25 ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھی بھیج دیا ہے۔ پیر کو ٹیپو سلطان اور فیروزآباد تھانوں کی پولیس نے 25 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا تو عدالت نے انھیں جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو 14 دن میں چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے علاوہ نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں اور انھوں نے پولیس موبائل، پولیس چوکی اور سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔
نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر بریفنگ دینے کے لیے وقت طلب کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کو لکھے جانے والے خط میں مسحن نقوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ملک اور پنجاب میں پرتشدد کارروائیاں ہوئیں جن کے نتیجے میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا اور کئی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
محسن نقوی نے لکھا کہ پنجاب حکومت مستقبل میں ایسے عناصر کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔
انھوں نے لکھا کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ الیکشن کمیشن کو صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدمات پر بریفنگ دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں سرکاری اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے تحریک انصاف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے صابر قائم خانی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف اور پارٹی رہنماوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
قرارداد میں مستقبل میں شرپسند عناصر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قرارداد میں افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایوان دفاع پاکستان میں بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPID
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل دوپہر کو طلب کر لیا ہے جس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت شرکت کرے گی۔
اجلاس میں آرمی چیف بھی شریک ہوں گے جبکہ ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں انٹیلیجینس اداروں کے سربراہان کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی کیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے خلاف ریفرنس لانے کی تحریک منظور کی ہے۔
یہ تحریک پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ سومرو نے پیش کی اور اس میں چیف جسٹس کے خلاف مس کنڈکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایوان نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کے لیے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی تحریک بھی منظور کی جو چیف جسٹس کے علاوہ دیگر ججز کے خلاف بھی مس کنڈکٹ کے تحت کاروائی کر سکے گی۔
اس کمیٹی کے ارکان میں محسن شاہنواز رانجھا، خورشید جونیجو، صلاح الدین ایوبی، شہناز بلوچ اور صلاح الدین شامل ہیں تاہم سپیکر قومی اسمبلی خصوصی کمیٹی کے اراکین میں ردو بدل کر سکیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 23 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کے پیغام پر ردعمل دیا ہے کہ ’اِدھر اُدھر کی من گھڑت باتیں چھوڑیں۔ شامل تفتیش ہوں اور اپنی کرپشن کا حساب دیں۔ بات ختم۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کے کارکنان کے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی سیکورٹی ایجنسیز ’سپریم کورٹ پر قبضہ جمانے میں غنڈوں کی سہولت کاری میں مصروف ہیں۔‘
ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’چنانچہ اس امر کا سراغ لگائے بغیر کہ سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کرنے یا درجنوں غیرمسلّح مظاہرین کی گولیاں لگنے سے اموات کا ذمہ دار کون تھا اور اس منصوبے کے تحت کہ پاکستان کی سب سے بڑی اور واحد سیاسی جماعت پر پابندی عائد کر دی جائے، تحریک انصاف کے تقریباً 7000 قائدین، کارکنان اور خواتین کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔
’اس دوران سکیورٹی ایجنسیز سپریم کورٹ پر قبضہ جمانے اور دستورِ مملکت کو پیروں تلے روندنے میں ان غنڈوں کی سہولت کاری میں مصروف ہیں۔ تمام شہری پرامن احتجاج کیلئے تیار رہیں کیونکہ اگر عدالتِ عظمٰی اور آئین کو تباہ و تاراج کردیا گیا تو تصوّرِ پاکستان ہی دم توڑ دے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انتخابات سے متعلق نظرثانی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا ہے کہ آپ مذاکرات دوبارہ کیوں شروع نہیں کرا سکتے؟
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مذاکرات بالکل ہونے چاہییں اور ’میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے مذاکرات کی بات کی، حکومت نے سنجیدگی سے مذاکرات میں حصہ لیا تھا تاہم یہ
مذاکرات تحریک انصاف نے ختم کر دیے تھے۔‘
اس پر تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ اب مذاکرات ختم کر کے بات آئین کی عملداری پر آ گئی ہے، ہماری مذاکراتی ٹیم کے دو فریق گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے سابق وزیراعظم عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا۔‘
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ ’عدالت بھول گئی ہے کہ 90 دن کی میعاد آئین کی بنیاد ہے؟ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں بعض نکات غور طلب ہیں، آئندہ سماعت پر اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب انتخابات میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر سماعت 23 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے پنجاب، خیبرپختونخوا کی حکومتوں سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس انداز میں سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں یہ درست نہیں کیونکہ لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، ادارے خطرات اور دھمکیوں کی زد میں ہیں اور سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو دوبارہ دیکھیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملکی ادارے سیریس تھریٹس (سنگین خطرے کی) کی زد میں ہیں اور اُن کا مشورہ یہ ہو گا کہ سیاسی جماعتیں پرامن ماحول کےلیے کردار ادا کریں۔
چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم جماعتوں کے احتجاج کے تناظر میں استفسار کیا کہ ’آج دیکھ لیں، حکومت بے بس ہے، لوگ گیٹ پھلانگ رہے ہیں، آئین ہی جمہوریت کی بنیاد ہے اور ہم سب ایک فرض کی امید کرتے ہیں کہ جو ہر ایک نے نبھانا ہے۔ باہر جو کچھ ہو رہا ہے، کون آئیں پر عمل کروائے گا؟‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’رواں برس فروری میں جب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی تھی تو اس وقت ایک پہلو تھا جس کی خلاف ورزی ہو رہی تھی، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ اٹارنی جنرل بتائیں کہ مذاکرات کیوں شروع نہ ہو سکے۔ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ ضروری ہے، میں نے لوگوں کو گولیاں لگنے کی فوٹیج بھی دیکھی ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ آئین پر عملدرآمد لازمی ہے اور ایگزیکٹیو اور اپوزیشن اخلاقیات کا اعلی معیار برقرار رکھیں مگر سوال یہ ہے کہ ’اس ماحول میں آئین پر عملدرآمد کیسے کرایا جائے؟ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں سیاست کے بارے میں نہیں معلوم اور نہ جاننا چاہتے ہیں، ہم یہاں عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ ہو گا تو لوگ خوش ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے کل دیکھا کہ موٹر وے خالی پڑے ہیں، معیشت کی حالت خراب ہو رہی ہے جبکہ ملک میں کاروبار کا پہیہ رک گیا ہے۔ 90 دن میں انتخابات بنیادی معاملہ ہے، تین چار دن دیکھیں گے کیا ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ عدالت اپنا فرض ادا کرتی رہے گی۔ ’اداروں کا احترام کرنا ہو گا، اگر تفریق زدہ معاشرہ ہو گا تو انتخابات کے نتائج کون قبول کرے گا؟ جو بیانیہ دونوں جانب سے بنایا جا رہا ہے اس کو حل کریں۔‘