پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر عدالت عظمی کی طرف سے لیے جانے والے از خود نوٹس کیس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس از خود نوٹس لینے اور سپیشل بینچز بنانے کے وسیع اختیارات ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ پر تنقید اور اس کی عزت و تکریم میں کمی ہوتی ہے۔
28 صفحات پر مشتمل دو ججز کے اس اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ از خود نوٹس کے فیصلے کو چار ججز نے مسترد کیا، از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے حوالے سے چیف جسٹس کے ’ون مین شو‘ اختیارات پر فُل کورٹ نظر ثانی کرے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’جب ایک شخص کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو تو ادارے کا آمرانہ بننے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ون مین شو اختیار پر نظر ثانی ضروری ہے کیونکہ اس سے نقطۂ نظر متنوع نہیں رہتا جبکہ طاقت کی مرکزیت اور آمرانہ حکمرانی کے امکانات بڑھتے ہیں۔‘
’یہ صحیح وقت ہے ایک شخص کے وسیع اختیارات پر نظر ثانی کی جائے، چیف جسٹس کے اختیار کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پوری عدالت کو صرف ایک شخص پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ججز کو ان کی مرضی کے برعکس بینچ سے نکالنے کی قانون میں اجازت نہیں۔‘
اس فیصلے میں تجویز دی گئی ہے کہ از خود نوٹس کی کارروائی، ریگولر اور سپیشل بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کے حوالے سے ایک ’رول بیسڈ نظام‘ موجود ہونا چاہیے جسے آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت تمام ججز کی منظوری حاصل ہو۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے میں لکھا ہے کہ تین کے مقابلے چار ججز نے آئینی درخواستوں پر از خود نوٹس کی کارروائی مسترد کی تھی۔
’ایک بار کیس کے لیے بینچ تشکیل کر دیا جائے اور کاز لسٹ جاری ہوجائے تو چیف جسٹس اس کی تشکیل نو نہیں کرسکتے۔‘
دو ججز نے کہا ہے کہ ’عدالت سیاسی ادارہ بنے تو عوام کی نظر میں اس کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔ یقینی بنانا ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے پارلیمنٹ کا اختیار محدود نہ ہو۔ ہائیکورٹس میں کیس زیرِ التوا ہونے کے باوجود سوموٹو لیا گیا۔‘
اختلافی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ وہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے 23 فروری کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس میں ہائیکورٹس کو زیر التوا درخواستوں پر تین روز میں فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پانچ رکنی بینچ کے تین ارکان نے انتخابات سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا تھا جبکہ دو ججز نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ اس سے قبل دو ججز نے کیس سننے سے معذرت کی تھی۔