الیکشن التوا کیس کل سماعت کے لیے پھر مقرر، جسٹس امین بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے عملے کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت اب جمعے کی صبح ساڑھے 11 بجے ہو گی تاہم بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عمران خان کی پیشی پر وکیل کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد بار کا احتجاج

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی پیشی کے موقع پر ایک وکیل کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد بار نے آج احتجاج کی کال دی ہے۔

    اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے آج ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ ترنول کی معطلی اور پولیس کی معافی تک احتجاج جاری رہے گا۔

    اس کے علاوہ اسلام آباد بار نے کچہری میں پولیس کا داخلہ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    اسلام آباد بار کے سیکرٹری رائے اسد نوید بھٹی نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ صدر بار چوہدری قیصر امام ایڈوکیٹ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ’بار کے رکن سید علی اصغر ایڈوکیٹ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ ‘

    اس میں مزید کہا گیا کہ ’غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام پر آج ہڑتال کی جائے گی۔ وکلا کی عزت اور کالے کوٹ کے تقدس کو اپنا فرض اولیں سمجھتے ہیں۔‘

  2. اختلاف رائے پر بے رحمانہ جبر کرنے والی ریاستوں میں پاکستان بھی شامل: ایمنٹسی انٹرنیشنل

    انسانی حقوق کی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے جنوبی ایشیا میں ناانصافی، محرومی اور امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کے لیے لوگ خطے کے تمام ممالک میں وقتاً فوقتاً سڑکوں پر نکل آئے لیکن افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا، نیپال، مالدیپ، پاکستان اور سری لنکا سمیت بیشتر ممالک میں انھیں شدید کریک ڈاؤن اور حد سے زیادہ اور بعض اوقات جان لیوا طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔

    تنظیم کے مطابق ’پاکستان میں حکام نے جبری گمشدگیوں کا شکار ہونے والے کارکنوں اور خاندان کے افراد کے پرامن احتجاج کو زبردستی ختم کروایا۔ ‘

    انسانی حقوق ی تنظیم کے مطابق آزادی صحافت پر کئی ممالک میں حملے ہوتے رہے۔ ’پاکستان میں میڈیا ورکرز بھی مزید دباؤ میں آئے کیونکہ صحافیوں اور دیگر افراد کو جعلی الزامات میں گرفتار کیا گیا۔‘

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی علاقائی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا یامنی مشرا کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک صریح منافقت اور دوہرے معیارات کے حیرت انگیز مظاہرے میں انسانی حقوق کے قانون کو اپنی مرضی سے لاگو کرتے ہیں۔ وہ صرف اس وقت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہیں جب یہ ان کی عالمی اور علاقائی سیاست سے ہم آہنگ ہو لیکن اپنی دہلیز پر اسی طرح کی زیادتیوں پر صرف اس لیے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں ان کے اپنے مفادات داؤ پر ہیں۔ یہ بے ضمیری عالمی انسانی حقوق کے پورے تانے بانے کو کمزور کرتی ہے۔‘

  3. ’انتخابات میں تاخیر سے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں‘، سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کا آرڈر چیلنج کیا اور پی ٹی آئی کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات ملتوی کرنے کا کوئی قانونی اور آئینی اختیار نہیں۔

    ’بروقت صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانا جمہوری حکومت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انتخابات میں تاخیر شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر کرنے کے مترادف ہے۔‘

    اس کے مطابق ’الیکشن کمیشن درخواست میں اٹھائے گئے اہم قانونی اور حقائق پر مبنی سوالات کا جواب دے۔ تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔‘

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’عام انتخابات کے انعقاد میں ناکامی، کمی یا کوتاہی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کرتا ہے لہذا یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے۔‘

    سپریم کورٹ کے اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ کیس کی مزید سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔

  4. صدر نے منصور عثمان اعوان کی بطور اٹارنی جنرل تعیناتی منظور کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    حکومت نے ایڈووکیٹ منصور اعوان کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کر دیا ہے اور صدر مملکت نے ان کے نام کی منظوری بھی دے دی ہے۔

    اس سے پہلے بھی انھیں اٹارنی جنرل کے عہدے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا۔

    صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے معاملے میں سہریم کورٹ میں دائر درخواست پر منصور اعوان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی نمائندگی کی تھی۔ صدر نے سابق اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہی کا استعفی منظور کیا تھا۔

    صدر مملکت نے تعیناتی اور استعفے کی منظوری آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی۔

  5. بینچ فکسنگ کے بارے میں دو ججوں کا فیصلہ ہمارے بیانیے کی جیت ہے: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مندوخیل کا آج کا فیصلہ ’بینچ فکسنگ کے بارے میں ہمارے بیانیے کی جیت ہے۔‘

    مریم نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان پاکستان کا ماضی بن چکا ہے۔ اب پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے۔‘

    ’عمران خان اپنے کرپشن کے مقدمات سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ ٹیریان، فارن فنڈنگ، توشہ خانہ مقدمات میں ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ عدلیہ میں عمران خان کے سہولت کاروں کو پوری قوت سے بے نقاب کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے مقدمے میں آئین اور قانون کی پامالی کو بے نقاب کیا جائے گا۔ اگر انصاف ہے تو نواز شریف کے ساتھ زیادتی کی جتنی شہادتیں آ رہی ہیں ابھی تک ترازو کے پلڑے برابر ہو جانے چاہئیں تھے۔‘

    ’بینچ سازی منصفانہ نہیں تو فیصلہ کیسے منصفانہ تصور ہوگا؟‘

  6. ’ون مین شو مزید نہیں چلے گا‘ مسلم لیگ نون کا ٹویٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. وقت آ گیا ہے کہ چیف جسٹس کے ’ون مین شو‘ اختیارات کا جائزہ لیا جائے: سپریم کورٹ کے دو ججز

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر عدالت عظمی کی طرف سے لیے جانے والے از خود نوٹس کیس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس از خود نوٹس لینے اور سپیشل بینچز بنانے کے وسیع اختیارات ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ پر تنقید اور اس کی عزت و تکریم میں کمی ہوتی ہے۔

    28 صفحات پر مشتمل دو ججز کے اس اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ از خود نوٹس کے فیصلے کو چار ججز نے مسترد کیا، از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے حوالے سے چیف جسٹس کے ’ون مین شو‘ اختیارات پر فُل کورٹ نظر ثانی کرے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’جب ایک شخص کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو تو ادارے کا آمرانہ بننے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ون مین شو اختیار پر نظر ثانی ضروری ہے کیونکہ اس سے نقطۂ نظر متنوع نہیں رہتا جبکہ طاقت کی مرکزیت اور آمرانہ حکمرانی کے امکانات بڑھتے ہیں۔‘

    ’یہ صحیح وقت ہے ایک شخص کے وسیع اختیارات پر نظر ثانی کی جائے، چیف جسٹس کے اختیار کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پوری عدالت کو صرف ایک شخص پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ججز کو ان کی مرضی کے برعکس بینچ سے نکالنے کی قانون میں اجازت نہیں۔‘

    اس فیصلے میں تجویز دی گئی ہے کہ از خود نوٹس کی کارروائی، ریگولر اور سپیشل بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کے حوالے سے ایک ’رول بیسڈ نظام‘ موجود ہونا چاہیے جسے آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت تمام ججز کی منظوری حاصل ہو۔

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے میں لکھا ہے کہ تین کے مقابلے چار ججز نے آئینی درخواستوں پر از خود نوٹس کی کارروائی مسترد کی تھی۔

    ’ایک بار کیس کے لیے بینچ تشکیل کر دیا جائے اور کاز لسٹ جاری ہوجائے تو چیف جسٹس اس کی تشکیل نو نہیں کرسکتے۔‘

    دو ججز نے کہا ہے کہ ’عدالت سیاسی ادارہ بنے تو عوام کی نظر میں اس کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔ یقینی بنانا ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے پارلیمنٹ کا اختیار محدود نہ ہو۔ ہائیکورٹس میں کیس زیرِ التوا ہونے کے باوجود سوموٹو لیا گیا۔‘

    اختلافی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ وہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے 23 فروری کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس میں ہائیکورٹس کو زیر التوا درخواستوں پر تین روز میں فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ پانچ رکنی بینچ کے تین ارکان نے انتخابات سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا تھا جبکہ دو ججز نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ اس سے قبل دو ججز نے کیس سننے سے معذرت کی تھی۔

  8. ہائیکورٹ کے باہر میری کار کے شیشے توڑے گئے: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک صحافی کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر آج پی ٹی آئی کے کارکنان پُرامن تھے مگر ’ہمارے فوٹوگرافر پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس اور سادہ کپڑوں میں ایجنسیوں کے لوگوں - نامعلوم افراد - نے ان پر حملہ کیا اور انھیں گرفتار کیا۔‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’(ہائیکورٹ کے باہر) میری کار، جس کے اندر کوئی نہ تھا، پر حملہ کر کے شیشے توڑ دیے گئے۔

    ’یہ فسطائیت ہے جو آئی جی اسلام آباد کے کہنے پر کی جا رہی ہے اور اس کی پشت پناہی نیوٹرلز کر رہے ہیں تاکہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے والے عام شہری خوفزدہ ہوں۔‘

    اس صحافی کے پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس نے ہائیکورٹ کے باہر پُرامن پی ٹی آئی کارکنان پر لاٹھی چارج کیا۔

  9. اسلام آباد ہائیکورٹ: عمران خان کی سات مقدمات میں چھ اپریل تک عبوری ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی حدود میں درج سات مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

    پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چھ اپریل تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی۔

  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال کی تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    27 مارچ تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔