ازخود نوٹس اختیارات پر جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہو گا، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر سرکلر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو رکنی بنچ کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہو گا۔
رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز اور جسٹس امین پر مشتمل دو رکنی بنچ کا فیصلہ صحافیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے منافی ہے۔
سرکلر میں لکھا گیا ہے کہ پانچ رکنی سپریم کورٹ بنچ قرار دے چکا ہے کہ از خود نوٹس کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے اور لارجر بنچ نے جو قانون وضع کیا، دو رکنی بنچ کا فیصلہ اس کے برعکس ہے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس از خود نوٹس اختیارات کا استعمال کسی جج یا پھر عدالتی بنچ کی تجویز پر آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جب تک بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی ایسے تمام مقدمات کو ملتوی کردیا جائے۔
اس کے بعد گذشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن میں التوا کے معاملے پر سماعت شروع ہوئی تو بنچ میں شامل جسٹس امین الدین کا کہنا تھا بدھ کو ایک ازخود نوٹس کے حوالے سے حکم نامہ جاری ہوا جس کا وہ خود حصہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کی سماعت موخر کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن یہ بینچ چونکہ معاملے کی سماعت جاری رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ خود کو بینچ سے الگ کر رہے ہیں۔







