الیکشن التوا کیس کل سماعت کے لیے پھر مقرر، جسٹس امین بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے عملے کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت اب جمعے کی صبح ساڑھے 11 بجے ہو گی تاہم بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. ازخود نوٹس اختیارات پر جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہو گا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر سرکلر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو رکنی بنچ کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہو گا۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز اور جسٹس امین پر مشتمل دو رکنی بنچ کا فیصلہ صحافیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے منافی ہے۔

    سرکلر میں لکھا گیا ہے کہ پانچ رکنی سپریم کورٹ بنچ قرار دے چکا ہے کہ از خود نوٹس کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے اور لارجر بنچ نے جو قانون وضع کیا، دو رکنی بنچ کا فیصلہ اس کے برعکس ہے۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس از خود نوٹس اختیارات کا استعمال کسی جج یا پھر عدالتی بنچ کی تجویز پر آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جب تک بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی ایسے تمام مقدمات کو ملتوی کردیا جائے۔

    اس کے بعد گذشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن میں التوا کے معاملے پر سماعت شروع ہوئی تو بنچ میں شامل جسٹس امین الدین کا کہنا تھا بدھ کو ایک ازخود نوٹس کے حوالے سے حکم نامہ جاری ہوا جس کا وہ خود حصہ تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کی سماعت موخر کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن یہ بینچ چونکہ معاملے کی سماعت جاری رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ خود کو بینچ سے الگ کر رہے ہیں۔

  2. جوڈیشل کمپلیکس میں ہنگامہ آرائی کا مقدمہ: 72 ملزمان کو شناخت پریڈ کے بعد رہا کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں: اسلام آباد پولیس

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمے کے حوالے سے اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ 72 ملزمان کو شناخت پریڈ کے بعد رہا کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ آج کسی ملزم کی شناخت پریڈ نہیں ہوئی۔ تمام ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں جن کی کل شناخت پریڈ ہو گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. عبدالطیف آفریدی قتل کیس میں نامزد ملزم کی ضمانت منظور

    عبدالطیف آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہ@TAIMUR_LAAL

    انسداد دہشت گردی عدالت پشاور نے معروف وکیل عبدالطیف آفریدی قتل کیس میں نامزد ملزم عادل ایڈوکیٹ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عبد اللطیف آفریدی کو پشاور بار روم میں 16 جنوری کو قتل کیا گیا تھا۔

  4. مولانا فضل الرحمن کی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات: اتحادیوں کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی

    مولانا فضل الرحمن، وزیرِاعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے سربراہ جمیعت علما اسلام مولانا فضل الرحمن وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف کو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی پارلیمنٹ سے منظوری پر مبارکباد پیش کی۔

    مولانا فضل الرحمن نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کے بعد وزیرِ اعظم کو اتحادیوں کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  5. پارلیمان سے عدالتی اصلاحات کے بل کی منظوری عدلیہ کو مضبوط کرے گی: شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج پارلیمان سے عدالتی اصلاحات کے بل ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر‘ کی منظوری، عدلیہ کے ادارے کو مضبوط کرے گی۔

    اپنی ٹویٹ میں شہباز شریف نے لکھا کہ اس سے ’بینچ کی تشکیل اور آرٹیکل 184 کی شق 3 کے استعمال کے عمل میں شفافیت آئے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بینچز کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کا انتظامی اختیار ہے: جسٹس شاہد کا اختلافی نوٹ

    سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو میڈیکل ڈگری میں 20 اضافی نمبر دینے سے متعلق از خود نوٹس کیس میں جسٹس شاہد وحید نے پانچ صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا۔

    نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے اور از خود نوٹس میں وہ باتیں زیر بحث لائی گئیں جو کیس کا حصہ ہی نہیں تھیں۔

    جسٹس شاہد کا کہنا ہے کہ بینچز کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کا انتظامی اختیار ہے اور خصوصی بنچ بھی قانون کے مطابق تشکیل دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس نمبر 4/ 2022 میں قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس ہی بینچ بنانے کا اختیار رکھتے ہیں اور جج بینچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں اٹھا سکتے اور اگر ججوں کو بینچ کی تشکیل پر اعتراض تھا تو وہ کیس سننے سے معذرت کر سکتے تھے۔

  7. سپریم کورٹ میں الیکشن التوا کا کیس: بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے

    سپریم کورٹ میں الیکشن التوا سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے ہو گی۔

    عدالت کے مختصر حکم کے مطابق بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ آج (جمعرات) کو جسٹس امین الدین کی جانب سے اس کیس کی سماعت سے انکار کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ بینچ تحلیل ہو گیا۔

  8. عمران خان: ’فرق نہیں پڑتا کہ بینچ پانچ رکنی ہو یا فل، ہم صرف الیکشن چاہتے ہیں‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں فرق نہیں پڑتا کہ سپریم کورٹ کا بینچ پانچ رکنی ہو یا فل بلکہ وہ صرف نوے روز میں الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں۔

    اپنی ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسلمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے انھوں نے آئینی ماہرین سے مشاورت کی تھی، جنھوں نے بتایا تھا کہ نوے روز میں الیکشن کا انعقاد لازمی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. توشہ خانہ کیس کی تحقیقات: نیب نے عمران خان سے 12 سوالات کا جواب مانگ لیا

    توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب نے عمران خان سے 12 سوالات کا جواب مانگا ہے۔

    نیب نے عمران خان سے بطور شواہد تحائف کی تصاویر بھی مانگ لی ہیں اور کہا ہے کہ بتایا جائے کہ تحائف کی فروخت سے حاصل رقم بذریعہ بینک یا کیش کی صورت میں لی گئی۔

    نیب نے یہ سوال نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمیع کرا دیا ہے اور عمران خان سے تحفوں کی فروخت کی رسیدیں بھی مانگی ہیں۔

    سوال نامے میں عمران خان سے پوچھا گیا ہے کہ آپ نے توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے گفٹ کتنی بار فروخت کیے؟ کون سی چیزیں فروخت کیں؟ آپ نے کب اور کس کو گفٹ فروخت کیے؟ کیا ان ٹرانزیکشن میں کوئی مڈل مین یا وویمن شامل تھی؟ گفٹ کی خریداری اور فروخت میں شامل ہر فرد کی تفصیل فراہم کریں۔

    نیب نے اسلام آباد کی ایف سیون کی دکان پر مبینہ طور پر فروخت ہونے والے تحائف کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں۔

  10. یہ حکومت بھی ازخود نوٹس کے نتیجے میں بنی تھی لیکن تب انھیں اس پر اعتراض نہیں تھا: اسد عمر

    PTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور اسد عمر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی عدالتی اصلاحات بل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا کہ یہ حکومت بھی ایک ازخود نوٹس کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی جو انہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے لیا تھا لیکن اس وقت انھیں اس پر اعتراض نہیں تھا۔

    انھوں نے کہا آئین ہی کے ذریعے آگے بڑھنا مسائل کا حل ہے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

    فواد چوہدری نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ہمیں پُش کریں گے تو معاملات ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تین ماہ میں کیا معجزہ ہوجائے گا، اگر آج سپریم کورٹ کو شکست دینے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کا آئین مکمل طور پر متاثر ہوجائے گا۔

  11. ٹیریئن وائٹ کیس: عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ درخواست کی سماعت کر رہا تھا اور جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر بھی بینچ میں شامل ہیں۔

    عدالتی تاریخ میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ کسی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں دیے بیان حلفی میں اپنی بیٹی کا نام ظاہر نہیں کیا اس لیے وہ پارٹی سربراہ بھی نہیں رہ سکتے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے نہ انکار کیا نہ کچھ مانا، ابھی تک عدالت یہ پٹیشن قابل سماعت ہونے کے حوالے سے سن رہی ہے۔‘

    وکیل حامد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے بشریٰ بی بی، قاسم اور سلمان کا ذکر بیان حلفی میں کیا اور کہا کہ وہ دو بیٹے اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ فنانشلی زیرِ کفالت نہیں، ٹیریان کی ابھی شادی نہیں ہوئی، اسلامک لا میں وہ زیرکفالت ہوتی ہے۔

    عدالت نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کا اس متعلق کیا موقف ہے؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ماضی میں عدم ثبوت کی بنا پر اس قسم کی درخواستیں خارج ہو چکی ہیں۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہم صرف بتانا چاہتے تھے کہ عدم ثبوت پر ہم یہ کیس خارج کر چکے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نےکہا کہ ہم پہلے فیصلہ کریں گےکہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں۔

  12. بریکنگ, وزیراعظم نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا۔

    حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں اور بدنام کیا گیا اور یہ ریفرنس کوئی ریفرنس نہیں تھا، یہ ایک منصف مزاج جج کے خلاف منتقم مزاج عمران نیازی کی انتقامی کارروائی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن دور میں بھی اس کی مذمت کی تھی۔‘

  13. بریکنگ, عدالتی اصلاحات کا بل سینیٹ سے بھی منظور

    سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنےکی اپوزیشن کی تحریک مسترد کر دی گئی اور بل فوری طور پر منظور کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی ہے۔

    بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے اور بل کے حق میں 60 اور مخالفت میں 19 ووٹ آئے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک جمع کروائی تھی۔

  14. سیاست سیاستدانوں کے لیے رہنے دیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی تحلیل کے بعد سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ سب ٹھیک نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو کچھ ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جس سے دراڑیں دور ہو سکیں اور سپریم کورٹ آئین کا تحفظ کرتی نظر آئے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے، تمام ججوں پر لازمی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور کنڈکٹ سے ادارے کی عزت کا تحفظ کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں ان کا کردار تاریخ ساز ہو گا اور عدلیہ میں جب اختلاف رائے نظر آنے لگے تو وہ اچھا شگون نہیں۔

    انھوں نے سپریم کورٹ کے ججوں سے درخواست کی کہ وہ ’سیاست سیاستدانوں کے لیے رہنے دیں۔ اسے ان اداروں میں داخل نہ کریں جن کا کام لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے‘۔

    وزیر دفاع نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پلڑے برابر رکھنے کا مطالبہ سیاسی مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فرض کی یاددہانی ہے۔

    ’کیا ثاقب نثار نے پلڑے برابر رکھے؟ اگر انھوں نے تاریخ درست کرنی ہے تو اس عمارت کے اندر بیٹھے ججوں سے یہ آئین تقاضا کرتا ہے کہ وہ پلڑے برابر کریں۔‘

    تحریکِ انصاف سے مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ہوں تو ان میں سب سٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔

    ’سیاست دان ، پنڈی والے (فوج)، انتظامیہ والے سب سٹیک ہولڈرز ہیں۔ ان کی شمولیت کے بغیر وسیع تر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔‘

    خواجہ آصف سے قبل وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی اسی معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاملات حل کرنے کے لیے وسیع تر بات چیت کی ضرورت ہے اور صرف ایک بیان دینے سے یہ معاملہ حل نہیں ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ ’ملک کا سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے۔ ڈائیلاگ ہی واحد طریقہ ہے جس کے لیے درست راستہ اختیار کیا جائے۔‘

    الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم الیکشن کی تاریخ دے دیں تو پھر مذاکرات کس بات پر کرنے ہیں۔‘

  15. بریکنگ, الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

    جسٹس امین الدین

    ،تصویر کا ذریعہSCP

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن میں التوا کے معاملے پر سماعت کرنے والا پانچ رکنی بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

    بینچ کے رکن جسٹس امین الدین کی جانب سے جمعرات کو معاملے کی سماعت سے انکار کیا گیا جس کے بعد یہ بینچ تحلیل ہو گیا۔

    سماعت کے آغاز پر جسٹس امین الدین کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے بدھ کو ازخود نوٹس کے مقدمات کے حوالے سے جو فیصلہ دیا گیا اس کے بعد بھی بینچ کارروائی جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن وہ اس معاملے کی سماعت سے معذرت کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ بدھ کو ایک ازخود نوٹس کے حوالے سے حکم نامہ جاری ہوا جس کا وہ خود حصہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کی سماعت موخر کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن یہ بینچ چونکہ معاملے کی سماعت جاری رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ خود کو بینچ سے الگ کر رہے ہیں۔

    بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جب تک بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی ایسے تمام مقدمات کو ملتوی کردیا جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ تین دن سے اس معاملے کی سماعت کر رہا تھا۔ اس بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

    اب الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت نئے بینچ کی تشکیل کے بعد ہی ممکن ہو گی۔

    بینچ کی تحلیل کے بعد اس کیس میں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ وہ قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتے اور چیف جسٹس اور سینیئر جج مل کر جو فیصلہ کریں گے اس کے مطابق وہ پیش ہو جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک فیصلہ آ چکا تھا جس پر مختلف ججوں کی مختلف آرا ہیں، بہتر ہے کہ وہ آپس میں مشاورت کر کے خود یہ معاملہ حل کر لیں‘۔

  16. عدالتی اصلاحات کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا

    قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس میں پیش کر دیا گیا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل اجلاس میں پیش کیا اور اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی اس بل کے مسودے کے مطابق اب از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔ یہی کمیٹی بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کم از کم تین ججوں پر مشتمل بینچ کو بھجوائے گی۔

    ازخود نوٹس کے تحت مقدمات میں سپریم کورٹ کے بینچ کے کسی بھی فیصلے پر اپیل کے حق کے بارے میں بل میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کے 30 دن کے اندر سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے پاس اپیل کی جا سکے گی جسے دو ہفتے کم وقت کے اندر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ ہنگامی سماعت یا عبوری ریلیف کے لیے دائر کی گئی درخواستیں بھی 14 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔

    قائمہ کمیٹی کی تجویز کردہ ترمیم کے مطابق آئین کی تشریح سے متعلق معاملات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا بینچ کم سے کم پانچ ججوں پر مشتمل ہو گا۔

    اس کے علاوہ از خود نوٹس کے حتمی فیصلے یا حکم نامے کے خلاف اپیل 30 روز کے اندر کی جا سکے گی اور 30 دن میں اپیل دائر کرنے کا حق ان متاثرین کو بھی ہو گا جن کے خلاف ماضی میں آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت از خود نوٹس کے مقدمات میں فیصلہ آیا ہو۔

    خیال رہے کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سینیئر رہنما جہانگیر ترین کو بھی از خود نوٹس کے مقدمات میں ہی تاحیات نااہلی کی سزائیں ہوئی تھیں۔

  17. لاہور ہائی کورٹ نے بغاوت کے قانون کے سیکشن 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    جسٹس شاہد کریم

    ،تصویر کا ذریعہLAHORE HIGH COURT

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بغاوت کے قانون کے سیکشن 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ان کا موقف تھا کہ تقاریر پر بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے جبکہ آئین آزادی اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ دوران سماعت سرکاری وکلا نے بغاوت کے قانون کے سکیشن 124 اے کا دفاع کیا تھا تاہم درخواست گزار کا موقف تھا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ’بغاوت کا قانون غلاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور کسی کے کہنے پر بھی مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔‘

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

    دوسری جانب فواد چوہدری نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر موقف دیا کہ ’لاہور ہائیکورٹ نے فوجداری قانون کی دفعہ 124A کو آئین سے متصادم قرار دے دیا اور ریاستی اداروں پر تنقید کا آئینی حق تسلیم کر لیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’اس فیصلے سے میرے مقدمے سمیت درجنوں سیاسی بنیادوں پر بنائے مقدمے ختم ہو جاتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت اعلی اور آزادی کے اصولوں کو تسلیم کیا جانیوالا فیصلہ ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. تین ماہ میں ایسا کیا ہو گا کہ پی ڈی ایم الیکشن کروا دے گی؟ فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’اکتوبر میں انتخابات کا مطلب ہے کہ یہ حکومت 10 اگست کو فارغ ہو گی‘ لیکن انھوں نے سوال کیا کہ ’تین مہینوں میں کیا معجزہ ہونا ہے کہ PDM الیکشن میں چلا جائے گا؟‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’اس بات کا کوئی امکان نہیں IMF سے معاہدہ ہو یا نہ ہو پاکستان کے معاشی مسائل میں اضافہ ہونا ہے اور PDM کی سیاست میں واپسی کا دور دور امکان نہیں۔‘

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اگر پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں آئین پر عمل نہ ہوا اور انتخابات نہ ہوئے تو اس کا سیدھا مطلب پاکستان میں ایک غیر آئینی سیٹ اپ کا قیام ہو گا جو سال دو سال نہیں جب تک چل سکے گا چلے گا۔‘

    فواد چوہدری نے لکھا کہ ’جو حالات ہیں یہ اقدام پاکستان میں خانہ جنگی کی ابتدا کر سکتا ہے اور کوئی اسے نہیں روک سکے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. توشہ خانہ کیس: عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور، سماعت 29 اپریل تک ملتوی

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت میں آج ان کے وکیل کی جانب سے دائر کردہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی گئی ہے اور سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اور حکومت نے ان کی سکیورٹی بھی واپس لے لی ہے جس کے بارے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ رپورٹ طلب کر چکے ہیں۔

    سکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان سیشن عدالت میں موجود نہیں اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی پیش ہو سکتے ہیں۔

  20. بریکنگ, لکی مروت میں پولیس پر دہشتگرد حملہ، ڈی ایس پی سمیت چار اہلکار ہلاک، پانچ زخمی

    Police attack

    ،تصویر کا ذریعہKP Police

    صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر لکی مروت میں گذشتہ رات پولیس تھانے پر حملے اور اس کے بعد پولیس کی گاڑی پر ہونے والے آئی ای ڈی دھماکے میں ڈی ایس پی لکی مروت سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

    کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے پہلے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ گذشتہ رات ایک بجے تھانہ صدر پر حملہ کیا گیا جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے بعد واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی لکی مروت اقبال مومند پولیس نفری کے ساتھ تھانہ صدر روانہ ہوئے تو راستے میں روڈ پر آئی ای ڈی دھماکے میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور ڈرائیور زخمی ہو گیا۔

    ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ڈی ایس پی لکی اقبال مومند، کانسٹیبل وقار، کانسٹیبل علی مرجان اور کانسٹیبل کرامت اللہ شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان رواں برس پولیس پر ہونے والے دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوری میں پشاور پولیس لائنز میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ فروری میں کراچی پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں بھی جانی نقصان ہوا تھا۔