الیکشن التوا کیس کل سماعت کے لیے پھر مقرر، جسٹس امین بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے عملے کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت اب جمعے کی صبح ساڑھے 11 بجے ہو گی تاہم بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. قانون کے خلاف فیصلے ہرگز قابل قبول نہیں: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ 4/3 کو 3/2 میں کیوں بدلا گیا؟

    ’اس کے پیچھے مقاصد کیا تھے اور اس میں کون کون شامل تھا؟ کیا اس اہم ترین نقطے کا احاطہ کیے بغیر، زور زبردستی سے قانون کے خلاف فیصلے کو قالین کے نیچے چھپا کر کوئی بھی فیصلہ قابل قبول ہو گا؟ ہرگز نہیں!‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. فوج کو تنقیدی خط لکھنے والے حسن عسکری کے خلاف فیصلہ ’آج تک اہل خانہ کو نہیں دکھایا گیا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ کو تنقیدی خط لکھنے کے الزام میں پانچ برس قید کی سزا پانے والے حسن عسکری کے والد میجر جنرل ریٹائرڈ سید ظفر مہدی عسکری نے منگل کو کہا ہے کہ ’کیس کا فیصلہ آج تک اہلخانہ یا وکیل کو نہیں بتایا گیا۔‘

    حسن عسکری کے اہلِ خانہ نے منگل کو نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ ان کے والد میجر جنرل ریٹائرڈ سید ظفر مہدی عسکری نے کہا کہ انھوں نے 33 سال ملک کی خدمت کی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’2 اکتوبر 2020 کو سویلین بیٹے حسن عسکری کو اسلام آباد میں واقع گھر سے اُٹھانے کے فوری بعد فوجی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ حسن عسکری کو اس کے بعد کورٹ مارشل کر کے پانچ سال سخت قید کی سزا سُنائی گئی حالانکہ گرفتاری سے لے کر آج تک بارہا درخواست کے باوجود نہ حسن عسکری کو اور نہ ہی ان کے اہلخانہ کو فیصلے یا الزامات کی چارج شیٹ دی گئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ اپنی پیاری فوج کے متعلقہ حکام سے پچھلے اڑھائی سال سے ملاقات کے لیے وقت مانگ رہے ہیں اور دو درجن سے زائد خطوط لکھ چکے ہیں لیکن آج تک نہ تو اُن کے خطوط کا جواب دیا گیا نہ ملاقات کا وقت بتایا گیا۔

    حسن عسکری کے والد نے بتایا کہ ان کی اس آزمائش کی وجہ اُن کے بیٹے کے آرمی چیف اور سینیئر جرنیلوں کو لکھے گئے مبینہ خطوط ہیں جس میں انھوں نے افواج پاکستان کے کچھ فیصلوں کے اثرات کی صورت میں پاکستان کے معاشی اور سیاسی طور پر متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’حسن عسکری کا ایک بدترین غیر منصفانہ، غیر شفاف اور جانبدارانہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل ٹرائل کیا گیا۔۔۔ کورٹ مارشل کی پوری کارروائی کے دوران کہیں نہیں بتایا گیا کہ مبینہ خط سے کہاں پر فوج میں بغاوت ہوئی یا سینئرز کا حُکم ماننے سے انکار کیا گیا اور اس وجہ سے حسن عسکری یا اُن کے وکیل کے لیے اپنا دفاع ناممکن بنا دیا گیا۔‘

  3. حسان نیازی کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کارِ سرکار میں مداخلت اور اشتعال انگیزی سے متعلق کیس میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

    ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عدنان علی نے سٹیٹ کی طرف سے درخواست دائر کی۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے حسان نیازی کو 30 مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیا۔ جبکہ ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان نے فریقین کو نوٹس جاری کیے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریاست کو سنے بغیر ضمانت منظور کی۔ پراسیکوٹر کو نوٹس سے متعلق آگاہ بھی نہیں کیا اور مجسٹریٹ نے فیصلہ کردیا۔

    ’مجسٹریٹ کا ضمانت منظوری کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔ حسان نیازی مقدمے میں نامزد ہے ضمانت کا حقدار نہیں۔ حسان نیازی پر پولیس اہلکاروں پر اقدام قتل کا الزام ہے۔‘

    اس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حسان نیازی کی ضمانت منسوخ کرے۔

  4. ’کیا بینچوں کی تشکیل فرد واحد کا فیصلہ ہوگا؟‘

    عطا تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بینچوں کی تشکیل میں قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اس پر اب سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں جبکہ پارلیمان میں بھی یہ زیرِ بحث ہے۔

    سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا ٹاک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان میں بھی بحث شروع ہوچکی ہے کہ کیا بینچوں کی تشکیل فرد واحد کا فیصلہ ہوگا۔‘

    ’سینیارٹی کا اصول کہتا ہے کہ آپ سینیئر ضرور ہیں لیکن سب برابر ہیں۔ کیا سینیارٹی کا اصول یہ اجازت دیتا ہے کہ بینچوں کو یکطرفہ بنا دیا جائے؟ سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اٹھتی ہیں کہ یہ چار تین کا فیصلہ ہے۔ ہم بھی آج تک اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔‘

    ’کیا سپریم کورٹ کو اپنا ہاؤس اِن آرڈر نہیں کرنا چاہیے، کیا بینچوں کی تشکیل کے وقت مشاورت نہیں کرنی چاہیے۔ چار تین واضح ہوچکا تو پھر اس کیس کو سننے کا کیا منطق ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’آئین کی مرضی کی تشریح کی جاتی ہے، بینچوں کی تشکیل کا مسئلہ سپریم کورٹ کے اندر سے اُٹھا ہے، آئین کی غلط تشریح سے بحران پیدا ہوا۔‘

    ’حکومت کے پاس 20 ارب روپے ہیں، مگر دو بار خرچنے کے لیے نہیں‘

    عطا تارڑ نے کہا کہ ’(حکومت کے پاس) الیکشن کے لیے 20 ارب روپے ہیں، لیکن ایک شخص کی انا کے لیے 20 اب روپے دو بار خرچ کرنے کے لیے نہیں ہیں۔

    ’دو صوبائی اسمبلیوں میں الیکشن سے 20 ارب روپے دو بار خرچ ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دو الیکشن ایک ایسی لگژری ہے جو پاکستان برداشت نہیں کر سکے گا۔‘

  5. مسلح افواج کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ہم الیکشن ڈیوٹی نہیں کرسکتے: جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’مسلح افواج حکومت کے ماتحت ہوتی ہیں۔ وہ کیسے کہہ سکتے ہیں ہم (الیکشن ڈیوٹی) نہیں کرسکتے۔ ڈیوٹی کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کیا ہم سمجھیں کہ قوم دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ کیا یہ پھر بنانا ریپبلک بن گیا ہے۔‘

    جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اتھارٹی یا قانون نہیں تھی کہ الیکشن تاریخ کی توسیع کرے۔‘

    ’اصل صورتحال یہ ہے کہ اتنے لمبے عرصے کے لیے الیکشن ملتوی کیسے کیے جاسکتے ہیں۔ بےنظیر بھٹو کی شہادت پر الیکشن صرف چالیس دن آگے ہوئے تھے۔ احتجاج کے باعث الیکشن کمیشن کے دفاتر نظر آتش کردیے گئے تھے۔۔۔ الیکشن کے لیے سیاسی پختگی کی ضرورت ہے۔

    ’جہاں نقل و حرکت مشکل ہو وہاں الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ جلدی بازی میں لکھا گیا۔‘

    سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی ہوچکی ہے۔ بدھ کو الیکشن کمیشن کے وکیل اپنے دلائل دیں گے۔

  6. لیپ ٹاپ سکیم کے لیے 10 ارب نکل سکتے ہیں تو الیکشن کے لیے 20 ارب کیوں نہیں: جسٹس اعجاز الاحسن

    منگل کو الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے اواخر میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن نے بال وفاقی حکومت کی کورٹ میں پھینکی ہے۔ جواب بالاخر وفاقی حکومت کو ہی دینا ہوگا۔‘

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ ’صرف پنجاب کی حد تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا ہے۔ گورنر کے پی کا معاملہ سپریم کورٹ میں الگ سے چیلنچ ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کا دفاع اس کے وکلا کریں گے۔

    ’حکومت سے فنڈز اور سکیورٹی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پولنگ سٹیشنز پر فوج تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ فنڈز کے حوالے سے کل سیکریٹری خزانہ سے معلومات لے کر تفصیل دوں گا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 170 ارب حکومت نے وصول کرنے تھے۔ اضافی وصولی کے لیے ضمنی بجٹ دیا گیا۔ جو معلومات ابھی دے رہا ہوں وہ میری سمجھ کے مطابق ہیں۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’کیا مزید اقدامات کر کہ 20 ارب اضافی نہیں لیے جا سکتے۔ حکومت نے تخمینہ 170 ارب سے زیادہ کا ہی لگایا ہو گا۔‘ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تیس جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے۔ ’آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ شرح سود میں اضافہ کیا جائے۔ شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔‘

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ’کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کے لیے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتحابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرون خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی زمہ داری ہے۔‘

    اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’اٹھارہوں ترمیم کے بعد وفاق غریب اور صوبے امیر ہوئے ہیں۔ معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں۔‘ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا ’سیکریٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا۔ انہوں نے ایسا کہا ہوگا۔‘

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ناراضی ظاہر کی کہ ’معاملہ ترجیحات کا ہے۔ لیپ ٹاپ کے لیے 10 ارب روپے نکل سکتے ہیں، تو الیکشن کے لیے 20 ارب کیوں نہیں۔

    اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ ’ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اراکین کو فنڈز دیے گیے ہیں۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’اراکین کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا ’ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ہدایت لے کر آگاہ کروں گا۔‘

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’الیکشن کے لیے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاقی کی؟‘

    جسٹس منیب اختر نے کہا ’آرٹیکل 245 کے تحت حکومت فوج کو انتخابات کے دوران ڈیوٹی دینے کے لیے پابند کرسکتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ملک میں جب بُرے حالات تھے تب بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سیاستدانوں نے دہشتگردی کو بھگتا ہے۔ اس کے باوجود بھی الیکشن ہوئے ہیں۔ ہم نے برے حالات کے نتیجے میں پی پی پی کی چیئر پرسن کو کھویا، اس کے باوجود انتخابات ہوئے تھے۔ اے این پی نے بھی دہشتگردی کو بھگتا ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ ’آپ کیا گارنٹی دے سکتے ہیں؟ اگر اکتوبر میں بھی یہی حالات رہے تو آپ کیا کریں گے؟‘

  7. الیکشن کمیشن کے پاس یہ گنجائش نہیں کہ انتخابات کی تاریخ تبدیل کرے: علی ظفر

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران یہ طے ہوا ہے کہ ’سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ آگے کر سکتا ہے۔‘

    سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا ٹاک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ وہ انتخابات کی تاریخ تبدیل کرے۔ ملک میں عام انتخابات عوام کا حق ہے۔‘

    ’آئین کی شقوں کی روشنی میں اس پر بحث ہوئی۔ ہم نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کرنے کی گنجائش نہیں۔ الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں، یہ لوگوں کا بنیادی حق ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’الیکشن میں حصہ لینا، اسمبلی میں اپنے نمائندے چننا اور حکومت بنانے کے عمل میں توسیع کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ’جو بھی فیصلہ آئے گا اسے تسلیم کریں گے۔‘

    ان کے ساتھی فواد چوہدری نے کہا کہ پی ڈی ایم کے کروڑوں روپے یہ بیانیہ بنانے پر خرچ ہوئے کہ سپریم کورٹ کو انڈر مائن کر سکیں۔ ’میڈیا والوں کے اشتہار پانامہ کیس کے دوران بھی بڑھ گئے تھے۔‘

    ’جسٹس مندوخیل کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے کہا یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے، ہم اسے خود ہی دیکھ لیں گے۔ الیکشن کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘

  8. ترازو کا جھکاؤ ایک طرف چلا گیا، عمران خان گناہوں پر معافی مانگیں: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہNA

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’ایک شخص (عمران خان) کے لیے رات کے گیارہ بجے عدالت کھلتی ہے، ضمانت ہوتی ہے، صبح دوپہرعدالت کھلتی ہے اور انھیں ضمانت مل جاتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ترازو کا جھکاؤ ایک طرف چلا گیا ہے، یہ عدم توازن نہیں رہ سکتا۔ اس کی تصحیح فوری طور پر ہونی چاہیے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک عمران خان قوم سے معافی نہیں مانگے گا تب تک اس سے بات نہیں ہو سکتی۔

    ’جب تک کہ وہ قوم کے سامنے یہ تسلیم نہ کرے کہ میرے ماضی کی وجہ سے قوم کو، آئین، جمہور عدلیہ کو زک پہنچی ہے اور اس پر معافی مانگتا ہوں تو پھر ہم سب بیٹھ کر مشورہ کرلیں گے، کیوں کہ ہمارے پاس توپیں، چھڑیاں نہیں صرف شائستہ زبان، آئین اور قانون ہے۔

  9. بریکنگ, سیاستدانوں کے خلاف آنکھیں بند کر کے کیس بن جاتے ہیں، کتنے اعلیٰ جج کرپشن پر نکالے گئے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک میں غیر منصفانہ نظام نہیں چلے گا۔ سیاستدانوں کے خلاف فوری کیسز بن جاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ آج تک کتنے اعلیٰ ججوں کو کرپشن کے باعث نکالا گیا۔

    منگل کو خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ 'حقائق اور سچائی کو سامنے لایا جانا ضروری ہے۔'

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’سیاستدان جیلوں میں جاتے ہیں، کتنے اعلیٰ جج کرپشن پر نکالے گئے؟ میں جاننا چاہتا ہوں۔ اور سیاستدانوں کے خلاف آنکھیں بند کر کے کیسز بن جاتے ہیں۔ یہ غیر عادلانہ اور غیر منصفانہ نظام نہیں چلے گا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’میں آئین کا مقدمہ لے کر پیش ہوا ہوں۔ آئین کا سنگین مذاق بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کو ملک میں جاری معاملات کا فی الفور نوٹس لینا ہوگا۔ ‘

    ’ارکان پارلیمان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم گائے بھینس کی طرح ہانکیں جائیں گے یا آئین پر عمل در آمد کریں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اس پر فیصلہ کرنا ہوگا۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ہم ہر فیصلے میں کابینہ سے مشاورت کرتے ہیں تو باقی تمام اداروں کو بھی اپنی کابینہ کے مشورے سے مل بیٹھ کر فیصلہ کرنے چاہییں۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حال ہی میں آڈیو لیک سامنے آئی جس میں سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں باتیں کی گئیں۔ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ آڈیو کا فرنزک کروایا جائے۔ اگر جھوٹی ہے تو مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے اگر سچ ہے تو سچ سامنے آنا چاہیے۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اب عدل نظر آئے گا تو تمام خطروں کے بادل ختم ہو جائیں گے۔‘

    ‘ترازو کا توزان ہی جنگل کے قانون کو بدلے گا، ججوں کے نام گلی محلے کے بچوں کی زبان پر ہیں۔ اسے بدلنے کے لیے انصاف کا بول بالا کرنا ہوگا۔ ‘’اگر ہم نے قانون سازی نہیں کی تو ملک اور آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گے۔‘

  10. الیکشن کمیشن نے وہ اختیار استعمال کیا جو اس کا تھا ہی نہیں: جسٹس اعجاز الاحسن

    پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’کیا بجٹ میں انتحابات کے لیے فنڈز مختص ہیں۔ اگر فنڈز نہیں ہیں۔ تو فنڈز لینے کا طریقہ کار آئین میں درج ہے۔ ‘

    اس پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ سال چیف الیکشن کمشنر نے بتایا تھا کہ نومبر دوہزار بائیس میں الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ اب الیکشن کمیشن اچانک کہتا ہے فنڈز نہیں ہیں۔ فنڈز نہ ہونا الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی بہانہ نہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتحابی عملہ موجود ہے۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیکورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومتوں کی زمہ داری ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی عدم دستیابی کا ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس نفری کم ہونے کا بہانہ تو ہمیشہ رہے گا۔‘ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریماکس دیے کہ ’میرے سابق چیف جسٹس کو قتل کردیا گیا۔ کیا یہ ٹھوس وجہ نہیں ہے۔‘ اس پر وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسی بھی وجہ نہیں ہے الیکشن نہ کروائے جائیں۔ کیا نگران حکومت نفری دینے سے انکار کرسکتی ہے۔ ‘

    اس موقعے پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے وہ اختیار استعمال کیا جو اس کا تھا ہی نہیں۔ ‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریماکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن ہائیکورٹ سے بھی رجوع کرسکتا تھا۔ ‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا حکم تھا تو معاملہ یہیں آنا تھا۔ ‘

    جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’ہائی کورٹ جانے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے۔‘

    وکیل علی ظفر کا جواب تھا کہ ’وقت کی قلت ہے مزید چارہ جوئی میں مزید وقت ضائع نئیں کرسکتے۔ ‘

    علی ظفر کی جانب سے درخواست پر دلائل پیش کردیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اب وقفہ ہے جس کے بعد اب وفاقی حکومت کو جواب دینا ہے۔

  11. ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں: چیف جسٹس

    پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’یہ تکنیکی نقطہ ہے کے پیسے کہاں سے آنے ہیں؟‘

    چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ’ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، معاشی بحران کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بحران سے نمٹنے کے لیے قربانی دینا ہوتی ہے، پانچ فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے، سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے۔ پنجاب کی صورتحال خیبرپختونخوا سے مختلف ہے،ترکی میں زلزلہ متاثرہ علاقوں کے علاوہ کر جگہ الیکشن ہو رہے ہیں۔ ‘

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’الیکشن ایکٹ بھی کہتا ہے کہ جہاں مسئلہ ہو وہاں پولنگ منسوخ ہو سکتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ پورا الیکشن ملتوی کر دیا جائے۔‘

    اس موقعے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔‘

  12. چیف جسٹس کی جانب سے انتحابات کےلیے ججز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے یہاں آئین خاموش ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیے۔‘

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ ترمیم کر لے تو یہ سب سے اچھا ہو گا، سوال یہ ہے کہ ترمیم ہونے تک جو انتخابات ہونے ہیں ان کا کیا ہو گا‘۔

    اس پر وکیل علی ظفر ’جس بنیاد پر الیکشن ملتوی ہوئے اس طرح تو کبھی الیکشن نہیں ہو سکتے، الیکشن کمیشن نے کہا فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، الیکشن کمیشن نے کبھی فنڈز دینے کی ہدایت نہیں کی تھی۔‘

    اس موقعے پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’ اخبار میں وزیر اعظم کا بیان پڑھا تھا، وفاقی حکومت کہتی ہے فروری تک 500 ارب ٹیکس جمع کیا، حیرت ہے کہ پانچ سو ارب میں سے بیس ارب نہیں دیے گئے۔‘

    پی ٹی آئی کہ وکیل کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کے حکمنامے کے مطابق سیکرٹری خزانہ نے کہا فنڈز دینا مشکل ہو گا، وزارت خزانہ نے مشکل کہا تھا انکار نہیں کیا تھا۔‘

    اس پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ’سیکرٹری خزانہ نے تو کہا الیکشن کے لیے فنڈز نہ ابھی ہیں نہ آگے ہوں گے، اس کا مطلب ہے کہ الیکشن تو ہوں گے ہی نہیں، حکومت کا کوئی سیکرٹری ایسا بیاں کیسے دے سکتا یے، ٹیکس جمع ہو کر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز میں جاتا ہے۔‘

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کے لیے پورے بجٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بیس ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ حکومت اخراجات کم کر کے بیس ارب نکال سکتی ہے۔‘

    اس پر وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا فیڈرل کنسولٹیڈفنڈز کے اخراجات پارلیمنٹ کی منظوری سے خرچ ہوتے ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا ’اگر اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کیا فنڈز جاری ہی نئیں ہو سکیں گے۔ ‘

    اس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ’موجودہ کیس میں قومی اسمبلی موجود ہے۔ نئی اسمبلی اخراجات کی منظوری دیتی ہے۔ سیکریٹری خزانہ کے بیان کا جواب الیکشن کمیشن ہی دے گا۔ ‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’سیکرٹری خزانہ منظور کردہ بجٹ سے ہٹ کر فنڈز کیسے دے سکتا ہے۔ ‘

  13. بریکنگ, کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا ہے: چیف جسٹس

    پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’جیسے بھی گیا الیکشن 90روز آگے چلا گیا۔‘ اس پرپی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’صرف فنڈز کی کمی کے باعث الیکشن ملتوی نہیں ہو سکتے، امن و امان اور عملہ کی قلت بھی الیکشن ملتوی کرنے کا بہانہ نہیں ہے، پہلے کوئی انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہا تھا اور سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا۔‘

    اس پر جسٹس اعجازالاحسن ’انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ حل ہو چکا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل بھی ہو گیا، سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن سارے عمل کو ختم کرکے انتخابات ملتوی کر سکتا ہے؟ کیا الیکشن کمیشن خود انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر سکتا ہے۔‘

    اس پر وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’نہیں الیکشن کمیشن خود تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتا ہے‘۔

    اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’1988 اور 2008 میں انتخابات ملتوی کیسے ہوئے۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ’ الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ شفاف انتخابات یقینی بنائیں۔‘

    اس پر جسٹس جمال منددوخیل نے سوال کیا کہ’اگر الیکشن کمیشن تاریخ ہی نہ دے اور معذوری ظاہر کر دے تو پھر کیا ہو گا۔‘

    جسٹس اعجازالاحسن کا بھی کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن خود تاریخ نہیں دے سکتا۔‘

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ جس ادارے کا کام ہی الیکشن کروانا ہے وہ آئینی ذمہ داری ادا نہ کر سکتا ہو۔‘

    چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ ’کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا ہے۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’ہم الیکشن کمیشن کی بجائے اداروں سے پوچھ سکتے ہیں جو مدد نہیں کر رہے‘

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’اگر ادارے یہ کہ دیں کہ ہم آئین نہیں مانتے تو انارکی پیدا ہو گی، ہر ادارہ اور شہری آئین پر عمل کرنے کا پابند ہے۔‘

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل ن ےاستفسار کیا کہ ’کیا صدر مملکت کا 90 روز بعد الیکشن کی تاریخ دینا بھی آئین کی خلاف ورزی نہیں؟‘

    اس موقعے پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ’اگر انتخابات ممکن نہیں تھے تو الیکشن کمیشن کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا، ایک اسمبلی کے شیڈول کے دوران دوسری اسمبلی تحلیل ہو جائے تو ایک ہی دن انتخابات کے لیے رجوع کیا جا سکتا ہے، الیکشن کمیشن ازخود ایسا حکم جاری نہیں کر سکتا۔ الیکشن کمیشن چھ ماہ الیکشن آگے کر سکتا ہے تو دو سال بھی کر سکے گا۔

  14. نوے دن اب بھی گزر گئے ہیں، آئین کی ہمارے ملک میں کوئی پرواہ نہیں کرتا: جسٹس جمال مندوخیل

    پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ ’کیا الیکشن شیڈول نوے دن سے کم کیا جاسکتا ہے۔ ‘

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس نوے دن کا اندر شیڈول ایڈ جسٹ کرنے کا اختیار ہے۔ الیکشن کمیشن بظاہر نوے دن سے تاخیر نہیں کرسکتا۔‘ جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا ہے کہ ’نوے دن اب بھی گزر گئے ہیں۔ آئین کی ہمارے ملک میں کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ الیکشن تو ہر صورت ہونے ہیں۔‘

    ’لیکن سوال یہ ہے کہ اب نوے دن سے زیادہ تاریح کون بڑھائے گا؟ ‘

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک بندے کی خواہش پر اسمبلی تحلیل ہونی چاہیے۔‘

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا ’وزیر اعظم اور وزیرِ اعلی منتحب نمائندے ہوتے ہیں۔ ‘

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’اگر وزیراعظم کی اپنی جماعت عدم اعتماد لانا چاہیے تو اسمبلی ٹوٹ سکتی ہے۔‘

    اس پر پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’تحریک عدم اعتماد آجائے تو اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی۔ ‘

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’صدر مملکت کی تاریخ پر الیکشن کمیشننے شیڈول جاری کیا، سوال یہ ہے کیا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ صدر مملکت کی تاریخ کو تبدیل کر دے، کیا الیکشن کمیشن 90 دن سے زیادہ کی تاخیر کر سکتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن ایسا کر سکتا ہے؟

    اس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب کی حد تک عدالتی فیصلہ پر عمل کیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ ’کیا الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ کا تعین کرنے کا اختیار ہے، کیا الیکشن کمیشن صدر کی تاریخ کو تبدیل کر سکتا ہے؟۔‘

  15. دو ججز کے اختلافی نوٹ کا موجودہ کیس سے براہ راست تعلق نہیں، فی الحال سنجیدہ معاملات سے توجہ نہ ہٹائی جائے: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دو ججز کے اختلافی نوٹ کو دیکھا جن کا اپنا نقطہ نظر ہے، دو ججز کے اختلافی نوٹ کا موجودہ کیس سے براہ راست تعلق نہیں۔ فیصلہ کتنی اکثریت کا ہے اس کا جائزہ بعد میں لیا جا سکتا ہے، فی الحال سنجیدہ معاملات سے توجہ نہ ہٹائی جائے۔‘

    اٹارنی جنرل نے انتخابات کیس کے لیے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپکی استدعا ہم نے سن لی، موجودہ کیس میں استدعا ہی فیصلے پر عملدرآمد کی ہے، بنچ کے ارکان درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں، آپ کا انحصار تکنیکی نکتے پر ہے۔ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا۔‘

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے، یہ بتائیں کہ کیا نوے روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟ کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟‘

    اس موقعے پر چیف جسٹس نے معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا شکریہ ادا کیا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’تمام قومی اداروں کا احترام لازمی ہے‘۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے جواباً کہا ’آپکی اعلی قیادت سے بھی ایسے رویے کی توقع ہے‘۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو پہل کرنی ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انھوں نے کیا ہے۔ ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں آٹے کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں، آپس میں دست و گریبان ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں۔‘

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تو بحران مزید بڑھے گا‘۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف پہل کرے گی تو ہی حکومت کو کہیں گے‘۔

  16. جمہوریت کیلئے انتخابات ضروری ہیں: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ نے دو ججز کے فیصلے کی روشنی میں اٹارنی جنرل کی جانب سے یکم مارچ کے فیصلے پر اعتراضات مسترد کر دیے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عدالتی فیصلے پر عمل در آمد ہو چکا ہے، اب معاملہ اس سے آگے کا ہے۔ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں۔ آپ بھی آگے بڑھیں۔‘

    اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’ہم اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ ‘

    اٹارنی جنرل نے معاملے پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کی اجتماعی دانش کی ضرورت ہے۔

    پی ٹی آیی کے وکیل علی ظفر نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں چار سوالات اٹھائے گئے ہیں: ایک یہ کہ کیا الیکشن کمیشن کا اقدام آئین کے خلاف ہے؟

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’عدالتی فیصلہ اگر چار تین کا ہوا تو کسی حکم کا وجود ہی نہیں جس کی خلاف ورزی ہوئی، عدالتی حکم نہیں تھا تو صدر مملکت تاریخ بھی نہیں دے سکتے تھے، یکم مارچ کے عدالتی حکم کو پہلے طے کر لیا جائے۔‘

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اس وقت مقدمہ تاریخ دینے کا نہیں منسوخ کرنے کا ہے، جمہوریت کیلئے انتخابات ضروری ہیں‘۔

    اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ’تکنیکی بنیادوں پر معاملہ خراب نہ کریں۔‘

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا ہے، اس معاملے کو دوبارہ اٹھا کرعدالت میں پیش نہ کیا جائے۔‘

    فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے، عدالت ہمیں موقع دے تو کیس تیار کریں گے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ ’آپ سینئر وکیل ہیں، کیس تو آپکے دل میں ہے، معاشرے اور سیاسی قیادت میں ڈسپلن کی ضرورت ہے۔ ‘

  17. بریکنگ, کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے، سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں: سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں صوبائی عام انتخابات ملتوی کے جانے کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے دائر مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ’توقع ہے آپ سے بہترین معاونت ملے گی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’کارروئی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے، سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’اس سوال کا جواب طلب کرنا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس یہ حق ہے کہ وہ الیکشن ملتوی کرسکتا ہے؟ اور اگر ہے تو اس کا قانونی جواز کیا ہے۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’کیا الیکشن کی جو تاریخ دی گئی ہے وہ آئین کے مطابق ہے، بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب آپ کی معاونت سے ہم حاصل کرنا چاہیں گے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’سیاسی پارٹیوں سے متعلق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بات کی تھی، سینیئر پارلیمنٹ کے اراکین عدالت میں کھڑے ہیں، جمہوریت میں برابری کی بات کی جاتی ہے، جمہوریت میں رول آف لا بھی ہوتا ہے، ‏ہم نے حقیقت کو بھی دیکھنا ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معاشرے اور سیاسی قیادت میں ایک ڈسپلن دیکھنا ہے‘۔

    اس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا ’ عدالت کو ملکی زمینی حقائق کو سامنے رکھنا ہوگا، عدالت کو ملک کے تمام منتخب نمائندوں کو سننا ہوگا، ہمیں اپنی نسلوں کے مستقبل کو تحفظ دینے کے لیے سوچنا ہوگا۔ ‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ س معاملے کو آج سماعت کے آخر میں دیکھتے ہیں۔‘

    اس موقعے پر جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ’یہ معاملہ آپ پارلیمنٹ میں کیوں حل نہیں کرتے؟ ‘

    اس کے جواب میں چیف جسٹس سپریم کورٹ اچھی نیت کیساتھ کیس سن رہی ہے، فریقین نے فیصلہ کرنا ہے کہ حالات کو کس طرف لیکر جاتے ہیں، عدالت نے حقیقت کو دیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔‘

  18. تحریک انصاف بلوچستان کے سوشل میڈیا ہیڈ ماجد تاجک کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا: قاسم سوری

    سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا کہنا ہے تحریک انصاف بلوچستان کے سوشل میڈیا ہیڈ ماجد تاجک کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے بقول کوئٹہ پولیس بھی چھاپے سے لاعلم ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. بریکنگ, ججز کے اضافی اور اختلافی نوٹ آتے رہتے ہیں جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: فواد چوہدری

    پاکستان کے صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کیے جانے کے خلاف آج سپریم کورٹ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کر کے گی۔ سماعت کل پیر کے روز سے شروع ہوئی تھی اور اس کا تحریری فیصلہ آچکا ہے۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ آئین کے مطابقالیکشن وقت پر ہونا لازم ہیں۔ عدالتی حکم کے مطابق سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ اور الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی سوالات کے جواب دے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ چار تین کا ہے اسی دن بتا دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 218(3) کے تحت اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا۔ الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری بھی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز کے اضافی اور اختلافی نوٹ آتے رہتے ہیں۔ اضافی اور اختلافی نوٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ تحریک انصاف آزاد اور خود مختار عدلیہ چاہتی ہے۔‘

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مریم اورنگزیب جنھوں نے کبھی کونسلر کا الیکشن نہیں لڑا اس کو ترجمان بنا دیا گیا ہے۔‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر عدالت عظمی کی طرف سے لیے جانے والے از خود نوٹس کیس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس از خود نوٹس لینے اور سپیشل بینچز بنانے کے وسیع اختیارات ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ پر تنقید اور اس کی عزت و تکریم میں کمی ہوتی ہے۔

  20. اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف 29 مقدمات درج ہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ میں تفصیلات جمع

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف کیسز کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    عدالت میں جمع کروائی گئی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف 29 مقدمات درج ہیں۔

    عمران خان کی جانب سے وکیل فیصل فرید چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    اسٹیٹ کونسل کے مطابق اسلام آباد پولیس نے عمران خان کے خلاف 28 مقدمات درج کر رکھے ہیں، جبکہ ایف آئی اے میں عمران خان کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔

    وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’کوئی ایک مقدمہ ہو تو سمجھ آتی ہے یہاں بہت سے ہیں، آئی جی کے نمائندہ بھی یہاں عدالت میں ہیں، ہمیں شامل تفتیش ہونے کا کہا گیا ہے لیکن کوئی فون نہیں اٹھاتا۔

    چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ بیٹھ کر تمام صورتحال کو دیکھیں اور فیصل چوہدری کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ عدالت نے درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹا دی۔

    پی ٹی آئی رہنما وکیل فیصل چودھری کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ’کم عمر بچوں کا ریمانڈ ہوا جس سے متعلق چیف جسٹس کو کہا ہے۔‘

    ’چیف جسٹس نے کہا سوموٹو کا اختیار نہیں تفصیلات دیں تاکہ قانون کے مطابق کاروائی کریں۔ تمام تفصیلات اکٹھی کر کے چیف جسٹس کے آفس میں جمع کروائیں گے‘۔

    وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’رانا ثنا اللہ کے دھمکی آمیز بیان کیخلاف رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم ہوگیا ہے، عدالت نے درخواست پر نمبر لگا کر مقرر کرنے کی ہدایت کیہے۔‘