منگل کو الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے اواخر میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن نے بال وفاقی حکومت کی کورٹ میں پھینکی ہے۔ جواب بالاخر وفاقی حکومت کو ہی دینا ہوگا۔‘
اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ ’صرف پنجاب کی حد تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا ہے۔ گورنر کے پی کا معاملہ سپریم کورٹ میں الگ سے چیلنچ ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کا دفاع اس کے وکلا کریں گے۔
’حکومت سے فنڈز اور سکیورٹی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پولنگ سٹیشنز پر فوج تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ فنڈز کے حوالے سے کل سیکریٹری خزانہ سے معلومات لے کر تفصیل دوں گا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 170 ارب حکومت نے وصول کرنے تھے۔ اضافی وصولی کے لیے ضمنی بجٹ دیا گیا۔ جو معلومات ابھی دے رہا ہوں وہ میری سمجھ کے مطابق ہیں۔‘
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’کیا مزید اقدامات کر کہ 20 ارب اضافی نہیں لیے جا سکتے۔ حکومت نے تخمینہ 170 ارب سے زیادہ کا ہی لگایا ہو گا۔‘ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تیس جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے۔ ’آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ شرح سود میں اضافہ کیا جائے۔ شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔‘
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ’کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کے لیے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتحابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرون خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی زمہ داری ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’اٹھارہوں ترمیم کے بعد وفاق غریب اور صوبے امیر ہوئے ہیں۔ معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں۔‘ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا ’سیکریٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا۔ انہوں نے ایسا کہا ہوگا۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ناراضی ظاہر کی کہ ’معاملہ ترجیحات کا ہے۔ لیپ ٹاپ کے لیے 10 ارب روپے نکل سکتے ہیں، تو الیکشن کے لیے 20 ارب کیوں نہیں۔
اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ ’ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اراکین کو فنڈز دیے گیے ہیں۔‘
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’اراکین کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا ’ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ہدایت لے کر آگاہ کروں گا۔‘
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’الیکشن کے لیے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاقی کی؟‘
جسٹس منیب اختر نے کہا ’آرٹیکل 245 کے تحت حکومت فوج کو انتخابات کے دوران ڈیوٹی دینے کے لیے پابند کرسکتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ملک میں جب بُرے حالات تھے تب بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سیاستدانوں نے دہشتگردی کو بھگتا ہے۔ اس کے باوجود بھی الیکشن ہوئے ہیں۔ ہم نے برے حالات کے نتیجے میں پی پی پی کی چیئر پرسن کو کھویا، اس کے باوجود انتخابات ہوئے تھے۔ اے این پی نے بھی دہشتگردی کو بھگتا ہے۔‘
جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ ’آپ کیا گارنٹی دے سکتے ہیں؟ اگر اکتوبر میں بھی یہی حالات رہے تو آپ کیا کریں گے؟‘