الیکشن التوا کیس کل سماعت کے لیے پھر مقرر، جسٹس امین بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے عملے کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت اب جمعے کی صبح ساڑھے 11 بجے ہو گی تاہم بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, انتخابات التوا کیس: ’جب عدالتی حکم ہی جاری نہیں ہوا تو شیڈول کیسے جاری کیا گیا‘, سحر بلوچ، بی بی سی اردو

    جسٹس جمال مندوخیل

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت کے آغاز پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بتائے جب آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دے دی اور ای سی پی نے شیڈول کیسے جاری کر دیا؟

    بدھ کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ صوبوں میں انتخابات کے حوالے سے جو سوموٹو لیا گیا اس میں چار ارکان کا آرڈر آف دی کورٹ ہے جو جاری نہیں ہوا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ دو ججز اس بنچ کا حصہ نہیں تھے تو بتا دیں؟

    سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ گذشتہ روز سماعت کے دوران دیے گئے ریمارکس پر وضاحت کرنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے جو مختصر اور تفصیلی فیصلہ دیا اس پر قائم ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار کس کا ہے کہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالتی حکمنامہ چار ججز پر مشتمل فیصلہ تھا اور یہ آرڈر آف دی کورٹ چیف جسٹس نے جاری نہیں کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ چلیں آپ کی وضاحت آگئی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد فل کورٹ بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے فیصلہ کریں کہ عدالتی فیصلہ چار تین کا ہے یا تین دو کا فیصلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساری قوم ابہام میں بیٹھی ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے فریق بننے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو سن کر پھر فیصلہ کریں گے۔

    دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کس حکم کے تحت فیصلے پرعملدرآمد کیا؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے جواب دیا کہ ’میں اپنی گذارشات پیش کروں گا، الیکشن کمیشن نے یکم مارچ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا، عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے صدر سے رجوع کیا، صدر مملکت نے 30 اپریل کی تاریخ دی۔‘

    سجیل سواتی نے مزید کہا کہ ’تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں، آرٹیکل 218 کی ذمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے، انتخابات کے لیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں‘، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے۔‘

    دوران سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل نے کہا کہ ’ہم نے فریق بننے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے‘، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم الیکشن کمیشن کو سن کر پھر فیصلہ کریں گے‘۔

    اس موقع پر عرفان قادر نے کہا کہ عدالت مجھے بھی سنے جس پر عدالت نے انھیں تحریری درخواست دینے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ میں تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہوں، میں الیکشن کمیشن کے وکیل کے طور پر عدالت کے سامنے معروضات رکھنا چاہتا ہوں، عدالت مجھے نہیں سننا چاہتی تو ٹھیک ہے۔

  2. بریکنگ, سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہو سکتا، ہماری سمجھ میں الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت ہے: رانا ثنا اللہ

    Rana Sanaullah

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہو سکتا۔ اس فیصلے سے پوری قوم منسلک ہے۔

    بدھ کو سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات ملتوی کیس سے سماعت سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے دو ججز کے فیصلے سے پیدا ہونے والا ابہام فل کورٹ سے ہی دور ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں ابہام دور ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی رواداری اور کردار سے ہی ملک میں توازن آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں قوم کی رہنمائی کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری سمجھ بوجھ کے مطابق الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ بڑھانے کی اجازت ہے۔

    قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کے بل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کل قومی اسمبلی نے مناسب وقت پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جیسا الیکشن پی ٹی آئی چاہتی ہے یہ صرف ملک میں انارکی اور انتشار پھیلائے گا اور یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے ملتوی سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست پر اہم سماعت اب سے کچھ دیر میں شروع ہو رہی ہے۔

    آج کی سماعت میں اٹارنی جنرل آف پاکستان اس معاملے میں حکومتی موقف پیش کریں گے۔ جبکہ گذشتہ روز سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ صرف ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔

  3. عمران خان کی پیشی پر وکیل کے گرفتاری کے خلاف اسلام آباد بار کا احتجاج جاری

    ISB BAR

    ،تصویر کا ذریعہISB Bar

    پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک وکیل کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا احتجاج و ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے۔

    اسلام آباد بار نے ایف ایٹ کچہری میں پولیس کا داخلہ مطالبات کی منظوری تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کچہری آنے والے پولیس اہلکاروں کو عدالتی احاطے سے باہر نکالنا شروع کر دیا ہے۔

    اسلام آباد بار کے وکلا عدالتوں میں جا جا کر پولیس اہلکاروں کو باہر نکال رہے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ بار کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ ترنول کی معطلی ، مقدمہ اندراج ، پولیس کی معافی تک احتجاج جاری رہے گا۔ بار کی جنرل باڈی نے قرارداد منظور کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اسلام آباد بار کے سیکرٹری رائے اسد نوید بھٹی نے جنرل باڈی قرار داد منظوری کا اعلامیہ جاری کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بار رکن سید علی اصغر ایڈوکیٹ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔

    اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کی قرارداد منظوری کی کاپی وزیراعظم، چیف جسٹس پاکستا ، چیف جسٹس ہائیکورٹ، سپریم کورٹ بار، بار کونسلز، وزیر داخلہ، وزارت قانون کو بھی بھجوائی گئی۔

  4. پنجاب اور کے پی میں انتخابات ملتوی سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز ساڑھے گیارہ بجے ہو گا

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ساڑھے گیارہ بجے شروع ہو گی۔

    گذشتہ روز سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جاسکتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔

    گذشتہ روز سماعت شروع ہوئی تو عدالت کا کہنا تھا کہ ہم اس مقدمے کو طویل نہیں کرنا چاہیے اور عدالتی حکم نامے کے مطابق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو دیکھنا ہے، سیاسی جماعتوں کے فریق بننے کا معاملہ بعد میں دیکھیں گے، رول آف لاء اور جمہوریت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، آج کل سیاسی پارہ بہت اوپر ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ہمیں قانونی تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، ہم نے سماجی اور سیاسی ڈسپلن کی بحالی بھی کرنی ہے، سپریم کورٹ اچھی نیت کےساتھ کیس سن رہی ہے، فریقین نے فیصلہ کرنا ہے کہ حالات کو کس طرف لے کر جاتے ہیں، کل بھی کہا تھا کہ قانونی معاملہ خلا میں حل نہیں کیا جاسکتا، آئین زندہ دستاویز ہے، اس کی تشریح زمینی حالات پر ہی مبنی ہوسکتی ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’کیا بجٹ میں انتحابات کے لیے فنڈز مختص ہیں۔ اگر فنڈز نہیں ہیں۔ تو فنڈز لینے کا طریقہ کار آئین میں درج ہے۔‘

    اس پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ سال چیف الیکشن کمشنر نے بتایا تھا کہ نومبر دوہزار بائیس میں الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ اب الیکشن کمیشن اچانک کہتا ہے فنڈز نہیں ہیں۔ فنڈز نہ ہونا الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی بہانہ نہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتحابی عملہ موجود ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیکورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومتوں کی زمہ داری ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی عدم دستیابی کا ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس نفری کم ہونے کا بہانہ تو ہمیشہ رہے گا۔‘

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریماکس دیے کہ ’میرے سابق چیف جسٹس کو قتل کردیا گیا۔ کیا یہ ٹھوس وجہ نہیں ہے۔‘ اس پر وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسی بھی وجہ نہیں ہے الیکشن نہ کروائے جائیں۔ کیا نگران حکومت نفری دینے سے انکار کرسکتی ہے۔‘

    اس موقعے پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے وہ اختیار استعمال کیا جو اس کا تھا ہی نہیں۔‘ جسٹس جمال مندوخیل نے ریماکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر سکتا تھا۔‘

  5. سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد کی رانا ثنا اللہ کے بیان پر تنقید

    سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد چند دنوں سے پاکستان کے حاات کے حوالے سے مسلسل ٹویٹس کر رہے ہیں۔

    حالیہ ٹویٹ میں انھوں نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر تنقید رکتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ کا یہ بیان کہ ’یا تو عمران خان رہیں گے یا ہم‘ چونکا دینے والا ہے اور خدا کا خوف رکھنے والے اور قانون کی پاسداری کرنے والے تمام پاکستانیوں کو مسترد کر دینا چاہیے۔‘

    انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ ’یہ ایک بڑے سیاسی رہنما کے خلاف تشدد پر اکسانے کی کوشش ہے۔ وزیر اعظم کو عوامی طور پر اپنے وزیر کے تبصروں سے خود کو الگ کرنا چاہیے۔ یہ ذہنیت ہی پاکستان میں خرابیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو ملک بحرانوں کی لپیٹ میں رہے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    یاد رہے رواں ہفتے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ عمران خان نے سیاست کو اس سٹیج پر لاکر کھڑا کردیا ہے جہاں اب یا تو وہ رہیں گے یا ہم۔۔۔ اگر ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہو رہی ہے توہم ہر حد تک جائیں گے۔

  6. ’مریم اورنگزیب اور رانا ثنااللہ نے آرٹیکل 68 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت میں زیر التوا مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، فواد چوہدری کا الزام

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور رانا ثنااللہ نے آرٹیکل 68 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت میں زیر التوا مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

    فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ دونوں کو سپریم کورٹ توہین عدالت میں طلب کر سکتی ہےگ انھوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں کو قانونی طور پر بھی نااہل قرار دیا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مسلم لیگ نواز کے طلال چوہدری نے انھیں جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’چوہدری صاحب! توہین عدالت سے بڑا جرم توہین آئین اور توہین پارلیمنٹ ہے اور کب تک توہین آئین اور توہین پارلیمنٹ پر بات کرنے پر توہیں عدالت سے ڈرائیں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ہمیں توہین عدالت سے نہ ڈرائیں، توہین عدالت پر ہم سزائیں بھگت چکے۔‘

  7. بریکنگ, ’یہ سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے جا رہے ہیں، نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں ان کی وجہ سے قوم آپ کے خلاف ہو رہی ہے‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے عدالتی اصلاحات کے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت الیکشن سے بھاگ رہی ہے، اس لیے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

    انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’پاکستان میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مگر یہ لوگ کبھی بھی عدلیہ کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

    ’یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، سپریم کورٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے چیف جسٹس پر حملہ کیا۔ یہ جج وہ چاہتے ہیں، ایسے امپائر جو ان کے ساتھ ملے ہوں۔ یہ کبھی آزاد عدلیہ کو نہیں آنے دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے ذریعے ’آج انھوں نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ سب کیا ہے، ساری قوم ان کی نیت سمجھ گئی ہے۔‘

    ’ہینڈلرز ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، جو اپنے آپ کو نیوٹرلز کہتے ہیں وہ ان کے ساتھ ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی وجہ سے قوم آپ کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ آپ کو نظر آ رہا ہے قوم کہاں کھڑی ہے۔‘

    ’مینار پاکستان پر لاکھوں لوگوں نے آپ کو پیغام دیا کہ آپ اپنی تباہی کر رہے ہیں۔ اس راستے پر ملک کی تباہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چوروں کو بچانے کے لیے ساری پالیسیاں بن رہی ہیں، اس سے نفرتیں پھیل رہی ہیں۔ یہ سب ہمارے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔۔۔ آپ کے ہاتھ سے گیم نکلنے والی ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ ’یہ سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے جا رہے ہیں، اس پر وکلا کو سٹینڈ لینا چاہیے۔ نامعلوم لوگ سوشل میڈیا کے بچوں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔

    ’نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں ابھی بھی راستہ درست کر لیں، ڈرانے دھمکانے کا راستہ بیک فائر کر رہا ہے۔ حل صرف صاف و شفاف الیکشن ہے۔‘

  8. میں اپنی سوشل میڈیا ٹیم کےساتھ ہوں: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’تحریک انصاف کی قیادت+کارکنان کیخلاف بدترین فسطائیت کے بعد ہماری سوشل میڈیا ٹیم کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

    ’اس کریک ڈاؤن سےتبدیلئ سرکار کے سازش کاروں پر تنقید کا سلسلہ رُکے گا نہ ہی اس سے کسی کو امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. قومی اسمبلی کا اجلاس کل بروز بدھ دن 11 بجے تک ملتوی

  10. بریکنگ, قومی اسمبلی میں ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    قومی اسمبلی میں ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    اسے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیش کیا جس دوران ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایوان عدالیہ کی مداخلت کو سیاسی عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہے۔ یہ ایوان چار ججز کے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے توقع کرتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔‘

    ’الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے۔۔۔ اس کے آئینی اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہونے چاہییں۔‘

    ’وہ دستوری معاملات جن میں اجتماعی دانش درکار ہو اور اس کا مطالبہ بھی ہو، اس کی سماعت عدالت عظمیٰ کا فُل کورٹ کرے۔‘

  11. بریکنگ, عدالتی اصلاحات کا بل متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا: سپیکر راجہ پرویز اشرف

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے عدالتی اصلاحات کے بل پر کہا ہے کہ آرڈر آف دی ڈے میں یہی تھا کہ بل آج پیش کر کے منظور کرنا ہے مگر اب اس بل کو متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش جائے گا۔

  12. بریکنگ, وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کا بل پیش کر دیا

    اعظم نذیر تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہNA

    قومی اسمبلی میں وزیر قانون اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحات کے بِل پیش کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے بِل کے ذریعے وکلا کو تحفظ دیا جائے گا۔ جبکہ دوسرے بل میں سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کا مجوزہ پیش کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کے بِل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں اور بار کونسلز نے اس پر تشویش ظاہر کی تھی۔

    وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر انٹرا کورٹ اپیل کا حق بھی ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز جو فیصلہ آیا ہے دو جج صاحبان کا، اس نے تشویش کی لہر پیدا کی ہے۔۔۔ ایک اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں ادارے میں تقسیم اور فرد واحد کو حاصل اختیار سے سپریم کورٹ کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت قانون نے بل تشکیل دیا جس کی منظوری کابینہ نے دی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا مسودے میں موجود ترامیم کے مطابق:

    • بینچوں کی تشکیل، از خود نوٹس کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز ہوں گے
    • یہی کمیٹی بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کم از کم تین ججوں پر مشتمل بینچ کو بھجوائے گی
    • انٹرا کورٹ اپیل پر 14 روز میں سماعت ہوگی
    • ارجنٹ معاملات کے کیسز 14 روز کے اندر اندر سماعت کے لیے مقرر ہوں گے
  13. بریکنگ, عمران خان آج رات ساڑھے نو بجے قوم سے مخاطب ہوں گے: پی ٹی آئی

  14. سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیار میں مجوزہ ترامیم کیا ہیں؟, سحر بلوچ، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیار میں مجوزہ ترمیم کا بل آج ممکنہ طور پر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے تین سینئیر ججز کا بینچ کثرت رائے سے کرے گا۔

    مسودے کے مطابق از خود نوٹس لینے کے بعد سماعت بھی تین رکنی بینچ کرے گا اور قانون کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ یا دیگر کوئی بھی قانون اس پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔

    ترمیم کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے والے تمام معاملات کو یہ تین رکنی کمیٹی پہلے طے کرے گی۔ ’کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینئیر ججز شامل ہوں گے اور از خود نوٹس سے متعلق معاملات بھی پہلے تین رکنی کمیٹی دیکھے گی۔‘

  15. قومی اسمبلی کا اجلاس وقفے کے بعد شروع، وزیر اعظم شہباز شریف کی اجلاس میں شرکت

  16. از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق رولز وضع کیے جائیں: پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ میں فُل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز میں تقسیم پر تشویش ظاہر کی ہے۔

    ایک بیان میں بار کونسل نے کہا کہ ملک کو انارکی سے بچانے کے لیے کیس کی سماعت فل کورٹ کو کرنی چاہیے اور عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی جماعتیں ججز کی کردار کشی سے گریز کریں۔

    ’ججز کے فیصلوں پر تنقید ہونی چاہیے، ان کی ذات کو نشانہ نہیں بنایا چاہیے۔ از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق رولز وضع کیے جائیں۔ عدلیہ کی ساکھ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے بینچز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے۔‘

    اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آئین کی بالادستی اور رول آف لا کے لیے اعلی عدلیہ کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ بدقسمتی سے انتحابات سے متعلق از خود نوٹس سیاسی معاملے پر لیا گیا۔ سی سی پی او کے ٹرانسفر سے متعلق کیس میں دو ججز کی درخواست پر از خود نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا۔ از خود نوٹس لینے سے اختلافی فیصلہ سامنے آیا جس سے عدلیہ کا وقار کم ہوا۔‘

  17. بریکنگ, وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کے اختیارات میں ترمیم کا مسودہ منظور کر لیا: مقامی ذرائع ابلاغ

    پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس نے عدالتی اصلاحات کے لیے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیارات میں ترامیم کا مسودہ منظور کیا ہے جسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین جج از خود نوٹس کا فیصلہ کریں گے اور اس فیصلے پر 30 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق ہوگا۔ اپیل دائر ہونے کے 14 روز کے اندر سماعت مقرر کرنا لازم ہوگا۔

    تاہم اس حوالے سے حکومتی سطح پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

  18. ’مجوزہ ترامیم کو مسترد کرتے ہیں‘ ترجمان تحریک انصاف

    ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے عدالتی اصلاحات کے معاملے پر کہا ہے کہ ’حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مجوزہ ترامیم کو مسترد کرتے ہیں۔

    ’یہ حق صرف منتخب پارلیمان کو ہے کہ وہ ایک تفصیلی بحث کے بعد کوئی بھی ترمیم کرے۔ عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. پی ٹی آئی بلوچستان کے سوشل میڈیا ہیڈ ماجد تاجک کو گھر سے اغوا کیا گیا: قاسم سوری

    قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ہیڈ ماجد تاجک کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں قاسم سوری نے کہا کہ تحریک انصاف بلوچستان کے سوشل میڈیا کے سربراہ کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماجد تاجک کو غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا۔

    قاسم سوری نے کہا کہ پولیس بھی چھاپے سے لاعلم ہے اور اس وقت ملک مکمل طور پر لاقانونیت اور فسطائیت کی آخری حدیں پار کر رہا ہے۔

    جب اس سلسلے میں سریاب پولیس سٹیشن کے ایس پی اور انڈسٹریل پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

  20. بریکنگ, حکومت عدالتی اصلاحات سے سپریم کورٹ میں تقسیم پیدا کرنا چاہتی ہے: فواد چوہدری

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ وفاقی حکومت نے عدالتی اصلاحات کے لیے فوری طور پر قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے جس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق قانون سازی کی جائے گی اور یہ معاملہ فُل کورٹ سے مشروط کرنا زیرِ غور ہے۔ تاہم حکومتی نمائندوں کی جانب سے اس کی کوئی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    ان اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ججز کی تقرری اور دیگر امور پر قانون سازی کی ضرورت ہے تاہم حکومت اس وقت سپریم کورٹ اور چیف جسٹس میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب سپریم کورٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کا کیس چل رہا ہے اور یوں حکومت کی بدنیتی واضح ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ سے متعلق جو بھی قانون سازی ہونی ہے وہ اگلی پارلیمان آ کر دیکھے گی۔ اس وقت پارلیمنٹ میں کوئی اپوزیشن نہیں۔ سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔‘

    جبکہ تحریک انصاف کے وابستہ ماہر قانون بابر اعوان نے پارلیمان کی جانب سے ممکنہ عدالتی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں قانون موجود ہو، وہاں قانون سازی نہیں ہوسکتی۔

    ’اس میں اصلاحات ہوسکتی ہیں اور صرف سپریم کورٹ آف پاکستان یہ اصلاحات کرسکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ نے آج مؤقف دیا کہ بینچ بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے کیا جائے گا۔۔۔ عدلیہ اور فوج جیسے اداروں میں مداخلت نہیں ہوسکتی۔ فوج جیسے کو آرمی ایکٹ سے چلایا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ اس طرح کی قانون سازی کو سٹرائیک ڈاؤن کر سکتی ہے۔‘

    ادھر مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ازخود نوٹس کے اختیار سے متعلق قانون سازی کی کابینہ سے منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے 10 اپریل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر رکھا ہے۔