بریکنگ, انتخابات التوا کیس: ’جب عدالتی حکم ہی جاری نہیں ہوا تو شیڈول کیسے جاری کیا گیا‘, سحر بلوچ، بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت کے آغاز پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بتائے جب آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دے دی اور ای سی پی نے شیڈول کیسے جاری کر دیا؟
بدھ کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ صوبوں میں انتخابات کے حوالے سے جو سوموٹو لیا گیا اس میں چار ارکان کا آرڈر آف دی کورٹ ہے جو جاری نہیں ہوا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ دو ججز اس بنچ کا حصہ نہیں تھے تو بتا دیں؟
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ گذشتہ روز سماعت کے دوران دیے گئے ریمارکس پر وضاحت کرنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے جو مختصر اور تفصیلی فیصلہ دیا اس پر قائم ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار کس کا ہے کہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدالتی حکمنامہ چار ججز پر مشتمل فیصلہ تھا اور یہ آرڈر آف دی کورٹ چیف جسٹس نے جاری نہیں کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ چلیں آپ کی وضاحت آگئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد فل کورٹ بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے فیصلہ کریں کہ عدالتی فیصلہ چار تین کا ہے یا تین دو کا فیصلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساری قوم ابہام میں بیٹھی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے فریق بننے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو سن کر پھر فیصلہ کریں گے۔
دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کس حکم کے تحت فیصلے پرعملدرآمد کیا؟
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے جواب دیا کہ ’میں اپنی گذارشات پیش کروں گا، الیکشن کمیشن نے یکم مارچ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا، عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے صدر سے رجوع کیا، صدر مملکت نے 30 اپریل کی تاریخ دی۔‘
سجیل سواتی نے مزید کہا کہ ’تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں، آرٹیکل 218 کی ذمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے، انتخابات کے لیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں‘، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے۔‘
دوران سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل نے کہا کہ ’ہم نے فریق بننے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے‘، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم الیکشن کمیشن کو سن کر پھر فیصلہ کریں گے‘۔
اس موقع پر عرفان قادر نے کہا کہ عدالت مجھے بھی سنے جس پر عدالت نے انھیں تحریری درخواست دینے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ میں تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہوں، میں الیکشن کمیشن کے وکیل کے طور پر عدالت کے سامنے معروضات رکھنا چاہتا ہوں، عدالت مجھے نہیں سننا چاہتی تو ٹھیک ہے۔








