الیکشن التوا کیس کل سماعت کے لیے پھر مقرر، جسٹس امین بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے عملے کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت اب جمعے کی صبح ساڑھے 11 بجے ہو گی تاہم بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بھی آٹھ اکتوبر کو صوبائی الیکشن کروانے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہECP
الیکشن کمیشن کی جانب سے بدھ کی شب جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 18 جنوری کو تحلیل ہوئی تھی اور وہاں انتخابات کے لیے پولنگ آٹھ اکتوبر کو ہو گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق آٹھ اکتوبر کی تاریخ صوبے کے گورنر کی جانب سے دی گئی اور الیکشن شیڈول کا اعلان وقت کے مطابق کر دیا جائے گا
بریکنگ, عدالتی ضوابط بننے تک ازخود نوٹس کے تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کی جائے: سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا ہے کہ جب تک عدالتی ضوابط تشکیل دے نہیں دیے جاتے اس وقت تک چیف جسٹس کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت لیے گئے از خود نوٹسز سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ حفاظ قرآن طلبا کے لیے اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق از خود نوٹس کیس میں دیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس محمد امین اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے بدھ کی شام جاری کیا ہے۔ جسٹس شاہد نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور وہ اپنا اختلافی نوٹ بعد میں جاری کریں گے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین چیف جسٹس کو صوابدیدی اختیارات نہیں دیتا اور سپریم کورٹ چیف جسٹس اور تمام ججوں پر
مشتمل ہوتی ہے اور یہ کہ آئین چیف جسٹس کو خصوصی بینچ بنا کر ان میں شمولیت کے لیے ججوں کے چناؤ کا اختیار نہیں دیتا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس اپنے قواعد و ضوابط بنانے بنانے کا اختیار ہے۔
فیصلے کے مطابق آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط موجود ہیں تاہم از خود نوٹس کے مقدمات مقرر کرنے اور بنچوں کی تشکیل کے لیے رولز موجود نہیں
’از
خود نوٹس لیے جانے اورمقرر کرنے کا کوئی
طریقہ موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ چیف جسٹس اورسولہ ججز پرمشتمل ہوتی ہے۔ اکیلے
چیف جسٹس سولہ ججز کی دانش استعمال نہیں کر سکتے۔‘
فیصلے کے مطابق ’سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جب تک بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی تمام مقدمات کو ملتوی کردیا جائے۔
’الیکشن کرانے کے لیے 20 ارب ہیں لیکن ایک الیکشن کو تین بار کروانے کے لیے نہیں: مریم نواز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مریم نواز نے قصور میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے سپریم
کورٹ کے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے پیچھے نہ لگیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس نے اپنے ہر سہولت کار اور استعمال کیا
اور بعد میں اس کی مٹی پلید کی۔ یہ وہ ہے جس نے اپنے آپ کو بھی ڈبویا اپنے سہولت
کار کو بھی ڈبویا۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’الیکشن ہوگا اور ضرور ہوگا لیکن الیکشن سے
پہلے سلیکشن کا فیصلہ ہوگا۔ ‘
انھوں نے سوال کیا کہ ’پنجاب اسمبلی توڑی کیوں گئی۔‘
مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ ’کچھ ججوں کی جانب سے عمران خان
کی سہولت کاری ہو رہی ہے۔ فیصلہ آئین دیکھ کر نہیں کیے جاتے۔ فیصلہ ٹرک دیکھ کر
کیے جاتے ہیں۔‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پوچھا کے
حکومت کے پاس الیکشن کے لیے 20 ارب نہیں؟ تو ’الیکشن کرانے کے لیے 20 ارب ہیں لیکن ایک الیکشن
کو تین بار کروانے کے لیے 60 ارب نہیں کہ پہلے پنجاب کے الیکشن ہوں، پھر خیبر
پختونخوا کے اور پھر باقی ملک میں ہوں۔‘
سیاسی قوتوں کے درمیان تناؤ سے دیگر ریاستی ادارے متاثر ہو رہے ہیں چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے التوا کے
معاملے پر سماعت کے آج کے دن کے اختتام پر چیف جسٹس پاکستان ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے سیاسی درجہ
حرارت کم کرنے کے لیے تحریک انصاف سے تحریری یقین دہانی مانگ لی۔ سیاسی قوتوں کے
درمیاں تناؤ سے دیگر ریاستی ادارے متاثر ہو رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عوام میں اداروں کے بارے میں باتیں کی
جاتی ہیں، ادارے بول نہیں سکتے اس لیے خاموش رہ کر سنتے ہیں، شفاف الیکشن کے لیے سیاسی
درجہ حرارت کم کرنے کا کہا، فیئر پلے ہو تو سپورٹس مین سامنے آتے ہیں، غصے کو
کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے‘۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’حکومت کی جانب سے کوئی سینیئر عہدیدار
یقین دہانی کروائے تو مناسب ہو گا، عدالتی کارروائی کا مقصد ریاستی کام کو آئین کے
مطابق رکھنا ہے۔ عدالتی کارروائی کسی کو فائدہ دینے کے لیے نہیں ۔ الیکشن کے بغیر
جمہوری حکومتیں نہیں آ سکتیں۔ ‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’دو وزرائے اعلیٰ نے اچھا یا برا اپنا
اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار استعمال کیا، آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھانا پڑتے ہیں، وزارت داخلہ اور دفاع سے حالات بہتری کے لیے کم
سے کم وقت پوچھ کر بتائیں ۔ انتخابات دو دن بھی ہو سکتے ہیں، اگر ایک دن ممکن نہ
ہوں۔‘
بریکنگ, قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات کا بل منظور کر لیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی قومی اسمبلی نے بدھ کی شام عدالتی اصلاحات سے متعلقہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے۔
یہ بل پانچ ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا جن میں سے تین بدھ کی صبح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کی جانب سے تجویز کی گئیں جبکہ دو ترامیم رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پیش کیں۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی اس بل کے مسودے کے مطابق اب از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔
یہی کمیٹی بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کم از کم تین ججوں پر مشتمل بینچ کو بھجوائے گی۔
ازخود نوٹس کے تحت مقدمات میں سپریم کورٹ کے بینچ کے کسی بھی فیصلے پر اپیل کے حق کے بارے میں بل میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کے 30 دن کے اندر سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے پاس اپیل کی جا سکے گی جسے دو ہفتے کم وقت کے اندر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ ہنگامی سماعت یا عبوری ریلیف کے لیے دائر کی گئی درخواستیں بھی 14 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔
قائمہ کمیٹی کی تجویز کردہ ترمیم کے مطابق آئین کی تشریح سے متعلق معاملات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا بینچ کم سے کم پانچ ججوں پر مشتمل ہو گا۔
محسن داوڑ کی جانب سے جو ترامیم تجویز کی گئیں ان کے مطابق از خود نوٹس کے حتمی فیصلے یا حکم نامے کے خلاف اپیل 30 روز کے اندر کی جا سکے گی اور 30 دن میں اپیل دائر کرنے کا حق ان متاثرین کو بھی ہو گا جن کے خلاف ماضی میں آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت از خود نوٹس کے مقدمات میں فیصلہ آیا ہو۔
خیال رہے کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سینیئر رہنما جہانگیر ترین کو بھی از خود نوٹس کے مقدمات میں ہی تاحیات نااہلی کی سزائیں ہوئی تھیں۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور اس کے بعد اسے صدرِ پاکستان کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا اور ان کے دستخطوں کے بعد ہی یہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جب صدرِ پاکستان سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ اس بل پر کیا تبصرہ کریں گے تو عارف علوی کا کہنا تھا کہ عدالتی اصلاحات کے بل کی منظوری کی ٹائمنگ بہتر ہو سکتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’جب بھی زور زبردستی سے کوئی کام کیا جاتا ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ میں نے ابھی تک یہ بل نہیں دیکھا اور جب حتمی مسودہ سامنے آئے گا تو پھر دیکھوں گا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔‘
ہم عدلیہ سے بلیک میل ہوتے رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو
زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم عدلیہ سے بلیک میل ہوتے رہے ہیں۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہونے والی قانون سازی تاریخ کا حصہ بنے گی ۔
2008 سے لے کر اب تک اس ایوان کی توہین ہورہی ہے۔ ایک ادارہ وزیر اعظم کے خلاف
سازش میں شامل ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی قیادت میں
سپریم کورٹ نے آئین توڑا۔‘
ان کا کہنا تھا ’ایک اور چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس ملک پر
عدالتی آمریت قائم کی جس کا مقصد جمہوریت کو نقصان پہنچانا اور ہائبرڈ نظام قائم
کرنا تھا۔‘
انھوں نے ججوں پر اپنے مرضی سے فیصلے کرنے اور آئین توڑنے کا الزام
عائد کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا
کہ ’ہمارے اداروں میں کچھ آئن سٹائن بیٹھتے ہیں اور اس ملک کے فیصلے کرتےہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’شرافت سے سیاست کرنا چاہتے ہیں مگر آئین ٹوٹنے پر
شریف نہیں رہیں گے۔‘
الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا: چیف جسٹس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے التوا کے
معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے
کہا ہے کہ ’اگر انتظامی ادارے تعاون نہیں کر رہے تھے تو عدالت کو بتاتے۔‘
اس موقعے پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریماکس دیے کہ’اگر الیکشن کمیشن
حالات سے دس سال مطمئن نہ ہو تو کیا عدالت الیکشن کروانے کا کہہ سکتی ہے؟‘
الیکشن کمیشنکے وکیل سجیل
سواتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن حقیقت پسندانہ فیصلہ کرے گا‘۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا
تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008 میں
حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008
والا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر
پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا، حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا
عرصہ کم ہوسکتا ہے یا نہیں۔بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی
ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 218-3 آرٹیکل 224 سے بالاتر کیسے
ہوسکتا ہے۔‘
سجیل سواتی کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 218-3 شفاف منصفانہ انتخابات
کی بات کرتا ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ
کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل
معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو۔ اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا
نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں۔ سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں
سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے۔‘
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے اپنے دلائل مکمل کر لیے
ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل ویڈیو لنک پر عدالت کو دلائل پیش کیے۔
اس کے بعد سماعت کل صبح گیارہ بجے تک کے لے ملتوی کر دی گئی۔
اگر حکومتی معاونت مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات کرواسکتے ہیں: الیکشن کمیشن کے وکیل
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے التوا کے
معاملے پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کا کہنا
تھا ’ سیکشن 85 ہمیں الیکشن بڑھانے کی اجازت دیتا ہے‘۔
اس پر جسٹس منیب نے
وضاحت کی کہ ’سیکشن 85 آپ کو یہ اجازت نہیں دیتا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا
کہ ’آپ چاہتے ہیں کہ عدالت آٹھ اکتوبر کی
تاریخ پر مہر لگائے؟‘۔
جسٹس مندوخیل نے ریمارکس
دیے کہ ’الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی
ہوئی یا نہیں یہ درخواست گزار نے ثابت کرنا ہے۔‘
اس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ الیکشن شیڈول کے بجائے کمیشن
نے آٹھ اکتوبر کا جھنڈہ لگادیا ہے۔‘
الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’انتخابات کی طرح زندگی کا تحفظ
بھی عوام کا بنیادی حق ہے، عدالت صرف الیکشن کمیشن کا حکم بدنیتی مبنی ہونے پر
کالعدم قرار دے سکتی ہے۔‘
جسٹس مندوخیل نے وکیل سے پوچھا کہ کیا بدنیتی کا نقطہ درخواست
گزار نے اٹھایا ہے؟
اس پر وکیل کا جواب تھا کہ ’درخواست میں بدنیتی کا نقطہ نہیں
اٹھایا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آزادانہ اور شفاف الیکشن کمیشن کی ذمہ
داری ہے‘۔
جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’کیا الیکشن کمیشن حکومت پر
انحصار کرتا ہے؟ ‘حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، الیکشن
کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ اگر سکیورٹی مل جائے تو کیا 30 اپریل کو انتخابات ہوسکتے ہیں؟
اس پر وکیل سواتی نے جواب دیا کہ اگر حکومتی معاونت مل جائے تو
30 اپریل کو انتخابات کرواسکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کو صدر کی دی گئی تاریخ مسترد کرنے کا حق کس نے دیا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ حق کیسے ہے کہ وہ صدر کی طرف سے دی ہوئی تاریخ کو مسترد کر کے الیکشن ملتوی کر دے۔
جسٹس مندوخیل نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے دریافت کیا کہ آپ کا دائرہ کار کہاں سے شروع ہوتا ہے جس پر سجیل سواتی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا دائرہ کار صدر کی جانب سے تاریخ دینے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اور پھر ہم الیکشن پروگرام دیتے ہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کے پاس صدر کی طرف سے دی گئی تاریخ کو ملتوی کرنے کا حق ہے؟
سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک پرامن انتخابات نہیں ہو سکتے: چیف جسٹس
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے التوا کے معاملے پر سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔۔۔ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے اور سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک پرامن انتخابات نہیں ہو سکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لے کر آگاہ کرنے کو کہا گیا تھا تاہم کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی۔
پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے ہو گی؟
پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائی جائے گی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کی وجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کر دیا جبکہ کے پی کے میں الیکشن کی تاریخ دے کر واپس لی گئی۔
جسٹس بندیال نے کہا کہ ’جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلعے میں انتخابات موخر بھی ہو سکتے ہیں۔'
چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ ہمیں قائل کرسکتے ہیں کہ الیکشن آٹھ اکتوبر کو ہی کیوں ہونے ہیں؟
ایسا کیا جادوئی نمبر ہے آٹھ اکتوبر میں؟ کس نے آپ کی تسلی کی ہے کہ آٹھ اکتوبر کو سب صحیح ہوجائے گا اور آٹھ اکتوبر ہی کیوں؟ آٹھ ستمبر یا اگست کیوں نہیں؟
اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ 'آٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی۔'
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ عدالت کو ٹھوس بات چاہیے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے آئین کے پانچ آرٹیکل پڑھ کر سنائے جس پر جسٹس منیب اور اعجاز الاحسن نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن پروگرام کے بارے میں آرٹیکل ہیں۔
ٹیئریان وائٹ کیس: ’بچے اگر زیر کفالت نہ ہو تو والد ذمہ دار نہیں‘
پاکستان
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر
نہ کرنے پر نااہلی کیس کی سماعت میں وکیل عمران خان کا کہنا ہے کہ ۔ بچے اگر زیر
کفالت نہ ہو تو والد ذمہ دار نہیں۔
بدھ
کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ کیس کی
سماعت کر رہا ہے۔
سماعت
کے موقع پر درخواست گزار کی جانب سے وکیل حامد علی شاہ، عمران خان کی جانب سے
سلمان اکرم راجہ اور ابوزر سلمان جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سعد حسن اور ضیغم
انیس عدالت میں پیش ہوئے۔
عمران
خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت پر
اعتراض اٹھایا۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا ہے کہ گارڈین شپ کے لیے بچوں کا ہونا
ضروری نہیں۔ بچے اگر زیر کفالت نہ ہو تو والد ذمہ دار نہیں۔
چیف
جسٹس کی جانب سے ٹیریان وائٹ کیس میں بے نامی اکاؤنٹس کیس کا ذکر کیا گیا۔
سماعت
کے دوران جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ کی کیا رائے ہے کہ یہ بیان حلفی تبدیل
ہونا چاہیے تھا؟
جس
پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں ایسی کوئی رائے نہیں دے سکتا نہ دے رہا ہوں، یہ معاملہ
1992 کا ہے بیان حلفی 2018 میں جمع کرائی گئی ہے۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹیریان
وائٹ ملین ڈالرز کے اثاثوں کی مالکن ہے، ٹیریان کو ان کی والدہ کی جانب سے لاکھوں
ڈالرز کے اثاثے ملیں ہیں۔ وہ خود کفیل ہے۔
سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کی مزاحمت جاری رہے گی: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
الیکشن کمیشن شیڈول منسوخ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کر سکتا تھا، جسٹس منیب اختر
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات کا شیڈول منسوخ کرنے کے کیس میں جسٹس منیب اختر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شیڈول منسوخ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کر سکتا تھا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم پر عمل کیا۔
ادھر جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ جس عدالتی حکم پر تمام ججز کے دستخط ہیں وہ کہاں ہے؟
اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی سمجھ کے مطابق یہ تین دو کا فیصلہ تھا۔
20 سال سے دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باجود انتخابات ہوتے رہے، چیف جسٹس
چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ملک میں 20 سال سے دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود انتخابات ہوتے رہے ہیں۔
پنجاب میں انتخابات ملتوی ہونے پر تحریک انصاف کی درخواست کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں سکیورٹی صورت حال پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 90 کی دہائی میں تین مرتبہ الیکشن ہوئے، نوے کی دہائی میں دہشتگردی اور فرقہ واریت عروج پر تھی۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ دہشتگردی کے واقعات سنگین ہیں اور فرنٹ لائن پر کام کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے۔
کیا حکومت نے الیکشن کے لیے بجٹ میں رقم نہیں رکھی؟ چیف جسٹس
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت نے بجٹ میں الیکشن کے لیے رقم نہیں رکھی۔
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن تو ہر صورت میں 2023 میں ہی ہونے تھے۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ الیکشن کے لیے بجٹ آئندہ مالی سال کے لیے رکھا گیا تھا، قبل از وقت اسمبلی تحلیل ہوئی جس کا علم نہیں تھا۔
ادھر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی۔
انھوں نے کہا کہ دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
الیکشن کمیشن نے آئی ایس آئی کی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورت حال مخدوش ہے۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو معلومات آپ دے رہے ہیں، وہ سنگین نوعیت کی ہیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کی یہ باتیں صدر مملکت کے علم میں ہیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ نے صدر مملکت کو نہیں بتایا تو غلطی کی ہے۔
جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے کہ الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دہشت گردی کا ایشو تو ہے۔
بریکنگ, خاتون جج کو دھمکی دینے کا معاملہ، عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام
آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں پی ٹی آئی
سربراہ عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے 18 اپریل کو پیش
کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ
کے روز عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ
ملک امان نے کی۔ دوران
سماعت عمران خان کے وکلا نے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال رکھنے کی استدعا کی۔
عمران
خان کے وکلا نے موقف اپنایا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے ان سے سکیورٹی واپس لینے
کے متعلق ہائیکورٹ نے بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔
اس
پر جج نے ریمارکس دیے کہ سرکار کی طرف سے ابھی کوئی پیش نہیں ہوا ان کی طرف سے دیکھتے
ہیں کیا کہا جاتا ہے۔
اس
موقع پر جج نے سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کیا اور جب وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع
ہوئی توپراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی سول
جج ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے۔
پراسیکوٹر
نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی دائر درخواست کی مخالفت کی اور عدالت سے
استدعا کی کہ عمران خان غیر حاضر ہیں، قابل ضمانت کو ناقابلِ ضمانت میں تبدیل کیاجائے۔
انھوں
نے عدالت سے کہا کہ وزیر آباد حملے کا بہانا سن سن کر کان پک گئے ہیں، دو دن پہلے
وزیر آباد نہیں تھا جب ہائیکورٹ پیش ہوئے۔ پراسکیوٹر
رضوان عباسی نے کہا کہ ہر تاریخ پر عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست
منظور کی گئی۔ انھوں نے گذشتہ
سماعت پر جج کے ریمارکس کا حوالہ دیتے
ہوئے کہا کہ جج نے کہا تھا کہ بہت بار استثنی دیاجا چکا جس کے بعد ناقابلِ ضمانت
وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔رضوان عباسی نے کہا اس ضمن میں عمران خان کی طبی رپورٹ
بھی پیش نہیں کی گئی۔ اور عدالت حاضر نہ ہونے سے متعلق ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائی
گئیں
رضوان
عباسی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر
ان کے دستخط ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست
پر صرف ان کے وکلا کے دستخط ہیں۔
عدالت
نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کے
ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
پیپلز پارٹی، ن لیگ فنڈنگ کیس کے جلد فیصلے کی پی ٹی آئی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈنگ کیسز کے فیصلے جلد کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا یہ کورٹ الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کر سکتی ہے کہ نہیں، یہ ایک سادہ سا سوال ہے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرنے پر کوئی ججمنٹ ہے یا کوئی قانون ہے تو وہ پیش کریں۔
چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ ان کو باقی پارٹیوں کی سکروٹنی میں کتنا وقت لگے گا تو وکیل نے جواب دیا کہ ہم اس حوالے سے فکس ٹائم نہیں دے سکتے، ابھی معاملہ سکروٹنی کمیٹی میں ہی ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر کافی دباؤ ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن تو آپ کروا ہی نہیں رہے، وہ تو اکتوبر میں ہیں، تب تک یہ کام مکمل کر لیں۔
تحریک انصاف کی وکیل عائمہ انور نے موقف اختیار کیا کہ ہمارے پانچ سال کے اکاؤنٹ دیکھے باقیوں کے چھ ماہ کے دیکھ رہے ہیں۔
دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
گلگت بلتستان پولیس پر پابندی: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اعلی گلگت بلتستان کی سیکیورٹی کے لیے جی بی پولیس پر دوسرے صوبوں میں جانے کی پابندی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان اور جی بی حکومت نے وزارت داخلہ کے نوٹیفیکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی تھی کہ امتیازی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا اور جی بی پولیس کو دوسرے صوبوں میں وزیر اعلی کو سیکورٹی فراہم کرنے سے روکنا غیر قانونی ہے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ وزارت داخلہ کے 24 مارچ کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت جواب دے کہ پابندی کس قانون کے تحت لگائی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سطح کے افسر کو جمعرات کے دن عدالت طلب کر لیا۔
سیشن عدالت نے حسان نیازی کو رہا کر دیا
کراچی کی سیشن عدالت شرقی نے عمران خان کے بھانجے اور پی ٹی
آئی کے رہنما حسان نیازی کو رہا کر دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ہم فسطائیت کے دور کی جانب لوٹ رہے ہیں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان فسطائیت کے
دور کی جانب لوٹ رہے ہیں‘
انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم فسطائیت کے اسی دور کی جانب لوٹ رہےہیں،
پاکستان گزشتہ10ماہ سےجسکےچُنگل میں ہے۔”نامعلوم افراد“(چادرو چار دیواری کی حرمت
پامال کرتےہوئے) تحریک انصاف کے کارکنان اور سوشل میڈیاٹیم کے اراکین کےگھروں میں
گھس رہےہیں اور وہاں موجود افراد کو دہشت زدہ کرنےکےساتھ مطلوبہ کارکن کی عدم موجودگی
کی صورت میں اہلِ خانہ تک کو اٹھا رہے ہیں۔اغوا، دورانِ حراست تشدد، جعلی مقدمات کی
بھرمار، میڈیا پر مکمل پابندی اور صحافیوں کو ہراساں کئےجانے جیسےلاتعداد واقعات میں
آج کے پاکستان کا عکس جھلکتا ہےجس میں قانون کی حکمرانی کا تو نشان تک نہیں جبکہ
آئین سےانحراف ہر پہلو سےنمایاں ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔