عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی داتا دربار پہنچ گئی ہے جہاں انھوں نےبلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو مینار پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ فارن فنڈنگ کیس میں جب ن لیگ کی فنڈنگ کا سامنے آئی تو سب پتا لگ جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی دو عدالتوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. مستحق غریب گھرانوں کے لیے رمضان میں مفت آٹا فراہم کرنے کا فیصلہ: شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. عمران خان کا کل ریلی نکال کر انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت تحریک انصاف بیک وقت پی ڈی ایم جماعتوں، ان کے سرپرستوں اور ریاستی مشینری کا مقابلہ کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جماعتوں کے سرپرستوں کو ’غیر جانبدار امپائرز ہونا چاہیے تھا۔‘

    ’کل سہ پہر میں ایک ریلی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہا ہوں۔ کے پی اور پنجاب میں ہم انشاءاللہ عوام کو اس انتخاب میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ کے لیے متحرک کریں گے جو ہر لحاظ سے تاریخی ہوگا۔‘

  3. ’ڈیم والے بابا بتائیں انھوں نے کیسے عمران خان کو الیکشن جیتنے میں مدد کی‘

    مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے ’ایک بدعنوان اور نااہل شخص‘ کے ہاتھ 22 کروڑ عوام کی قسمت دی۔

    شیخوپورہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ثاقب نثار نے عمران خان کو دیا صادق و امین کا سرٹیفیکیٹ واپس لے لیا۔ ’آدھا سرٹیفیکیٹ اس لیے دیا تھا کہ اس کو پتا تھا اس نے بڑی بڑی چوریاں کرنی ہیں۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’ کچھ لوگ‘ دراصل ’(سابق سربراہ آئی ایس آئی) جنرل فیض حمید تھے جو سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے گھر گئے اور کہا اگر نواز شریف کو سزا نہ دی تو ہمارے دو سال ضائع ہو جائیں گے۔‘

    ’ڈیم والے بابا بتائیں انھوں نے کیسے عمران خان کو الیکشن جیتنے میں مدد کی اور نواز شریف کو تاحیات نااہل کیا۔ عمران خان کے سب سے بڑے حریف کو اٹھا کر جیل میں بھیج دیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہوں گے پھر الیکشن ہوگا۔‘

    مریم نواز نے کہا ’کورٹ میں عمران خان کے وکیل نے کہا وہ پیش نہیں ہوسکتا کیونکہ معذوری کی حالت ہے۔ پہلے ٹانگ پر پلاسٹر تھا، اب کہتا ہے معذور ہوں۔۔۔ کینسر کے مریضوں کا مذاق اڑانے والا، پلیٹلیٹس گِرنے اور کمر درد کا مذاق اڑانے والا آج عدالت میں ان ان بیماریوں کا نام لے رہا ہے جن کا نام مریم نواز نہیں لے سکتی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے خلاف سچے کیسز ہیں، پیش ہوتا ہے تو پھنسے گا، پیش نہیں ہوگا تب بھی پھنسے گا۔‘

  4. کیا پرویز الٰہی کی شمولیت سے تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ سے دوریاں ختم ہو پائیں گی؟

    تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے دوریاں کم کرنے میں پرویز الٰہی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ’ان کا جھکاؤ اسٹیبلشمنٹ کی جانب رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس فیصلے سے شاید تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ سے دوری قربت میں بدل جائے، شاید وہ مذاکرات کروانے میں کردار ادا کریں۔

    ’لیکن اس سے فاصلے بڑھ بھی سکتے ہیں کیونکہ پرویز الٰہی اور عمران خان کے درمیان خیالات اور سوچ کا بڑا فرق ہے۔‘

    اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’پرویز الٰہی ڈرائنگ روم کی سیاست کرتے رہے ہیں، یہ حلقے کی سیاست کرتے ہیں جبکہ عمران خان عوام کی سیاست کرتے ہیں اس لیے دونوں کی سوچ میں بڑا فرق ہے۔‘

    (یہ تحریر پہلی بار اس وقت شائع کی گئی تھی جب پرویز الہیٰ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے)

  5. پرویز الہی پاکستان تحریک انصاف کے صدر مقرر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کو جماعت کا صدر مقرر کر دیا ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’رجیم چینج کے بعد سے اب تک چیئرمین عمران اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے والے چوہدری پرویز الہی پاکستان تحریک انصاف کے صدر مقرر۔‘

    خیال رہے کہ مسلم لیگ ق کے سابق رہنما پرویز الہی نے گذشتہ ماہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بغاوت کے مقدمے میں کسی افسر، ادارے کی شناخت نہیں: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’مجھ پر قائم 76 مقدمات، جن کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، میں دہشتگردی، توہینِ مذہب پلس بغاوت کے مقدمات شامل ہیں۔‘

    ’بغاوت کے مقدمے میں کسی افسر کا نام ہے نہ ہی کسی ادارے کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔ جب ذہانت، اخلاقیات + اقدار سے محروم ٹولہ کسی قوم پر مجرم مسلط کرتا ہے تو اسی قسم کے ہتھکنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘

  7. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل، 13 مارچ کو سیشن عدالت پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے انھیں 13 مارچ کو سیشن عدالت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس عامر فاروق نے سنایا۔

    ادھر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے عمران خان کو 13 مارچ کو اپنی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  8. توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان، فواد چوہدری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    توہین الیکشن کمیشن کیس میں الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور آئی جی پولیس کو حکم دیا ہے کہ انھیں 14 مارچ کو کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔

    اس حکم کے مطابق عمران خان اور فواد چوہدری دانستہ التوا مانگتے ہیں۔ ’یہ کمیشن کی تضحیک کے مترادف ہے، ان کا رویہ قابل قبول نہیں۔‘

    گذشتہ سماعت پر فواد چوہدری، عمران خان اور ان کے وکیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔

    ادھر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کا آرڈر لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کو توہین عدالت میں ہائیکورٹ میں طلب کروائیں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. ’یہ عدلیہ بچاؤ نہیں عدلیہ سے بچاؤ تحریک ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ یہ تحریک انصاف کی ’عدلیہ بچاؤ‘ تحریک نہیں بلکہ ’عدلیہ سے بچاؤ‘ تحریک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’فارن ایجنٹ توشہ خانہ چور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر بھی پیش نہیں ہوا۔ مجرم اور لیگل ٹیم غائب۔ عدالت میں ایک دفعہ پھر انتظار فرمائیے۔‘

  10. بریکنگ, ’توشہ خانہ کیس کو قانون کے مطابق چلایا جائے گا‘

    سیشن عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہونے پر جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ اس کیس کو قانون کے مطابق چلایا جائے گا۔

    سماعت کے دوبارہ آغاز پر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے غیر متعلقہ افراد کو عدالت سے باہر جانے کی ہدایت دی۔

    عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے سکیورٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کے بعد جج نے ریمارکس دیے کہ عمران خان نے 9 مارچ کو ویسے بھی آنا ہے۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ آئی جی، وزارتِ داخلہ ’سب کو سکیورٹی کے حوالے سے ہدایت دوں گا۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی ضمانتوں کی سماعتیں ہیں۔ 9 مارچ کو تو عمران خان نے اسلام آباد آنا ہی ہے۔ توشہ خانہ کیس کو قانون کے مطابق چلایا جائے گا۔‘

    وکیل شیرافضل مروت نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ چند دیر بعد وارنٹ منسوخی کی اپیل پر محفوظ فیصلہ سنا دے گی۔ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ عدالت سکیورٹی کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے پوچھ لے۔ ’جو سکیورٹی ادارے دیں اس پر عدالت فیصلہ کرلے۔ کچہری میں سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش سنجیدہ بات ہے۔‘

    فیصل چودھری نے کہا کہ ’جب تک سکیورٹی کے حوالے سے ہمیں نہیں بتایا جاتا، تب تک عمران خان کی سیشن عدالت پیشی پر نہیں بتا سکتے۔‘

    جج نے ریمارکس دیے کہ ’عمران خان کی نجی سکیورٹی ٹیم بے شک کچہری کے سکیورٹی انتظامات چیک کرلے۔ 9 مارچ کی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔

    ’سیشن عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہی تاکہ فیصلہ ٹھیک کیا جاسکے۔‘

    وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ’9 مارچ کو عمران خان کی پیشی سیشن عدالت رکھ لیں لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے مشروط کرکے۔‘

    جج نے ریمارکس دیے کہ ’ایسا کر لیتے ہیں کہ وارنٹ کا فیصلہ جاری رکھتے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے مشروط رکھ کیتے ہیں۔ قانون کو تو عمران خان کو فالو کرنا چاہیے۔ اتنا صبر کیا ہے، عدالت تھوڑا اور صبر کر لے گی۔‘

    وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ ’توشہ خانہ کیس پر جتنی نظریں ہیں اتنی تین قتل کے کیسز پر نہیں ہوگی۔‘

    جج نے ریمارکس میں کہا کہ ’ملزم تو خود چاہتا ہے کہ جلد سے جلد ٹرائل مکمل ہو۔‘

    دونوں فریقین نے سکیورٹی کے متعلقہ اداروں کو عدالت کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت پر اتفاق کر لیا۔

    وارنٹ منسوخی کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے تک سیشن عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا ہے۔

  11. بریکنگ, عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کا کہنا تھا کہ عدالت خود اپنی اور ان کی سکیورٹی کا بندوبست کریں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میری جان کی فکر چھوڑیں۔

    ’میری جان اللہ کی امانت ہے اور مجھے اپنی جان سے زیادہ یہاں ہر آنے والے سائلین کی فکر ہے۔‘

  12. عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت دوبارہ شروع

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    عدالت نے وکلا کو عمران خان سے ہدایات لینے کے لیے آدھے گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

    عمران خان کے وکلا کا کہنا تھا کہ عمران خان سے مشاورت ہوئی ہے وہ چار ہفتوں تک پیش ہونے کو تیار ہیں۔

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کو پیش ہونے کے لیے چار ہفتے کا وقت دے دیا جائے، جس ہر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر میری دو ماہ والی بات درست ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر میں ٹرائل کورٹ سے کہتا ہوں وہ اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرے اور اس طرح چار ہفتے میں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی مکمل ہو جائے گی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپ کی باتوں سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عمران خان 9 مارچ کو ہائیکورٹ میں بھی پیش نہیں ہوں گے۔

  13. توشہ خانہ کیس: ’سسٹم کے ساتھ فیئر رہیں، سسٹم کا مذاق نہ بنائیں‘ اسلام آباد ہائی کورٹ

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں سیشن کورٹ کی جانب سے عمران خان کے جاری ناقابل ضمانت وارنٹمنسوخ کرنے کی درخواست مسترد ہونے کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سسٹم کے ساتھ فیئر رہیں، سسٹم کا مذاق نہ بنائیں۔

    منگل کی دوپہر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی بھی پیش ہونے کو تیار نہیں، سسٹم کے ساتھ فیئر ہو جائیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے مطابق عمران خان آج بھی طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے، انھوں نے کہا کہ سسٹم کے ساتھ فیئر رہیں، سسٹم کا مذاق نہ بنائیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ میں آپ کو دو ماہ کی تاریخ دے کر ٹرائل روک دیتا ہوں؟ مگر یہ کام پھر اسلام آباد کے ہر سائل کو دینا ہو گا کہ سب کو دو ماہ کی تاریخ مل جائے۔

    اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون روسٹرم پر آئے اور انھوں نے کہا کہ یہ سکیورٹی کا سوال اٹھا رہے ہیں لیکن عمران خان کل الیکشن مہم کے لیے ریلی نکال رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ وہ کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف دیگر مقدمے بھی درج کر لیے گئے ہیں اور عمران خان کو گھر کے اندر بند کر رکھا ہے وہ نکل ہی نہیں سکتے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو مقدمہ درج ہونا ہے اس پر بھی پہلے ہی ریلیف دے دیا جائے۔

  14. رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    Rana Sanaullah

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رانا ثنا اللہ کی آج کی حاضری سے استثنا کی درخواست خارج کرتے ہوئے محفوظ فیصلہ سنایا۔

    وفاقی وزیر داخلہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اے ٹی سی عدالت کے جج رانا زاھد اقبال خان نے جاری کیے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر کے 28 مارچ کو پیش کیا جائے۔

    واضح رہے کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف پانچ اگست 2022 کو (ق) لیگ کے مقامی رہنما شاہ کاز اسلم کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ان پر چیف سیکرٹری اور ان کے اہلخانہ کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

  15. بعض لوگ خود بھی اپنے لیے تھریٹ بنا لیتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو سنگین سکیورٹی تھریٹس ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا سکیورٹی تھریٹ کو بنیاد بنا کر کام کرنا بند کر دیں‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ہر روز تھریٹ الرٹ آتے ہیں اور پولیس کے سربراہ آ کر بتاتے ہیں کہ آپ کو اور دیگر ججز کو سکیورٹی تھریٹ ہیں لہٰذا سکیورٹی لے لیں‘۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ سکیورٹی لے کر دوسروں کی زندگی کو خطرے میں کیوں ڈالیں۔ انھوں نے کسی کا نام کیے بغیر کہا کہ بعض لوگ خود بھی اپنے لیے تھریٹ بنا لیتے ہیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان کے موکل کب عدالت میں پیش ہوں گے جس پر وکلا نے عمران خان سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔

    اس پر عدالت نے درخواست کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا ہے۔

  16. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: ’فرد جرم کے لیے عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونا ہو گا‘، اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ فرد جرم کے لیے عمران خان کو ذاتی طور پر پیش تو ہونا ہو گا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ کوئی ایسا آرڈر پاس نہیں کریں گے جو عام پریکٹس سے باہر ہو، انہوں نے کہا کہ نو مارچ کو عمران خان نے اس عدالت میں بھی پیش ہونا ہے، وہاں بھی ہو جائیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل قیصر امام نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے دو بار عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کی۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان 28 فروری کو اسلام آباد کی تین عدالتوں میں پیش ہوئے۔ وکیل قیصر امام کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کچہری میں پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔

    جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ وارنٹ گرفتاری کے تو نہیں تھے نا؟انھوں نے کہا کہ وہ وارنٹ تو ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں ہوتے؟

    چیف جسٹس اسلام آباد عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ وارنٹ تو ملزم کو کسی جیل میں ڈالنے کے لیے تو نہیں ہوتے نا؟ چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتا دیں کہ عدالت ملزم کو اور کس طرح سے بلائے؟

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کہ قانون میں تو ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے تو یہی طریقہ ہے۔انھوں نے کہا کہ قانون کو منتقل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور قانون کو اپنا راستہ خود بنانے دیا جانا چاہیے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو گرفتار کرنے کے لیے ہائیپ بنائی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کے وارنٹ منسوخ کر دیے جائیں، جس پر چیف جسٹس نے اسفسار کیا کہ وارنٹ منسوخ ہو جائیں پھر کیا ہو گا؟ انھوں نے کہا کہ عدالت تو آپ کو کیس کا ٹرائل چلانے کے لیے بلا رہی ہے۔

  17. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: ’سوا تین بجے تک فیصلہ کر دیں گے‘، سیشن عدالت

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے کہا کہ سوا تین بجے کیس کا فیصلہ کردیں گے۔

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفےکے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت اور فیصل چودھری عدالت پیش ہوئے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے وارنٹ منسوخی پر اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔

    جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے باعث ہی کیس کی سماعت میں وقفہ کیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں لیکن سوا تین بجے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔

    ڈسٹرکٹ کورٹ میں توشہ خانہ مقدمے کی سماعت ساڑھے تین بجے تک ملتوی ہوگئی ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈشنل سیشن جج کی طرف سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔

  18. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو بجے سماعت کے لیے مقرر

    توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ کی جانب سے عمران خان کے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخکرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت دو بجے کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق منگل کو دو بجے درخواست پر سماعت کریں گے۔

    عمران خان کے وکیل کی جانب سےتوشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج کا گزشتہ روزکا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

    درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنےکی استدعا کی گئی ہے۔ عمران خان کے وکیل کی جانب سے درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنےکی استدعا کی گئی تھی۔

  19. عدالت حکم دیتی ہے تو عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے، خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر عدالت حکم دیتی ہے تو عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے۔

    منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے گذشتہ چند روز سے ڈرامہ لگا رکھا ہے، عدالت حکم دیتی ہے تو ان کی گرفتاری ہونی چاہیے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاستدان ہمیشہ عدالتی احکامات کی پاساری کرتے آئے ہیں لیکن یہ شخص عدالتوں کی حکم عدولی کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت پیش نہ ہونے کی روایت عمران خان نے ڈالی ہے۔ وہ اپنے پارٹی کارکنوں سے جیل جانے کا کہتے ہیں لیکن خود جیل نہیں جانا چاہتے۔

    انھوں نے عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کے بغیر سیاست نہیں کی۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے حواریوں کو اکساتے ہیں کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مزاحمت کریں، اس صورتحال میں ہم تحمل اور برداشت سے کام لے رہے ہیں۔

  20. عمران خان پر پابندی کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی

    LHC

    ،تصویر کا ذریعہlhc.gov.pk

    لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

    عدالت عالیہ نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دی۔

    رجسٹرار آفس نے دائر درخواست کے ساتھ پیمرا کا آرڈر نہ لگانے پر اعتراض لگا دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے عمران خان کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی۔ عمران خان ک جانب سے بیرسٹر احمد پنسوٹا پیش ہوئے۔

    رجسٹرار آفس نے پیمرا کی جانب سے پابندی کا حکم نامہ ساتھ نہ لگانے کا اعتراض عائد کیا تھا۔ درخواست میں پیمرا ،سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پیمرا نے عمران خان کے بیانات اور تقاریر نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔بیانات اور تقاریر پر پابندی لگانا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے پاس عدالت کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت پیمرا کی جانب سے لگائی گئی پابندی فوری طور پر کالعدم قرار دے۔