عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری
عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی داتا دربار پہنچ گئی ہے جہاں انھوں نےبلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو مینار پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ فارن فنڈنگ کیس میں جب ن لیگ کی فنڈنگ کا سامنے آئی تو سب پتا لگ جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی دو عدالتوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
لائیو کوریج
عمران خان کا پولیس پر تحریک انصاف کے کارکن کو ہلاک کرنے کا الزام
،تصویر کا ذریعہ@ImranKhanPTI
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے تحریک انصاف کے ایک کارکن کو تشدد کر کے ہلاک کیا ہے۔
عمران خان کے مطابق علی بلال غیر مسلح تھا اور تحریک انصاف کا ایک بہت وفادار کارکن تھا۔ انھوں نے پولیس کی طرف سے تحریک انصاف کے ریلی کے لیے آنے والے کارکننان پر تشدد کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ پولیس حکام پر اس قتل کا مقدمہ درج کرائیں گے۔ تاہم پولیس کی طرف سے ابھی تک اس الزام پر کوئی بیان نہیں آیا ہے۔
عمران خان نے پارٹی نے ایک اور ٹویٹ میں جمعرات کو ہلاک ہونے والے کارکن کے لیے ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہTwitter
بریکنگ, عمران خان کا کارکنوں کی پولیس سے جھڑپ کے بعد لاہور میں انتخابی ریلی ختم کرنے کا اعلان
تحریک انصاف نے لاہور کے علاقے زمان پارک کے اردگرد اپنے کارکنان کی پولیس سے جھڑپوں کے بعد بدھ کو نکالی جانے والی انتخابی ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل پولیس نے اس ریلی کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔
بدھ کی شام اپنے پیغام میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ الیکشن سے بھاگنے کے لیے اس قسم کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے کارکن کسی قسم کے انتشار کا حصہ نہ بنیں تاکہ حکومت کو الیکشن سے بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے سات روز کے لیے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کی ہے، جسے تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
عورت مارچ کے شرکا پر لاٹھی چارج کرنے والے تین اہلکار معطل
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد پولیس نے عورت مارچ کے شرکا پر لاٹھی چارج کرنے والے تین اہلکار معطل کر دیے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق مزید ذمہ داروں کا تعین کیا جارہا ہے، جن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے خواتین مارچ کی شرکا سے پولیس کی بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان سے رپورٹ طلب کی تھی۔
وزیر داخلہ نے آئی جی پولیس اسلام آباد پر اظہار برہمی بھی کیا ہے۔
وزیرداخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں خواتین شرکا کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر انتہائی معذرت خواہ ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ’خواتین انتہائی قابل احترام ہیں، واقعے پر دلی افسوس ہے، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں گے۔‘
آئی جی اسلام آباد کی بھی معذرت
ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس
کے مطابق آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے اس واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل پولیس اس واقعہ پر معذرت خواہ ہے۔
ترجمان کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے ڈی آئی جی آپریشنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذمہ داروں کا تعین کرکے کارروائی کریں۔
لاہور میں پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنان میں تصادم
،ویڈیو کیپشنلاہور میں پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنان میں تصادم
بریکنگ, نگران حکومت جو کر رہی ہے وہ جمہوریت پر حملہ ہے، عمران خان
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں اپنی انتخابی ریلی کے انعقاد سے قبل دفعہ 144 کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے نگران حکومت پر ان کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں ان کا کہنا تھا کہ ’جو نگران حکومت کر رہی ہے، وہ قانون کی حکمرانی، ہمارے آئین اور جمہوریت پر ایک حملہ ہے۔۔۔اگر ایک مرتبہ سپریم کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے جائیں تو باقی محض جنگل کا قانون ہی بچتا ہے‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گورنر تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں: تحریک انصاف
تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق اس وقت ماضی کے مقابلے میں دہشتگردی کے حالات بہتر ہیں، تین گنا کم واقعات ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گورنر تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں تو پھر تو عدالیہ کی تشریح کرسکتی ہے۔ تیمور سلیم کے مطابق آج اگر گورنر نے تاریخ نہ دی تو پھر یہ توہین عدالت ہو گی۔
تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، الیکشن سے بھاگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ان کے مطابق آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے، آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
بریکنگ, الیکشن کمشین نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا
الیکشن کمشین نے بدھ کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ پنجاب میں الیکشن 30 اپریل کو ہوں گے۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق 12 مارچ سے 14 مارچ تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا سکیں گے۔
،تصویر کا ذریعہECP
پیمرا نے مال روڈ پر ہونے والے احتجاج کی کوریج پر پابندی عائد کر دی
پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام ٹی وی چینلز پر لاہور کے مال روڈ پر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اپنے نوٹیفکیشن میں پیمرا نے مال روڈ پر مظاہروں کی کوریج نہ کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اب تمام چینلز اس حکم کے پابند ہیں۔ اپنے حکمنانے میں پیمرا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسے احتجاج اور ریلیوں کے دوران کی جانے والی تقاریر میں اداروں کے خلاف بھی تنقید کی جاتی ہے اور وہ سب ٹی وی چینلز پر نشر بھی ہو جاتا ہے۔
پیمرا نے اپنے قوانین کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے پر پہلے سے ہی پابندی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPemra
سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام آ ہی نہیں سکتا: فواد چوہدری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گورنر کے پی اور الیکشن کمیشن کا اجلاس بےنتیجہ
خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لیے گورنر حاجی غلام علی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے افسران کے درمیان بدھ کی صبح ہونے والا مشاورتی اجلاس بےنتیجہ رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق آج الیکشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی ایک ٹیم جو کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن، سپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ڈائریکٹر جنرل لا پر مشتمل تھی نے گورنر خیبر پختونخوا سے الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کے سلسلے میں ملاقات کی۔
اس ٹیم کو الیکشن کمیشن کی طرف سے مشاورت کے مکمل اختیارات دیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے آئین و قانون کی روشنی میں گورنر صاحب کو بریف کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے الیکشن کی تاریخ دینے کے پابند ہیں تاکہ 90 دن یا کم سے کم وقت میں انتخابات کروائے جاسکیں۔
گورنر نے اس میٹنگ میں الیکشن کی تاریخ دینے پر کہا کہ وہ آئندہ ہفتے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن اسلام آباد میں کمیشن کے ساتھ حتمی مشاورت کے لئے ملاقات کریں گے۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے گورنر صاحب پر یہ واضح کیا کہ وہ ان سے صرف الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں حاضر ہوئے ہیں جہاں تک انتخابات کے متعلق تمام تر تیاریوں، انتظامات، امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر امور کا تعلق ہے کمیشن، نگران صوبائی حکومت اور فیڈرل لا انفورسنگ ایجنسیز کے ساتھ رابطے میں ہے اور جلد ہی ان کے ساتھ میٹنگ کرکے ان امور کو حتمی شکل دے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لاہور میں زمان پارک کے باہر کی صورتحال، بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو
پولیس کا تحریک انصاف کے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ، واٹر کینن کا استعمال
لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے لاہور میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر جہاں پولیس ایک طرف پولیس پکڑ دھکڑ کر رہی ہیں وہیں پنجاب پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق کارکنان کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جا رہا ہے اور اس تصادم میں متعدد کارکن اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بریکنگ, لاہور میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ
پاکستان
کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پاکستان
تحریک انصاف کے کارکنوں کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔
لاہور
پولیس کی جانب سے زمان پارک جانے والے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور کینال روڈ
سے پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
پولیس
کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا جا
رہا ہے۔ پولیس
کی بھاری نفری زمان پارک کے قریب پہنچا دی گئی ہے۔
یاد
رہے تحریک انصاف نے آج لاہور میں ’آئین اور عدلیہ‘ سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالنے
کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ
محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔
عمران خان کی اسلام آباد کی عدالتوں میں ویڈیو لنک پر پیشی سے متعلق درخواست پر اعتراض عائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد
ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب
اسلام آباد کے تمام مقدمات میں ویڈیو لنک پر پیشی کی اجازت دینے سے متعلق دائر
درخواست پر اعتراض عائد کر دیا ہے۔
اسلام
آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر تین اعتراضات عائد کیے ہیں۔ رجسٹرار
آفس نے پہلا اعتراض عائد کیا ہے کہ عمران خان کی درخواست واضع نہیں۔
دوسرے
اعتراض میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی ویڈیو لنک کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ
میں کیسے دائر ہو سکتی ہے؟
جبکہ
رجسٹرار آفس کی جانب سے تیسرا اعتراض لگاتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ عدالت سے رجوع
کے بغیر کیسے ویڈیو لنک کی درخواست قابل سماعت ہے؟
واضح رہے کہ عمران
خان کی جانب سے درخواست ان کے وکیل فیصل چوہدری نے دائر کی تھی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سکیورٹی وجوہات پر ذاتی پیشی سے
عدالتی کارروائیاں بھی تعطل کا شکار ہوتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام ماتحت
عدالتوں میں ویڈیو لنک پر پیشی کی استدعا کی گئی ہے۔
عمران خان کی درخواست میں تمام کیسز جوڈیشل کمپلیکس میں
چلانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو عدالت پیشیوں
کے دوران مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیاجائے۔ درخواست میں عدالت سے یہ استدعا
بھی کی گئی ہے کہ موٹرویز اور ہائی ویز پر بھی سکیورٹی فراہمی کے احکامات دیے
جائیں۔
بریکنگ, لاہور میں جلسے، جلوسوں پر پابندی، عمران خان نے پارٹی اجلاس طلب کر لیا
،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial
پاکستان
کے صوبہ پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے لاہور میں جلسے، جلوسوں پر پابندی عائد
کرنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس طلب
کر لیا ہے۔
زمان
پارک لاہور میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں ریلی کے روٹ اور ریلی نکالنے پر مشاورت
کی جائے گی۔
واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب
کی جانب سے لاہور میں جلسے، جلوسوں پر پابندی دفعہ 144 کے تحت لگائی ہے جب کہ
پابندی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
محکمہ
داخلہ پنجاب نے صوبائی دارالحکومت میں یہ پابندی ایک ہفتے کے لیے عائد کی ہے۔
محکمہ
داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ عائد کردہ پابندی کا نفاذ آج
سے شروع ہو گا جب کہ پابندی امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عائد کی گئی ہے۔
واضح
رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان
تحریک انصاف نے زمان پارک سے داتا دربار تک ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ دوسری
جانب لاہور میں خواتین کے عالمی دن کے سلسلے میں عورت مارچ بھی ہونا ہے۔
رانا ثنا اللہ اورپارٹی تصادم اور لاشیں گرانا چاہتی ہے: حماد اظہر
،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ رانا
ثنا اللہ اور پارٹی ملک میں تصادم اور لاشوں کی سیاست چاہتی ہے۔
لاہور میں پی ٹی آئی کی عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی ریلی سے
قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک قانون و انصاف پر
چلنے والی پر امن جماعت ہے اور آج ہم اپنی ریلی نکال رہے ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے سوال پر
ان کا کہنا تھا کہ آج لاکھوں کارکن لاہور میں موجود ہوں گے اور حکومت عمران خان کو
کیا گرفتار کرے گی۔ ان پر 77 جعلی مقدمے بنا دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے تحریک نہیں رکتی لہذا
حکومت کو مفت مشورہ یہ ہے کہایسی کسی بھی
حرکت سے گریز کریں۔ ہم نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کا کہا ہے۔
جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کی ریلی کے پیش نظر لاہور پولیس
نے زمان پارک جانے والے راستے بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مال روڈ سے کینال کی جانب
راستے کو بند کر دیا گیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور پی ٹی
آئی ریلی میں شرکت کے لیے آنے والوں کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عورت مارچ کی اجازت دینے کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار
اسلام
آباد ہائی کورٹ نے عورت مارچ کی اجازت دینے کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے
ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔
بدھ
کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔
درخواست گزار نے عورت مارچ کی اجازت کا ڈی سی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔
چیف
جسٹس نے بدھ کو سماعت میں دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران نزاکت حسین عباسی ایڈووکیٹ نے مؤقف
اپنایا کہ ڈی سی کے اجازت نامہ کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 31 کی کھلی خلاف ورزی
ہے، آئین پاکستان کی دفعہ دو کے مطابق ریاست کا مذہب اسلام ہے۔
نزاکت
حسین عباسی ایڈووکیٹ نے استدلال کیا کہ اجازت نامہ دیتے ہوئے آرٹیکل 16 کو نظر
انداز کیا گیا، فریڈم آف اسمبلی میں کچھ پابندیاں لگائی گئی ہے، اسلامی ریاست میں
ایسا ممکن نہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ بینرز اور پلے کارڈ ماضی کی بات
ہے، ابھی آپ کو کیا خدشہ ہے ؟ کیا آئین پاکستان نے خواتین کو ’فریڈم آف اسمبلی‘ کا
حق نہیں دیا۔
بریکنگ, عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے اسلام آباد کے مقدمات میں ویڈیو لنک پر پیشی کی درخواست
،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial
پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد
ہائیکورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
عمران
خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام
آباد کے تمام مقدمات میں ویڈیو لنک پر پیشی کی اجازت دی جائے۔
عمران
خان کی جانب سے درخواست ان کے وکیل فیصل چوہدری نے دائر کی۔
درخواست
میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سکیورٹی وجوہات پر ذاتی پیشی سے عدالتی کارروائیاں بھی
تعطل کا شکار ہوتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام ماتحت عدالتوں میں ویڈیو لنک
پر پیشی کی استدعا کی گئی ہے۔
عمران خان کی درخواست میں تمام کیسز جوڈیشل کمپلیکس میں چلانے کی بھی تجویز
دی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو عدالت پیشیوں کے دوران مکمل
سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیاجائے۔ درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے
کہ موٹرویز اور ہائی ویز پر بھی سکیورٹی فراہمی کے احکامات دیے جائیں۔
بریکنگ, خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا معاملہ: گورنر اور الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس آج ہو گا
پاکستان
کے صوبہ خیبرپختونخوا کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے
لیے گورنر خیبرپختونخوا اور الیکشن کمیشن حکام کے درمیان مشاورتی اجلاس آج ہو رہا
ہے۔
رواں
ہفتے گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں مشاورت
کے لیے سات یا آٹھ مارچ کی تاریخیں تجویز کی گئی تھیں۔
گذشتہ
روز الیکشن کمیشن نے گورنر خیبرپختونخوا کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا تھا کہ
مشاورت کے لیے سیکریٹری، سپیشل سیکریٹری اور ڈی جی (قانون) پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل
دی گئی ہے۔
جواب
میں گورنر خیبرپختونخوا نے مشاورت کے لیے آٹھ مارچ کی تاریخ مقرر کی اور الیکشن کمیشن کی ٹیم سے
کہا کہ وہ انتخابات کے پرامن انعقاد سے متعلق تمام امور پر مشاورت کے لیے تیار ہو
کر آئیں۔
الیکشن
کمیشن نے کہا کہ آئین کے مطابق انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نگران حکومت پرامن انتخابات کو یقینی بنانے میں
الیکشن کمیشن کی معاونت کرتے ہیں۔
انتخابات کا معاملہ: الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ سے سی سی پی او لاہور کے تبادلے کی استدعا
،تصویر کا ذریعہTWITTER/@CCPOLAHORE
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای
سی پی) نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سے متعلق کیس میں فریق
بننے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غلام محمود ڈوگر کے ہوتے
ہوئے لاہور میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔‘
الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم
کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ’الیکشن کمیشن کا خیال ہے کہ ایسے جانبدار
افسران کی تبدیلی کے بغیر آرٹیکل 218 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 کے مطابق
آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔‘
الیکشن کمیشن نے درخواست میں مؤقف
اختیار کیا کہ متعلقہ افسر کا ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ ہے، اگر پنجاب
اسمبلی الیکشن کے انعقاد کے وقت متعلقہ افسر محکمے کے انچارج ہوئے تو وہ اپنی
آئینی ذمہ داری نبھا نہیں سکیں گے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 17
فروری کو اپنے فیصلے میں سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کو معطل کر دیا
تھا۔
الیکشن کمیشن نے دلیل دی کہ
2012 کے ورکرز پارٹی کیس میں عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ
کسی بھی قسم کی ممکنہ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کرے تاکہ
انتخابات قانون کے مطابق کرائے جا سکیں۔