عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی داتا دربار پہنچ گئی ہے جہاں انھوں نےبلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو مینار پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ فارن فنڈنگ کیس میں جب ن لیگ کی فنڈنگ کا سامنے آئی تو سب پتا لگ جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی دو عدالتوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. شعیب شیخ کا تین روزہ ریمانڈ منظور

    جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے ملزم شعیب شیخ کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے دینے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر کے 10روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  2. بلوچستان ہائیکورٹ نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان ہائیکورٹ نے ریاستی اداروں کے خلاف بیان کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔

    بلوچستان ہائیکورٹ میں انصاف لائرز فورم کے رہنما اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست جمع کرائی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجلی روڈ تھانے میں مقدمہ درج نہیں ہوسکتا کیونکہ جس الزام پر مقدمہ درج ہوا وہ بجلی روڈ تھانےکی حدود ہی نہیں۔

    درخواست گزار نے عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آر کو ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

    بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس ظہیر الدین نے درخواست پر مختصر سماعت کی اور عمران خان کےخلاف درج مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری دو ہفتوں کے لیے معطل کر دیے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ کی عدالت نے گذشتہ روز اداروں کے خلاف بیان کے کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جن کی تعمیل کے لیے کوئٹہ پولیس آج لاہور پہنچی تھی۔

  3. ایف آئی اے کی شعیب شیخ کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا

    ایگزیکٹ ڈگری سکینڈل کیس کے ملزم شعیب شیخ کو جب جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردوں کی طرح منھ پر کپڑا ڈال کے ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا۔‘

    جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ’کیا مقدمے سے قبل انکوائری کی؟‘

    تفتیشی افسر نے کہا ’جی انکوائری کی، جج کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے شعیب شیخ کے خلاف انکوائری کا حکم دیا۔ جیل میں ہونے کے باوجود رشوت بھیجی گئی، ادارے کو بدنام کیا گیا۔‘

    ان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ابھی تفتیش کرنی ہے لہذا ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے دیا جائے۔

    شعیب شیخ نے کہا کہ ’برگیڈیر طاہر صاحب نے رشوت دی۔ رشوت دینے والا برگیڈیر ہے، رشوت لینے والا جج ہے۔ اس میں میرا کوئی تعلق نہیں۔ کیا برگیڈیر کو گرفتار کیا گیا؟ کیا ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟‘

    ملزم نے عدالت کو بتایا کہ ’میرے ساتھ غیر انسانی سلوک ہوا۔ مجھ پر رشوت دینے کا الزام ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے خلاف انکوائری تھی، مجھے انکوائری میں شامل ہونے کے لیے کچھ روز دیے جاتے۔‘

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ’کیا سابق ایڈیشنل سیشن جج نے رشوت لینے کا اقرار نہیں کیا اور کیا دیگر 25 ملزمان کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا؟‘ اس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ’دیگر 25 ملزمان کو شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔‘

    ملزم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سپیشل پراسیکیوٹر پر اعتراض اٹھایا کہ ’کوئی بھی پرائیویٹ وکیل سرکاری عہدہ رکھنے کا حق نہیں رکھتا۔‘

    اس مقدمے کے پراسیکیوٹر اشفاق نقوی نے کمرہ عدالت میں دلائل دیے کہ ’26 ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سابق ایڈیشنل سیشن جج کا بیان اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری اپیل کا حصہ تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دیگر شریک ملزمان کے ساتھ ٹرائل کورٹ نے شعیب شیخ کو مجرم قرار دیا تھا اور ملزم شیعب شیخ نے جیل جائے بغیر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی۔‘

    پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ کو پراسیکوٹر کے دلائل دینے کے دوران بار بار بولنے پر عدالت نے روک دیا۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’ہائیکورٹ کے دو ججز کے سامنے سیشن جج نے رشوت لینے کا اعتراف کیا۔‘

    پراسیکوٹر نے ملزم شعیب شیخ کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی مخالفت کی اور کہا ’ابھی تو 24 گھنٹے گرفتاری کو ہوئے نہیں، کیس سے ڈسچارج نہیں کیا جاسکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’رشوت لینے والا ظاہر ہے تو کسی نے تو رشوت دی بھی ہو گی اور اس معاملے کے بینفشری سی ای او ایگزیکٹ شعیب شیخ ہیں اور اس سٹیج پر ڈسچارج کرنا نہیں بنتا، جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے۔‘

    ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے شعیب شیخ کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

  4. کوئٹہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر ایس پی سٹی ندیم لاہور پہنچ گئے

    کوئٹہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر ایس پی سٹی ندیم اپنی ٹیم کے ہمراہ لاہور پہنچ گئے ہیں۔

    عمران خان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت ایف آئی آر کوئٹہ کے علاقہ نواں کلی کے رہائشی عبد الخلیل کاکڑ نامی شہری کی جانب درج کروائی گئی تھی۔

    عبد الخلیل کاکڑ کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’ پانچ مارچ کو توشہ خان کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے لیے پولیس زمان پارک لاہور میں واقع ان کے گھر گئی تو عمران خان نے میڈیا پرآ کر اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے۔‘

    fir

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan Police

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق’عمران خان نے اداروں کے خلاف بلا جواز اشتعال انگیز تقریر کر کے نفرت پھیلائی جس سے ملک کے امن و امان کو خطرات لاحق ہیں۔‘

    ایف آئی آر کے مطابق ’عمران خان نے ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اور ملک اور اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔‘

    ایف آئی آرمیں کہا گیا کہ ’عمران خان کی تقریر سے محب وطن پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

    WARRENT

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan police

    عمران خان کی گرفتاری کے لیے لاہور پہنچنے والی ٹیم میں ایس پی سٹی ندیم کے ساتھ ایک ڈی ایس پی،ایک سب انسپکٹر، دو گارڈز اور ڈرائیور شامل ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے لیے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو بھی اطلاع کر دی گئی ہے۔

  5. ’وزارت دفاع آج الیکشن کمیشن کو سکیورٹی معاملات پر بریفنگ دے گی‘

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس نے 10 مارچ ، بروز جمعہ، صبح 11 بجے وزارت دفاع اور ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو الیکشن سے متعلق سکیورٹی معاملات پر بریفنگ کے لیے طلب کر لیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے گذشتہ روز اپنے اعلامیے میں بتایا تھا کہ کمیشن نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ فوج، رینجرز اور دیگر کی نفری کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کے ساتھ ساتھ حساس ادارے بشمول آئی بی، آئی ایس آئی اور دونوں صوبوں کی سی ٹی ڈی سے بھی 10 مارچ کو میٹنگ کی جا رہی ہے تاکہ ’الیکشن انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘

    جبکہ 13 مارچ ، بروز پیر صوبائی اسمبلی پنجاب کے جنرل الیکشن کے انتظامات اور سکیورٹی کے حوالے سے نگران وزیر اعلی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد بلایا ہے۔

  6. پی ٹی آئی کے خلاف توڑ پھوڑ کا مقدمہ: عدالت نے شناخت پریڈ کے لیے ایک دن وقت دے دیا

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت اور اسلام آباد ہائی کو رات میں پیشی کے موقع پر توڑ پھوڑ کے مقدمے کی سماعت اسلام آباد کی عدالت میں ہوئی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان انسداد دہشتگری عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس مقدمے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں ملوث پی ٹی آئی کے کارکنان کی تاحال شناخت پریڈ نہ ہو سکی۔

    عدالت مے عدالت نے شناخت پریڈ کے لیے مزید ایک دن کا وقت دے دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کل تک شناخت پریڈ نہیں ہوتی تو بھی فیصلہ دیں گے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  7. ’شعیب شیخ کو ایف آئی اے نے ہی گرفتار کیا‘

    ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شیعب شیخ و دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے میں ہونے والی حالیہ پیشرفت سے متعلق آئندہ جمعے کو آگاہ کریں۔

    سماعت کے دوران ملزم شعیب شیخ کے وکیل عابد زبیری نے کہا کہ کل کراچی میں شعیب شیخ کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے اور آج کراچی کی عدالت نے فیصلہ بھی سنانا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت گیارہ بجے تک شعیب شیخ کو طلب کرے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے استثنی منظور نہیں کیا تھا، وہ آپ کی عدالت پیشی کے لیے آ رہے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک دفعہ مجسٹریٹ کے سامنے پیشی ہو جائے پھر آرڈر کروں گا۔‘

    ایڈشنل اٹارنی جنرل نے پہلے عدالت کو بتایا کہ ’ایف آئی اے نے گرفتار نہیں کیا‘ تاہم اس دعوے کے برعکس اس مقدمے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’ایف آئی اے نے ہی گرفتار کیا ہے۔‘

    اس جواب پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’ایف آئی اے راولپنڈی نے گرفتار کیا ہو گا مجھے نہیں پتہ تھا۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ایف آئی اے، ایف آئی اے ہی ہے۔ راولپنڈی ہو یا اسلام آباد۔‘ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔

  8. ظلِ شاہ: ’میرا بیٹا بہت معصوم تھا، اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ عمران خان کا دیوانہ تھا‘

  9. عابد میر کی گھر واپسی کی تردید: ’خیریت کا پیغام پہنچانے والے اس سے رابطہ کرانے کے قابل نہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ لاپتہ صحافی عابد میر ’گھر پہنچ گئے ہیں‘ تاہم اس کی نفی کرتے ہوئے ان کے بھائی خالد میر کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کا تاحال ان سے ’کوئی رابطہ نہیں‘ ہوا۔

    پولیس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’گھر والوں سے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے لاپتہ ہونے کا غلط تاثر پیدا ہوا۔ تمام شہریوں اور صحافیوں کا شکریہ جنھوں نے اس سلسلے میں پولیس سے رابطہ کیا اور اطلاع دی۔‘

    ادھر خالد میر نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’خاندان میں اب تک شدید پریشانی کا عالم ہے، ہم میں سے کسی کا عابد سے کوئی رابطہ نہیں، نہ ہی اس کی 'خیریت' کا پیغام پہنچانے والے اس سے رابطہ کرانے کے قابل ہیں۔‘

    ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم لوک سجاگ (جہاں عابد میر بطور بلوچستان ایڈیٹر کام کرتے ہیں) نے بتایا ہے کہ وہ آٹھ مارچ کو شام ساڑھے چھ بجے سے لاپتہ ہیں مگر ’ان کی رہائی کی فیک نیوز پھیلائی جا رہی ہے‘ جس کی وہ ’مذمت کرتے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی فوراً تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عابد میر کو محفوظ طریقے سے بازیاب کرایا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  10. پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر بڑھ کر 9.75 ارب ڈالر تک پہنچ گئے:سٹیٹ بینک

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ایک رپورٹ میں ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے سے آگاہ کیا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ’3 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر بڑھ کرنو اعشاریہ سات پانچ ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق ’3 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 48 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اضافے کے ساتھ چار اعشارعہ تین ارب ڈالر ہوگئے ہیں، جس کی وجہ چین سے کمرشل قرض کے طور پر 50 کروڑ ڈالر کی وصولی ہے ۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چین نے پاکستان کے لیے ایک اعشارعہ تین ارب ڈالر رول اوور کرنے کی منظوری دی تھی۔ جسے پاکستان کو تین قسطوں میں ادا کیا جانا تھا اور اس سلسلے میں 50 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط مرکزی بینک کو وصول ہوچکی ہے۔

  11. سابق جسٹس آصف کھوسہ نے توسیع کے لیے نواز شریف سے رابطہ کیا تھا: مریم نواز کا دعویٰ

    Khosa

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کو ایک انٹرویو میں پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بطور چیف جسٹس توسیع کے لیے نواز شریف سے جیل میں رابطہ کیا گیا لیکن سابق وزیراعظم نے مسترد کردیا۔

    مریم نواز نے انٹرویو کے دوران ماضی میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پر نواز شریف کے خلاف سازش کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’قرآن پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا بطور چیف جسٹس آپ کی توسیع کی بات نہیں ہو رہی تھی‘۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر نواز شریف مان گئے ہوتے اور ان کو بطور چیف جسٹس توسیع مل جاتی تو آج عمر عطا بندیال صاحب چیف جسٹس نہ ہوتے‘۔

    مریم نواز نے کہا کہ ’ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی بات کی جارہی تھی، تو وہ کیوں کی جارہی تھی کہ تم میرے سے کچھ لے لو اور میں تمھیں کچھ دے دیتا ہوں‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کے چیف جسٹس کا پیغام لے کر جیل میں نواز شریف کے پاس لوگ گئے تھے لیکن نواز شریف نے جیل میں ان کے پاس جو لوگ گئے تھے ان سے کہا کہ میرے ساتھ کیا بات کر رہے ہیں‘ اور انھوں نے توسیع دینے سے انکار کردیا۔

    مریم نواز نے کہا کہ ’پھر نواز شریف قابل قبول نہیں تھے کیونکہ وہ اس قسم کے فیصلے نہیں کرتے تھے‘۔

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ اس پانچ رکنی پانامہ بنچ کا حصہ تھے جس نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

  12. انتخابات کے لیے مطلوبہ فنڈز مہیا کرنا مشکل ہے تاہم وفاقی حکومت سے مشاورت کرنے کے بعد حتمی جواب دیں گے۔ حکام وزارت خزانہ

    الیکشن کمیشن نے دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے لیے حکومت سے 20 ارب روپے مانگ لیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق پورے ملک میں عام انتخابات کے لیے 65 ارب روپے درکار ہیں، جن میں سے 20 ارب صرف دو صوبوں کے انتخابات کے لیے درکار ہیں۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق آج الیکشن کمیشن میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے عام انتخابات کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری داخلہ کو بلایا گیا تھا تا کہ مذکورہ انتخابات کے لیے فنڈز اور سکیورٹی کی فراہمی یقینی بنایا جا سکے۔

    ترجمان کے مطابق ان 20 ارب میں سے ابھی تک کمیشن کو صرف 5 ارب دیے گئے ہیں جبکہ اس مالی سال میں مزید 15 ارب کے فنڈز درکار ہیں۔

    سیکریٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کو ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور اس کے پیش نظر بتایا کہ مطلوبہ فنڈز مہیا کرنا وزرات خزانہ کے لیے مشکل ہے۔

    لیکن وہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے مشاورت کرنے کے بعد ہی حتمی جواب دیں گے۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن سکیورٹی کے حوالے سے کمیشن کو آگاہ کیا کہ دونوں صوبوں میں پولیس کے علاوہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پنجاب میں 2 لاکھ 97 ہزار اور صوبہ خیبر پختونخوا 56 ہزار مزید نفری درکار ہوگی۔

    سیکریٹری داخلہ کو کمیشن کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ وہ فوج، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں اور مطلوبہ درکار نفری کا بندوبست کرکے کمیشن کو آگاہ کریں۔

    ترجمان کے مطابق مزید یہ کہ حساس ادارے بشمول آئی بی، آئی ایس آئی اور دونوں صوبوں کی سی ٹی ڈیز سے بھی 10 مارچ کو میٹنگ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں صوبوں کے انسپکٹر جنرل اور چیف سیکریٹری کو بھی اگلے ہفتے میٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ وزارت دفاع سے بھی میٹنگ کی جارہی ہے تاکہ الیکشن کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا نے بھی اگلے ہفتے کمیشن کے ساتھ میٹنگ کی خواہش کا اظہار کیا ہے تا کہ خیبرپختونخوا کے الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ کیا جاسکے۔

  13. الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کے لیے گورنر کو خط

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر مشاورت کے لیے الیکشن کمیشن نے صوبے کے گورنر حاجی غلام علی کو خط لکھ کر 14مارچ کو الیکشن کمیشن کے دفتر آنے کی دعوت دی ہے۔

    ترجمان الیکشن کمشین کے مطابق 14 مارچ کو دن دو بجے ہونے والے اجلاس میں گورنر سے صوبے میں عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔

  14. جج کو رشوت دینے کے مقدمے میں بول نیوز کے مالک شعیب شیخ اسلام آباد سے گرفتار, شہزاد ملک بی بی سی اردو اسلام آباد

    Shoib Shaikh

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایگزٹ اور نجی ٹی وی چینل بول نیوز کے مالک شعیب شیخ کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کے اسلام آباد ریجن کے ڈائریکٹر رانا جبار نے شعیب شیخ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری سکینڈل کے مقدمے میں ملزم شعیب شیخ کی جانب سے اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج عبدالقادر میمن کو اس مقدمے سے بری کرنےکے لیے پچاس لاکھ روپے بطور رشوت دینے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

    ایف آئی اے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس مقدمے میں سابق ایڈیشنل سیشن جج عبدالقادر میمن بھی نامزد ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ملزم کو شامل تفتیش ہونے کے لیے متعدد بار نوٹس بھیجے گئے لیکن وہ پیش نہ ہوئے جس پر ایف آئی اے کے حکام نے معلومات کی بنیاد پر جمعرات کو ایک جگہ پر چھاپہ مارکر ملزم شعیب شیخ کو گرفتار کرلیا ہے۔

    رانا جبار کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے ملزم کو دس مارچ کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جج کو رشوت دینے کی معاملے کی تحققیات بھی کروائی تھیں اور جرم ثابت ہونے پر مزکورہ ایڈشنل سیشن جج کو نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔

  15. ارشد شریف قتل کیس پر سماعت سپریم کورٹ میں کل ساڑھے گیارہ بجے ہو گی

    Arshad Sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ ،چیف جسٹس پاکستان نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ جمعے کو ساڑھے گیارہ بجے سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ رجسڑار آفس کی جانب سے جے آئی ٹی ممبران سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز بھیج دیے ہیں۔

  16. کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی عابد میر اسلام آباد سے لاپتہ, اعظم خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    Abid Mir

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی عابد میر بدھ کی شام سے اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان کے بھائی خالد میر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عابد کا بدھ کی شام ساڑھے چھ فیملی سے رابطہ ہوا تھا۔

    ان کے مطابق عابد میر نے گھر والوں سے معمول کی بات چیت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

    خالد کے مطابق ان کے بھائی کی آخری لوکیشن تھانہ رمنا معلوم ہو سکی ہے، جہاں اب وہ اس گمشدگی سے متعلق ایف آئی آر درج کرانے کے لیے جا رہے ہیں۔

    عابد میر کے قریبی دوست زاہد کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا کچھ کتب کی اشاعت سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر عابد سے رابطہ رہتا تھا مگر بُدھ کو انھوں نے میرے واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغامات کو دیکھا تک نہیں۔

    ان کے مطابق انھیں اب دیگر دوستوں کے ذریعے ان کی گمشدگی کا پتا چلا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی کیا بلوچ کے مطابق عابد میر صاحب ایک صحافی، کالم نگار اور مصنف ہیں، جو تنقیدی تحریروں اور کہانیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’میر بلوچستان میں حکام اور ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ میر نے اپنی قلم سے بلوچستان کے ایسے مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی قردار ادا کی ہے جو میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے۔‘

    لوک سجاگ ڈاٹ کام کے مینجینگ ایڈیٹر طاہر مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ عابد میر لوک سجاگ ڈاٹ کام بلوچستان کے ایڈیٹر ہیں اور یہ ادارہ دور دراز ایسی خبروں پر کام کرتا ہے جنھیں عام طور پر مین سٹریم میڈیا میں جگہ نہیں مل پاتی۔ ان کے مطابق ان کے ادارے کے ہر صوبے کے ایڈیٹر ہیں اور سب کا کام دوردراز لوگوں کو درپیش مسائل پر قلم اٹھانا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  17. کورٹ کے لیے بیمار، ریلی کے لیے تیار: مریم نواز کی عمران خان پر تنقید

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے لاہور میں نوجوانوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کی بات ہوتی ہے تو عمران خان بیمار ہو جاتے ہیں اور جب کوئی ریلی ہوتی ہے اس کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا عدالت میں پیش ہونے سے جان کو خطرہ ہوتا ہے یا ہزاروں کی ریلی میں سامنے آنے پر جان کو خطرہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق انھیں بھی الرٹ ملتے ہیں مگر وہ کبھی اسے ڈھال بنا کر احتساب سے پیچھے نہیں ہٹے۔

  18. کل ایک اسمبلی ن لیگ اور ایک تحریک انصاف جیت جائے تو کیا گارنٹی ہے کہ عمران خان اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے

    maryam

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کا نشہ چڑھا ہوا ہے مگر پہلے پانامہ بنچ اور ان ذمہ داران سے نہ پوچھا جائے جن کی وجہ سے ملک یہاں تک پہنچا ہے۔ ان کے مطابق جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیرالاسلام اور فیض حمید جیسی بیساکھیاں گئی ہیں اب انھیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کیا کرنا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ کھلے عام بنچ فکسنگ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اب اس بات کی گیا گارنٹی ہے کہ کل الیکشن ہوں اور ایک اسمبلی ن لیگ اور ایک تحریک انصاف جیت جائے اور پھر عمران خان اس اسمبلی کو تحلیل نہیں کرے گا۔

    ان کے مطابق عمران خان نے پرویز الٰہی پر دباؤ ڈال کر پنجاب اسمبلی تحلیل کروا دی۔

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’عدلیہ کو بھی سوچنا چاہیے کہ کس انسان کے یہ فیصلے ہیں۔‘

  19. عمران خان کی ویڈیو لنک پر پیشی کی درخواست پر حکومت کو نوٹس، سماعت 15 مارچ تک ملتوی, شہزاد ملک بی بی سی اردو اسلام آباد

    IK

    ،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN/FACEBOOK

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد کی عدالتوں میں ویڈیو لنک پر پیشی کی درخواست پر سماعت کی ہے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے موجودگی کو دیکھنا ہو گا اس سے مراد کیا ہے اور اس میں میشا شفیع کیس میں ہمارے سامنے مثال موجود ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے نوٹس میں ہے اور وہ معاملہ بیان ریکارڈ کروانے کی حد تک تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں کُل کتنے مقدمات ہیں؟

    جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مقدمات کا کوئی حساب نہیں، ابھی بھی ہو رہے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں عمران خلاف 27 مقدمات درج ہوئے ہیں عدالت نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر پیشی کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی سماعت 15 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔

  20. کوئٹہ کی ایک مقامی عدالت سے عمران حان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری, محمد کاظم بی بی سی اردو کوئٹہ

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کوئٹہ کی ایک مقامی عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    کوئٹہ جوڈیشل مجسٹریٹ اول کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما عمران خان پر اداروں کے خلاف ’ہرزہ سرائی‘ کا مقدمے میں یہ وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہJudicial Magistrate-1