پی
ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سنگجانی میں اقدام قتل کے
مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ عدالت پیش ہوتے ہوئے کہا
کہ عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل دینا چاہتا ہوں۔
جس
پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیے کہ سکیورٹی بنیاد
پر دلائل دینے ہیں؟ عدالت سے پہلے تو ٹی پر آپ کے دلائل چل جاتے۔
ان
کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔
وکیل
عمران خان کا کہنا تھا کہ کل سکیورٹی سے متعلق ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس پر
عدالت نے کہا کہ اس درخواست پر آپ کے سوا کسی کے دستحظ نہیں تھے۔
عدالت
نے استفسار کیا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر صاحب کہاں ہیں؟ کیا ان کو بھی سکیورٹی
کے خطرات ہیں؟
اس
پر عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ سلمان صفدر لاہور ہیں، اس مقدمے میں،
میں بھی وکیل ہوں۔
عمران
خان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی ریلی پر کل
واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں برسائی۔واٹر کینن کے پانی میں حکومت نے کیمیکل ملایا۔
جس
پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے یا اندازہ ہے؟
اس
پر وکیل کا کہنا تھا کہ کارکنان نے بتایا کہ واٹر کینن کے پانی سے جسم پر جلن ہوئی۔
عمران
خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے بھی کہہ دیا ہےکہ عمران خان کی جان کو
خطرہ ہے۔
وکیل
نعیم پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر 76 مقدمات ہو چکے، رات تک شاید دو چار
اور ہو جائیں۔
انھوں
نے کہا کہ قاتلانہ حملے سے قبل عمران خان ہر عدالتی پیشی پر پہنچے، جس پر انسداد
دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو انسدادِ دہشت گردی عدالت
نے طلب نہیں کیا تھا بلکہ عمران خان نے خود درخواست ضمانت دائر کی۔
انھوں
نے کہا کہ عمران خان کی ضمانت ساڑھے پانچ ماہ بعد خارج ہوئی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ
عمران خان کو عدالت کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن آپ کا انداز تھینک لیس والا ہے۔
انسداد
دہشت گردی۔ کی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کےبعد تین بجے سماعت کریں گے۔
اس
موقع پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جان کا خطرہ ہے لیکن ریلی کو لیڈ
بھی کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں
نے کہا کہ ریلی لیڈ کرنے سے بہتر ہے عمران خان عدالت پیش ہو جائیں۔سرکاری
وکیل نے استدعا کی کہ ملزم عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے۔ انسداد
دہشت گردی کی عدالت کے جج نے کہا کہ ضمانت عدالت خارج کر بھی دیں تو آپ انھیں گرفتار
نہیں کرتے۔
انسداد
دہشت گردی کی عدالت کے جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ضمانت خارج کیوں
کروانی ہے؟ عمران خان کو گرفتار کرنا ہے؟
اسلام
آباد ہائیکورٹ کا وڈیو لنک پر درخواست کا فیصلہ آنے تک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے
سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔