عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی داتا دربار پہنچ گئی ہے جہاں انھوں نےبلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو مینار پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ فارن فنڈنگ کیس میں جب ن لیگ کی فنڈنگ کا سامنے آئی تو سب پتا لگ جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی دو عدالتوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی ضمانت میں توسیع، حاضری سے استثنیٰ بھی مل گیا

    عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے محسن شاہنواز رانجھا پر حملے کے مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے اس مقدمے میں عدالت نے عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

    ابھی اس درخواست پر فیصلہ آنا باقی ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سے عدالت میں حاضری کی اجازت مل سکتی ہے یا نہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان کے خلاف اس کیس میں تفتیش مکمل ہو گئی ہے؟ جس پر پولیس نے بتایا کہ ابھی تک اس کیس میں تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے کہا کہ عمران خان عدالتی حکم کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہوئے، جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اصورتحال ایسی تھی کہ تفتیشی تک رسائی نہیں مل سکی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان کو تفتشیی تک رسائی نہیں ملی یا تفتیشی کو ان تک نہیں ملی؟ یا دونوں کو ایک دوسرے تک رسائی نہیں ملی۔ اب عمران خان شامل تفتیش ہو جائیں۔

  2. لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر عائد پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی تقاریر اور بیانات ٹی وی چینلز پر نشر کرنے پر عائد پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر عمران خان کی لائیو یا ریکارڈڈ تقاریر و بیانات نشر کرنے پر پابندی لگائی تھی۔ عمران خان پر الزام تھا کہ وہ اپنی تقاریر میں اداروں اور شخصیات پر بے بنیاد الزامات اور ان کی کردار کشی پر مبنی مہم چلا رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے پیمرا کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جمعرات کو اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شمس محمود مرزا نے پابندی کے نوٹیفیکشن کو معطل کرتے ہوئے یہ معاملہ فل بینچ کو سماعت کے لیے بھجوا دیا ہے۔

    اس کیس کی آئندہ سماعت 13 مارچ کو ہو گی۔

  3. صوبائی دارالحکومت لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات واپس لے لیے گئے

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کی جانب سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی ہے۔

    جمعرات کو اس کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل کی جانب سے یہ بتائے جانے کے بعد عدالت نے اس کیس کو نمٹا دیا۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ بدھ کا دن حساس تھا اس لیے حکومت نے شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا تھا جو کہ درست اقدام تھا تاہم اب یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔

  4. عمران خان کا بی بی سی کو انٹرویو: ’مجھے اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں‘

  5. پیمرا نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے کنڈکٹ سے متعلق لائیو یا ریکارڈڈ مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی

    پیمرا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی چینلز پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے کنڈکٹ سے متعلق لائیو یا ریکارڈڈ مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق ٹی وی چینلز پر اس پابندی کا اطلاق فوری ہو گا اور ان احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں چینلز کا لائسنس معطل کر دیا جائے گا۔

    پیمرا کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ماضی قریب میں متعدد مرتبہ احکامات جاری کیے گئے تاہم یہ نوٹس کیا گیا ہے کہ واضح احکامات کے باوجود چند ٹی وی چینلز لگاتار اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے کنڈکٹ سے متعلق مواد نشر کر رہے ہیں اور ان کی کردار کشی پر مبنی مہم چلا رہے ہیں جو پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    پیمرا کے مطابق یہ پابندی پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007 کے تحت عائد کی گئی ہے اور اس حوالے سے ٹی وی چینلز کو ٹائم ڈیلے میکانزم کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پیمرا نے ٹی وی چینلز کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ خود مختار اور آزادانہ ایڈیٹوریل بورڈ کے تشکیل کی یقینی بنائیں۔

  6. ڈالر کی قیمت چار روپے سے زائد اضافے کے بعد 283.50 روپے ہو گئی, تنویر ملک، صحافی

    ڈآلر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں جمعرات کے روز اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    جمعرات کے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 4.38 روپے اضافے کے بعد 283.50 کی سطح تک چلی گئی۔ ڈالر کی قیمت میں گذشتہ دو روز سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    بدھ کو کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 279 روپے پر بند ہوئی تھی اور جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز سے ہی اس کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت چار روپے اضافے کے بعد 284.50 روپے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    کرنسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافہ فری ایکسچینج ریٹ کا نتیجہ ہے۔انھوں نے کہا کیونکہ پروگرام کی بحالی اب قریب ہے اس لیے فری ایکسچینج ریٹ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جس نے ڈالر کی قیمت کو بڑھایا ہے۔

  7. ملک کو ڈیفالٹ کا خطرہ نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت دیتا ہوں: اسحاق ڈار

    Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ کا خطرہ نہیں اور میں تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت دیتا ہوں۔

    اسلام آباد میں ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) کے نویں جائزے کی تکمیل میں میری توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے، امید ہے آنے والے چند روز میں معاہدہ ہو جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس میثاق معیشت میں کوئی بھی تبدیلی نہ کرے، سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میثاق معیشت کوخوش آمدید کہتا ہوں، حکومت چارٹر آف اکانومی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز و سفارشات کا خیر مقدم کرے گی۔‘

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ برسوں کے دوران کی گئی معاشی بد انتظامی کے باعث 2013 سے 2018 تک حاصل کی گئی ترقی کو مکمل طور پر ریورس گیئر لگ گیا، ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ 2016 اور 2017 کے دوران ملک کی معیشت دنیا میں 24 ویں نمبر پر تھی، عالمی ایجنسی نے پیش گوئی کی تھی کہ 2030 تک پاکستان جی 20 ممالک میں شامل ہوجائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے تکلیف محسوس ہو رہی ہے کہ 2022 میں پاکستان دنیا کی معاشی فہرست میں 47 ویں نمبر ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف کے اس پروگرام کو اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق مکمل کرنے کے لیے پر عزم ہیں، ہم نویں جائزے کے عمل میں ہیں، امید ہے آنے والے چند روز میں معاہدہ ہو جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ میں نے اور میری ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان تمام وعدوں اور کمٹمنٹ کو پورا کریں گے جو گذشتہ حکومت نے کی تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے قرض پروگرام کی شرائط پر اتفاق کیا تھا لیکن پھر اپنے وعدوں کا احترام کرنے کے بجائے شرائط کی خلاف ورزی کی، اس کی وجہ سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ مالی سال 2023-24 کے لیے معاشی اور مالیاتی فریم ورک کی تیاری کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر آنے والا بجٹ ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کی جانب ایک قدم ہو گا۔

  8. مجھے اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں، جس کے ساتھ عوام ہوں اسے بیساکھیوں کی ضرورت نہیں: عمران خان

  9. بریکنگ, توشہ خانہ ریفرنس: عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی نیب میں طلبی

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرنے کے الزام میں نیب حکام نے تحقیقات کے لیے سلسلے میں دن ڈھائی بجے طلب کر رکھا ہے۔

    نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرنے پر جواب طلب کر رکھا ہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیمتی تحائف کی خرید و فروخت کا مکمل ریکارڈ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیب کی طرف سے جاری کیے گئے سمن میں کہا گیا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے تحفے میں ملنے والی چھ گھڑیوں کی تفصیلات فراہم کریں۔

    نیب کی تفتیشی ٹیم تحقیقات کے لیے گذشتہ روز دبئی پہنچی تھی، جہاں سے نیب ٹیم نے قیمتی گھڑی کی فروخت سے متعلق اہم معلومات اکٹھی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    نیب حکام کے مطابق ٹیم نے تحفے کی گھڑی خریدنے کے دعویدار عمر فاروق کے گھر کا بھی دورہ کیا۔ نیب ٹیم نے یو اے ای میں پاکستانی سفارتخانے اور کچھ دکانوں کا بھی دورہ کیا۔

    نیب گراف کعبہ ایڈیشن گھڑی اور دیگر تحائف کی فروخت کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ گھڑی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفہ دی تھی۔

  10. تھانہ سنگجانی میں اقدام قتل کا مقدمہ: عمران خان کی درخواست خارج کریں تو کیا آپ نے گرفتار کرنا ہے؟‘، عدالت

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سنگجانی میں اقدام قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ عدالت پیش ہوتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل دینا چاہتا ہوں۔

    جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیے کہ سکیورٹی بنیاد پر دلائل دینے ہیں؟ عدالت سے پہلے تو ٹی پر آپ کے دلائل چل جاتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ کل سکیورٹی سے متعلق ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اس درخواست پر آپ کے سوا کسی کے دستحظ نہیں تھے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر صاحب کہاں ہیں؟ کیا ان کو بھی سکیورٹی کے خطرات ہیں؟

    اس پر عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ سلمان صفدر لاہور ہیں، اس مقدمے میں، میں بھی وکیل ہوں۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی ریلی پر کل واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں برسائی۔واٹر کینن کے پانی میں حکومت نے کیمیکل ملایا۔

    جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے یا اندازہ ہے؟

    اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ کارکنان نے بتایا کہ واٹر کینن کے پانی سے جسم پر جلن ہوئی۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے بھی کہہ دیا ہےکہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔

    وکیل نعیم پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر 76 مقدمات ہو چکے، رات تک شاید دو چار اور ہو جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ قاتلانہ حملے سے قبل عمران خان ہر عدالتی پیشی پر پہنچے، جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے طلب نہیں کیا تھا بلکہ عمران خان نے خود درخواست ضمانت دائر کی۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی ضمانت ساڑھے پانچ ماہ بعد خارج ہوئی ہے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ عمران خان کو عدالت کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن آپ کا انداز تھینک لیس والا ہے۔

    انسداد دہشت گردی۔ کی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کےبعد تین بجے سماعت کریں گے۔

    اس موقع پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جان کا خطرہ ہے لیکن ریلی کو لیڈ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریلی لیڈ کرنے سے بہتر ہے عمران خان عدالت پیش ہو جائیں۔سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ملزم عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے کہا کہ ضمانت عدالت خارج کر بھی دیں تو آپ انھیں گرفتار نہیں کرتے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ضمانت خارج کیوں کروانی ہے؟ عمران خان کو گرفتار کرنا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا وڈیو لنک پر درخواست کا فیصلہ آنے تک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  11. عمران خان کی خاتون جج کو دھمکانے سمیت تین مقدمات میں اسلام آباد میں پیشی

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی آج اسلام آباد کی تین مقدمات میں عدالتوں میں پیشی ہیں۔

    ان میں سے ایک مقدمہ خاتون جج کو دھمکی دینے کا ہے جس میں وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔

    خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا عدالت میں پیش ہوئے اور عمران خان کی جانب سے آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ ’عمران خان کو سیکیورٹی کے تھریٹ ہیں اور لاہور میں کل دفعہ 144 نافذ کی گئی۔

    وکیل کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے، عمران خان ہر عدالت میں پیش ہوئے، مختلف عدالتوں میں عمران خان نے بذریعہ ویڈیولنک حاضرہونےکی درخواستیں دیں، موجودہ حکومت عمران خان کو قتل کرنا چاہتی ہے۔

    سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 لاہور میں نافذ ہے، عمران خان کی عدالت پیشی پر نہیں۔

    وکیل نعیم پنجوتھہ نےکہا کہ پر امن ریلی پر پنجاب حکومت نے شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائیں، عمران خان کی جہاں رہائش تھی اس پر نقل حرکت کرنا مشکل ہے۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے آنے تک سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کردیا۔

    اس کے علاوہ عمران خان کی آج اسلام آباد کی عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز پر مبینہ حملہ کیس کی سماعت تین بجے مقرر ہےجب کہانسداد دہشت گردی عدالت میں تھانہ سنگجانی کے کیس میں بھی انھیں پیش ہونا ہے۔

  12. اسلام آباد ہائیکورٹ: عمران خان کی ویڈیو لنک پر پیشی کی اجازت کی درخواست پر اعتراضات ختم

    isb

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب اسلام آباد کے تمام مقدمات میں ویڈیو لنک پر پیشی اور کیسز کی جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر سماعت کی۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ رجسٹرار آفس نے اعتراضات اٹھائے ہیں پہلے عدالت وہ دیکھے گی۔

    عدالت نے استفسار کیا ’کیا سابق وزیراعظم کی سکیورٹی موجود ہے؟جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان سے سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے’اس وقت عمومی طور پر دہشت گردی کی ایک لہر ہے ۔ ہمیں بھی تھریٹس ہیں۔‘

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا ’عمران خان پر وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے ۔ عمران خان عوامی رہنما ہیں، ان کا پبلک ایکسپوژر بھی ذیادہ ہے۔‘

    عدالت نے عمران خان کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیے اور درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کردی۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے استدعا کی ’ کیا آج درخواست پر سماعت ہو سکتی ہے۔ ‘

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آپ درخواست دیں گے تو ہم ایڈمنسٹریٹو سائیڈ پر دیکھیں گے۔

  13. عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس سے متعلق سماعت میں 11 بجے تک وقفہ

    عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس سے متعلق سماعت میں دن 11 بجے تک وقفہ کر دیا گیا ہے۔

    سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کی جانب سے جونئیر وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ راجہ رضوان عباسی اسلام آباد ہائی کورٹ میں مصروف ہیں اس لیے سماعت میں وقفہ کیا جائے۔

    عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 11 بجے تک ملتوی کردی۔

  14. عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس سے متعلق سماعت جاری، حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس سے متعلق سماعت جاری ہے۔

    دوران سماعت عمران خان کی جانب سے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا عدالت کے روبرو پیش ہوئے اورعمران خان کی جانب سے آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ ’عمران خان کو سیکیورٹی کے تھریٹ ہیں اور لاہور میں کل دفعہ 144 نافذ کی گئی۔‘

    وکیل عمران خان نے کہا ’حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا جس کو عمران خان نے لیڈ کرنا تھا، پرامن ریلی پر پنجاب حکومت نے شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائی گئیں۔‘

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’عمران خان کی جہاں رہائش تھی اس پر نقل حرکت کرنا مشکل ہے، کل بھی ریلی میں ایک ورکر ہلاک ہو گیا ہے ،اس سے قبل بھی وزیر آباد میں بھی عمران خان پر حملہ ہوا۔‘

    عمران خان کے وکیل کی جانب سے دلائل جاری ہیں۔

  15. بریکنگ, عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین کے خلاف تھانہ ریس کورس میں ایک اور مقدمہ درج

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین کے خلاف تھانہ ریس کورس میں ایک اور مقدمہ درج ہو گیا ہے۔

    مقدمہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی، روڈ بلاک کرنے، پولیس افسران پر حملہ اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    مقدمہ کی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’پی ٹی آئی کارکنان کو بتایا گیا تھا کہ دفعہ 144 نافذ ہے اسکی خلاف ورزی نہ کی جائے۔‘

    ’ایف آئی آر کے مطابق ’کارکنان نے توجہ نہ دی اور پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہوگئے۔کارکنان کے حملہ آور ہونے اور تشدد سے 13 پولیس اہلکار و افسران زخمی ہوئے۔‘

    panjab police

    ،تصویر کا ذریعہpti

    ایف آئی آر کے مطابق ’ہجوم نے جان سے مار دینے کی نیت سے حملہ کیا جس سے بچنے کیلئے آنسو گیس اور شیلنگ کرنا پڑی۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔‘

    مقدمہ میں چئیرمین عمران خان، رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب ، حسان نیازی، اعجاز چوہدری، حماد اظہر، فواد چوہدری اور میاں محمودالرشید کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمہ ڈی ایس پی صابر علی کی مدعیت تھانہ ریس کورس میں درج کیا گیا ہے۔

  16. پی ٹی آئی کارکن علی بلال کی ہلاکت کے خلاف درخواست دائر، نگران وزیراعلی محسن نقوی، رانا ثنا اللہ خان نامزد

    پی ٹی آئی کارکن علی بلال کی مبینہ پولیس حراست میں ہلاکت کےخلاف درخواست تھانہ ریس کورس میں جمع کروا دی گئی۔

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    درخواست میں نگران وزیراعلی محسن نقوی، رانا ثنا اللہ خان کو ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ سی سی پی او بلال صدیق اور سب انسپکٹر ریحان سمیت دیگر کو بھی درخواست میں نامزد کیا گیا ہے۔

    تھانہ ریس کورس میں درخواست لیاقت علی کی مدعیت میں جمع کروائی گئی ہے۔

  17. آرٹیکل 144 کا نفاذ عمران خان کی ریلی نہیں بلکہ پی ایس ایل کی سیکیورٹی کے باعث کیا گیا : نگران وزیر اطلاعات پنجاب

    لاہور

    پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامرمیر نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میچز کی سیکیورٹی کے باعث لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا اور جب تک میچ ختم نہیں ہوتے، یہ آرٹیکل نافذ رہے گا۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامرمیر نے دعوی کیا کہ ’عمران خان کی ریلی میں لوگ اکٹھا نہیں ہوئے تو انھوں نے اسے ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ قانون کا احترام کر کے ریلی ختم کر رہے ہیں۔‘

    عامر میر کے مطابق ’سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم شروع کرنی ہے اس میں کون رخنہ ڈال سکتا ہے۔ تحریک انصاف ہمارے خلاف سپریم کورٹ میں ہم پر جا کر اگر توہین عدالت کی درخواست ڈالتی ہے تو ہم بھی عدالت کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کر دیں گے۔

    عامر میر کے مطابق ’ پی ٹی آئی نے رات کو عدالت میں جانے کا اعلان کیا مگر ان کو چاہیے تھا کہ عدالت فورا جاتے اور ریلی کا بتا کر فورا فیصلہ لیتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں الیکشن کا شیڈول آ چکا ہے جس کے لیے ہم پوری طرح تیار ہیں۔

  18. پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ جھڑپوں میں دو ڈی ایس پیز،ایک ایس ایچ او سمیت 11 پولیس اہلکار زخمی ہوئے: پولیس حکام

    لاہورپولیس حکام نے زمان پارک لاہور کے باہر گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں کے دوران متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    لاہور پولیس کی جانب سے ٹوئیٹر پر جاری پیغام کے مطابق ’پی ٹی آئی کے پر تشدد ہنگاموں کے دوران لا اینڈ آرڈر کنٹرول کرتے ہوئے پولیس کی کئی افسران اور اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پولیس کے مطابق ’دو ڈی ایس پیز، ایک ایس ایچ او سمیت 11 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

    بیان کے مطابق ’ڈی ایس پی سبزہ زار، ڈی ایس پی ٹاؤن شپ پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد سے زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔‘

  19. فواد چوہدری کی تمام کارکنان کو زمان پارک لاہور پہنچنے کی ہدایت

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے رات گئے اپنی ایک ٹویٹ میں تمام کارکنان کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    اپنے پیغام میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’حکومت مکمل بوکھلا چکی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری ملک کو بہت بڑے بحران میں دھکیل دے گی، لاہور اور گرد و نواح کے دوست زمان پارک پہنچیں ، انشاللہ فتح عوام کی ہو گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    زمان پارک پہنچنے کے حوالے سے تحریک انصاف کے آفیشل گروپ کی جانب سے بھی ایک پیغام میں تمام ورکرز اورسپورٹرز کو جلد از جلد زمان پارک پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ بدھ کی شام اپنے پیغام میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور کے علاقے زمان پارک کے اردگرد اپنے کارکنان کی پولیس سے جھڑپوں کے بعد بدھ کو نکالی جانے والی انتخابی ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس سے قبل پولیس نے اس ریلی کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔

  20. الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع اور فوجی حکام کو سکیورٹی بریفنگ کے لیے طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے 10 مارچ کی صبح 11 بجے وزارت دفاع اور ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو الیکشن سے متعلق سکیورٹی معاملات پر بریفنگ کے لیے طلب کر لیا ہے۔

    کمیشن نے 13 مارچ کو صوبائی اسمبلی پنجاب کے عام انتخابات کے انتظامات اور سکیورٹی کے حوالے سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد بلایا ہے۔