چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف دائر توشہ خان کیس کی سماعت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے جج ظفر اقبال نے پیر کی صبح کی۔
سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عمران خان کی اس کیس میں حاضری سے استثنی کے لیے دو درخواستیں جمع کرائیں جن پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو آج دن سوا تین بجے سنایا جائے گا۔
ایک درخواست میں انھوں نے عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی شکایت کو ناقابل سماعت قرار دینے کی استدعا بھی کی ہے۔
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو سنجیدہ نوعیت کے سکیورٹی تھریٹس ہیں جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے اسلام اباد اور لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جبکہ عدالت وارنٹ گرفتاری وارنٹ جاری کرنے سے پہلے کیس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہو سکتے کیونکہ شکایت کنندہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نہیں ہے اور یہ کہ شکایت بھیجنے کی مجاز اتھارٹی نے شکایت بھیجی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھیجی گئی شکایت کے آخری صفحہ پر شکایت کنندہ کے دستخط موجود ہیں، اگلے صفحہ پر حلف نامہ موجود ہے، شکایت کے حوالے سے بھیجی گئی درخواست پر موجود دستخطوں میں فرق ہے،
انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانون کی مختلف جہتیں ہیں، جن کے تحت کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز، نا کہ نااہلی، کے خلاف کاروائی 120 دن میں کرنا ہوتی ہے۔
کریمینل پروسیڈنگ نامزدگی فارم جمع ہونے کے 120 دن کے اندر ہی کر سکتے ہیں، اس لیے عدالت فیئر ٹرائل کا تقاضہ پورا کرتے ہوئے آگے کارروائی بڑھانے سے پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرے۔
خواجہ حارث نے عمران خان کو حاضری سے استثنی کی درخواست سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر اس وقت ملک بھر میں 40 کے قریب جعلی مقدمے درج ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ انھوں نے سابق وزیراعظم بینظر بھٹو اور لیاقت علی خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مناسب سکیورٹی نہ ملنے کے باعث وہ قتل ہوئے۔
عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری ابھی بھی آن فیلڈ ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی درخواست وارنٹ کے حوالے سے خارج کی، صرف عدالت نے کچھ وقت ان کو دیا کہ وہ متعلقہ عدالت کے سامنے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ صرف چند روز کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آرڈر معطل کیا تھا۔ جج ظفر اقبال نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ کیا انھیں درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل کے لیے وقت چاہیے، جس پر الیکشن کمیسن کے وکیل نے انھیں بتایا کہ انھیں اس معاملے پر کچھ وقت چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ وہ آفس نوٹنگ سے ثابت کریں گے کہ الیکشن کمپلیننٹ کے لیے مجاز کیا گیا تھا۔ جبکہ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جب کمپلین فائل کی، بیان ریکارڈ کرایا، پیروی کر رہے ہیں تو الیکشن کمیشن کی اتھارٹی دکھا دیں، اتنا بڑا سقم ہے یہ درخواست تو آج ہی خارج ہونی چاہیے۔
دلائل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو آج دوپہر سنایا جائے گا۔