تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان ان تمام 33 حلقوں سے پارٹی کے امیدوار ہوں گے جہاں الیکشن کمیشن نے ضمنی الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے۔
27 جنوری کو الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قومی اسمبلی کے 33 حلقوں میں 16 مارچ کو ضمنی الیکشن کروانے کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ یہ حلقے گذشتہ ہفتے اس وقت خالی قرار دیے گئے تھے جب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 35 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان 35 ارکان میں دو خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں۔
دریں اثنا شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پارٹی اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انھوں نے فواد چوہدری کی جلد رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق اس اجلاس میں چار قراردادیں منظور کی گئیں جس میں پہلی قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت عدلیہ اور قوم کی توجہ دستور پاکستان کے ناقابل تنسیخ حصے کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہے جو مقننہ کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر ہر صورت انتخابات کے انعقاد کا پابند بناتا ہے اور اس مدت میں ایک روز کا اضافہ بھی ممکن نہیں۔
اسد عمر نے اجلاس میں منظور کی جانے والی قراردادوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک قرارداد یہ کہتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت صدر مملکت اور افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر کی توجہ گورنر خیبر پختونخوا کے اس بیان کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہے کہ پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف صدر مملکت سے ملکی سیاسی معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مقتدریٰ کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے فوری نوٹس کا مطالبہ کرتی ہے اور مزید یہ کہ صدر مملکت ریاستی اداروں میں موجود چند کالی بھیڑوں کی ایما پر تحریک انصاف کے کارکنان ، قائدین اور ذمے داران کے خلاف درج کیے جانے والے جھوٹے مقدمات، ان کے اغوا، دوران حراست تشدد اور انہیں دھمکی آمیز فون کالز کا بھی نوٹس لیں، اس سے ہمارے اداروں کی نیک نامی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے پاکستان کے بیرونی دشمنوں کے کردار اور عزائم کو تقویت مل رہی ہے۔