فواد چوہدری کو جیل بھیجنے کا حکم، مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ، پھر جیل، جیل سے پھر جسمانی ریمانڈ کے بعد اب دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت کے جج وقاص راجہ نے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کے حکام کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
عدالت نے پراسیکیوشن کی طرف سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا ہے۔
پراسیکیوشن کی جانب سے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور بتایا گیا کہ ملزم سے اس مقدمے میں مزید تفتیش کرنی ہے۔
ملزم فواد چوہدری کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آج ان کے چہرے کو کپڑے سے تو نہیں ڈھانپا گیا جس پر انھوں نے بتایا کہ آج پولیس اہلکاروں نے ایسا تو نہیں کیا لیکن سرد موسم میں انھیں گاڑی کے پیچھے بٹھایا گیا، جس سے ان کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔
عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی فواد چوہدری کے کیس میں کیا اہمیت ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کا مقصد اصلی انسان کی پہچان کرنا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس ٹیسٹ کے بعد ملزم فواد چوہدری کا موبائل، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز ابھی برآمد کرنی ہیں۔
پراسیکوٹر کی استدعا کے برعکس الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے صرف فواد چوہدری کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانا تھا جو ہو چکا ہے۔
عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔
ضمانت کی درخواست دائر
دوسری جانب ملزم کے وکلا نے سیشن جج کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کردی ہے۔
واضح رہے کہ جب فواد چوہدری کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو متعقلہ عدالت نے انھیں دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا اور جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا تو پراسیکیوٹر نے اس عدالتی فیصلے کو سیشن جج کی عدالت میں چیلنج کیا۔
عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اسے دوبارہ متعلقہ عدالت میں بھجوایا جس کے بعد متعلقہ عدالت نے ملزم کو مزید دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
پیر کے روز جب عدالت نے پوچھا کہ ملزم کو ابھی تک عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کو چونکہ لاہور لے جایا گیا تھا اور اب وہ اسلام آباد واپس آرہے ہیں لہٰذا ملزم فواد چوہدری کو تین بجے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔