آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سابق صدر آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید گرفتار

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات گرفتار ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد اُن کے وکیل نے اسلام آباد پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. فواد چوہدری کو جیل بھیجنے کا حکم، مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ، پھر جیل، جیل سے پھر جسمانی ریمانڈ کے بعد اب دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

    عدالت کے جج وقاص راجہ نے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کے حکام کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

    عدالت نے پراسیکیوشن کی طرف سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور بتایا گیا کہ ملزم سے اس مقدمے میں مزید تفتیش کرنی ہے۔

    ملزم فواد چوہدری کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آج ان کے چہرے کو کپڑے سے تو نہیں ڈھانپا گیا جس پر انھوں نے بتایا کہ آج پولیس اہلکاروں نے ایسا تو نہیں کیا لیکن سرد موسم میں انھیں گاڑی کے پیچھے بٹھایا گیا، جس سے ان کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی فواد چوہدری کے کیس میں کیا اہمیت ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کا مقصد اصلی انسان کی پہچان کرنا ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس ٹیسٹ کے بعد ملزم فواد چوہدری کا موبائل، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز ابھی برآمد کرنی ہیں۔

    پراسیکوٹر کی استدعا کے برعکس الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے صرف فواد چوہدری کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانا تھا جو ہو چکا ہے۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

    ضمانت کی درخواست دائر

    دوسری جانب ملزم کے وکلا نے سیشن جج کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کردی ہے۔

    واضح رہے کہ جب فواد چوہدری کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو متعقلہ عدالت نے انھیں دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا اور جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا تو پراسیکیوٹر نے اس عدالتی فیصلے کو سیشن جج کی عدالت میں چیلنج کیا۔

    عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اسے دوبارہ متعلقہ عدالت میں بھجوایا جس کے بعد متعلقہ عدالت نے ملزم کو مزید دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

    پیر کے روز جب عدالت نے پوچھا کہ ملزم کو ابھی تک عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کو چونکہ لاہور لے جایا گیا تھا اور اب وہ اسلام آباد واپس آرہے ہیں لہٰذا ملزم فواد چوہدری کو تین بجے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

  2. ملبے تلے اس وقت زندہ افراد کو نکالنے کی کوشش ہورہی ہے: پشاور ریسکیو ترجمان, محمد زبیر خان، صحافی

    پشاور ریسکیو 1122 کے مطابق پشاور پولیس لائن ملبے تلے اس وقت زندہ افراد کو نکالنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ریسکیو 1122کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق اس وقت ملبے تلے ہمارے اندازے کے مطابق پانچ یا چھ افراد موجود ہیں۔

    ان کو محفوظ طریقے سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے لیے ان کو جسم میں نمکیات برقرار رکھنے کے لیے ڈرپس وغیرہ پاس کردی گئیں ہیں۔

    بلال احمد فیضی کا کہنا تھا کہ ملبے تلے کچھ لاشیں بھی موجود ہیں تاہم ابھی تک لاشوں کا اندازہ نہیں کیا جاسکا ہے کہ وہ کتنی ہیں۔

    ان کے مطابق اس وقت ہماری پوری کوشش ہے کہ جو افراد ملبے تلے زندہ موجود دہیں ان کو کسی طرح نکال لیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک حساس آپریشن ہے جس کے لیے تمام تر وسائل اور کوشش جاری ہیں۔

  3. مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی پشاور دھماکے کی مذمت

  4. خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال پر جامع حکمت عملی اپنائیں گے: وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال پر جامع حکمت عملی اپنائیں گے۔

    شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ صوبوں بالخصوص خیبرپختونخوا کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کریں۔

    ان کے مطابق وفاق صوبوں کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔

    ان کے مطابق ناحق شہریوں کا خون بہانے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔ شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور ادارے یکسو اور متحد ہیں اور پوری قوم اپنے شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے حضور سربسجود مسلمانوں کا بہیمانہ قتل قرآن کی تعلیمات کے منافی ہے۔‘

    ان کے مطابق اللہ کے گھر کو نشانہ بنانا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور دہشت گرد پاکستان کے دفاع کا فرض نبھانے والوں کو نشانہ بنا کر خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

  5. پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکہ تصاویر میں

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران دھماکہ ہوا ہے، جس میں اب تک 28 افراد ہلاک جبکہ 150 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے مطابق پشاور ہسپتال میں اس وقت خون کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت او نیگٹو خون کی ہے۔

    پشاور پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے جو مسجد میں ظہر کی نماز ادا کررہے تھے۔

  6. بریکنگ, اب تک 28 افراد ہلاک، 15 سے زائد زخمیوں کی حالت نازک ہے: کمشنر پشاور ریاض محسود

    پولیس لائن پشاور کی مسجد کے دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کمشنر پشاور ریاض محسود نے بتایا ہے کہ ’اب تک اس دھماکے میں امام مسجد سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    کمشنر پشاور کے مطابق ’متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں اورزخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ‘

  7. پشاور مسجد دھماکہ: پولیس لائن کا علاقہ کتنا حساس ہے؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    پشاور کے انتہائی حساس علاقے پولیس لائن کی مسجد میں دھماکے سے جہاں مسجد کی عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوا وہیں قریب موجود کینٹین کی عمارت بھی گر گئی۔

    پولیس لائن کا علاقے پشاور میں انتہائی حساس ہے اور یہاں پولیس افسران و انتظامیہ کے دفاتر اور پولیس اہلکاروں کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔

    پولیس لائن کا علاقہ پشاور شہر کے اہم اور حساس علاقوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔ پولیس لائن شہر کی اہم شاہراہ خیبر روڈ پر واقعہ ہے۔ پولیس لائن سے ملحقہ شاہراہ سے ایک راستہ وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کی جانب جاتا ہے جبکہ اس کے دائین جانب سول سیکریٹریٹ کی عمارت موجود ہے۔

    جبکہ پولیس لائن کے عقبی جانب پشاور کی سینٹرل جیل بھی واقع ہے۔ پولیس لائن کا علاقہ ایک ہائی سیکورٹی زون قرار دیا جاتا ہے اور یہاں ہر آنے اور جانے والی کی تلاشی لی جاتی ہیں۔ مختلف جگہوں پر پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

    اگر خیبر روڈ پر کچھ آگے جائیں تو وہاں جوڈیشل کمپلیکس اور کے ساتھ پاشور ہائی کورٹ کی عمارت بھی موجود ہے جبکہ اس کے سامنے کور کمانڈر ہاؤس اور (سابقہ پرل کانٹینینٹل) سرینا ہوٹل کی عمارت موجود ہے۔

  8. یہ خودکش حملہ ہوا ہے لیکن ابتدائی تحقیقات جاری ہیں: رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ یہ خودکش حملہ ہوا ہے لیکن ابتدائی تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ خودکش اتنی سکیورٹی کے باوجود وہاں تک پہنچا کیسے۔

    اے آر وائے نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے اور اس حملے کا نشانہ پولیس تھی کیونکہ یہ پولیس لائنز میں ہوا ہے اور ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر پولیس کے ملازم، اور اہلکار شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس اور تمام ادارے پورے کے پی کے میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کر رہے ہیں اور پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔

  9. بریکنگ, ’اب تک 28 ہلاکتیں ہوئی ہیں، کئی افراد اب بھی ملبے تلے موجود ہیں‘

    خیبر پختونخوا کے گورنر حاجی غلام علی نے پشاور کی پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے میں 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

    جائے وقوع کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ اس وقت تک 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 150سے زائد زخمی ہیں۔‘

    گورنر کے مطابق ’کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔‘ حاجی غلام علی نے زخمیوں کے لیے خون کے فوری عطیات کی اپیل بھی کی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر پولیس اہلکار ہی ہیں۔

  10. بریکنگ, ’دہشت گرد نماز کی پہلی صف میں موجود تھا‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ پشاور مسجد میں دھماکے میں ملوث دہشت گرد نماز کی پہلی صف میں موجود تھا۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق ’پولیس کو نہ صرف ٹارگٹ کیا جا رہا ہے بلکہ جو وارننگ دی جا رہی ہیں اس میں پولیس کو سر فہرست رکھا گیا ہے سی ٹی ڈی میں بھی ان کا نشانہ پولیس ہی تھی‘

    ان کے مطابق ’اب دوبارہ اس ساری مشینری کو ایکٹیو کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے پہلے اس پر قابو پایا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا میں امن کی بحالی ضرور کی جائے گی ۔

  11. متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں: نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان

    نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

    نگران وزیر اعلیٰ جی جانب سے جاری بیان میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

    نگران وزیر اعلیٰ نے دھماکے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہلاک ہونے والے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

  12. ’پشاور ایک بار پھر لہو لہو ہو گیا ہے‘

    رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پشاور دھماکے کی مذمت کرتے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ’پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے سے پشاور ایک بار پھر لہو لہو ہو گیا ہے۔‘

    محسن داوڑ نے لکھا کہ ’پختونخوا میں جنگ ابھی جاری ہے اور پشتون مارے جا رہے ہیں۔ ریاست اپنی ناقص افغان پالیسی کو ترک کرنے سے انکاری ہے۔‘

    محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ طالبان کی حمایت جاری رکھنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

  13. ’پولیس لائنز کی مسجد میں خود کش دھماکہ بدترین دہشت گردی ہے‘

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں خود کش دھماکے کی شدید مزمت کی ہے۔

    اپنی ٹوئیٹ میں احسن اقبال نے لکھا ہے کہ پولیس لائنز کی مسجد میں خود کش دھماکہ بدترین دہشت گردی ہے۔‘

    احسن اقبال کے مطابق’ ایسے سفاکانہ اور بزدلانہ حملوں کا مقصد قوم کے دہشت گردی کیخلاف عزم کو کمزور کرنا ہے مگر یہ عزم ہر خون کے بہتے قطرے اور شہادت سے مذید مضبوط ہو گا۔‘

  14. خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کا سرگرم ہونا انتہائی خطرناک ہے:آصف علی زرداری

    سابق صدر اور چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پشاور میں خودکش حملے کی شدید مذمت ہے۔

    ایک بیان میں آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا سرگرم ہونا انتہائی خطرناک ہے، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردی کی نرسریوں کو تباہ کرے وفاقی اور صوبائی نگران حکومت دہشتگردوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لائے۔‘

    بلاول بھٹو زرداری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ ضمنی اور عام انتخابات سے قبل دہشتگردی کے واقعات معنی خیز ہیں۔ دہشتگردوں ،ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی ۔‘

    بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ’نیشنل ایکشن پلان ہی دہشتگردوں کا علاج ہے اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے کارکن اور عہدے دار خون کے عطیات دیکر زخمیوں کی جان بچائیں۔‘

  15. بریکنگ, پشاور پولیس لائن دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 17، 60 سے زیادہ زخمی

    پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر عاضم کے مطابق پولیس لائن میں واقع مسجد میں پیر کو نمازِ ظہر کی ادائیگی کے دوران ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے متعدد پولیس اہلکار ہیں۔

    ترجمان کے مطابق اس دھماکے میں 70 کے قریب لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے دس کی حالت تشویش ناک ہے۔

  16. میری دعائیں اور تعزیت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے:عمران خان

    عمران خان نے پشاور دھماکے کی مزمت کرتے ہوئے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ’ پولیس لائن میں ہونے والے خودکش دھماکے کی مزمت کرتا ہوں‘میری دعائیں اور تعزیت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی انٹیلی جنس کو بہتر بنائیں اور اپنی پولیس فورسز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کریں۔‘

  17. بریکنگ, ’لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں دو لاشوں اور 50 زخمیوں کو لایا گیا ہے‘

    پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر محمد عاصم نے تصدیق کی ہے کہ ہسپتال میں تقریبا 50 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق دو ڈیڈ باڈیز بھی ایل آر ایچ منتقل کی گئی ہیں ۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت نازک ہے اور زیادہ تر زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔

    ترجمان کے مطابق زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ مزید زخمیوں کو شفٹ کیا جا رہا ہے ۔

    ڈاکٹر عاضم کے مطابق لیڈی ریڈنگ صورت حال کے پیش نظر ہسپتال میں اس وقت ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

  18. پشاور دھماکے کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری

    پشاور دھماکے کے بعد آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری کردئیے۔

    پولیس اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے اور سیف سٹی کے ذریعے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق ناکوں اور اہم عمارتوں پر سنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس نے شہریوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شہری دوران سفر اپنے شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور چیکنگ کے دوران پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

  19. بریکنگ, پشاور: پولیس لائن میں واقع مسجد میں دھماکہ، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

    صوبائی دارالحکومت پشاور میں پولیس لائن میں واقع مسجد میں دھماکہ ہوا ہے جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    پشاور میں ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 30 افراد کو زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے چھ افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ یہ دھماکہ نمازِ ظہر کے دوران ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں مسجد کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس قدر شدید نوعیت کا تھا جس سے مسجد کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔

    حکام کی جانب سے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

  20. آصف علی زرداری کا عمران خان کو 10 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق صدر پاکستان اور صدر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز آصف علی زرداری نے اپنے وکیل نائیک اینڈ ایسوسی ایٹس کے توسط سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو دس ارب روپے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

    قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر ہیں اور پاکستان کے ایک نمایاں سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے شوہر ہیں اور پاکستان کی سینیٹ اور رکن قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے 27 جنوری 2023 کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، جسے تمام ٹی وی چینلوں نے نشر کیا اور ان کے خطاب کو پاکستان کے علاوہ عالمی اخبارات نے بھی شائع ہوا۔

    عمران خان نے آصف علی زرداری پر الزم لگایا کہ انھوں نے کرپشن کی رقم ایک ایسی دہشتگرد تنظیم کو ادا کی ہے جس کی حمایت پاکستان کی طاقتور ایجنسی بھی کر رہی ہے تاکہ ان پر ایک اور حملہ کروایا جا سکے۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے آصف علی زرداری کو ان چار افراد میں بھی شامل کیا جو انھیں قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

    یہ بیانات پاکستان کے پرنٹ میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا اور عالمی اخبارات میں بھی رپورٹ ہوا۔