جب بطور وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا تو اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد 155 بنتی تھی۔
عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو تحریک انصاف کے اراکین نے اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ابھی تک صرف 79 اراکین کے استعفے قبول کیے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے جمعے کے روز پاکستان تحریک انصاف کے 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تو الیکشن کمیشن نے انھیں ڈی نوٹیفائی کر دیا یعنی ان کی رکنیت ختم کر دی۔
اس سے قبل 17 جنوری کو سپیکر نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔
ضمنی انتخابات ہوئے تو پھر ان میں سے سات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں حصہ لیا اور چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مگر قومی اسمبلی میں یہ ایک سیٹ ہی شمار ہو گی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان توشہ خانہ ریفرنس میں میانوالی کی نشست سے نا اہل قرار دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ نشست خالی قرار دی گئی تھی۔
اب تک مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 79 اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 80 اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔
اب اگر 155 میں سے 79 استعفے منظور ہو چکے ہیں تو قومی اسمبلی میں اس وقت تحریک انصاف کے باقی 76 اراکین رہ جاتے ہیں۔ مگر اس وقت قومی اسمبلی کی ویٹ سائٹ کے مطابق تحریک انصاف کے موجودہ اراکین اسمبلی کی تعداد 70 بنتی ہے، جن میں عام نشستوں کی تعداد 44، مخصوص نشستوں کی تعداد 21 اور اقلیتی برادری کی نشستوں کی تعداد 5 بنتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنی نشست سے نا اہل ہو گئے تھے جبکہ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ابھی تک انھوں نے حلف نہیں اٹھایا ہے۔ ملتان سے شاہ محمود قریشی کے فرزند زین قریشی اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو کر رکن پنجاب اسممبلی بن گئے۔ ان کی خالی کردہ نشست پر بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے موسیٰ گیلانی کامیاب ہوئے۔
تحریک انصاف کے رکن میاں محمد سومرو 40 سے زائد بار جب قومی اسمبلی نہیں آئے تو ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے انھیں اسمبلی کی نشست سے فارغ قرار دیا گیا تھا۔ ان کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ مگر قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں ان کی نشست خالی نظر آ رہی ہے۔
ایک مقدمے میں عدالت نے سرگودھا سے تحریک انصاف کے ایم این اے عامر سلطان چینہ کی جگہ گذشتہ برس نومبر میں مسلم لیگ ن کے ذوالفقار احمد بھٹی کو ایم این اے کو قرار دیا گیا تھا۔ یوں تحریک انصاف کی مزید ایک نشست کم ہو گئی۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شکور شاد نے اگرچہ عدالت جا کر اپنا استعفیٰ رکوا لیا مگر ابھی تک انھیں دوبارہ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں ایم این اے کے طور پر درج نہیں کیا گیا ہے۔
رکن اسمبلی جعفر خان لغاری کے فوت ہونے سے تحریک انصاف کی مزید ایک نشست کم ہو گئی۔
یوں اس وقت تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں موجودہ اراکین کی تعداد صرف 70 ہے۔
ان اراکین میں 20 وہ اراکین بھی شامل ہیں جنھوں نے استعفے نہیں دیے ہیں اور قومی اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نورعالم بھی شامل ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ مزید اراکین بھی اپنے استتعفے واپس لینے کے سپیکر سے رابطے کر رہے ہیں۔ تاہم مستعفی نہ ہونے کے باوجود ان اراکین کا شمار ابھی تحریک انصاف کی فہرست میں ہی ہو گا کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور کوئی ایسی خلاف ورزی نہیں کی کہ تحریک انصاف ان کے خلاف ریفرنس دائر کر کے الیکشن کمیشن سے ان کی رکنیت ختم کرا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اب یہی بات تحریک انصاف کے لیے پریشانی کا باعث ہے کہ اگر تحریک انصاف کے ان 20 اراکین کے علاوہ سپیکر نے باقی اراکین کے استعفے قبول کر لیے تو پھر پارلیمنٹری پارٹی یہی بچ جانے والے 20 اراکین ہی شمار ہوں گے یعنی وہ منحرف اراکین کی فہرست میں آ کر نااہلی کا سامنا کرنے سے بھی بچے رہیں گے۔
خیال رہے کہ ابھی تک ہزارہ ریجن، فیصل آباد ریجن اور جنوبی پنجاب سے تحریک انصاف کے متعدد اراکین کے استعفے منظور نہیں کیے گئے ہیں۔
20 اراکین کیسے تحریک انصاف پارلیمنٹری پارٹی کہلائیں گے؟
ماہرین کے مطابق اگر سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے تمام اراکین کے استعفے منظور کر لیے تو پھر باقی بچ جانے والے 20 اراکین پارلیمنٹری پارٹی تحریک انصاف کہلائیں گے۔
اب تحریک انصاف تین وجوہات پر ان کو پارٹی سے نکال سکتی تھی ان میں سے ایک یہ کہ انھوں نے اگر وزیراعظم کے الیکشن، وزریراعظم کے خلاف قرارداد میں پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ دیا ہو یا فنانس بل میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹنگ میں حصہ لیا۔
دوسری وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ یہ اراکین کسی آئینی ترمیم میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتے یا تیسری صورت میں یہ تحریک انصاف کی رکنیت سے ہی استعفے دے دیتے۔
سیاسی ماہرین کا کہننا ہے کہ ان 20 اراکین نے اس وقت تک نہ تو کوئی آئینی خلاف ورزی کی ہے اور نہ پارٹی کی رکنیت سے استتعفے دے ہیں تو ایسے میں اب عمران خان یا کسی اور رہنما کے بجائے راجہ ریاض تحریک انصاف پارلیمنٹری پارٹی کے سربراہ بن جائیں گے۔