پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی سیاسی نظام میں لوگوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اس لیے وہ ایک غیرجانبدار فورم پر ملکی مسائل کی نشاندہی کے علاوہ ان کے حل کی بات کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ملکی سیاست انتقام اور دشمنی میں تبدیل ہوگئی ہے جس کے باعث عوام کے جو مسائل ہیں وہ ایک طرف رہ گئے ہیں۔ ’یہ سیاست پاکستان کے مسائل کو حل نہیں کرسکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سیاسی جماعتوں اور میڈیا چینلوں میں خود کفیل ہے۔ ’ہمیں مزید کسی سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم سے ہر ایک اپنی سیاسی جماعتوں کی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں جب لوگوں کے مسائل اور مشکلات کی بات نہیں ہو رہی ہے ’ہم چاہتے تھے کہ ایک غیر جانبدار فورم ہو جس سے عوام کے مسائل کی نشاندہی ہو اور ان کا حل پیش کیا جاسکے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت ملک کا جو سیاسی سیٹ اپ ہے اس کا رُخ موڑنا ہے اور اس کو ملک اور عوام کے مسائل کے حل کی جانب لے جانا ہے۔‘
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ملک جن مسائل سے دوچار ہے ہم سب اس کے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ یہاں مارشل لا بھی رہا ہے اور عدلیہ کے فیصلے بھی رہے ہیں۔ اگر کسی کو ان حالات کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو پھر ایک ٹروتھ کمیشن بنایا جائے۔‘
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’نئے تصور پاکستان‘ کے نام سے پہلے ڈائیلاگ کا اہتمام کوئٹہ سے کیا گیا جبکہ اس کے بعد دوسرا مذاکرہ پشاور میں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مضبوط ہوگا جب خود پاکستانی معاشی لحاظ سے مضبوط اور خوشحال ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے چار ماہ تک آئی ایم ایف سے معاملات کو طے کرانے میں تاخیر کی جس سے ملک کا نقصان ہوا۔
’اب دوبارہ آئی ایم ایف سے معاملات کو طے کرانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس پر میں خوش ہوں۔‘
نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے پہلے اعتماد سازی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔