پاکستان تحریک انصاف کے 44 اراکین قومی اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے اس حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کو استعفے واپس کرنے سے متعلق درخواست کر دی ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی کے سپیکر کی رہائش گاہ کا رخ کیا مگر انھیں منسٹر کالونی کے گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق تحریک انصاف کے یہ اراکین کالونی کے گیٹ پر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے مطابق اس سلسلے میں اپنی درخواست سپیکر قومی اسمبلی کو ای میل کر دی ہے، پی ٹی آئی کا اگلا قدم اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہو گا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ کیونکہ سپیکر قومی اسمبلی ابھی تک ہمارے تمام اسمبلی ارکان کے استعفے قبول نہیں کر رہے، اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے مطابق 44 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس وقت تک پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی قومی اسمبلی میں مجموعی تعداد 70 بنتی ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی اب تک شیخ رشید سمیت اب تک 80 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر چکے ہیں۔
تحریک انصاف کے استعفے، منطوری اور استعفوں کی واپسی تک کیا کہانی
جب بطور وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا تو اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد 155 بنتی تھی۔
عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو تحریک انصاف کے اراکین نے اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ابھی تک صرف 79 اراکین کے استعفے قبول کیے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے جمعے کے روز پاکستان تحریک انصاف کے 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تو الیکشن کمیشن نے انھیں ڈی نوٹیفائی کر دیا یعنی ان کی رکنیت ختم کر دی۔
اس سے قبل 17 جنوری کو سپیکر نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔
ضمنی انتخابات ہوئے تو پھر ان میں سے سات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں حصہ لیا اور چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مگر قومی اسمبلی میں یہ ایک سیٹ ہی شمار ہو گی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان توشہ خانہ ریفرنس میں میانوالی کی نشست سے نا اہل قرار دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ نشست خالی قرار دی گئی تھی۔
اب تک مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 79 اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 80 اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔
اب اگر 155 میں سے 79 استعفے منظور ہو چکے ہیں تو قومی اسمبلی میں اس وقت تحریک انصاف کے باقی اراکین کی تعداد 70 بنتی ہے۔