آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تحریک انصاف کی آج پھر احتجاج کی کال، حکومت نے عمران خان سے شواہد مانگ لیے

سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور ثبوت فراہم کریں۔

لائیو کوریج

  1. گجرات میں عمران خان کے خلاف بینرز لگا دیے گئے

    گوجرانوالہ کے بعد اب گجرات میں بھی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف بینرز لگائے گئے ہیں۔

    یہ بینرز جی ٹی روڈ گجرات اور گردونواح میں لگائے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس بارے میں گجرات پولیس کو اطلاع کر دی گئی ہے لیکن پولیس نے تاحال بینرز نہیں اتارے۔

    دوسری جانب پولیس ترجمان کے مطابق مقامی تھانوں اور میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا ہے اور جلد ہی بینرز اتار دیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ منگل کے روز گوجرانوالہ جبکہ بدھ کے روز راہوالی و گکھڑ کے علاقوں میں بھی عمران خان کے خلاف بینرز لگائے گئے تھے جو پولیس نے اتار دیے تھے لیکن کسی شخص کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

  2. تحریک انصاف کے رہنما اب مداخلت کے لیے فوج اور عدالت کی منت سماجت کر رہے ہیں: سینیٹر شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند گلی میں پھنسنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اب اداروں اور عدالت سے مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں، شاٹ کٹ مارچ میں نا لوگ نکل رہے نا ہی اس کا کوئی نتیجہ نکل رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویٹ سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے لکھا کہ اب تحریک انصاف کے رہنما فوج اور عدالت سے موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے منت سماجت کر رہے، جب عمران خان کو کوئی ڈیل نہیں ملی اور غیر آئینی مطالبات نہیں مانے گئے تو کنٹیر پر کھڑے ہوکر کہتے ہے کسی سے بات نہیں کروں گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس کو تحریک انصاف کے رہنما سیاسی بحران کہہ رہے وہ سیاسی بحران نہیں بلکہ عمران خان کی طرز سیاست ہے، پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے تو آج ریسکیو اپیل نا کرنی پڑتی۔

    انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف ابھی جمہوری اور آئینی سیاست سیکھنے کے مراحل میں ہے۔

    اگر جمہوری سیاستدان ہوتے تو مارشل لا لگانے کی بات نا کرتے، یہ چاہتے ہیں اس نظام کو لپیٹ کر مجھے ملک کا بادشاہ بناؤ، جب کہ آپ پارلیمان کے بجائے کنٹینر کا انتخاب کرے گے تو بند گلی میں ہی جائیں گے۔

  3. لانگ مارچ میں تین ہلاکتیں: پنجاب اسمبلی میں قراردادا جمع، چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    عمران خان کے لانگ مارچ سے تین افراد کی ہلاکت کےخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔ اس قرارداد میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے عمران خان کے لانگ میں تین افراد کی ہلاکت کا نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔

    اس قرارداد کے متن کے مطابق تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قراردار کے مطابق ایک خاتون صحافی صدف نعیم، تحریک انصاف کا کارکن اور کل ایک 14برس کا نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔

    قرارداد کے مطابق عمران خان کا کنٹینر ان تینوں افراد کی ہلاکت کا باعث بنا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے خاتون صحافی کو مالی امداد دی گئی جبکہ ان دونوں ہلاک شدہ افراد کو تاحال مالی امداد نہیں دی گئی۔

  4. اعظم سواتی کی ضمانت منسوخی سے متعلق درخواست پر سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سینیٹر اعظم خان سواتی کی ضمانت منسوخی کے لیے وفاق کی درخواست پر سماعت عدالت نے سپیشل کورٹ کے دائرہ اختیار نا ہونے کے سوال پر مزید معاونت کی ہدایت کردی۔

    یہ درخواست ایف آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمن نے دائر کی۔ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔

    درخواست گزار کی جانب سے راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سپیشل کورٹ پیکا ایکٹ کے تحت درج دفعات کے کیسز کو ڈیل کر سکتی ہے۔

    اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ کیس میں سپیشل کورٹ نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دائرہ اختیار سے متعلق عدالت کی مزید معاونت کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  5. تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ساتویں روز کا آغاز کچھ دیر بعد وزیرآباد سے ہوگا, احتشام شامی، صحافی

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آج ساتواں روز ہے اور آج وسطی پنجاب کے شہر وزیرآباد میں لانگ مارچ کی سکیورٹی کے لیے پنجاب کانسٹیبلری اور پنجاب پولیس کے 1400 جوان تعینات کیے گئے ہیں۔

    عمران خان کا کنٹینر گذشتہ رات کوٹ خضری وزیرآباد پہنچا دیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کی طرف سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق لانگ مارچ آج کوٹ خضری سٹیڈیم جی ٹی روڈ کے سامنے سے شروع ہوگا۔

    عمران خان آج سارا دن وزیرآباد گزاریں گے۔ مرکزی خطاب کے لیے پرانی کچہری چوک میں تشہیری بورڈز، بینرز اور سٹکرز بڑی تعداد میں لگائے گئے ہیں۔

    وزیرآباد شہر بھر اور اندرون و بیرون جی ٹی روڈ کو پارٹی پرچموں سے سجا دیا گیا ہے۔

    تحریک انصاف کی مقامی قیادت، کارکنوں اور عہدیداروں کو استقبالیہ کیمپس میں گیارہ بجے تک پہنچنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

  6. تحریک انصاف کے کنٹینر کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت کے واقعہ پر ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج, احتشام شامی، صحافی

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں گذشتہ روز ایک کنٹینر کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت کے واقعہ پر ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ ہلاک ہونے والے 19 برس کے سمیر نواز کے چچا محمد امجد کی مدعیت میں ڈرائیور غلام فرید کے خلاف تھانہ اروپ میں درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کنٹینر غلط سمت سے آ رہا تھا، جس نے موٹر سائیکل کو ٹکر دے ماری۔ اس حادثے میں 19 برس کے سمیر نواز موقع پر ہلاک جبکہ 18 برس کے عثمان خالد زخمی ہوگئے تھے۔

  7. اسلام آباد ہائی کورٹ: تحریک انصاف کی اسلام آباد میں جلسے کی اجازت اور این او سی جاری کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پی ٹی آئی کا جلسے کی اجازت اور این او سی جاری کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، مناسب حکم نامہ جاری کریں گے۔

    آج سری نگر ہائی وے پر جلسہ کی اجازت نہ دینے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت درخواست پر سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان اور ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ عمومی طور پر جلسوں کی اجازت سے متعلق کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ہوتا تو یہی ہے کہ پارٹی کی اجازت سے ہی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف نے جو ریلی کی تھی اس سے نقصان ہوا تھا، پولیس والے زخمی ہوئے تھے۔ جسٹس عامرفاروق نے سوال کیا کہ کہ پہلے تحریک انصاف نے جس جگہ کی اجازت مانگی تھی کیا یہ وہی جگہ ہے؟ جہانگیر جدون نے کہا کہ ’بالکل، اسی جگہ کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے ہمیشہ ٹرمز اینڈ کنڈیشن کی خلاف ورزی کی ہے اس بار ہم ان پر اعتماد نہیں کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ان کے لیے ہم نے ٹی چوک کی جگہ رکھ دی ہے یہ جلسہ کرنا چاہییں تو کر سکتے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ انھوں نے پورا شہر کنٹینرز لگا کر بند کردیا ہے جبکہ آدھا شہر انھوں نے ریڈ زون میں تبدیل کردیا ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بابر اعوان آپ دیکھ لیں جہاں بھی جگہ ہو، خلاف ورزی کا ذمہ دار کون گا، سپریم کورٹ کا ایک آرڈر بھی ہے وہاں توہین عدالت کیس بھی چل رہا ہے۔

  8. عمران خان کو پی ٹی آئی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر

    لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کو پی ٹی آئی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

    جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے محمد آفاق ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواست دائر پر سماعت کی۔ اس درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، عمران خان و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان این اے95سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کےبعد عمران خان نا اہل ہو چکے اس لیے عمران خان پارٹی چیئرمین شپ کا استحقاق بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے عمران خان کو پارٹی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانےکا حکم دیا جائے۔

    عمران خان کو آرٹیکل 63 ون تھری کے تحت نااہل کیا گیا وہ پڑھ کر سنائیں، جسٹس ساجد محمود سیٹھی کیوکیل کو ہدایت

    درخواست گزا کے وکیل نے کہا کہعمران خان کی آرٹیکل62، 63 کے تحت اب پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتے،

    جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے استفسار کیا کہ ’کیسے نہیں رکھ سکتے؟ عدالت کو مطمئن کریں۔

    درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ مجھے عبوری ریلیف فی الحال بے شک نہ دیں مگر فریقین کو نوٹس جاری کردیں۔

    اس کے بعد عدالت اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر دیا ہے جو کچھ دیر مںی سنا دیا جائے گا۔

  9. پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: اسلام آباد پولیس نے مسلح اہلکار تعینات کرنے کی اجازت مانگ لی

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں اسلام آباد پولیس نے مسلح اہلکار تعینات کرنے کی اجازت مانگی ہے۔

    اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان لانگ مارچ کے لیے اسلحہ جمع کر رہے ہیں لہذا لانگ مارچ کے دوران اپنے دفاع کے لیے مسلح دستوں کی تعیناتی کی اجازت دی جائے۔

  10. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ آج سے پہلے کی نیوز اپ ڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کریں