پی ٹی آئی کا جلسے کی اجازت اور این او سی جاری کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، مناسب حکم نامہ جاری کریں گے۔
آج سری نگر ہائی وے پر جلسہ کی اجازت نہ دینے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت
درخواست پر سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان اور ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ عمومی طور پر جلسوں کی اجازت سے متعلق کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ہوتا تو یہی ہے کہ پارٹی کی اجازت سے ہی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔
ان کے مطابق تحریک انصاف نے جو ریلی کی تھی اس سے نقصان ہوا تھا، پولیس والے زخمی ہوئے تھے۔ جسٹس عامرفاروق نے سوال کیا کہ کہ پہلے تحریک انصاف نے جس جگہ کی اجازت مانگی تھی کیا یہ وہی جگہ ہے؟ جہانگیر جدون نے کہا کہ ’بالکل، اسی جگہ کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے ہمیشہ ٹرمز اینڈ کنڈیشن کی خلاف ورزی کی ہے اس بار ہم ان پر اعتماد نہیں کر رہے ہیں۔
بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ان کے لیے ہم نے ٹی چوک کی جگہ رکھ دی ہے یہ جلسہ کرنا چاہییں تو کر سکتے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ انھوں نے پورا شہر کنٹینرز لگا کر بند کردیا ہے جبکہ آدھا شہر انھوں نے ریڈ زون میں تبدیل کردیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بابر اعوان
آپ دیکھ لیں جہاں بھی جگہ ہو، خلاف ورزی کا ذمہ دار کون گا، سپریم کورٹ کا ایک آرڈر بھی ہے وہاں توہین عدالت کیس بھی چل رہا ہے۔