وزارت داخلہ نے آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی
وزارتِ داخلہ نے وزیر آباد کے اللہ والا چوک میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری پنجاب سے طلب کر لی ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور ثبوت فراہم کریں۔
وزارتِ داخلہ نے وزیر آباد کے اللہ والا چوک میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری پنجاب سے طلب کر لی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد اُنھیں لاہور کے شوکت خانم ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہسپتال کے باہر اس وقت سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اے این پی سربراہ اسفند یار ولی خان نے عمران خان کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ’ہم سیاست میں تشدد کے مخالف تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایک سابق وزیراعظم کے احتجاج میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات کی تحقیقات کرائی جائیں۔‘
سول ہسپتال وزیر آباد کے حکام کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے کے بعد آٹھ زخمیوں اور ایک شخص کی لاش کو ہسپتال میں لایا گیا ہے۔
ادھر تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے لانگ مارچ میں سکیورٹی کی ڈیوٹی کرنے والے ایک پولیس اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ عمران خان کے کنٹینر کے کچھ فاصلے پر ڈیوٹی کر رہے تھے کہ انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی جس کی وجہ سے مارچ کے شرکا میں بھگدڑ مچ گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ایک فائر عمران خان کی ٹانگ پر لگا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کو کنٹینر میں موجود ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد انھیں گاڑی میں منتقل کردیا گیا۔ پولیس اہلکار کے مطابق جس وقت عمران حان کو گاڑی میں منتقل کر رہے تھے تو وہ اس وقت گاڑی کے پاس موجود تھے جس میں عمران خان کو کنٹینر سے منتقل کیا جا رہا تھا پولیس اہلکار کے بقول عمران خان ہوش میں تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس حملے میں زحمی ہونے احمد چھٹہ اور فیصل جاوید کو دوسری گاڑیوں میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی ٹی وی چینل پبلک نیوز کے کیمرامین توصیف اکرم نے بتایا ہے کہ وہ عمران خان کا انٹرویو کرنے جانے والے تھے لیکن اس سے قبل وہ پی ٹی آئی رہنما اسلم اقبال کا انٹرویو کرنے لگے تھے کہ اسی وقت فائر ہوا۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ آگے گئے تو دیکھا کہ لوگ عمران خان کو اٹھا رہے تھے ان کی ٹانگ میں گولی لگی ہوئی تھی۔
اُنھوں نے بتایا کہ جو جو لوگ قریب تھے وہ سب خون میں لت پت تھے اور اُنھوں نے کنٹینر پر دو گولیوں کے نشانات بھی دیکھے۔
توصیف اکرم نے بتایا کہ پھر وہ لوگ عمران خان کو نیچے لے کر گئے اور اُنھیں ایمبولینس کے بجائے ان کی اپنی گاڑی میں ڈالا اور وہاں سے لے کر چلے گئے۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔
حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت لانگ مارچ کے سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کرے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے بتایا ہے کہ عمران خان کو اس فائرنگ کے واقعے میں ٹانگ میں گولی لگی ہے۔ اُنھیں اب لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق سربراہ عمران خان بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے کنٹینر کے قریب فائرنگ میں سینیٹر فیصل جاوید بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی کے پاس دستیاب تصاویر میں اُنھیں زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔
عمران خان کو سکیورٹی اہلکار ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کر کے لے گئے ہیں۔ اُنھیں کنٹینر سے گاڑی پر منتقل کرتے ہوئے ان کے پیروں پر پٹی بندھی دیکھی گئی۔
عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ کے بعد پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ ابھی تک پولیس نے یہ تصدیق نہیں کی کہ اسی شخص نے فائرنگ کی ہے کہ نہیں۔
وزیر آباد میں اللہ والا چوک کے مقام پر عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ کی گئی ہے تاہم عمران خان اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اس واقعے میں تین سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پنجاب، خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلیاں تحلیل کر دی۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ عمران خان نے اقتدار کو بچانے کے لیے آرمی چیف کو تاحیات غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی پیشکش کی تاکہ عدم اعتماد کا ووٹ ناکام بنایا جا سکے اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کرپشن کے معاملے پر ان کے ساتھ نہیں تھے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگر آرمی چیف کرپشن کے معاملے پر ان کے ساتھ نہیں تھے تو اُنھوں نے غیر معینہ مدت تک توسیع کی ’غیر آئینی و غیر قانونی‘ پیشکش کیوں کی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ درحقیقت عمران خان جنرل باجوہ کے خلاف اس وقت ہوئے جب فوج نے فیصلہ کیا کہ ادارے کی کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہو گی۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 70 فیصد پاکستان پر اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اگر عمران خان چاہتے ہیں تو وہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔
تاہم انھوں نے الزام عائد کیا کہ درحقیقت عمران خان انتخابات نہیں چاہتے ورنہ سات مارچ کو ہی اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر چکے ہوتے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ سیاسی ہلچل صرف آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانے کے لیے ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان وزیر آباد کے قریب کوٹ خضری پہنچ گئے ہیں جس کے بعد لانگ مارچ کے آج ساتویں روز کا سفر کوٹ خضری سے شروع ہو گیا ہے۔
شیڈول کے مطابق عمران خان کوٹ خضری سے وزیرآباد کچہری چوک پہنچیں گے اور لانگ مارچ کے شرکاء سے مجموعی طور پر تین مختلف مقامات پر خطاب کریں گے۔
کوٹ خضری سمیت جی ٹی روڈ پر لگائے جانے والے مختلف استقبالیہ کیمپس پر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ مولانا ظفر علی خان بائی پاس پر بھی بڑا استقبالیہ ہو گا جہاں تحریک انصاف کا کنٹینر مولانا ظفر علی خان بائی پاس سے اندرون جی ٹی روڈ داخل ہو گا۔
پی ٹی آئی کے سربراہ کا مرکزی خطاب کچہری چوک پر ہو گا جہاں آج شام ساتویں روز کا لانگ مارچ ختم ہو گا۔
وزیر آباد میں 9 کلومیٹر کا روٹ آج کم و بیش چار گھنٹے میں طے کیا جائے گا۔ جی ٹی روڈ مولانا ظفر علی خان تا گکھڑ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ ڈسکہ، سمبڑیال اور سیالکوٹ سے بھی قافلوں کی لانگ مارچ میں شرکت ہو رہی ہے۔
پارٹی کارکنوں کی جانب سے مختلف مقامات پر استقبال کی تیاریاں کی گئی ہیں اور گھوڑوں کا ڈانس، آتشبازی اور فوجی بینڈ لانگ مارچ کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اس حکومت کی معیاد 10،12 دن سے زیادہ نہیں۔
وزیر آباد میں فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو تو خود نہیں پتا کہ ان کا اقتدار کتنی دیر کا ہے۔
نون لیگ پر تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جن لوگوں نے لندن میں پراپرٹیز خریدی ہوئی ہیں وہ آج اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان کے خلاف کھڑے ہیں۔
’مخالفین صرف اس وجہ سے عمران خان کے خلاف ہیں تاکہ وہ عمران خان کو کمزور کریں اور پھر بعد میں یہ فوج سے بھی نمٹ لیں گے۔‘
رہنما پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارے زرداری سے کوئی رابطے نہیں۔ زرداری سے تو سندھ نہیں سنبھالا جا رہا وہ پاکستان کیسے سنبھالیں گے۔‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ پیر سے لانگ مارچ کا آخری مرحلہ شروع ہو گا۔
’جب ہم اسلام آباد پہنچیں گے تو پورے پاکستان سے قافلے پہنچیں گے۔ اسلام آباد میں 10 سے 15 لاکھ لوگ جمع ہوں گے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے سپریم کورٹ کے ڈی جی ایچ آر سے ملاقات کی ہے اور ملاقات کے دوران تحریری جواب، میڈیکل رپورٹس اور دیگر دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔
ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ’تین نقاب پوش افراد مجھے گھر سے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا اور میری ویڈیوز بنائی گئیں۔‘
اعظم سواتی نے اپنے تحریری مؤقف میں یہ بھی کہا ہے کہ تشدد سے انھیں قے آئی اور وہ کچھ دیر بے ہوش رہے۔
اعظم سواتی کے مطابق انھیں تھانہ سائبر کرائم منتقل کر دیا گیا۔
اپنے بیان میں سینیٹر اعظم سواتی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان کے گھر کے تین ملازمین کو تشدد کرکے خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی جبکہ ایف آئی اے اہلکار گھر کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی ساتھ لے گئے۔
اعظم سواتی کے مطابق انھیں جس میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا اس نے گمراہ کن رپورٹ دی، جس میں جسمانی حالت کے حوالے سے خاموشی سوالیہ نشان ہے۔
اعظم سواتی کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں حراست کے دوران تشدد چھپانے کی کوشش کی گئی لہذا بنیادی حقوق پامال کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ساتویں روز وزیر آباد میں جی ٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
وزیر آباد میں لانگ مارچ کے روٹ پر واقع کاروباری مراکز، پلازے اور دکانیں بھی بند کروا دی گئی ہیں جبکہ شہر میں آج نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔