آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تحریک انصاف کی آج پھر احتجاج کی کال، حکومت نے عمران خان سے شواہد مانگ لیے

سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور ثبوت فراہم کریں۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے میجر جنرل فیصل نصیر پر الزامات

    عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد اسلام آباد میں میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی ہوئی۔

    اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی طرف سے پی ٹی آئی کے حامیوں اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا گیا اور بلیک میلنگ کی گئی۔

  2. عمران خان: الیکٹرانک مشینیں نہیں لائیں گئیں کیونکہ دھاندلی کرنی تھی

    عمران خان نے 17 جولائی کے ضمنی انتخابات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دو پارٹیاں‘ اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں نہیں لائیں کیونکہ انھوں نے دھاندلی کرنی تھی۔

    عمران خان نے کہا کہ ’ہینڈلرز‘ نے بھی ای وی ایم مشینوں کی مخالفت کی تھی۔

  3. عمران خان: بند کمروں میں فیصلے کرنے سے زمینی حالات نہیں معلوم ہوتے

    عمران خان نے کہا کہ ان کے دور میں اپوزیشن نے تین لانگ مارچز کیے اور اُنھیں اجازت دی گئی تھی تو اُنھوں نے بھی سوچا تھا کہ ان کے احتجاج میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

    عمران خان نے کہا کہ ان کے لیے احتجاج کرنے والوں پر شیلنگ کی گئی اور ڈنڈے مارے گئے اور سوچا گیا کہ ’ممی ڈیڈی‘ پارٹی ہے تو یہ ختم ہو جائے گی۔

    عمران خان نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ زمینی حالات کیا ہوتے ہیں۔

  4. عمران خان: سوچا گیا تھا مجھے نکالے جانے پر مٹھائیاں بانٹی جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا

    عمران خان نے گفتگو کی شروعات نو اپریل کو اپنے ہٹائے جانے سے کچھ پہلے اور بعد کے واقعات سے کی۔

    عمران خان نے کہا کہ سوچا گیا تھا کہ اُنھیں نکالا گیا تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے مگر اس مرتبہ یہ نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو دھچکا لگا کہ قوم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ لوگ 30 سال سے چوریاں کرنے والوں کے ساتھ نہیں جانا چاہتے۔

  5. عمران خان اب گفتگو کر رہے ہیں

    ڈاکٹر فیصل سلطان کی گفتگو کے بعد عمران خان اب خطاب کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں چار گولیاں لگی ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ اُنھیں پہلے سے معلوم تھا کہ یا تو اُنھیں گجرات یا وزیرِ آباد میں مارنے کی کوشش کی جائے گی۔

  6. ڈاکٹر فیصل سلطان عمران خان کو پہنچنے والے زخموں پر بات کر رہے ہیں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا خطاب شروع۔ اس وقت عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عمران خان کی ٹانگوں کے ایکسرے دکھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو چار گولیاں لگی ہیں۔

  7. فیض آباد پر ٹریفک بحال

    اسلام آباد پولیس نے اب سے کچھ دیر قبل اعلان کیا تھا کہ فیض آباد پر مظاہرین کا دوبارہ احتجاج شروع ہو چکا ہے اور مظاہرین کی جانب سے پودوں کو آگ لگائی جا رہی ہے جبکہ ٹریفک میں پھنسے افراد سے قیمتی اشیا لوٹے جانے کی اطلاع ہے۔

    تاہم اب پولیس نے اعلان کیا ہے کہ فیض آباد پر ٹریفک دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔

  8. کراچی میں شارعِ فیصل پر احتجاجی مظاہرہ، پولیس کی شیلنگ

  9. کراچی کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے مناظر

  10. اسلام آباد میں ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال

    اسلام آباد پولیس نے بتایا ہے کہ سوہان سٹاپ پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے ہائی وے فیض آباد کے مقام پر ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

  11. کراچی میں شارع فیصل پر پی ٹی آئی کارکنوں کا احتجاج

    کراچی میں شارع فیصل پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور ریجنٹ پلازہ اور ایف ٹی سی کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراؤ ہوا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے اس موقع پر شیلنگ کی ہے اور کئی مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

  12. کوئٹہ میں پی ٹی آئی کارکنوں کا احتجاج

    کوئٹہ کے علاقے منان چوک میں پی ٹی آئی کارکن پارٹی سربراہ عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

  13. گورنر ہاؤس پنجاب کے گیٹ پر پی ٹی آئی پرچم دوبارہ لگا دیا گیا

    گورنر ہاؤس پنجاب کے دروازے پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے لگایا گیا جھنڈا اتارا تو مظاہرین اور پولیس میں تلخ کلامی اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    اس کے بعد اب مظاہرین میں سے ایک شخص نے دوبارہ آگے بڑھ کر پارٹی پرچم وہیں لگا دیا ہے۔

    نامہ نگار بی بی سی عمر دراز کے مطابق موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے اُنھیں اس بار نہیں روکا۔

  14. پی ٹی آئی کارکنان نے اسلام آباد پشاور موٹروے بند کر دی

    عمران خان پر حملے کے خلاف پی ٹی آئی کارکنان پشاور موٹروے انٹرچینج پر جمع ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ کارکنوں نے اسلام آباد و پشاور کے درمیان موٹروے کو بند کر دیا ہے اور ڈنڈے تھامے سڑک پر موجود ہیں۔

  15. فیض آباد پر احتجاج اور پولیس کی شیلنگ

  16. ’راولپنڈی سے مظاہرین اسلام آباد پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں‘

    اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ فیض آباد کے مقام پر راولپنڈی کی جانب مظاہرین جمع ہیں جن میں کچھ لوگ ڈنڈے، غلیلیں اور پتھر اٹھائے ہوئے ہیں۔

    پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان مظاہرین میں اسلحہ بردار بھی موجود ہو سکتے ہیں جبکہ راولپنڈی سے مظاہرین اسلام آباد پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس نے راولپنڈی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو غیر قانونی عمل سے روکیں۔

    پولیس نے بتایا ہے کہ مظاہرین میں کم عمر بچے بھی موجود ہیں اور عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی بھی ’غیر قانونی عمل‘ کا حصہ بننے سے روکیں۔

  17. پولیس نے گورنر ہاؤس پنجاب سے مظاہرین کو منتشر کر دیا, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی

    گورنر ہاؤس پنجاب کے دروازے پر پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج اور آتش زنی کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہنے کے بعد اب پولیس نے وہاں سے مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے تاہم مظاہرین اب بھی مال روڈ پر جمع ہیں اور سڑک بلاک کیے ہوئے ہیں۔

  18. تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی احتجاج کی وجہ سے مری روڈ بند

    اسلام آباد پولیس کے مطابق احتجاج کی وجہ سے مری روڈ پر فیض آباد سے پہلے ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا ہے اور متبادل کے طور پر اسلام آباد ہائی وے اور سٹیڈیم روڈ استعمال کی جا سکتی ہے۔

  19. ’ایف آئی آر درج نہ ہونا آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان‘

  20. لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر تحریکِ انصاف کے کارکنوں کا مظاہرہ, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو لاہور

    اس وقت لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ کچھ مظاہرین نے گیٹ پھلانگنے کی بھی کوشش کی ہے جنھیں گارڈز نے اندر سے بند کر رکھا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے گیٹ پر آتش زنی بھی کی جا رہی ہے۔