آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تحریک انصاف کی آج پھر احتجاج کی کال، حکومت نے عمران خان سے شواہد مانگ لیے

سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور ثبوت فراہم کریں۔

لائیو کوریج

  1. فیض آباد میں مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ, فرحت جاوید، بی بی سی

    راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین میں تصادم کے بعد آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے اور پولیس نے دو مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔

  2. عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کا کیس، سپریم کورٹ نے تفصیلی حکمنامہ جاری کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف وزارت داخلہ کی درخواست پر توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔

    دو صفحات پر مشتمل حکمنامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان اور ایڈووکیٹ فیصل چوہدری کا اسد عمر سے رابطہ ہوا، اس کے مندرجات تحریری طور پر عدالت میں جمع کروائیں۔

    حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری بتائیں کہ کس بنیاد پر انھوں نے عدالت کو واضح یقین دہانی کروائی۔

    حکمنامے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب جمع کروانے کے لیے وقت مانگا اور اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کے وکیل نے جواب کے لیے جمع کروائی گئی یو ایس بی اور سی ڈیز کا ریکارڈ بھی مانگا۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ سی ڈیز اور یو ایس بی کا ریکارڈ کا جائزہ لے کر مواد سلمان اکرم راجہ کو فراہم کریں۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا جواب پانچ نومبر کو جمع ہونے کے بعد مقدمے پر سات نومبر کو سماعت ہو گی۔

  3. تحریکِ انصاف کا پنجاب کے آئی جی کی تبدیلی کا مطالبہ

  4. عمران خان پر حملے کے خلاف کوہاٹ میں احتجاجی مظاہرہ

    عمران خان پر حملے کے خلاف کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنان احتجاج کر رہے ہیں اور مظاہرین نے کوہاٹ ٹول پلازہ کے مقام پر سڑک بلاک کر دی ہے۔

    کوہاٹ سے رکنِ صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ بنگش مظاہرین کی قیادت کر رہے ہیں۔ کوہاٹ ٹول پلازہ کے علاوہ خوشحال گڑھ کے مقام پر بھی سڑک بلاک کی گئی ہے۔

  5. بریکنگ, گرفتار ملزم کی نشاندہی پر مزید دو افراد گرفتار

    وزیرِ آباد پولیس نے بتایا ہے کہ اُنھوں نے گرفتار ملزم نوید کی نشاندہی پر مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے مبینہ طور پر ملزم کو پستول فراہم کیا تھا۔

    پولیس کے مطابق دونوں افراد کو وزیر آباد سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

  6. فیض آباد سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

    ہماری نامہ نگار فرحت جاوید اس وقت راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر موجود ہیں اور وہاں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کر رہی ہیں۔

  7. راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر پی ٹی آئی کارکنوں کا احتجاج

  8. معظم گوندل: ’وہاں ہزاروں لوگ موجود تھے میرا بیٹا ہی کیوں مارا گیا‘

  9. عمران خان کچھ دیر میں قوم سے خطاب کریں گے: وکیل بابر اعوان

    عمران خان کے وکیل اور تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے شوکت خانم ہسپتال میں عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا کہ عمران خان کچھ دیر میں قوم سے خطاب کریں گے۔

    ان کے مطابق سابق وزیراعظم کے ڈاکٹرز کچھ دیر میں ان کے علاج سے متعلق تفصیلات پر بھی بات کریں گے۔

  10. عمران خان کی زیرصدارت شوکت خانم ہسپتال میں تحریک انصاف کا اہم اجلاس, ترہب اصغر بی بی سی اردو

    پاکستان تحریک انصاف کا ایک اہم اجلاس اس وقت لاہور کی شوکت خانم کینسر ہسپتال میں سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہو رہا ہے۔

    اس اجلاس میں تحریک انصاف کے تمام سینیئر رہنما شریک ہیں۔ اس اجلاس میں تحریک انصاف کے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔

    گذشتہ رور وزیرآباد میں لانگ مارچ پر حملے کے بعد یہ تحریک انصاف کا پہلا اجلاس ہے۔ اس حملے میں عمران خان زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد وہ شوکت خانم ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

  11. سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس ہے: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نےکہا ہے کہ یہ سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس ہے۔ ان کے مطابق افسوسناک بات یہ ہے کہ گجرات کا پورا تھانہ معطل ہونے کے باوجود ملزم کی جو دوسری ویڈیو سامنے آئی ہے وہ بہت خطرناک اثرات کی حامل ہے۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ معاشرے میں انتہا پسندی پائی جاتی ہے اور لوگ ایسے بیانات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ’اس ملزم کی جب تفصیلات آپ کے سامنے آئیں گے، آپ پریشان ہو جائیں گے‘۔ انھوں نے کہا کہ یہ ’سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس ہے۔

  12. ’عمران خان پر حملے کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، شاید مرضی کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش ہو رہی ہے‘

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان پر ہونے والا حملہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک ’ایف آئی آر اس مقدمے میں ابھی تک درج نہیں ہوئی ہے، شاید اسے مینیج کرنے اور اپنی مرضی سے درج کرانے کی کوشش ہو رہی ہے، جو انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے‘۔

    تحریک انصاف کے کارکن ابتسام کی مدد سے ملزم گرفتار ہوا ہے۔

    ان کے مطابق ملزم نے جو بیان دیا ہے، اس میں ان دو وجوہات کا ذکر کیا ہے، جس کی وجہ سے اس نے ایسا کیا ہے۔ ان کے مطابق ’میں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتے ہوں کیونکہ میں ان باتوں کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا ہوں‘۔اس بیان کے بعد وزیراعلیٰ نے پورے تھانے کو برطرف کر دیا ہے۔ اس برطرفی کے بعد اس ملزم کی دوسری قسط جاری ہو گئی۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم عمران خان کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں کیونکہ ہو ہمارے سیاسی مخالف ہیں، سیاسی دشمن نہیں۔ ان کے مطابق عمران خان ہمیں دشمن قرار دیتے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ جہاں یہ حملہ انتہائی قابل مذمت ہے وہیں عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کا رویہ بھی قابل مذمت ہے۔ ان کے مطابق اسد عمر نے آ کر بیان دیا کہ انھیں عمران خان نے کہا کہ بغیر ثبوت اور شواہد کے ہی تین لوگوں پر اس واقعے کا الزام لگا دیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان جس طرح بیان دیتے ہیں کہ میں اس کو نہیں چھوڑوں گا، اس کو نہیں چھوڑوں گا جیسے رویے بھی قابل مذمت ہیں اور یہ جمہوری نہیں ہیں۔

  13. عمران خان نے ہدایات دے دہی ہیں جن پر عمل ہو گا: مونس الٰہی

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے جمعے کو شوکت خانم ہسپتال میں زیرِ علاج تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی عیادت کی ہے۔

    اس ملاقات کے بعد مونس الٰہی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ عمران خان روبصحت ہیں اور ان کا عزم بلند ہے۔

    ان کے مطابق عمران خان نے جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل کیا جائے گا۔

  14. وزیرآباد میں جائے وقوعہ پر کیا ہو رہا ہے؟

    وزیر آباد میں لانگ مارچ کے کنٹینر اور اس کے گردونواح کے علاقے کو کرائم سین انویسٹیگیشن ٹیم اور پولیس کی طرف سے قناتیں لگا کر سیل کر دیا گیا ہے اور کسی پرائیویٹ شخص یا میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔

    یہ دوطرفہ سڑک ہے جس کا کنٹینر والا حصہ تو مکمل طور پر بند ہے جبکہ دوسرے حصے پر ٹریفک چل رہی ہے

  15. تحریک انصاف نے لانگ مارچ پر حملے کے خلاف آج اسلام آباد کے چار مقامات پر احتجاج کی کال دی ہے, فرحت جاوید بی بی سی اردو

    لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد کے مقام پر عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف تحریک انصاف نے جمعے کو اسلام آباد کے مختلف چار مقامات پر احتجاج کی کال کی دی ہے۔

    جہاں تحریک انصاف کا احتجاج ہو گا ان مقامات میں ’فیض آباد، روات جی ٹی روڈ، پھلگراں، سنگجانی شامل ہیں جبکہ خواتین نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گی۔

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق ابھی وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک رواں دواں ہے اور کسی مقام پر بھی ٹریفک کے بہاؤ کو موڑا نہیں گیا ہے۔

    احتجاج کے باعث اگر کسی جگہ پر رش ہو یا ٹریفک کے بہاؤ کو موڑ دیا جائے تو ایسی صورت میں ٹریفک پولیس الرٹ جاری کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر نے آج ایک ٹویٹ میں یہ کہا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد تحریک انصاف ملک بھر میں احتجاج کرے گی اور یہ احتجاج عمران خان کے مطالبے کی منظوری تک جاری رہے گا۔

  16. تحریک انصاف لانگ مارچ واقعے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے، اس سے تحقیقات متاثر ہوں گی، وزیر دفاع

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ پر فائرنگ کے واقعے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے جس سے تحقیقات متاثر ہوں گی۔

    جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ پر فائرنگ کے واقعے پر جے آئی ٹی بننی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق اس واقعے میں مذہبی جنونیت کارفرما ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ جہاں یہ واقعہ ہوا اس تھانے کے تمام عملے کو ملزم کا بیان جاری کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے نا کہ اس لیے کہ ایسا واقعہ کیوں پیش آیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو ابتدائی سطح پر سبوتاژ کر کے سیاست کی جا رہی ہے۔

    ان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات ہونے دیں ورنہ اس قاتلانہ حملے کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔ ان کا کہنا تھا سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں مگر لاہور سے لے کر اب تک اس لانگ مارچ میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان چاروں کا تعلق کنٹینر سے ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے اور اس کے کسی رکن پر پی ٹی آئی کو اعتراض ہو تو اسے تبدیل کیا جائے مگر اس واقعے کو سیاسی کی نظر نہ کریں۔

    وزیردفاع نے کہا کہ ان تمام واقعات کے پیچھے کارفرما لوگ تحقیقات نہیں ہونے دینا چاہتے اور وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کو ملزم بنا رہے ہیں۔

    کسی فوجی افسر کا نام دے کر اس حملے کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔ اس پر سیاست نہ کی جائے اور تحقیقات ہونے دی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے جہاں جہاں اپنے بیانات میں مذہب کی ریڈ لائن کراس کی ہیں ملزم نے وہ تمام واقعات کا ذکر کیا ہے۔

    آئی بی نے عمران خان کو تنبیہ جاری کی تھی کہ بم دھماکہ یا کسی اور طرح سے ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ حکومت انصاف اور تفتیش کے تمام تقاضے پورے کرے گی اور مکمل تحقیقات کروائی جائے گی۔

  17. عمران خان کی سکیورٹی کیسی تھی اور اس میں کوتاہی کہاں ہوئی؟

  18. جاتی امرا کی سکیورٹی کے لیے رینجرز تعینات

    تحریکِ انصاف کی جانب سے عمران خان کے لانگ مارچ پر فائرنگ کے واقعے کے خلاف جمعے کی نماز کے بعد احتجاج کی کال دیے جانے پر لاہور میں شریف خاندان کی رہائش گاہ پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    مظاہرین کی ممکنہ طور پر جاتی امرا آمد روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور جاتی امرا کی سکیورٹی کے لیے رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    ان اہلکاروں نے جاتی امرا کے مرکزی گیٹ پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔

  19. مبینہ ملزم کا عجلت میں اعترافی بیان کیوں جاری ہوا اور اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

  20. عمران خان پر حملے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان ، کاروبار کے آغاز پر 350 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں جمعے کے روز کاروبار کا آغاز مندی کے رجحان سے ہوا اور انڈیکس 350 پوائنٹس گر گیا۔ سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر وزیر آباد میں ہونے والا حملہ اور اس میں پارٹی کے سربراہ عمران خان کے زخمی ہونے کو قرار دیا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں اس وقت فروخت کے دباؤ کا شکار ہے کیونکہ اس واقعے کے بعد سیاسی صورتحال مزید عدم استحکام سے دو چار ہو سکتی پے۔

    تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق مارکیٹ کھلتے ہی انڈیکس میں 350 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ وزیر آباد واقعہ ہے۔